خبریں

سپریم کورٹ نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو عبوری ضمانت دی

گجرات پولیس نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو 2002 کے گجرات فسادات کی جانچ کو گمراہ کرکے ‘بےقصور لوگوں’ کو پھنسانے کے لیے ثبوت گھڑنے کی مبینہ سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ ایف آئی آر 24 جون کو گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور دیگر کو فسادات کے معاملے میں ایس آئی ٹی کی طرف سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کرنے والی ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کیے جانے کے ایک دن بعد درج کی گئی تھی۔

تیستا سیتلواڑ۔ (فوٹو پی ٹی آئی)

تیستا سیتلواڑ۔ (فوٹو پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو عبوری ضمانت دے دی۔ واضح ہو کہ  انہیں  گجرات پولیس نے 2002 کے گجرات فسادات کی تحقیقات کو گمراہ کرکے ‘بےقصور لوگوں’ کو پھنسانے کے لیے ثبوت گھڑنے کی مبینہ سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

چیف جسٹس یو یو للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ نے سیتلواڑ کو گجرات ہائی کورٹ سے باضابطہ  ضمانت پرفیصلہ ہونے تک اپنا پاسپورٹ نچلی  عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت دی۔

عدالت عظمیٰ نے سیتلواڑ سے یہ بھی کہا کہ وہ فسادات کے معاملات میں لوگوں کو پھنسانے کے لیے ثبوت گھڑنے کے الزامات کی تحقیقات میں متعلقہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کریں گی۔

لائیولاء کی رپورٹ کے مطابق ، سی جے آئی یو یو للت نے کہا، یہ ریکارڈ پر رکھنے کی بات ہے کہ اپیل کنندہ کو تقریباً سات دنوں کے لیے پولیس کی حراست  میں بھیج دیا گیا تھا اور متعلقہ جانچ  مشینری کے ذریعے ہر روز ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ سیتلواڑ کو عبوری ضمانت دے گی۔ اس نے گجرات حکومت کے سامنے پانچ نکات بھی اٹھائے، جن میں کہا گیا کہ کارکن کو ضمانت دیے جانے کے خلاف کسی بھی جرم کا ذکر نہیں ہے۔

لائیو لاء کے مطابق، بنچ نے کہا، ہم نے معاملے کو صرف عبوری ضمانت کے نقطہ نظر سے دیکھا ہے اور یہ خیال نہیں کیا جائے گا کہ ہم نے عرضی گزار کی طرف سے پیش کی گئی عرضیوں کی میرٹ  پر اپنی رائے دی  ہے۔میرٹ کی بنیاد پورے معاملے پر ہائی کورٹ آزادانہ طور پر غور کرے گی اور اس عدالت کے کسی بھی ریمارکس سے متاثر نہیں ہوگی۔

عدالت نے کہا کہ مقدمے کے دیگر ملزمان ضمانت کے لیے عدالت کے فیصلے پر انحصار نہیں کر سکتے۔

سیتلواڑ کی طرف سے ایڈوکیٹ کپل سبل نےدلیل دی کہ ان کے خلاف ایف آئی آر میں بیان کردہ حقائق اسی کارروائی کا اعادہ  ہیں، جس کا اختتام ذکیہ جعفری کی درخواست پر سپریم کورٹ کے 24 جون کے فیصلے کے ساتھ ہوچکا ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ سیتلواڑ کے خلاف عائد کردہ الزام تو بنتا ہی نہیں ہے۔

سبل نے کہا کہ سیتلواڑ کے خلاف گواہی ان کے سابق ملازم نے دی تھی، جسے انہوں نے نوکری سے نکال دیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ مختلف عدالتوں نے 2002 کے فسادات کے مقدمات میں حلف ناموں کی بنیاد پر لوگوں  مجرم قرار دیا ہے کہ سماجی کارکن (سیتلواڑ) نے (حلف نامہ) مرتب کرنے میں مدد کی تھی، اس لیے ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

گجرات حکومت کی طرف سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ ضمانت کے لیے عرضی گجرات ہائی کورٹ کے سامنے زیر سماعت ہے اور عدالت کو اس پر غور کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

لائیو لاء کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں تفصیلات کے علاوہ کافی مواد ہے، جو مبینہ جرم میں سیتلواڑ کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کر تاہے۔

سیتلواڑ کے خلاف درج ایف آئی آر میں گجرات سابق پولیس  آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ بھی ملزم ہیں۔

احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ نے سیتلواڑ، سری کمار اور بھٹ کے خلاف  25 جون کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ تینوں پر 2002 کے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملات کے سلسلے میں جھوٹے ثبوت بنا کر قانون کے غلط استعمال کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔

سیتلواڑ، سری کمار اور بھٹ کے خلاف ایف آئی آر سپریم کورٹ کی جانب سے 24 جون کو گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور دیگر کو 2002 کے فسادات کے معاملے  میں ایس آئی ٹی کی طرف سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کرنے والی ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کیےجانے کے بعد درج ہوئی ہے۔

سیتلواڑ کی این جی او نے ذکیہ جعفری کی قانونی لڑائی کے دوران حمایت کی تھی۔ جعفری کے شوہر احسان جعفری احمد آباد گلبرگ سوسائٹی میں قتل عام میں  کے دوران مارے گئے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر کے خلاف سپریم کورٹ میں دائرعرضی  میں سیتلواڑ اور ان کی این جی او ذکیہ جعفری کے ساتھ شریک عرضی  گزار تھیں۔

سیتلواڑ، سری کمار اور بھٹ کے خلاف درج ایف آئی آر میں آئی پی سی کی دفعہ 468 (دھوکہ دہی کے ارادے سے جعلسازی)، 471 (جعلی دستاویز یا الکٹرانک ریکارڈ کے طور پر استعمال کرنا)، 120بی (مجرمانہ سازش)، 194 (سنگین جرم کاقصور ثابت کرنے کے ارادےسے جھوٹے ثبوت دینا یا گڑھنا) 211 (زخمی کرنے کے ارادے سے کسی جرم کا جھوٹا الزام) اور 218 (کسی سرکاری ملازم کو جھوٹا ریکارڈ دینا یا کسی جرم کی سزا سے فرد یا جائیداد کو ضبط ہونے سے بچانا) کا ذکرہے۔

ان تینوں پر گجرات فسادات کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کو گمراہ کرنے کی سازش کرنے کا الزام ہے، جو گجرات فسادات اور وزیر اعلیٰ کے طور پر نریندر مودی کے کردار کی تحقیقات کر رہی تھی، اگران کا کوئی رول ہے۔

ایف آئی آر احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ میں پولیس انسپکٹر درشن سنگھ بی براڈ کی شکایت پر درج کی گئی  تھی۔ ایف آئی آر میں سیتلواڑ، بھٹ اور سری کمار ‘اور دیگر’ پر جھوٹے ثبوت گڑھ  کر قانونی عمل کے غلط استعمال کی سازش کرنے کا الزام لگایا گیا ہے،تاکہ متعدد افراد کو سزائے موت کے ساتھ قابل دست اندازی جرم کے لیے مجرم ٹھہرایا جا سکے۔

غور طلب ہے کہ ایف آئی آر میں سپریم کورٹ کے گزشتہ جمعہ (24 جون) کے فیصلے کے ایک حصے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ذکیہ جعفری کی اس عرضی کو خارج کر دیا گیا تھا جس میں ایس آئی ٹی کے ذریعے بڑے پیمانے پر تشدد کے پیچھے ایک بڑی سازش کوخارج کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ،

آخر میں ہمیں لگتا ہے کہ ریاست گجرات کے ناراض افسروں کے ساتھ ساتھ دوسروں  لوگوں کی مشترکہ کوشش سنسنی پیدا کرنے کی تھی، جو ان کے اپنے علم کے لیےجھوٹے تھے۔ درحقیقت،  قانونی عمل کے اس طرح کے غلط استعمال میں ملوث تمام افراد کو کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)