Author Archives

دھیرج مشرا

یوگی آدتیہ ناتھ کا ٹوئٹ

یوگی آدتیہ ناتھ کے اس دعوے میں کتنی سچائی ہے کہ ان کی  مدت کار  میں کوئی فساد نہیں ہوا؟

وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ ان کے دو سال کی حکومت میں کوئی فساد نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ سرکاری رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف سال 2017 میں ہی اتر پردیش میں فرقہ وارانہ تشدد کے کل 195 واقعات ہوئے ہیں۔ اس دوران 44 لوگوں کی موت ہو گئی اور 542 لوگ زخمی ہوئے۔

 (علامتی فوٹو : رائٹرس)

آب وہوا کی تبدیلی سے کھیتی  پر برا اثرپڑ رہاہے، 23 فیصد تک کم ہو سکتی ہے گیہوں کی پیداوار

خاص رپورٹ : وزارت زراعت نے سینئر بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی کی صدارت والی پارلیامانی کمیٹی کو بتایا کہ اگر وقت رہتے مؤثر قدم نہیں اٹھائے گئے تو دھان، گیہوں، مکئی، جوار، سرسوں جیسی فصلوں پر آب وہوا کی تبدیلی کا کافی برا اثر پڑ سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی کوششوں کو ناکافی بتایا ہے۔

 (فوٹو : پی ٹی آئی)

لوک پال : گزستہ 4 سالوں میں سرچ کمیٹی کی ایک بھی میٹنگ نہیں

آر ٹی آئی کے ذریعے پتا چلا ہے کہ لوک پال سلیکشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے 45 مہینوں کے بعد مارچ، 2018 میں ہوئی تھی ۔ حکومت نے غیر قانونی طریقے سے میٹنگ کے منٹس کی کاپی دینے سے انکار کر دیا۔

فوٹو:swachhbharatmission.gov.in

سوکش بھارت ٹیکس بند ہونے کے بعد بھی مودی حکومت نے وصول کیےکروڑوں روپے

ایک جولائی،2017 سے سوکش بھارت سی ای ایس ایس کو ختم کر دیا گیا تھا۔ آر ٹی آئی کے جواب میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ سال 2015 سے لےکر اب تک سوکش بھارت سی ای ایس ایس کے تحت کل 20600 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ ٹیکس کے طور پر وصول کی گئی یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔

FILE PHOTO: A security personnel member stands guard at the entrance of the Reserve Bank of India (RBI) headquarters in Mumbai, India, August 2, 2017. REUTERS/Shailesh Andrade/File Photo

سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی، آر بی آئی نے 3 سال بعد بھی نہیں بتایا ٹاپ 100 ڈیفالٹرس کے نام

اسپیشل رپورٹ : سپریم کورٹ نے تین سال پہلے دسمبر 2015 میں آر بی آئی کی تمام دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آر بی آئی ملک کے ٹاپ 100 ڈفالٹرس کے بارے میں جانکاری دے اور اس سے متعلق اطلاع ویب سائٹ پر اپلوڈ کرے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

آر ٹی آئی میں ہوا انکشاف : رگھو رام راجن نے مودی کو بھیجی تھی این پی اے گھوٹالےبازوں کی فہرست، کارروائی پر حکومت کی چپی

دی وائر کی اسپیشل رپورٹ: ایک آر ٹی آئی کے جواب میں آر بی آئی نے بتایا کہ سابق آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن نے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت وزارت خزانہ کو این پی اے گھوٹالےبازوں کی فہرست بھیجی تھی۔ فہرست کے تعلق سے ہوئی کارروائی پر جانکاری دینے سے مرکزی حکومت نے انکارکیاہے۔

فوٹو : پی آئی بی

سی آئی سی کے حکم کے باوجود وزارت خارجہ نے نہیں بتایا وزیر اعظم کے ساتھ بیرون ملک جانے والوں کا نام 

وزارت خارجہ نے دی وائر کی طرف سے دائر آر ٹی آئی کے جواب میں کہا کہ مانگی گئی جانکاری بےحد حساس ہے۔اس سے ہندوستان کی سالمیت کے ساتھ ملک کی حفاظت،پالیسی ، سائنس اور اقتصادی مفادات پر اثر پڑے‌گا۔

(فوٹو : رائٹرس)

مودی حکومت نے ساڑھے 4سالوں میں اشتہار پر خرچ کئے 5000 کروڑ روپے

مودی حکومت میں اشتہار پر خرچ کی گئی رقم یو پی اے حکومت کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔یو پی اے نے 10سال کی مدت میں اشتہار پر اوسطاً 504کروڑروپے سالانہ خرچ کیا تھا، وہیں مودی حکومت میں ہرسال اوسطاً 1202 کروڑ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

میلا ڈھونے والوں کے متعلق حکومتی اعداد و شمار کی حقیقت کیا ہے؟

مرکز کے تحت کام کرنے والا ادارہ نیشنل صفائی کرمچاری فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بتایا کہ 163اضلاع میں کرائے گئے سروے میں 20000 لوگوں کی پہچان میلا ڈھونے والوں کے طور پر ہوئی ہے۔ حالانکہ ادارہ نے یہ اعداد و شمار نہیں بتایا کہ کتنے لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ میلا ڈھونے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔

(فوٹو : رائٹرس)

کیاکسانوں کے نام پر بڑی بڑی کمپنیوں کو بھاری بھرکم لون دیا جا رہا ہے؟

اسپیشل رپورٹ :آر ٹی آئی کے ذریعے یہ سامنے آیا ہے کہ سال 2016 میں 615 کھاتوں کو اوسطاً 95 کروڑ سے زیادہ کا زراعتی لون دیا گیا ہے۔ ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ سستی شرح اور آسان اصولوں کے تحت کسانوں کے نام پر بڑی بڑی کمپنیوں کو بھاری بھرکم لون دیا جا رہا ہے۔

گورکھپوریونیورسٹی (فوٹو : دھیرج مشرا / دی وائر)

خاص رپورٹ : گورکھپور  یونیورسٹی میں دلت اور پچھڑوں کے لئے ریزرو سیٹوں پر جنرل امید واروں کی تقرری

اسپیشل رپورٹ: گورکھپور یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام ہے کہ اساتذہ کی تقرری کے دوران جنرل میں بھی ایک خاص ذات کو ترجیح دی گئی۔ سلیکشن پروسس کو لےکر سوال اٹھ رہے ہیں۔

 (فوٹو : پی ٹی آئی / وکپیڈیا)

کیا حکومت آر ٹی آئی قانون میں ترمیم کر کے اس کو کمزور کرنے جا رہی ہے؟

مرکزی حکومت نے اس بات کو عام نہیں کیا ہے کہ وہ آخر آر ٹی آئی قانون میں کیا ترمیم کرنے جا رہی ہے۔ ترمیمی بل کے اہتماموں کو نہ تو عام کیا گیا ہے اور نہ ہی عوام کی رائے لی گئی ہے۔ جان کار اس کو لمبی جدو جہد کے بعد ملے اطلاعات کے حق پر حملہ بتا رہے ہیں۔