ادبستان

ندا فاضلی کا مذہب عشق اور انسانیت ہے …

سالگرہ پر خصوصی تحریر: ندا فاضلی نے شاعری بھی محبت کی زبان میں کی اور نثر بھی لکھی تو عشق کی زبان میں اور شاید اسی عشق کی زبان نے ندا فاضلی کے نصیب میں وہ شہرت اور مقبولیت لکھ دی جو بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔

ندا فاضلی

ندا فاضلی

”ایک با ر ندا مندر کی چوکھٹ پر پڑا ایک گلاب کا پھول پجاری کی نظر بچا کر اٹھا لیتا ہے۔ اس کے پھول اٹھاتے ہی گھنٹی بجتی ہے اور ساتھ میں ہر ہر مہادیو……. وہ سہم جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے پھول گر جاتا ہے۔

پجاری یہ دیکھ کر مورتی کے پاس سے اٹھتا ہے اور گرے ہوئے پھول کو اٹھا کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔ وہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے ڈرو نہیں یہ بھی بھگوان کا پھول ہے۔ تم بھی بھگوان کے پھول ہو….. لے جاؤ……!

اس دن سے وہ جب بھی ندا کو مندر کے سامنے سے گزرتا دیکھتا ہے، آواز دے کر بلاتا ہے اور ایک تازہ گلاب کا پھول مورتی سے اٹھا کر ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔ دھیرے دھیرے جھجک ختم ہو تی ہے دونوں آپس میں باتیں بھی کرنے لگتے ہیں۔ ستر پچھتر سال کے پجاری اور چھ سات سال کے لڑکے کا یہ رشتہ عجب ہے جو چوری کے ایک پھول سے شروع ہوتا ہے اور پوجا کے کئی پھولوں تک پھیل جاتا ہے۔ مہکتا ہوا بے نام رشتہ۔ نہ پجاری لڑکے کے نام سے واقف ہے، نہ لڑکا اس کے بارے میں کچھ جانتا ہے۔ دونوں کے درمیان صرف سرخ گلابی پھول ہیں۔ ان میں ہر پھول کا نام گلاب ہے۔ ہر ایک کا دھرم خوشبو ہے۔“


شام کو رام نارائن آتے ہیں۔ وہ آج کچھ چپ چپ سے ہیں۔ ان کے ماتھے پر شکنیں ہیں اور آنکھیں کھوئی ہوئی سی ہیں۔ وہ مرتضیٰ حسن سے سنجیدگی سے کہتے ہیں….

”شہر کی فضا بہت خراب ہے۔ ایسا کرو تم دو چار دن کے لئے بال بچوں کو کسی مسلمان آبادی کے علاقے میں منتقل کردو۔“

”مسلمان آبادی سے کیا مطلب ہے تمہارا…… رام نارائن تم جانتے ہو میں اس بھید بھاؤ کو نہیں مانتا۔“

”میرے تمہارے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔ ہم سب سیاستوں کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ رام نارائن ہندو ہے وہ مسلمانوں کا دشمن ہے اور مرتضیٰ حسن نام سے مسلمان ہے جو ہندوستان کا دشمن ہے….“

رام نارائن جی نے غصہ سے کانپتے ہوئے کہا۔

حویلی کی رات ڈراونی اور خاموش ہے۔ رات بھر ایک طرف سے ہر ہر مہادیو کا نعرہ گونجتا ہے تو کچھ دیر بعد دوسری طرف سے اللہ اکبر کا شور اٹھتا ہے۔ ان کو سن کر عورتیں خاموش ہو جاتی ہیں اور بچے سہم کر اپنی ماؤں کے قریب ہو جاتے ہیں۔

پجاری جی کے ہر ہر مہادیو اور ملا جی کے اللہ اکبر کے الفاظ آج ان اجنبی آواز میں گالیاں بن گئے ہیں۔ یہ اسی طرح گھناؤنے لگتے ہیں جس طرح رام نارائن کی گالیاں ندا کے منہ میں فحش ہوگئی تھیں۔ لگتا ہے یہ لوگ بھی ان لفظوں کو دوہرا کر کوئی گناہ کر رہے ہیں۔ جس کی سزا میں ان کی مائیں انہیں مار دیں گی بھی اور بھوکے پیٹ سلائیں گی بھی…..

ان دونوں اقتباسات میں ندا کی فکر بھی ہے، فلسفہ بھی، ان کی نظر بھی، ان کا نظریہ بھی اور اس کے ساتھ ان کی نثر کی خوبصورتی بھی ہے کہ بڑے اچھوتے انداز میں انہوں نے دو متضاد منظرنامے کو پیش کیا ہے۔ ندا فاضلی کی  شاعری ہو یا نثر ان میں انہی اقتباسات کا عکس نظر آتا ہے۔ ایک میں محبت کا گلاب ہے اور دوسرے میں نفرت کے کانٹے اور ندا کی زندگی انہی دونوں کے درمیان گزری ہے۔ اور انہی تضادات کو انہوں نے اپنی شاعری اور نثر کا موضوع اور محور بنایا ہے۔

ندا کی نثر کی اپنی منطق اور منطقہ ہے۔ان کی نثر میں وہی صوتی حسن، نغمگی، خوش آہنگی اور موسیقیت ہے جن سے ان کی شاعری عبارت ہے۔

ندا فاضلی کی شاعری اور نثر میں بڑی قربت ہے۔دونوں میں ایک عجب سی مماثلت ہے۔شاعری کی طرح ان کی نثر میں خوش آوازی اور قافیہ بندی ملتی ہے۔ان کی شاعری اور نثر کی متوازی قرأت یہ بتاتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان فاصلے سے زیادہ قربتیں ہیں۔ ان کی نثر اور نظم ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ان کی نثر بھی شاعری کی طرح سرشاری کی کیفیت سے ہمکنار کرتی ہے۔شاید اس کی وجہ ندا کی نثر ونظم کے ترکیبی اجزاء کی یکسانیت ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ممتاز نقاد اور دانشور شمیم حنفی نے لکھا ہے کہ:

”دونوں کے رنگ اور موسم اور مزہ ایک سے ہیں۔شعر تو خیر سبھی کہتے ہیں لیکن نئے شاعروں میں ندا جیسی شفاف، حساس اور بے ساختہ نثر لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کی نثر ہمیشہ دھیرے دھیرے آگے بڑھتی ہے۔ایک خوش خرام جوئے آب کی طرح۔ ان کی نثر جھالر یا سجاوٹ کے سامان سے حیرت انگیز حد تک خالی ہے۔“

ندا کی نثر میں وہی نزاکت، لطافت،جاذبیت اورکشش ہے جو ان کی شاعری کا خاصہ ہے۔شاعری ہی کی طرح نثر میں بھی وہ بھیڑ کا حصہ نہیں بنے بلکہ خیال اور اظہار کی یکسانیت سے بچنے کے لئے ایک الگ راہ اختیار کی۔شاعری کی شیرینی اور شوخی کو اپنی نثر میں ڈھالا،اسی لیے شاعری کی طرح ان کی نثر کا جادوبھی سرچڑھ کر بولتاہے۔ان کی نثر کسی زنجیر میں جکڑی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ ہر زنجیر کو توڑتی ہوئی اپنے فطری بہاؤ اور بانکپن کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

ندا فاضلی کو ایک مجسمہ ساز کی طرح لفظوں کو تراشنے کا ہنرآتا ہے اور ایک موسیقار کی طرح لفظوں کو سازوآہنگ عطا کرنے کا آرٹ بھی۔ اسی لیے ندافاضلی کی نثر میں مصوری بھی ہے اور موسیقی بھی۔اور اس کا گواہ ان کی وہ نثری تحریریں ہیں جو ’ملاقاتیں‘، ’دیواروں کے بیچ‘، ’دیواروں کے باہر‘، ’چہرے‘ اور ’دنیا میرے آگے‘ میں بکھری ہوئی ہیں۔

ندا فاضلی کی نثر ان کی ترسیلی اہلیت اور شعور کا بین ثبوت ہے۔جدیدلسانیاتی طریق کار اور اسلوبیاتی وسائل کا انھوں نے نہایت ہنر مندانہ استعمال کیاہے۔ندافاضلی کی نثر میں تجنیس صوتی، صوتی رمزیت اورساختی متوازیت کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔جدید اسلوبیات میں اظہار وبیان کی تجمیل کے لیے اکثر یہی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

ندا کی تحریروں میں ساختی متوازیت کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے:

”وہ چاہتا ہے بچپن کی طرح بہت سے پیسے چڑی مار کو دے کر بہت سی چڑیاں اس کے پنجرے سے آزاد کروادے۔وہ چاہتاہے شام ہوتے ہی کسی قبرستان میں جائے اور کسی ایک قبر پر ڈھیر ساری اگر بتیاں جلائے اور ایک ساتھ کئی قبروں پر فاتحہ پڑھ کر چلاآئے، وہ چاہتا ہے سمندر کے کنارے کسی سنسان گوشے میں بیٹھ کر آتی جاتی لہروں پر کئی بھولے بسرے چہرے بنائے۔وہ چاہتا ہے ماضی کی کسی خوشی کو یاد کرکے اتنا ہنسے کہ آنکھوں میں آنسو چمک اٹھیں۔“

 اسی طرح قافیہ بندی بھی  ا ن کی نثر کو خوب صورتی عطا کرتی ہے اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ذرا یہ اقتباسات دیکھئے:

”سب کو اپنی زندگی سے پیار ہوگیاہے اور صابر پھر سے بیکار ہوگیاہے۔“

”سیاست کی منزل حکومت ہوتی ہے اور ہر حکومت کو ووٹ بینک کے لیے چھ دسمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔“

”وہ پیچھے سے میرے جیسے کم سن اور سامنے سے میرے والد کے ہم سن لگتے تھے۔“

”پہلی شادی کے وقت ساتھ میں جوانی تھی، دوسری بار عمر کی بے سروسامانی تھی۔“

”سیاست کا دباؤ زندگی میں تناؤ پیدا کردیتاہے۔“

”ان کی شخصیت جدید و قدیم کے سنگم کی بہار تھی۔ اس میں وہ ادبی روایت کی بھی حصہ دار تھی جو جاگیردارانہ عہد کی پیداوار تھی۔“

”بمبئی کسی بھی آنے والے کو آسانی سے نہیں اپناتی۔ کچھ دن ڈراتی ہے کچھ دن ستاتی ہے۔“

ندا فاضلی کی طبیعت کی موزونیت نے ان کی نثر کو تخلیقیت عطا کی تھی۔ اسی لئے ان کی نثر میں تخلیقیت کے سارے عناصر موجود ہیں۔ اردو میں ندا کی طرح تخلیقی نثر لکھنے والے خال خال ہی پیدا ہوئے ہیں۔

دبستان داغ سے ندا فاضلی کی وابستگی رہی ہے اور شاید اسی نے ان کی نثر میں چلبلا پن اور شوخی بھی پیدا کردی تھی۔ایسی شوخیوں کے نمونے ان کی بہت سی نثری تحریروں میں ملتے ہیں۔سلام مچھلی شہری کے بارے میں ندا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ:

”سلام کی دن بھر کی دبی گھٹی شخصیت ہر رات اسی طرح نشہ کی سیڑھیوں سے عظمتوں کی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہے۔“

اسی طرح سہا مجددی کے بارے میں لکھتے ہیں:

”نشے کے جھونک میں کبھی لہراتے ہیں تو سارا آسمان اپنے چھوٹے ہاتھوں پر اٹھا لیتے ہیں۔“

ندا کی نثر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ تحیر اور تجسس کو جگاتی ہے۔ تخیل کو مہمیز کرتی ہے۔احساس کے الاؤ روشن کرتی ہے۔قوت فکر وعمل کو بیدار کرتی ہے۔ادراک و آگہی کے دریچے کھولتی ہے۔جہاں من میں تلاطم پیدا کرتی ہے اور فکر و نظر کے بہت سے سلسلوں کو روشن کر دیتی ہے۔ یہ اقتباسات دیکھئے جن میں آج کی سیاست کا منظرنامہ بھی ہے اور ایک حساس فنکار کا درد و کرب بھی۔ ایک درد مند دل رکھنے والا فنکار جب معاشرت، ثقافت اور سیاست کے حوالے سے سوچتا ہے تو درد اور کرب کی کتنی لہریں دل میں اٹھنے لگتی ہیں:

”فسادات ہوتے نہیں کرائے جاتے ہیں، کرسیوں کی لالچ اہل سیاست کو جانور بنادیتی ہے۔“

”اس اندھیرے نے پہلی بار بمبئی میں مجھے میرے مسلمان ہونے کی خبردی تھی اور دوسرے دن میں بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح اپنے گھر سے اپنے نام کی تختی نکال رہا تھا۔“

”ملک بھیڑ سے نہیں، بھیڑ میں شامل افراد سے بنتا ہے آج کی سیاست کا سب سے بڑاجرم یہی ہے……. کہ وہ بھیڑ کی طرف جاتی ہے افراد کی طرف نہیں جاتی اور جب یہ رویہ اپنا یا نہیں جائے گا تو ملک آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف جائے گا۔“

ندا کی نثری تحریریں بے معنی جملوں کا ہجوم یا انبوہ نہیں ہیں۔ ان کی نثرکی رگوں میں تین چیزیں لہو بن کر گردش کرتی ہیں۔

Heart, humanity, harmony

وہ ہمیشہ اپنے دل، انسانیت،ہم آہنگی اور یکجہتی کی باتیں کرتے ہیں، ان کا مذہب انسانیت اور عشق ہے۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعہ اسی انسانیت، عشق اور محبت کا پیغام دینا چاہتے ہیں جو صوفی روایت کا وطیرہ رہا ہے۔ وہ کبیر، امیر خسرو، رس کھان، رحیم کی روایت کی روشنی پھیلانا چاہتے ہیں اس لئے ان کرداروں کو بہت اہمیت دیتے ہیں جن میں انسانیت سے محبت ہوتی ہے۔ ندا فاضلی کو ایسے کردار بہت عزیز رہے ہیں۔ مکٹ بہاری سروج بھی ایسا ہی کردار تھے جن کے بارے میں ندا لکھتے ہیں کہ:

”سروج جی نے پورا انسان بننے کا خطرہ اٹھایا تھا۔ انہو ں نے اپنے لئے جو مذہب تجویز کیا تھا اس کا نام انسانیت تھا۔ جس میں تھوڑا تھوڑا ہر دھرم شامل تھا۔ وہ دیوالی میں دیپ جلاتے تھے، عید میں سویاں کھاتے تھے، کرسمس میں کرائسٹ کے گیت سناتے تھے اور جب امبیڈکر کا جنم دن آتا تھا تو گوتم کا فلسفہ دہراتے تھے۔“

”ایک دن بہت اداس اداس اور خاموش خاموش تھے۔ میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگے۔ تمہارے گھر والے فرقہ وارانہ فساد سے تنگ آکر پاکستان چلے گئے تم اکیلے یہاں رہ گئے۔ بنا گھر کے بنا روٹی پانی کے۔ میں نے پوچھا لیکن آپ کی اداسی کا اس سے کیا تعلق؟ جواب میں بولے۔ اس لئے کہ میں پیدائشی ہندو ہوں اور تمہاری پریشانی کا سبب بھی میرے دیش کا ہندوتو ہے۔“

گوالیار کے ساہتیہ سنگم کے حوالے سے لکھتے ہیں:

”شہر میں ہندو مہا سبھا اور جن سنگھ سماج کو دھرم شاستروں سے بانٹ رہی تھی اور شہر کی یہی چھوٹی سی دکان سیکولر بھارت کے نقشہ میں نت نئے رنگ بھر رہی تھی۔ یہاں کوئی ہندوتھانہ مسلمان تھا۔ جو بھی تھا انسان تھا۔ ایسا انسان جس کے ماتھے پر زرتشت کے نور کا نشان تھا۔ عیسیٰ کے پیار پر جس کا ایمان تھا۔ دل میں گیتا تھی، ہاتھ میں قرآن تھا۔‘

 ہندی کوی ویریندر مشرکو یاد کرتے ہوئے ندا لکھتے ہیں:

”وہ شروع سے باغیانہ مزاج کے فنکار رہے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں ایک ایسا سماج نظر آتا ہے جس میں آدمی کو اس کے مذہب، علاقہ اور زبان سے نہیں جانا جاتا، اسے اس کی انسانیت سے پہچانا جاتا ہے۔“

شاعری اور نثر دونوں میں ندا فاضلی کا بنیادی سروکار اعلیٰ انسانی اقدار سے رہا ہے۔ اس لئے وہ امن، اتحاد، یک جہتی، پر امن بقائے باہم اور بین مذاہب ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔وہ ہندوستان میں مشترکہ مذہب نہیں مشترکہ تہذیب پر زور دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ندا فاضلی کی نثر میں مشترکہ لسانی تحریک کے اثرات نظر آتے ہیں۔

وہ ساجھی، ثقافتی اور لسانی وراثت کے علمبردار ہیں۔ اور گاندھی جی کی ہندوستانی زبان میں لکھتے ہیں۔ فارسی زدہ اردو اور سنسکرت زدہ ہندی سے انہیں نفرت ہے۔ انہوں نے بول چال کی عوامی زبان سے اپنا رشتہ جوڑا ہے۔ اور زمین پر بکھرے ہوئے ان لفظوں سے بھی جن سے ہمارا رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ کھنڈر یا خرابے میں سسکتے ہوئے بہت سے الفاظ ہیں، گاؤں اور قصبات کی بہت سی بولیاں ہیں جنہیں ندا فاضلی نے نئی زندگی دی ہے۔

عام آدمی کی زبان سے ان کا یہی رشتہ ہے جس کی وجہ سے وہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں مقبول ہیں۔ اردو انہیں عام آدمی کی زبان نظر آتی ہے اور ان کا موقف ہے کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان نہیں بلکہ انسانوں کی زبان بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی ہے کہ جس طرح ماضی کی سیاست نے اردو کو مسلمان بنایا اسی طرح کانسٹی ٹیوشن کا سیکولر کردار اسے دوبارہ مسلمان سے انسان بنا دے گا۔

ندا فاضلی اردو کے اسلامی تشخص کے سخت مخالف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری اور نثر دونوں میں اردو ہندی دونوں زبانوں کے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اور اس طرح دونوں زبانوں کی قربتوں کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ جب کہ وہ انگریزی ادب کے طالب علم رہے مگر انگریزی کے مقابلے میں اپنی مشترکہ لسانی وراثت کو ترجیح دی۔

ندا فاضلی نے اردو نثر کو ایک نیا رنگ اور آہنگ دیا۔ اور اپنے جملوں کی ساخت اور صوت سے ایک خوبصورت نثر اردو کو عطا کی۔ دنیا کے کسی بھی زبان میں خوبصورت نثر کی کوئی بھی تعریف کی جائے ندا فاضلی کی نثر اس پر کھرا اترے گی۔ ندا فاضلی کے جملوں میں ایک خاص طرح کی خوشبو اور روشنی ہوتی ہے۔ اور مختصر جملوں میں بھی فکر اور فلسفہ کی ایک بڑی دنیا آباد نظر آتی ہے۔

ندا فاضلی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے بڑے سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈسکورس کو بھی ایک جملہ میں بیان کر دیا ہے۔ ذرا یہ جملے دیکھیں کتنی تہہ داری اور معنویت ہے ان جملوں میں:

”پیڑوں میں ہندومسلمان تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو ایک شہر کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں پناہ گزیں ہوں۔“

”مذہب تو انسان کا ہوتا ہے، اینٹ پتھروں میں ذات پات کہاں ہوتی ہے۔“

”چہروں اور ناموں کے امتیازات زندگی  کے واہمے ہیں۔ حقیقت صرف مٹی ہے جس کا ہر جگہ ایک نام ایک چہرہ ایک رنگ ہے۔“

ندا فاضلی کی نثر ہو یا شاعری ان کا سروکار عام انسان سے ہے جس کے پاس خواب تو ہیں مگر تعبیریں نہیں، دکھ درد تو ہیں مگر مداوا نہیں۔

آج اور کل کی بات نہیں ہے صدیوں کی تاریخ یہی ہے

ہرآنگن میں خواب ہیں لیکن چند گھروں میں تعبیریں ہیں

ندا ہندو مسلمان کی تفریق کے قائل نہیں، ان کے ہاں سب کے دکھ درد یکساں ہیں۔

ہندو بھی مزے میں ہے مسلمان بھی مزے میں

انسان پریشاں یہاں بھی ہے وہاں بھی

انسان کی یہی پریشانی، ان کے ذہن و دل کو پریشان کرتی ہے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ:

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے

سب نے انسان نہ ہونے کی قسم کھائی ہے

نثری تحریروں میں بھی ندا کا یہی انداز اور طرز فکر ہے۔

ندا فاضلی کی نثر میں زندگی سانسیں لیتی نظر آتی ہے۔ مردہ الفاظ یا احساس کے لئے ان کے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہر لفظ اور احساس کو وہ نئی زندگی دیتے ہیں۔بات چاہے زندہ کرداروں کی ہو یا شہروں کی ہر ایک کی روح میں وہ اترتے ہیں۔ ان کے لئے شہر کنکریٹ کا جنگل یا عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ شہر کی روح میں اترتے ہیں اور شہروں کی ثقافتی حسیت، تخلیقی سائیکی اور تہذیبی معنویت سے ہمیں روشناس کراتے ہیں۔ندا فاضلی کے ہاں صرف افراد نہیں شہر بھی کردار بن جاتے ہیں۔

انیس جنگ نے بہت پہلے ایک کتاب لکھی تھی “When the Place becomes the person” ندا فاضلی نے شہروں کو افراد کی طرح دیکھا اور پرکھا ہے۔

گوالیار، بمبئی اور دہلی جیسے شہروں سے ان کا بہت گہرا رشتہ رہا ہے۔ ان شہروں کے حوالے سے جب لکھتے ہیں تو شہروں کے تمام چہروں سے روشناس کراتے ہیں۔

مادیت کا چہرہ ہو، صارفیت کا چہرہ ہو یا ادب کا چہرہ ہو ہر چہرہ ان کی تحریروں میں روشن ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ دہلی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

”دہلی میں ہر موسم دوسری جگہوں سے مختلف ہوتا ہے۔ ان میں شدتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ سردی میں زیادہ سردی۔ گرمی میں زیادہ گرمی، برسات میں زیادہ برسات۔ یہاں کے موسموں کی طرح یہاں کے تعلقات بھی قبائلی تیور لئے ہوتے ہیں۔ خفا ہوتے ہیں تو مہینوں خفگی کو پالتے پوستے ہیں۔ ہر طرح سے اس کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔

خوش ہوتے ہیں تو کسی کو بھی لال قلعہ، چاندنی چوک اور قطب کی لاٹ کے عطیات سے نواز دیتے ہیں۔ دہلی کے راستے رات کو دیر تک گھومنے پھرنے کے عادی نہیں۔ ساری سیاسی، ادبی اور تہذیبی بحثیں سورج غروب ہونے کے کچھ دیر بعد تانگوں، سائیکل رکشاؤں یا سرکاری بسوں میں سوار ہو جاتی ہیں۔“

ممبئی کے حوالے سے ان کا مشاہدہ یوں ہے:

”ممبئی کے کئی چہرے ہیں۔ کسی ایک رخ سے اس کی پہچان ممکن نہیں۔ کئی منزلہ عالی شان عمارتوں سے لے کر فٹ پاتھوں پر حمال ٹوکریوں میں سرڈال کر سوتے ہوئے مزدوروں تک پھیلی ہوئی یہ ہزار چہرہ ممبئی آنسو بھی ہے، تبسم بھی ہے۔ سنگھرش بھی ہے، خود کشی بھی ہے۔“

ندا فاضلی نے شاعری بھی محبت کی زبان میں کی اور نثر بھی لکھی تو عشق کی زبان میں اور شاید اسی عشق کی زبان نے ندا فاضلی کے نصیب میں وہ شہرت اور مقبولیت لکھ دی جو بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔

ندا فاضلی کی شعری شخصیت ہو یا نثری دونوں میں ہمیشہ ایک ہی رہے۔  ان کی ذات میں دس بیس آدمی نہیں بلکہ ایک ہی فرد ہے جو نہایت ہی حساس اور دردمند دل رکھتا ہے۔ انہیں کا شعر ہے:

بدلا نہ اپنے آپ کو جو تھا وہی رہے

ملتے رہے سبھی سے مگر اجنبی رہے

شاعری میں جس طرح انہوں نے یہ کہا ہے کہ

روشنی کی بھی حفاظت ہے عبادت کی طرح

بجھتے سورج سے چراغوں کو جلایا جائے

اسی طرح نثر میں بھی انہوں نے بے چہرہ لوگوں کو ایک چہرہ اور نام عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔”دنیا میرے آگے“ میں انہو ں نے اس حوالے سے لکھا بھی ہے اور یہ شعر بھی درج کیا ہے کہ:

تاریخ میں محل بھی ہیں اور حاکم بھی تخت بھی

گمنام جو ہوئے ہیں وہ لشکر تلاش کر

ندافاضلی کی شاعری ہو یا نثر دونوں میں ان کی انفرادیت مسلم ہے۔ ان کے تخیل کی ندرت اور بیان کی جدت ہر سطح کے قاری کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ندا فاضلی سے جس طرح اردووالے عشق کرتے ہیں ہندی والے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں۔

ندا کا نثری بیانیہ پرقوت بھی ہے اور پرتاثیر بھی۔ انہو ں نے خود ہی ایک جگہ لکھا تھا کہ شاعری کی طرح نثر بھی کئی رنگ روپ کی ہوتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ندا کی نثر کا ایک چہرہ ہے جو اتنا الگ اور منفرد ہے کہ بھیڑ میں بھی اس چہرے کی شناخت کی جا سکتی ہے۔