خبریں

’اگر مودی اب بھی محتاط نہیں ہوئے تو اڈانی ان کو ختم کر دیں گے‘

صحافی کرن تھاپر کے ساتھ بات چیت میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے گوتم اڈانی اور نریندر مودی کےقریبی تعلقات سےمتعلق الزامات پر کہا، ‘مجھے نہیں معلوم کہ مودی صاحب کو کوئی مشورہ دیتا ہےیا نہیں، میں دے رہا ہوں کہ مہربانی کرکے اڈانی سے ہاتھ چھڑا لیجیے۔ لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ  اڈانی کے فنانشیل معاملات میں ان کی  دلچسپی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی گوتم اڈانی کے ساتھ۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

وزیر اعظم نریندر مودی گوتم اڈانی کے ساتھ۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی: صحافی کرن تھاپر کے ساتھ بات چیت میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے پچھلے کچھ مہینوں سے تنازعات کے مرکز رہنے ولے بزنس مین گوتم اڈانی اور اپوزیشن کی جانب سے نریندر مودی حکومت پران کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کے بارے میں بھی بات کی۔

کرن تھاپر نے اڈانی گروپ پر ہنڈنبرگ رپورٹ کے الزامات کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں آئی گراوٹ کا حوالہ دیا اور ملک سے اس معاملے پر وزیر اعظم کی خاموشی کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے یہ سوال  بھی کیا کہ کیا مودی نے اس معاملے کو ٹھیک سے ہینڈل کیا۔

جواب میں ملک نے کہا، ‘بالکل نہیں۔ … پہلے دن سے ہی ہاتھ چھڑا لینا چاہیے تھا، کیونکہ اس میں بہت نقصان ہو چکا ہے۔ بات نیچےتک چلی گئی  ہے۔ ابھی میں یوٹیوب پر گانا سن رہا تھا، وہاں ایک دلت لڑکی ہے، وہ گانا گا رہی ہے ‘یہ نہ چائے والا ہے، نہ گائے والا ہے، امبانی-اڈانی کا یہ لگتا سالا ہے، اس نے دیش بیچ ڈالا ہے- اگر یہ بات مقامی بولی میں نیچے تک چلی جاتی ہے ، تو آپ سمجھو کہ نقصان ہوا ہےکہ یا نہیں ہوا ہے۔

تھاپر نے مزید پوچھا، 1989 میں وی پی سنگھ نے بوفورس گھوٹالے کو انتخابی ایشو بنا کر راجیو گاندھی کو شکست دی تھی۔ کیا 2024 میں اڈانی انتخابی ایشو ہوں  گے؟

اس پر ملک جواب دیتے ہیں،’یقینی طور پر ہوں گے۔ اگر یہ  ابھی محتاط  نہیں ہوئے تو اڈانی ان کو ختم کر دیں گے۔ اگراپوزیشن نے ایک امیدوار کے سامنے ایک  امیدوار دے دیا، تو بچ نہیں سکتے ہیں۔ یہ سرکار پہچانی  بھی نہیں جائے گی، اتنی کم سیٹیں آئیں  گی ان کی ۔

تھاپر کہتے ہیں،’یعنی خاموشی سے وزیراعظم صاحب خطروں سے کھیل رہے ہیں؟’

ملک سر ہلا کر کہتے ہیں، ‘ہاں، پتہ نہیں انہیں کوئی مشورہ دیتا ہے یا نہیں، میں دے رہا ہوں۔ خطرہ اٹھا رہا ہوں کہ مہربانی کرکےاڈانی سے ہاتھ چھڑا لیجیے۔ مجھےوہ ایک دن کے لیے بلا لیں، میں انہیں بتا دو گا کہ یہ یہ چیزیں کرلیں۔

اس کے بعد کرن تھاپراپوزیشن کانگریس کی طرف سے مودی حکومت پراڈانی گروپ کے ساتھ سانٹھ گانٹھ  کے الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں،’ راہل گاندھی  جو سوال اٹھا رہے ہیں کہ 20 ہزار کروڑ روپے والا

ملک ٹوکتے ہیں، ‘جس کا وہ جواب نہیں دے پا رہے ہیں…’

تھاپربات پوری کرتے ہیں،’جی وہی ۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس میں صرف مودی صاحب  ہی ہیں؟

ملک ہنستے ہوئے کہتے  ہیں،’ مجھے مت بلوائیے۔ لوگوں میں بہت بری بری باتیں  چلی گئی ہیں۔ لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ اڈانی کے فنانشیل معاملوں ان کی   دلچسپی ہے۔

تھاپر کہتے ہیں،’اگر دلچسپی ہے تو تو فائدہ بھی ہوگا، پیسہ بھی ہوگا؟’

ملک مزید کہتے ہیں،جی۔ دیکھیے جوریاستی حکومتیں بدعنوان ہیں ان کی ، جنہیں میں انگلیوں پر گن سکتا ہوں – وہاں کا روپیہ وزیر اعلیٰ تو سارے  کھا  نہیں رہے ہیں، وہ یہاں بھی آ رہا ہے۔ یہاں سے کہیں اور جا رہا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اڈانی کو جا رہا ہو۔ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔

تھاپربات چیت کےپچھلے حصے کا حوالہ دیتے ہوئےکہتے ہیں، بات  پھر بدعنوانی کی آگئی ۔ آپ نے پہلے گوا کا ذکر کیا تھا۔ اب اڈانی کے معاملے میں لگ رہا ہے کہ ان کا فائدہ ہے۔

اس پر ملک کہتے ہیں،’بھئی، آپ دیکھیے کہ یہ پارلیامنٹ میں ایک سوال کا بھی جواب دے پائے ہیں اڈانی پر ۔ یہ تو کہہ رہے تھے ‘ایک اکیلا!’  بھائی اس سےکام نہیں چلتا۔ بتاؤ تو کیا بات ہے! وہ اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہیں بول سکے۔

کرن کہتے ہیں، ‘وہ آپ سے یہ سب سن کر بہت ناراض ہو ں گے!’

ملک جواب دیتے ہیں،’ہاں۔ لیکن کیا کر سکتے ہیں۔ مروا مجھے  نہیں سکتے… کمیونٹی میری بھی بہت بڑی ہے، چھیڑا تو ان کی حالت خراب ہو جائے گی! اور میری کمیونٹی میں کسانوں کے ایشوز پر بولنے کے بعد سے مجھ سے اتنی ہمدردی ہے کہ جس دن مجھے چھیڑیں گے، ان کو پتہ چل جائے گا۔ پبلک میٹنگ نہیں کر پائیں  گےکہیں۔ویسے میرے پاس کچھ  ہےنہیں۔فقیر آدمی ہوں، کرایے کے مکان میں رہتا ہوں، پراپرٹی میں نے بنائی نہیں۔ سیاست میں آنے کے بعد باپ دادا  کی زمین بھی بیچ لی۔