خبریں

پاکستان: لانگ مارچ کے دوران حملے میں عمران خان کو گولی لگی، ایک کی موت

یہ واقعہ پنجاب کے شہر وزیر آباد قصبے کے اللہ والا چوک کے قریب اس وقت پیش آیا،  جب عمران خان جلدی انتخابات کے اپنےمطالبے کے لیے اسلام آباد تک مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں سات افراد زخمی ہوئے اور ایک شخص کی موت ہوگئی ،  ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

گولی لگنے کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان۔ (تصویر: رائٹرس)

گولی لگنے کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان۔ (تصویر: رائٹرس)

اسلام آباد/لاہور: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران جمعرات کو صوبہ پنجاب میں ان کے کنٹینر– ٹرک پر حملہ کیا گیا، جس میں ان کے پاؤں میں گولی لگی۔ وہ خطرے سے باہر ہیں۔

اس حملے میں ایک شخص مارا گیا، جبکہ 70 سالہ خان کی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ یہ ‘قتل کی کوشش’ تھی۔

یہ واقعہ پنجاب کے وزیر آباد قصبے کے اللہ والا چوک کے قریب اس وقت پیش آیا،  جب خان جلدی انتخابات کے اپنے مطالبے کے لیے اسلام آباد تک  مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔

پنجاب پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے میں سات افراد زخمی ہوئےاور ایک شخص کی موت ہوگئی ہے، ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مارچ کے دوران خان پر حملہ کرنے والے مشتبہ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ خان کو قتل کرنا چاہتا تھا،  کیونکہ ‘وہ (خان) عوام کو گمراہ کر  ر ہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پاس دستیاب ایک ویڈیو بیان میں حملہ آور کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ  وہ عمران کے لاہورچھوڑنے کے بعد سے  ہی قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

اس نے کہا، ‘میں نے ان کو مارنے کی پوری کوشش کی۔ میں صرف عمران خان کو مارنا چاہتا تھا اور کسی کو نہیں۔

خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد عمر نے میڈیا کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم کے پاؤں میں ایک گولی لگی ہے۔ انہوں نے حملے کےلیے  کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔

ان کی پارٹی کے رہنما عمر ایوب خان نے کہا کہ خان کی سرجری لاہور کے شوکت خانم اسپتال میں کی گئی۔

پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خان اب خطرے سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملہ عمران خان پر نہیں بلکہ پاکستانی قوم پر ہوا ہے۔

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ خان پر حملہ منصوبہ بندقتل کی کوشش تھی۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ حملہ پستول سے نہیں بلکہ خودکار ہتھیار سے کیا گیا۔

کرکٹ کی دنیا سے سیاست میں آنے والے خان پر حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ حملے میں خان کے قریبی سینیٹر فیصل جاوید بھی زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق، ایک مسلح شخص نے خان کی گاڑی پر قریب سے فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ موقع سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

خان کی پارٹی نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ‘عمران خان کے پاؤں میں گولی لگی ہے اور اسپتال لے جانے کے دوران ان کی حالت مستحکم تھی۔ انہوں نے حامیوں کو دیکھ کر ہاتھ بھی ہلایا۔

جیو ٹی وی کے مطابق حملہ آور کی پہچان  نوید کے طور پر ہوئی ہے۔ چینل نے کہا کہ تقریباً 20 سالہ حملہ آور نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور خان کی گاڑی کے ساتھ چل رہا تھا اور اس نے بائیں جانب سے فائرنگ کی۔

پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نے کہا کہ جب سابق وزیراعظم پر حملہ ہوا تو وہ اس وقت ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، یہ سیدھا حملہ تھا … گولی جان لینے کے لیے تھی،  نہ کہ ڈرانے کے لیے’۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے خان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو واقعے کی فوری رپورٹ دینے کی ہدایت دی۔

شریف نے ٹوئٹ کیا، میں پی ٹی آئی صدر اور دیگر زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ وفاقی حکومت پنجاب حکومت کو سکیورٹی اور تفتیش کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ہمارے ملک کی سیاست میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

وزیراطلاعات مریم اورنگ زیب نے ٹوئٹ کیا کہ وزیراعظم شریف نے اپنے حالیہ دورہ چین کے حوالے سے منعقد ایک پریس کانفرنس  کو اس واقعے کے بعدملتوی کردیا ہے۔

صدر عارف علوی نے خان پر حملے کو قتل کی کوشش قرار دیا۔ انھوں نے ٹوئٹ کیا، ‘میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ محفوظ ہیں، لیکن ان کے پاؤں میں گولیاں لگی ہیں، امید ہے کہ وہ نازک نہیں ہو گا۔’

پاکستانی فوج نے بھی خان پر حملے کی مذمت کی اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے۔

وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے خان پر حملے کی شدید مذمت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دریں اثنا، اطلاعات ہیں کہ خان کے حامی اپنے قائد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف شہروں میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کوئٹہ میں مظاہرین نے اہم سڑک بلاک کر دی۔ اس کے علاوہ کراچی کے کئی علاقوں سے احتجاج کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لانگ  مارچ کے دوران فائرنگ میں سابق وزیراعظم عمران خان زخمی ہوگئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لانگ  مارچ کے دوران فائرنگ میں سابق وزیراعظم عمران خان زخمی ہوگئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے وزیر داخلہ پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی کے مطابق، اسی بیچ  تفتیش کاروں نے وزیر آباد کے اس علاقے کو سیل کر دیا ہے،  جہاں جمعرات کی شام عمران خان کو گولی ماری گئی تھی۔ لانگ مارچ کے کنٹینر کی  گھیرا بندی کر دی گئی  ہے۔ یہ ایک ٹو وےروڈ ہے، جس میں ایک طرف کے ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔

تفتیشی ٹیم نے کنٹینر کے سامنے اور بائیں جانب کی اسٹیل شیٹ کو  کاٹا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کنٹینر کی اسٹیل شیٹ اس لیے کاٹی گئی کیونکہ اس میں گولیاں پھنسی ہوئی تھیں۔ ان گولیوں کا فرانزک معائنہ کرایا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کس بندوق سے چلائی گئی تھیں۔

فرانزک تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ یہ گولی حملہ آور سے برآمد ہونے والی بندوق سے چلائی گئی یا کسی اور بندوق سے چلائی گئی تھی۔

پاکستانی وزارت داخلہ نے حملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دینے کو کہا

پاکستانی  وزارت داخلہ نے صوبہ پنجاب کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے قتل کی کوشش سے متعلق حقائق کو سامنے لانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے۔

خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) صوبہ پنجاب میں حکمران جماعت ہے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) کی زیر قیادت اتحادی  وفاقی حکومت چلا رہا ہے۔

جمعرات کی رات گئے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، وزارت داخلہ نے اس معاملے پر حکومت پنجاب کو خط لکھا ہے۔ خط میں صوبائی حکومت سے کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی میں سینئر پولیس افسران اور انٹلی جنس اسٹاف کو شامل کیا جائے۔

اس سے قبل وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ واقعے کی ’قابل اعتماد اور شفاف تحقیقات‘ کے لیے سینئر افسران کو جے آئی ٹی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو تحقیقات میں مرکز کی طرف سے  ‘مکمل تعاون ‘  کی  بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر نے سکیورٹی میں چوک کے لیے پنجاب حکومت کو بھی ذمہ دارٹھہرایا۔ انہوں نے حملہ آور کے اعترافی ویڈیو کو عام کرنے کے لیے بھی صوبائی حکومت کو ذمہ دار  ٹھہرایا ہے۔

ثناء اللہ نے بغیر کسی ثبوت کے اس واقعے کے لیے حکومت اور فوج کے اعلیٰ حکام ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں اسد عمر اور شیریں مزاری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے لوگوں کو اپوزیشن رہنماؤں کے گھروں پرمبینہ  حملہ کرنے کے لیے  اکسانے کے واسطے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی مذمت کی۔

وزیر نے کہاآپ بھی آسمان پر نہیں رہتے ہو۔ اگر آپ تشدد کرتے ہو تو آپ کی لگائی گئی آگ آپ کو بھی لپیٹ میں لے گی۔

عمران خان مارچ جاری رکھنے کے لیے پر عزم

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے اوپر مہلک حملے کے باوجود حکومت پر جلد انتخابات کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی پارٹی نے یہ اطلاع دی۔

پی ٹی آئی پارٹی کے مطابق، لاہور میں خان کے بنائے گئے شوکت خانم اسپتال میں  ان کی سرجری ہوئی اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ خان مارچ کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

خان کے حوالے سے پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کہا گیا، میں نہیں جھکوں گا، اور اپنے ساتھی پاکستانیوں کے لیے ‘حقیقی آزادی’ حاصل کرنے کے لیے ثابت قدم رہوں گا۔

یہ مارچ جمعہ کی صبح گیارہ بجے وزیرآباد سے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

حملہ آور کے اعترافی بیان کوسامنے لانے پر پولیس افسر کو معطل کر دیا گیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کے بعد ایک مشتبہ حملہ آور کے اعترافی بیان کو عام کرنے پر ایک پولیس اہلکار سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جمعرات کو مارچ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر پر فائرنگ کرنے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جمعرات کو مارچ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر پر فائرنگ کرنے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اے آر وائی نیوز نے جمعرات کو ایک خبر میں کہا کہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان پر ‘حقیقی آزادی مارچ’ کے دوران حملہ کرنے والے مشتبہ شخص  کےاعترافی بیان کو عام کرنے  کے معاملے کو نوٹس میں لیا ہے۔

خبر کے مطابق، الٰہی نے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کو غیر ذمہ دارانہ رویےکی وجہ سے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیا۔ مشتبہ شخص کے اعترافی بیان کے لیک ہونے کے بعد متعلقہ تھانے کے اسٹیشن انچارج (ایس ایچ او) اور دیگر افسران کو معطل کر دیا گیا۔

ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تھانے کے عملے کے تمام موبائل فون ضبط کر لیے گئے ہیں اور انہیں فرانزک آڈٹ کے لیے بھیجا جائے گا۔

مشتبہ حملہ آور کا ویڈیو لیک ہونے کے معاملے پر الٰہی نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (پنجاب) کو ہدایت دی کہ  وہ خان پر حملے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کریں۔

یہ ہدایات جمعرات کو وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں جاری کی گئیں۔

امریکہ نے عمران خان پر حملے کی مذمت کی

امریکہ نے جمعرات کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے اور امریکہ ایک جمہوری اور پرامن پاکستان کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا، امریکہ ایک سیاسی ریلی میں سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور دیگر پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم خان اور دیگر تمام زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کرتے ہیں اور ہم ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔

بلنکن نے ایک بیان میں کہا، سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم تمام پارٹیوں سے تشدد، ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے سے باز رہنے کی اپیل کرتے ہیں۔امریکہ ایک جمہوری اور پرامن پاکستان کے لیے پرعزم ہے اور ہم پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وہائٹ ہاؤس نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کارن جین پیئرنے صدر جو بائیڈن کے ساتھ نیو میکسیکو کے دورے کے دوران صدر کے خصوصی ایئر فورس ون میں صحافیوں سے کہا، امریکہ عمران خان اور ان کے حامیوں اور تمام زخمیوں پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اورتمام لوگوں کی جلد صحت یابی کی امید کرتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ‘سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم تمام پارٹیوں سے پرامن طریقے سے رہنے اور تشدد سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہیں۔

ایم پی بریڈ شرمین نے ٹوئٹ کیا، ‘سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں خوفناک خبر۔ سیاسی تشدد چاہے پاکستان میں ہو یا امریکہ میں، کبھی بھی قابل قبول نہیں ہے۔ میں ان کی صحت یابی اور پاکستان میں پرامن سیاسی عمل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتاہوں۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)