خبریں

چھتیس گڑھ: بھوپیش بگھیل کی حکومت کے خلاف طنزیہ مضامین لکھنے والے صحافی گرفتار

کانگریس کے ایک رہنما نے انڈیا رائٹرز نامی ویب سائٹ اورمیگزین کے ایڈیٹر نیلیش شرما کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ان کا الزام ہے کہ نیلیش نے اپنے کالم ‘گھروا کی ماٹی’  میں جن افسانوی کرداروں کا ذکر کیا ہے وہ کانگریس کے رہنما اور وزیروں  سے ملتے جلتے ہیں۔

بھوپیش بگھیل، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

بھوپیش بگھیل، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

نئی دہلی: رائے پور کے ایک صحافی کو کانگریس کی چھتیس گڑھ حکومت کے خلاف طنز یہ تحریر لکھنےکے الزام میں  بدھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، انڈیا رائٹرز ڈاٹ کو ڈاٹ ان نامی ویب سائٹ اورمیگزین کےایڈیٹر نیلیش شرما کے خلاف کانگریس لیڈرکھلاون نشاد نےے رائے پور سائبر پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔

نشاد نے الزام لگایا کہ شرما نے اپنے کالم ‘گھروا کی ماٹی’ میں جن افسانوی کرداروں کا ذکر کیا ہے وہ کانگریس کے ایم ایل اے اور وزیروں سے ملتے جلتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صحافی نے اپنے کالم میں توہین آمیز تبصرے کیے ہیں  اور وزیروں کے درمیان اختلافات پیدا کیے ہیں۔

غور طلب ہے کہ 2018 میں حکومت بنانے کے بعد کانگریس نے وعدہ کیا تھا کہ صحافیوں کو ہراسانی سے بچانے کے لیے ایک قانون لایا جائے گا۔ گزشتہ سال اس حوالے سے ایک بل بھی سامنے آیا تھا۔

تاہم شرما کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 505، 505(1) اور 505(2) کے تحت افواہ پھیلانے، عداوت ،نفرت اور انتشار برپا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، ہم نے ایف آئی آر درج کی ہے کیونکہ شرما بے بنیاد مضامین لکھ کر غلط معلومات اور افواہیں پھیلا رہے تھے۔

ریاست میں میڈیا سے وابستہ افراد نے اس گرفتاری کو ریاستی حکومت کے خلاف اختلافات کی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں شرما پر رائٹ ونگ سے وابستہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حالاں کہ، انہوں نے پچھلی بی جے پی حکومت پربھی تنقید کرتے ہوئے اسی طرح کے مضامین لکھے تھے۔

اسی دوران ایک الگ معاملے میں بی جے پی لیڈر نے رائے پور میں ہی ایک صحافی کے ساتھ مار پیٹ کی ۔ بی جے پی کے درگ ضلع پنچایت کے رکن مونو ساہو کو اگلے ہی دن گرفتار کیا گیا اور  15 دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ساہو نے ذاتی دشمنی کی وجہ سے صحافی دھیریندر گری کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)