فکر و نظر

زبیر کے خلاف شکایت کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ بی جے وائی ایم لیڈر سے وابستہ

خصوصی رپورٹ:  دی وائر کی تفتیش میں گجرات کے  بی جے وائی ایم لیڈر سے وابستہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کا ایک نیٹ ورک سامنے آیا ہے، جس کا استعمال آلٹ نیوز کے خلاف منظم  طور پرحملہ کرنے کے لیےکیا گیا تھا۔

(تصویر: دی وائر)

(تصویر: دی وائر)

نئی دہلی: دی وائر کی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ صحافی اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی گرفتاری طویل عرصہ سے گمنام اور غیرمصدقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ایک نیٹ ورک کی جانب سے جاری منظم کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اور یہ اکاؤنٹ گجرات کےبھارتیہ جنتا یووا مورچہ (وی جے وائی ایم) اور ہندو یوا واہنی کے کو کنوینر وکاس اہیر سے وابستہ ہے۔

بتادیں کہ دہلی پولیس نے زبیر کو ان کے ایک ٹوئٹ کے ذریعےمبینہ طور پرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت   27 جون کوگرفتار کیا تھا۔

زبیر کے خلاف پولیس میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ، ہنومان بھکت  (@balajikijaiin) کے ٹوئٹر ہینڈل سے، محمد زبیر (@zoo_bear) کے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے کیے گئے  ایک ٹوئٹ  کوشیئر کیا گیا تھا جس میں زبیر نے ایک تصویر پوسٹ کی تھی۔ تصویرمیں سائن بورڈ پر ہوٹل کا نام ‘ہنی مون ہوٹل’ سے بدل کر ‘ہنومان ہوٹل’ دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے ساتھ زبیر نے ‘2014 سے پہلے ہنی مون ہوٹل… 2014 کے بعد ہنومان ہوٹل…’ لکھا تھا۔

بتادیں کہ مذکورہ تصویر 1983 کی رشی کیش مکھرجی کی فلم ‘کسی سے نہ کہنا‘ کا ایک اسکرین شاٹ تھا۔

جب 29 جون کو زبیر کی ضمانت کی عرضی کی سماعت کے دوران ان کی وکیل ورندا گروور نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ شکایت ایک گمنام اکاؤنٹ سے  ‘ملک میں انتشار پیدا کرنے’ کے لیے کی جا سکتی ہے، تو استغاثہ نے جواب دیا تھا کہ، وہ گمنام شکایت گزار نہیں ہے۔اس کی تفصیلات یہاں ہیں۔ تفصیلات کے بغیر کوئی بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ حاصل نہیں کرسکتا۔

اگرچہ عدالت میں استغاثہ نے تفصیلات کا اشتراک نہیں کیا، لیکن انڈین ایکسپریس کی رپورٹ  بتاتی  ہے کہ بعد میں 29 جون کی شام کو پولیس نے سی آر پی سی کی دفعہ 91 کے تحت ٹوئٹر کو ایک نوٹس بھیجا، جس میں انہیں ‘ہنومان بھکت’ نام سے بنے  @balajikijaiin اکاؤنٹ کی تفصیلات دینے کے لیے کہا گیا۔

دی وائر نے دہلی پولیس کے ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا سےاس  شکایت گزار کی پہچان کی بابت سوال بھیجے ہیں، جواب موصول ہونے پراس  کو رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔

کھیل کیا ہے

دی وائر کی تفتیش میں اہیر سے منسلک 757 اکاؤنٹ کے ایک  نیٹ ورک کا پتہ چلا ہے، جنہوں نے 2018 کے بعد سے زبیر کے ساتھ ساتھ آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا کے اپ لوڈ کردہ پرانے ٹوئٹ کونکال کر انہیں ‘ہندو فوبک’ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد وہ ٹوئٹ کے سلسلے میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں دونوں صحافیوں کی گرفتاری کے لیے مقامی حکام کو ٹیگ کرتے رہے۔

تفتیش میں سامنے آیا کہ اس نیٹ ورک میں @balajikijaiin، جس ہینڈل کی شکایت پر زبیر کو گرفتار کیا گیا، نام کے آٹھ ریپلیکا اکاؤنٹ یعنی یکساں نام کے اکاؤنٹ تھے، جہاں سب کچھ ایک جیسا تھا- پروفائل فوٹو، ٹوئٹ، یوزر نیم،یہاں تک کہ آلٹ نیوز کے بانی کو بھی ایک ہی  طرح سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ ان آٹھ میں سے پانچ کو اب حذف کر دیا گیا ہے، وہیں اس تفتیش کے وقت @balajikijain اور @HanumanBhakt101 ایکٹو  تھے۔

قابل ذکر ہے کہ 757 اکاؤنٹ کے اس نیٹ ورک کا گہرائی سے جائزہ لینے پر283 اکاؤنٹ کے ایک ذیلی گروپ [سب سیٹ] کا پتہ چلتا ہے، جہاں باٹ، یعنی مشینی اور غیرمصدقہ سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔ گمنامی میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ان اکاؤنٹ نے پچھلے مہینے میں دن کے تمام گھنٹوں میں 500 سے زیادہ بار پوسٹ کیے ہیں، جو عام طور پر کسی انسانی عمل کا حصہ معلوم نہیں ہوتا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے زبیر کی گرفتاری کو نشانہ بناکر چلائےگئے آٹومیٹک اور اسپیم ہیش ٹیگ کے لیے کچھ تھرڈ پارٹی ٹولز جیسے چیپ  باٹس اور ڈن کوئیک کابھی استعمال کیا۔

غور طلب ہے کہ اس بڑے نیٹ ورک کے تقریباً 62فیصد (11380 اکاؤنٹ) جو گرفتاری کے بارے میں عوامی تاثرات کو اپنے حساب سےتبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے،  وہ بھی اصل میں  ٹیک فاگ نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس کا انکشاف اس سال جنوری میں دی وائر نے کیاتھا۔

جون 2021 میں ٹیک فاگ نیٹ ورک کے 77800 صارفین تھے، جن میں سے کئی  ہماری پچھلی سیریز کی اشاعت کے بعد غیر فعال ہو گئے تھے۔ زبیر کیس کے بارے میں رائے عامہ کو ایک طرح سےمتاثر کرنے کے لیے اس گروپ کی فعالیت کو گزشتہ چھ ماہ میں پہلی باراس نیٹ ورک کے استعمال کو دکھاتا ہے۔

محمد زبیر کے خلاف دہلی پولیس کے معاملے میں @balajikijain  کلیدی شکایت گزار  کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس معاملے پر عوامی احتجاج کے بعد اکاؤنٹ  عارضی طور پر بندہوا تھا؛  جب یہ واپس آیا، تو اس کے آپریٹر نے زبیر کے خلاف ٹوئٹ کو ہٹا دیا، اورآلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا کو اسی طرح کے ٹوئٹ کا  نشانہ بنایا،طریقہ وہی تھا – سات سال پہلے کے ان کے ایک ٹوئٹ پر پولیس ایکشن کا مطالبہ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی ٹوئٹ تھا، جسےپچھلے سال یعنی 2021 میں وکاس اہیر کے ذریعے سنہا کے خلاف درج  کروائی گئی پولیس شکایت کے لیے بنیادبنایا گیا تھا۔

ہم نے اس ٹوئٹ کا تجزیہ کیا،  جس کی شکایت پر زبیر کے ساتھ ساتھ پرتیک سنہا کے ٹوئٹ کے خلاف بھی شکایت درج کروائی گئی تھی، تاکہ دوسرے اکاؤنٹ کو تلاش کیا جا سکے جنہوں نے پچھلے چار سالوں میں ان ٹوئٹس کو ری ٹوئٹ کیا ہے اور دہلی پولیس اور دیگر مقامی حکام کےمصدقہ  اکاؤنٹس کو ٹیگ کیا۔

اس تجزیے سے ہمیں 3699 اکاؤنٹس کی فہرست ملی، جن میں سے 1257 اکاؤنٹس نے زبیر کی گرفتاری سے قبل دہلی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے ان دو ٹوئٹ کو شیئر کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اکاؤنٹس زبیر کے ذریعے  نوپور شرما کو ‘نفرت پھیلانے والا’ کہنے سے بہت پہلے سےاس نیٹ ورک کا حصہ تھے اور زبیر منظم طور پران کےنشانے پر تھے۔

 ٹوئٹر اے پی آئی  سے نکالے گئے ڈیٹا سے ان اکاؤنٹس کے سوشل کنیکشنزدیکھے گئے۔ ان 1257 اکاؤنٹ میں سے 757 اکاؤنٹ میں  ایک انوکھا پیٹرن نظر آیا –  ان میں سے ہر ایک کم از کم اس ٹوئٹر لسٹ کا حصہ تھا جہاں وکاس اہیر واحد مشترکہ رکن تھے۔

ایک ٹوئٹر لسٹ ایسے اکاؤنٹ کا ایک گروپ  ہوتاہے، جو کسی ایک اکاؤنٹ کے ذریعے تمام ٹوئٹ کو ایک ساتھ ایک کیوریٹڈ ٹائم لائن پر دیکھنے کے لیے بنایا جاتاہے۔ یہ کیوریٹر کو لوگوں کے پہلے سے بنائے گئے گروپ کے ذریعے کیے گئے ٹوئٹ تک آسانی سے پہنچا دیتا ہے،جو ٹائم لائن پر ٹوئٹ کی بڑی تعداد  کے درمیان دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔

وائرکی تفتیش  کے اگلے حصے میں @balajikijain اکاؤنٹ کو براہ راست وکاس اہیر کی ذاتی ویب سائٹ کے ای میل اکاؤنٹ سے منسلک پایا گیا۔

وکاس اہیر کون ہے؟

وکاس اہیر کا تعلق گجرات سے ہے اور ان کی ویب سائٹ کے مطابق، وہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو یووا واہنی کے ریاستی صدر اور بی جے پی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) میں سٹی کوآرڈینیٹر ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ وکاس۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا/وکاس اہیر)

یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ وکاس۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا/وکاس اہیر)

بی جے وائی ایم میں ان کی پوزیشن کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وکاس اہیر بی جے پی سے اچھی طرح  سےجڑے ہوئے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یوگی آدتیہ ناتھ، گجرات بی جے پی کے صدر اور نوساری کے ایم پی چندرکانت رگھوناتھ پاٹل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور مرکزی وزیر بھوپیندر یادو  جیسے ممتاز بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ ان کی تصویریں  ہیں۔

ان کے ٹوئٹر ہینڈل، جو زبیر کو نشانہ بنانے والے ایک وسیع نیٹ ورک سے منسلک ہے، پر 107293 فالوورز ہیں، جن میں کئی بی جے پی کے لیڈر اور عہدیدار شامل ہیں۔

پچھلے چار سالوں میں ان کی مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کی تاریخ  رہی ہے۔ اس میں سے تین اہم معاملے تھے-

ایک موقع پر وہ  یہ کہتے ہوئے کہ ،اگر آپ لو جہاد کرتے ہیں، تو ہم آپ کو مار ڈالیں گے’ 2017 میں کیمرہ پر فلماتے ہوئے ایک مسلمان مزدور افرازل  کو قتل کر کے زندہ جلانے والے شمبھولال ریگر کے لیے مالی امداد کا وعدہ کر رہے ہیں  اور ان کے  خاندان کے لیے 10 لاکھ روپے کی رقم جمع کرنے کی کوشش کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

ایک دوسرےمعاملے میں انہوں نے ‘شستر پوجا’ کے ایک پروگرام میں بہت سے ہتھیاروں کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں لکھا تھا، ‘شاستر نہیں پڑھو گے تو راشٹر کھو  دو گے، ہتھیار نہیں اٹھاؤ گےتو دھرم کھو دو گے۔

(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/وکاس اہیر)

(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/وکاس اہیر)

اس کے علاوہ کچھ وقت پہلے انہوں نے جامعہ ملیہ میں گولی چلانے والے ‘رام بھکت گوپال’ کی حمایت میں ٹوئٹ کیا تھا، جب ایک ویڈیو میں گوپال بندوق کی نوک پر ایک آدمی پر گائے کی اسمگلنگ کا الزام لگاتے ہوئے ہراساں کر رہا تھا اور عورتوں اور بچوں پر بندوق تانی  ہوئی تھی۔

زبیر کو نشانہ بنانے کی منظم کوشش

مجموعی طور پر کہیں تو، زبیر کو ایک ساتھ ہزاروں ٹیک فاگ اکاؤنٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا، سینکڑوں باٹ اکاؤنٹس ایک ایسےشخص وکاس اہیر سے جڑے تھے،جس کے بی جے پی سے قریبی  تعلقات ہیں اور ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کی تاریخ بھی۔ دہلی پولیس نے ایک گمنام اکاؤنٹ –  جو براہ راست ایک ای میل آئی ڈی کے ذریعے وکاس اہیر کی ذاتی ویب سائٹ سے منسلک ہے، کی طرف سے کی گئی ایک شکایت کو یکایک اٹھایا اور کارروائی کی۔

اس بات سے جواب کم  اور سوال زیادہ  کھڑے ہوتے ہیں۔

– دہلی پولیس نے 2018 کے ایک ٹوئٹ، جس نے چار سالوں میں ‘کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچایاتھا’،  کے سلسلے میں محمد زبیر کے خلاف چلائی گئی مشینی مہم کی پہچان کیوں نہیں کی  اور اس کے بجائے زبیر پر مجرمانہ سازش کا الزام لگایا۔

–دہلی پولیس نے اگر عدالت میں کہے کے مطابق شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ کی تصدیق کی تھی تو انہوں نے یہ عام  کیوں نہیں کیا کہ ‘گمنام’ شکایت وکاس اہیر سے وابستہ اکاؤنٹ سے کی گئی تھی؟

– یہ دیکھتے ہوئے کہ دی وائر نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ کئی سالوں سے مشینی یا باٹ ویہیبیر جیسے نظر آنے والے اکاؤنٹس کے ذریعے چلائی گئی مہم تھی، تو کیا دہلی پولیس کے ساتھ سالیسٹر جنرل ایک ایسے ٹوئٹ کو لے کر(جسے جان بوجھ کر اور بے بنیاد مہم کے ذریعے اہم بنایا جا رہا ہے) زبیر کے ذاتی الکٹرانک ڈیوائس  اور مالیاتی جانکار ی کو لے کر جانچ کرتے رہیں گے اور  انہیں حراست میں رکھیں گے؟

آیوشمان کول جنوبی ایشیا کو کور کرنے والے ایک ایک آزاد سیکورٹی اور انٹلی جنس تجزیہ کار ہیں۔

ناؤمی بارٹن دی وائر سے وابستہ ہیں اور دی ہارٹ لینڈ ہیٹ پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔

دیویش کمار ایک آزاد ڈیٹا تجزیہ کار  ہیں اور دی وائر کےسے وابستہ سینئر ڈیٹا ویژولائزر ہیں۔

(اس پوری  رپورٹ اور تفتیش میں استعمال ہونے والے طریقوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)