خبریں

ملک بھر کے وکیلوں نے وزیر قانون کو لکھا خط، کہا – حکومت کی تنقید ’ہندوستان کی مخالفت‘ نہیں

گزشتہ 18 مارچ کو مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے ایک پروگرام میں کہا تھاکہ ‘تین یا چار’ ریٹائرجج ‘اینٹی انڈیا’ گینگ کا حصہ ہیں، جو چاہتے ہیں کہ عدلیہ اپوزیشن کا رول ادا کرے۔ان کےاس بیان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک کے 300 سے زائد وکیلوں نے خط لکھ کر ان سے عوامی طور پراپنا بیان واپس لینے کی مانگ کی ہے۔

مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر/@KirenRijiju)

مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر/@KirenRijiju)

نئی دہلی: بدھ (29 مارچ)کو ملک بھر سے 300 سے زیادہ وکیلوں نے ایک کھلا خط لکھ کر مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان  کو واپس لیں،جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ ریٹائر جج ‘اینٹی انڈیاگینگ کا حصہ’ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، خط میں لکھا گیاکہ،قانون کے راج کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے لوگوں کے خلاف ملک دشمن ہونے کے الزامات اوران کے خلاف انتقامی کارروائی کی کھلی دھمکی ہمارے عظیم الشان ملک کے  عوامی مکالمےکی سطح میں ایک نئی گراوٹ ہے۔

غور طلب  ہے کہ 18 مارچ کو رجیجو نے انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں کہا تھا کہ ‘تین یا چار’ ریٹائرڈ جج ‘اینٹی انڈیا’ گینگ کا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ جس نے بھی ملک کے خلاف کام کیا ہے اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

بتادیں کہ انہوں نے ایک سیمینار کے بارے میں بات کی تھی،  جس میں ججوں اور سینئر وکیلوں نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، سیمینار کا موضوع تھا ‘ججوں کی تقرری میں جوابدہی’، لیکن پورے دن بحث اس بات پر ہوئی کہ کس طرح سرکار ہندوستانی عدلیہ پر قبضہ کررہی ہے۔

ان کا بیان تھا؛

‘کچھ ریٹائرڈ جج ہیں، کچھ – شاید تین یا چار – ان میں سے کچھ ایکٹوسٹ ہیں، جو اینٹی انڈیا گینگ کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ ایسی کوشش کر رہے ہیں کہ ہندوستانی عدلیہ اپوزیشن کا رول ادا کرے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ  عدالت بھی جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پلیز حکومت پر لگام ڈالیں، حکومت کی پالیسیاں بدلیں۔

انہوں نے سوال کیا تھا کہ ‘عدلیہ غیر جانبدار ہے، جج سیاسی وابستگی کے کسی گروپ کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ کیسے کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستانی عدلیہ کو (حکومت کا) سامنا کرنا چاہیے؟

وکیلوں کی طرف سے لکھے گئے خط میں لکھا گیا،ہم مسٹر رجیجو کو یہ یاد دلانے پر مجبور ہیں کہ ایک رکن پارلیامنٹ کے طور پر انہوں نے آئین ہند کےتئیں ایمانداری اور وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، اور وزیر قانون و انصاف کی حیثیت سے نظام عدل، عدلیہ اور ججز – ماضی اور حال دونوں کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے۔ یہ ان کے کام کا حصہ نہیں ہے کہ وہ چند ریٹائرڈ ججوں کو چن لیں جن کی رائے سے وہ متفق نہ  ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دیں۔

خط میں کہا گیا،تنقید کرنے والوں کو – وہ بھی ان کا نام لیے بغیر- ‘اینٹی انڈیاگینگ’ قرار دیتے ہوئے اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس ‘گینگ’ کے ارکان عدلیہ سے اپوزیشن کا رول ادا کروانا چاہتے ہیں، مرکزی وزیر نے آئینی اخلاقیات  کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے،انہوں نے سپریم کورٹ کے ان ریٹائرڈ ججوں کو واضح طور پر دھمکی دی کہ ‘کوئی بھی نہیں بچے  گا’ اور جو ‘ملک کے خلاف کام کریں گے ، ان  کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی’۔ ریٹائرڈ ججوں کو دھمکیاں دے کر وزیر قانون واضح طور پر ہر شہری کو پیغام دے رہے ہیں کہ احتجاج کی آواز کو کسی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔

وکیلوں نے خط میں کہا، ‘ہم واضح الفاظ میں ان تبصروں کی مذمت کرتے ہیں۔ ایسی دھمکیاں اور دھونس وزیر کے اعلیٰ عہدے پر فائز کسی شخص کو زیب نہیں دیتا۔ ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ حکومت کی تنقید نہ توملک کے خلاف  ہوتی ہے، نہ ہی یہ سیڈیشن ہے،اور نہ ہی ‘اینٹی انڈیا’۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی حکومت ملک نہیں ہے، اور ملک حکومت نہیں ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے ستمبر 2016 میں نیٹ ورک 18 پر اور چند ماہ قبل لوک سبھا میں صدر دروپدی مرمو کے شکریہ کی تحریک کے جواب میں کہے ان کے الفاظ کرن رجیجو کویاد کرنے کا مشورہ دیا۔ ان میں مودی نے کہا تھا کہ ‘ حکومتوں سے مشکل  سوال کیاجانا چاہیے اور تنقید کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ واحد طریقہ ہے جوحکومتوں کو چوکنا اور جوابدہ بناتا ہے’۔

وکیلوں نے کھلے خط میں لکھا، ‘ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ حکومت پر تنقید کرنے والے بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے حکومت میں موجود لوگ ہیں۔ اور ناقدین جو انتظامیہ کی ناکامیوں یا کوتاہیوں کو اجاگر کرتے ہیں، یا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کو اجاگر کرتے ہیں، وہ ایک اہم اور سب سے بنیادی انسانی حق کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔’

انہوں نے لکھا، ہماری آئینی اسکیم کے تحت حکومت پر تنقید کرنے کی جگہ نہ تو صرف پارلیامنٹ میں اور نہ ہی اسمبلیوں میں مخصوص ہے اور نہ ہی یہ کسی خاص طبقے کے افراد تک محدود ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کے لیے اس پر پابندی ہے۔ کسی بھی حکومت اور اس کی پالیسیوں یا طرز عمل سے اختلاف، تنقید اور پرامن احتجاج کرنے کا ہر شہری کا حق ایک اہم اور بنیادی انسانی حق ہے، جسے آئینی طور پر بھی تحفظ حاصل ہے۔ حکومت کی تنقید کرنا حکومت کے کسی اعلیٰ عہدیدار کو کسی شخص کی حب الوطنی پر کیچڑ اچھالنے کا حق نہیں دیتا۔

وکیلوں نے وزیر قانون کے ریمارکس کے عوام کے ذہنوں پر غلط اثرات مرتب ہونے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’اگرچہ اس طرح کے خیالات حکمران سیاسی نظام کے لیے ناخوشگوار ہوں، لیکن وزیر کو اس طرح کے تضحیک آمیز ریمارکس کرنے کا حق نہیں ہے۔ ریٹائرڈ ججوں کو دی گئی یہ ناقابل قبول دھمکیاں ہمارے ججوں اور عدالتی نظام کے خلاف عوام کو اکسانے کا کام کرتی ہیں اور ان کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا،محترم وزیر کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عہدے کے اعتبار سے ایگزیکٹو اور عدلیہ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں باوقار عوامی مکالمے کو برقرار رکھنا چاہیے۔

مزید انہوں نے وزیر قانون رجیجو سے اپیل کی کہ وہ عوامی طور پر اپنے ریمارکس کو واپس لیں اور مستقبل میں اس طرح کے ریمارکس کرنے سے گریز کریں۔

مکمل خط یہاں پڑھیں؛

Lawyers Respond to Law Mini… by Taniya Roy