خبریں

نیپال نے رام دیو کی دیویہ فارمیسی سمیت 16 ہندوستانی دوا کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا

نیپال کے ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے ایک نوٹس میں نیپال کو ان دواؤں کی سپلائی کرنے والے مقامی ایجنٹ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کو واپس لے لیں۔ ایک اور نوٹس میں محکمہ نے ڈسٹری بیوٹرز کو ہندوستانی کمپنی گلوبل ہیلتھ کیئر کے تیار کردہ 500 ملی لیٹر اور 5 لیٹر ہینڈ سینٹائزر واپس لینے کی ہدایت دی ہے۔

(علامتی  تصویر: رائٹرس)

(علامتی  تصویر: رائٹرس)

نئی دہلی: نیپال کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے بابا رام دیو کی پتنجلی مصنوعات تیار کرنے والی دیویہ  فارمیسی سمیت 16 ہندوستانی دواکمپنیوں کو یہ کہتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا ہےکہ وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ادویات کی تیاری کے معیارات پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے 18دسمبر کو جاری کردہ ایک نوٹس میں نیپال میں ان دواؤں  کی سپلائی کرنے والے مقامی ایجنٹ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مصنوعات  کوواپس لے لیں۔ محکمہ کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق،  لسٹڈ کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات نیپال میں درآمد یا تقسیم نہیں کی جا سکتی ہیں۔

محکمہ کے حکام کے مطابق، ڈبلیو ایچ او کے معیارات پر عمل نہیں کرنے والی ان کمپنیوں کی فہرست ان دوا کمپنیوں کی مینوفیکچرنگ سہولیات کے معائنے کے بعد شائع کی گئی ہیں، جنہوں نے اپنی مصنوعات نیپال کو برآمد کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

اپریل اور جولائی میں محکمہ نے دوا ساز کمپنیوں کی مینوفیکچرنگ سہولیات کا معائنہ کرنے کے لیے ڈرگ انسپکٹرز کی ایک ٹیم ہندوستان بھیجی تھی، جنہوں نے نیپال کو اپنی مصنوعات کی فراہمی کے لیے درخواست دی تھی۔

دی کاٹھمنڈو پوسٹ نے ڈرگ ریگولیٹری باڈی کے ترجمان سنتوش کے سی کے حوالے سے کہا ہے کہ، دوا کمپنیوں کی مینوفیکچرنگ سہولیات کے معائنے کے بعد ہم نے ان کمپنیوں کی فہرست شائع کی ہے،  جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی مینوفیکچرنگ گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کرتی ہیں۔

دیویہ فارمیسی کے علاوہ، اس فہرست میں ریڈینٹ پیرینٹیرلس لمٹیڈ، مرکری لیبارٹریزلمٹیڈ، ایلاینس بایوٹیک، کیپ ٹیب بایوٹیک، ایگلومیڈ لمٹیڈ، جی لیبارٹریز، ڈیفوڈلس فارماسوٹیکلس، جی ایل ایس فارما، یونجولس لائف سائنس، کانسیپٹ فارماسوٹیکلس، شری آنند لائف سائنسز، آئی پی سی اے  لیبارٹریز، کیڈیلا) ہیلتھ کیئر لمٹیڈ، ڈائل فارماسوٹیکلس اور میکور لیبارٹریز شامل ہیں۔

وہ فرم جو مذکورہ فہرست میں شامل ہیں، اپنی دوائیں نیپال کو درآمد نہیں کر سکتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز ایک ایسے نظام کا حصہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معیار کے ایک متعین کردہ سیٹ کے مطابق مصنوعات کومسلسل تیار اور کنٹرول کیا جائے۔ انہیں کسی بھی دوا کی تیاری  میں شامل خطرات کو کم کرنے کے لیے رکھا گیا ہے، جنہیں حتمی مصنوعات کی جانچ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

حکام کے مطابق، ممنوعہ ہندوستانی کمپنیوں کی فہرست میں سے کچھ پہلے سے ہی ڈرگ ریگولیٹری باڈی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور کچھ نئی ہیں۔ ان میں سے کچھ ریگولیٹری تقاضوں کی عدم تعمیل کرتے ہوئے پائے گئے ہیں، جبکہ دیگر ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ ‘گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز’ کو پورا نہیں کرتے ہیں۔ ممنوعہ کمپنیوں میں سےکچھ کرٹیکل کیئر، ڈینٹل کاٹریز اور ویکسین میں استعمال ہونے والی مصنوعات/ادویات تیار کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

اسی طرح، نیپال کے ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے 19 دسمبر کو جاری  ایک اور نوٹس میں ڈسٹری بیوٹرز سے کہا کہ وہ 500 ملی لیٹر اور 5 لیٹر ہینڈ سینٹائزر واپس منگوا لیں جو ہندوستانی کمپنی گلوبل ہیلتھ کیئر نے تیار کیے ہیں۔ محکمہ نے متعلقہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ ہینڈ سینٹائزر کا استعمال، فروخت یا تقسیم نہ کریں۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)