Author Archives

کبیر اگروال

2308 Kargil .00_12_31_07.Still006

’70 سال بعد لداخ کے لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا‘

ویڈیو: جموں وکشمیرکے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کیے جانے کے بعد اس کو یونین ٹریٹری میں تقسیم کرنے کے حکومت کے فیصلے پر لداخ کے لیہ کے لوگ جہاں خوش ہیں وہیں کارگل میں لوگ اس کے خلاف ہیں ۔ حالاں کہ نوکری اور زمین کے تحفظ کو لے کر لیہ اور کارگل دونوں جگہوں کے لوگ فکر مند ہیں ۔

(فوٹو بہ شکریہ : پیپسی کو انڈیا)

پیپسی کو نے گجرات کے آلو کسانوں کے خلاف اپنا مقدمہ واپس لیا

آلو کی ایک خاص قسم کی پیداوارکی وجہ سے پیپسی کو انڈیا نے گجرات کے چار آلو کسانوں کے خلاف پیٹنٹ حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاکر عرضی دائر کی تھی۔ ساتھ ہی ہر ایک کسان سے معاوضہ کے طور پر 1.05 کروڑ روپے کی مانگ کی […]

ہندوستان میں چھتیس گڑھ کے دھارباگڑا میں ایک کیمپ میں بیٹھے آدیواسی۔ (فائل فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ کے حکم سے 10 نہیں، تقریباً20 لاکھ آدیواسی ہو سکتے ہیں زمین سے بےدخل

قبائلی معاملات کی وزارت کے ذریعے جمع اعداد و شمار کے مطابق 30 نومبر، 2018 تک ملک بھر میں 19.39 لاکھ دعووں کو خارج کر دیا گیا تھا۔ اس طرح سپریم کورٹ کے حکم کے بعد تقریباً20 لاکھ آدیواسی اور جنگل واسیوں کو جنگل کی زمین سے بےدخل کیا جا سکتا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

زیادہ تر جگہوں پر نہیں مل رہا کسانوں کو ایم ایس پی،اکتوبر میں 1000 کروڑ کا نقصان

خاص رپورٹ: دی وائر کی جانچ میں یہ جانکاری سامنے آئی ہے کہ سویابین کے کسانوں کو سب سے زیادہ 542 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ زیادہ تر ریاستوں میں کسان ایم ایس پی سے کافی کم قیمت پر اناج بیچنے کو مجبور ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور ماہر ماحولیات جی ڈی اگروال۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

پی ایم او میں 2 مہینے تک پڑے رہے جی ڈی اگروال کے خطوط، نہیں ہوئی کارروائی: آر ٹی آئی

ماہر ماحولیات جی ڈی اگروال گنگا صفائی کے لئے 112 دنوں تک بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ گزشتہ11 اکتوبر کو ان کی موت ہو گئی۔ گنگا کو لےکر اگروال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تین بار خط لکھا تھا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

نئی دہلی میں میڈیا سے مخاطب دیپکا سنگھ راجاوت (فوٹو : پی ٹی آئی)

’ لوگ یہاں مقدمہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ‘:کٹھوعہ گینگ ریپ معاملہ میں متاثرہ کی وکیل

’وہ بےحد غریب لوگ ہیں۔ ان کو نہیں پتا کہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ بکروال لوگ خانہ بدوش ہوتے ہیں، ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہتے ہیں۔ وہ ان سنی سی زندگی جیتے ہیں اور ان سنے ہی مر جاتے ہیں۔ وہ بے بس محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ان کو اپنی بیٹی کے لئے انصاف چاہیے۔ جب میں ان سے ملی تب وہ یہ جان‌کر خوش ہوئے کہ کوئی ان کی بچی کے لئے انصاف کی لڑائی لڑنا چاہتا ہے۔‘