خبریں

گجرات فسادات: ذکیہ کی عرضی خارج؛ سپریم کورٹ نے مودی اور دیگر کو دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھا

ذکیہ جعفری کے شوہراور کانگریس ایم پی احسان جعفری 28 فروری 2002 کو احمد آباد میں گلبرگ سوسائٹی میں مارے گئے 68 لوگوں میں شامل تھے۔ 2017 میں ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلےبرقرار رکھا تھا جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور 63 دیگر کو فسادات سے متعلق معاملات میں کلین چٹ دی گئی  تھی۔

ذکیہ جعفری اور نریندر مودی/فوٹو: پی ٹی آئی

ذکیہ جعفری اور نریندر مودی/فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2002  کے گجرات فسادات کیس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 64 لوگوں کو ایس آئی ٹی کی جانب  سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کرنے والی ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔

ذکیہ 2002 کے گجرات کے فسادات میں مارے گئے کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ہیں۔

جسٹس دنیش ماہیشوری اور جسٹس سی ٹی روی کمار کے ساتھ جسٹس اے ایم کھانولکر کی سربراہی والی بنچ 5 اکتوبر 2017 کو گجرات ہائی کورٹ کے احمد آباد میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ کے کے فیصلے کو چیلنج  دینے ولی ذکیہ جعفری کی اپیل پر سماعت کر رہی تھی، جس میں  گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ مودی اور 63 دیگر افراد کو فسادات سے متعلق مقدمات میں کلین چٹ دی گئی تھی۔

بنچ نے ایس آئی ٹی کی کلوزر رپورٹ کے خلاف ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کرنے کے خصوصی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور کہا کہ جعفری کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

احسان جعفری 28 فروری 2002 کو احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں ہلاک ہونے والے 68 افراد میں شامل تھے۔ اس سے ایک دن پہلے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے  ایک کوچ میں آگ لگا دی گئی تھی، جس میں 59 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان واقعات کے بعد ہی گجرات میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

آٹھ فروری 2012 کو ایس آئی ٹی نے مودی اور 63 دیگر کو کلین چٹ دیتے ہوئے ایک کلوزر رپورٹ داخل کی تھی، جس میں اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل تھے،اور اس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف ‘مقدمہ چلانے کے قابل کوئی ثبوت’ نہیں تھا۔

سال 2018 میں ذکیہ جعفری نے ایس آئی ٹی کے فیصلے کے خلاف ان کی درخواست کو خارج کرنے کے ہائی کورٹ کے 5 اکتوبر 2017 کے حکم کو چیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا ٹرائل جج کے سامنے ایس آئی ٹی کی طرف سے اپنی کلوزر رپورٹ میں کلین چٹ دیے جانے کے بعد ذکیہ جعفری نے ایک احتجاجی درخواست دائر کی، جسے مجسٹریٹ نے ‘مصدقہ میرٹ’ پر غور کیے بغیر خارج کر دیا تھا۔

(خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)