Author Archives

بھاشا

فوٹو : پی ٹی آئی

چھتیس  گڑھ میں پتھل گڑی بنام وکاس گڑی 

پتھل گڑی:وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے علاقے میں آدیواسیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی پروگراموں کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، ایسے میں ریاست میں ” پتھل گڑی ‘ نہیں ‘ وکاس گڑی ” ہی لوگوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

جیلوں میں متعینہ تعداد سے زیادہ قیدی ہونا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ جیل افسر جیلوں کے زیادہ بھرے ہونے کے مدعے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ ایسی کئی جیلیں ہیں جو متعینہ تعداد سے 100 فیصد اور کچھ معاملوں میں تو 150 فیصد سے زیادہ بھری ہیں۔

Manmohan-Singh-Reuters

مودی حکومت کی معاشی بدانتظامی بینکنگ شعبے میں لوگوں کے یقین  کو ختم کر رہی ہے : منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی بی جے پی حکومت کی کسی تباہ کن پالیسی کے بارے میں سوال پوچھا جاتا ہے تو ہر بار سننے کو ملتا ہے کہ ان کے ارادے نیک ہیں۔ لیکن، ان کے نیک ارادوں سے ملک کو بھاری نقصان ہوا ہے۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

’سنگھ،وی ایچ پی جیسی تنظیموں کی وجہ سے ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں کی حالت خراب‘

امریکی حکومت کے ذریعے قائم کیے گئے ایک کمیشن نے عالمی مذہبی آزادی پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں جاری بھگواکرن مہم کے شکار مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور دلت ہندو ہیں۔

سپریم کورٹ /فوٹو : پی ٹی آئی

ہماری ’اصل فکر‘کٹھوعہ معاملے کی غیر جانبدارانہ سماعت کو لےکر ہے:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کٹھوعہ میں بچی کے ساتھ ریپ اور اس کے قتل کے دو ملزمین کی اس عرضی پر غور کرنے کی حامی بھر دی ہے ،جس میں انہوں نے مقدمہ کی سماعت جموں سے باہر منتقل نہیں کرنے اور معاملے کی تفتیش سی بی آئی کو سونپنے کی گزارش کی ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

گجرات حصول اراضی معاملہ:کسانوں نے کہا ہم ہندوستانی فوج کی گولیوں سے مرنا چاہتے ہیں

صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور ریاست کے وزیراعلیٰ کے نام لکھے خط میں کسانوں نے کہا ہے کہ حصول اراضی ہمیں دہشت گرد جیسا ہونے کا احساس کراتا ہے، اس لئے ہم ہندوستانی فوج کی گولیوں سے مرنا چاہتے ہیں۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

نیشنل ازم کا نیا تصور آزادی کی لڑائی کے وقت کے  تصور سے میل نہیں کھاتا : پروفیسر مردولا مکھرجی

مؤرخ پروفیسر مردولا مکھرجی نے کہا کہ وہ نیشنلزم سب کو شامل کرنے والی اور کثیر جہتی تھی، جس میں ہر علاقہ، مذہب، فرقہ، ہر زبان کے بولنے والے اور تمام قبائلی گروہ کے لوگ شامل تھے۔