خبریں

مدارس کو بند کرنا اور یکساں سول کوڈ کا نفاذ مسلمانوں کے مفاد میں: ہمنتا بسوا شرما

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہفتہ وار ‘پانچ جنیہ’ اور ‘آرگنائزر’ کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ بچوں کو مدارس میں داخل کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی مذہبی ادارے میں داخلہ اس عمر میں ہونا چاہیے جس میں وہ اپنے فیصلے خود لے سکیں۔

ہمنتا بسوا شرما 'پانچ جنیہ' اور 'آرگنائزر' کی میڈیا کانفرنس میں۔ (فوٹوبہ شکریہ: panchjanya.com)

ہمنتا بسوا شرما ‘پانچ جنیہ’ اور ‘آرگنائزر’ کی میڈیا کانفرنس میں۔ (فوٹوبہ شکریہ: panchjanya.com)

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اتوار کو ایک تقریب میں کہا کہ جو بھی مدارس کو بند کرتا ہے اور یکساں سول کوڈ کی بات کرتا ہے وہ درحقیقت ہندوستانی مسلمانوں کا دوست ہے۔

انہوں نے چھوٹے بچوں کے لیے مدرسے کی تعلیم کی مخالفت کی اور کہا کہ کسی بھی مذہبی ادارے میں داخلہ اس عمر میں ہونا چاہیے جس میں وہ  اپنے فیصلے خود کر سکے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہفتہ وار ‘پانچ جنیہ’ اور ‘آرگنائزر’ کی ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ بچے مدرسہ جانے کو تیار نہیں ہوں گے اگر انہیں بتایا جائے کہ وہ وہاں پڑھ کر ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن پائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کو ایسے مذہبی اسکولوں میں داخلہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

شرما نے کہا، مدرسہ لفظ ہی نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک یہ مدرسہ ذہن میں گھومتا رہے گا، بچے کبھی ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتے۔ اگر آپ کسی بچے کو مدرسہ میں داخلہ  کرواتے وقت پوچھیں تو کوئی بچہ تیار نہیں ہوگا۔ بچوں کو ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرکے مدارس میں داخل کرایا جاتا ہے۔

پروگرام کے بعد شرما نے اپنے تبصرے کی وضاحت کی کہ مدارس میں تعلیمی نظام ایسا ہونا چاہیے کہ وہ طلبہ کو مستقبل میں کچھ بھی کرنے کا اختیار دے سکیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ،کسی بھی مذہبی ادارے میں داخلہ اس عمر میں ہونا چاہیے جس میں وہ اپنے فیصلے خود لے سکیں۔

شرما نے بعد میں ٹوئٹ کیا، میں ہمیشہ ایسے مدرسوں کے نہیں ہونے کی وکالت کرتا ہوں جہاں رسمی تعلیم پر مذہبی جھکاؤ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ہر بچے کو سائنس، ریاضی اور جدید تعلیم کے دیگر مضامین سے روشناس کرایا جائے گا۔

شرما نے پروگرام میں کہا کہ ہر بچہ رسمی تعلیم پانے کا حقدار ہے۔ آسام میں ریاستی حکومت کی مالی مددسے چلنے والے مدارس کو بند کرنے کا قدم اٹھانے والے شرما نے کہا کہ اگر ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیم میں ترقی کرنی ہے تو ‘مدرسہ’ لفظ ہی معدوم ہو جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا، آپ چاہیں تو گھر میں گھنٹوں قرآن پڑھا سکتے ہیں، لیکن اسکول میں بچے کو سائنس اور ریاضی پڑھائے جانے کا حق ہے۔ ہر بچے کو سائنس، ریاضی اور جدید تعلیم کے دیگر مضامین سے روشناس کرایا جائے گا۔

شرما نے یہ تبصرہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا کہ مدارس کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے، تاکہ وہاں سے مزید پیشہ ور افراد نکل  سکیں۔

جب یہ ذکر کیا گیا کہ مدارس میں  جانے والے طلبہ ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ قرآن حفظ کرتے ہیں،تو  شرما نے کہا، … اگر مدرسہ جانے والا بچہ ذہین ہے، تو یہ اس کی ہندو وراثت کی وجہ سے ہے… ایک زمانے میں تمام مسلمان میں ہندو تھے۔ کوئی مسلمان بن  کرادھر نہیں آیا، ہندوستان کی سرزمین میں سب ہندو تھے۔ اس لیے اگر کوئی مسلمان بچہ بہت باصلاحیت ہے تو میں اس کا سہرا اس ہندو ماضی کو  دوں گا۔

شرما نے کہا کہ آسام میں 36 فیصد مسلم آبادی ہے، جسے تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: مقامی مسلمان، جن کی ثقافت ہماری جیسی ہے، مذہب بدلنے والےمسلمان – ہم انہیں دیسی مسلمان کہتے ہیں، ان کے گھر آنگن میں ابھی بھی تلسی کا پودا ہوتاہے، ان کے یہاں کی عورتیں ہمارے رسم و رواج کو مانتی  ہیں اور ان کے علاوہ  وہ ہیں جو 1971 سے پہلے یا بعد میں آکر آباد ہوئے۔ یہ مسلمان جو اپنے آپ کو میاں مسلمان بتاتے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، شرما نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مدارس کو بند کرنا اور یکساں سول کوڈ کا نفاذ مسلمانوں کے مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے کہا،ہمیں ہندوتوا کے لیے ایسانہیں کرنا ہے۔ جو لوگ مدارس کو بند کرتے ہیں اور یکساں سول کوڈ نافذ کرتے ہیں، ہندوستانی مسلمان  انہیں اپنا دوست اور اویسی کو اپنا دشمن کہیں۔

جس دن شرما اس بات چیت میں شامل ہوئے،اسی دن  حراست میں ہوئی مبینہ موت کے بعد پولیس اسٹیشن کو جلانے والے ملزمین کے مکانات گرائے جارہے تھے۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ان 12 اضلاع میں سے ایک میں پیش آیا ‘جہاں ہندوستان کے مقامی لوگ اقلیت میں ہیں اور مہاجرین اکثریت میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، پہلے تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم (مہاجرین کو) زمین اور انتخابی حلقے گنوائیں … پھر جب این آر سی لاگو ہوگا، قانونی اور غیر قانونی کی تعریف طے ہوگی، اس کے بعد ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

شرما نے کہا کہ شمال مشرق کے لوگوں کو مرکزی دھارے سے جوڑنا ان کے ڈریم پروجیکٹ میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا، ہمیں ان ہندوستانیوں کی طرح محسوس کرنا چاہیے جیسا یوپی اور دہلی کے لوگ محسوس کرتے ہیں… ابھی بھی ایک چھوٹے سے طبقے کے کچھ ایشوز باقی ہیں، جنہیں حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ شمال مشرق میں دہشت گردی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ شمال مشرق ہر روز بدل رہا ہے۔ جو کبھی مین اسٹریم سے منقطع  تھا، اب جڑ رہا ہے۔

‘راہل گاندھی علیحدگی پسند عناصر کو اکسا رہے ہیں، ان میں اور الفا میں کوئی فرق نہیں ہے’

اسی تقریب میں ہمنتا بسوا شرما نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی ہندوستان کو ریاستوں کا فیڈریشن (وفاق) قرار دے کر ‘علیحدگی پسند عناصر کو اکسا رہے ہیں،ان میں اور انتہا پسند گروپ الفا میں کوئی فرق نہیں ہے۔

آرگنائزر کے ایڈیٹر پرفل کیتکر کے ہوئے راہل گاندھی کے ذریعے ہندوستان کو ریاستوں کو فیڈریشن بتانے کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں شرما نے کہا کہ ہندوستان ثقافتی طور پر ایک ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا، ہندوستان کو صرف ریاستوں کے فیڈریشن کے طور پر شناخت کرنا ہماری 5000 سال پرانی مالا مال تہذیب کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے … اگر ہندوستان ریاستوں کا فیڈریشن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ہندوستان میں ہر چیز پر تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا، اب راہل گاندھی لوگوں کو یہ سمجھا رہے ہیں (کہ ہندوستان ریاستوں کا فیڈریشن ہے)۔ وہ علیحدگی پسند عناصر کو بھڑکا ر ہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جے این یو سے کوئی انہیں پڑھا رہا ہو… انگریزی کے علاوہ ان کی اور الفا کی زبان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا، لیکن یہ ان کی غلطی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ  جے این یو کے کسی شخص سے وہ ٹیوشن لے ر ہے ہوں….

واضح ہو کہ ہفتہ کو لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان آئین میں درج ریاستوں کا فیڈریشن ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 22 سال تک کانگریس میں رہنے کے بعد 2015 میں بی جے پی میں شامل ہونے والے شرما نے کہا کہ سونیا گاندھی کی قیادت والی پارٹی گاندھی فیملی سے آگے کچھ نہیں ہے۔

شرما نے کہا، کانگریس میں گاندھی پریوار کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ بی جے پی میں ہم ملک کو پہلے رکھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ جا کر گاندھی پریوارسے کہتے ہیں کہ ہندوستان آپ سے بڑا ہے تو آپ کانگریس میں اپنا عہدہ  کھو دیں گے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)