خبریں

سی اے جی نے ’نمامی گنگے‘ کے تحت مختص فنڈ کا استعمال نہ کرنے پر بہار حکومت کی نکتہ چینی کی

سی اے جی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق،  2016-17 سے 2019-20 کے دوران ہر سال صرف 16 سے 50 فیصد فنڈز کا استعمال کیا گیا۔ جس کی وجہ سے 684 کروڑ روپے استعمال نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود نیشنل مشن فار کلین گنگا نے پچھلی قسطوں کے استعمال کو یقینی بنائے بغیر اگلی قسطوں کے لیے فنڈز جاری کر دیے۔

نتیش کمار(فوٹو : پی ٹی آئی)

نتیش کمار(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی:کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے ‘نمامی گنگے’ پروگرام کے تحت پٹنہ میں سیوریج ٹریٹمنٹ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے منظور شدہ فنڈ کا ایک بڑا حصہ استعمال نہ کرنے پر بہار حکومت کی نکتہ چینی  کی ہے۔

واضح ہو کہ سی اے جی کی رپورٹ حال ہی میں اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بہار اسٹیٹ گنگا ریور کنزرویشن اینڈ پروگرام مینجمنٹ سوسائٹی (بی جی سی ایم ایس) کے ذریعے اس اسکیم کے تحت چار مالیاتی سالوں میں تقریباً 684 کروڑ روپے استعمال کیےجانے تھے، جو نہیں ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، آڈٹ میں پتہ چلا کہ 2016-17 سے 2019-20 کی مدت میں ہر سال صرف 16 سے 50 فیصد فنڈز استعمال ہو رہے تھے۔ نیشنل مشن فار کلین گنگا (این ایم ایس جی) نے پچھلی قسطوں کے استعمال کو یقینی بنائے بغیر اگلی قسطوں کے لیے فنڈز جاری کیے اور اس کے نتیجے میں بی جی سی ایم ایس کے بینک اکاؤنٹ میں 683.10 کروڑ روپے جمع ہو گئے۔

پٹنہ کولکاتہ کے بعد مشرقی ہندوستان کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے، جس کی بنیاد تقریباً 200 سال قبل اس کے پانی کی نکاسی کے لیے رکھی گئی تھی اور اس وقت یہ خستہ حال ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ نافذ کرنے والی ایجنسی بہار اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (بی آئی ڈی سی او) بھی کاموں کو مکمل کرنے کے لیے طے شدہ آخری تاریخ پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہار (بشمول پٹنہ) میں سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے 2016-17 کے دوران پانی میں ٹوٹل کالیفارم (ٹی سی) اور فیکل کالیفارم (ایف سی ) کی زیادہ سے زیادہ مقدار بالترتیب 9000ایم پی این / 100 ایم  ایل اور 3100 ایم پی این/ 100ایم ایل  کی سطح تک پیمائش کی گئی تھی ۔

سال 2019-20 میں یہ بڑھ  کر 160000 ایم پی این 100/  ایم ایل اور(ٹی سی اورایف سی دونوں کے لیے) ہوگئی ہے۔ یہ اس مدت کے دوران پانی کے معیار میں بتدریج کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

سی اے جی کی رپورٹ پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے گنگا سمگرکے کنوینر (جنوبی بہار) شمبھوناتھ پانڈے نے کہا، دریائے گنگا اس کی کئی معاون ندیوں کے ساتھ ہندوستانی تہذیب کی جغرافیائی  اور روحانی پرورش کا ذریعہ رہی ہے۔ یہ قومی تشویش کا معاملہ ہے۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیاجانا چاہیے۔

گنگا سمگر ایک ایسی تنظیم ہے جو عوام میں گنگا کی صفائی کی اہمیت کے بارے میں بیداری کا کام کرتی ہے۔

بی آئی ڈی سی اوکے منیجنگ ڈائریکٹر دھرمیندر سنگھ نے کہا، مجھے ابھی تک سی اے جی کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے، لیکن ہم جلد ہی تمام سیور ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) بنانے اور اس کو  مضبوطی دینے کا کام مکمل کر لیں گے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)