Author Archives

کرشن پرتاپ سنگھ

علامتی تصویر/پی ٹی آئی

ایودھیا تنازعہ: یہ فیصلہ جارحیت کے اچھے دنوں کی نشانی ہے؟

سپریم کورٹ نے بھی متنازعہ زمین رام للا کو دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ اس کافیصلہ نہ صرف 6 دسمبر، 1992 کی توڑپھوڑبلکہ 22-23 دسمبر، 1949 کی رات مسجدمیں مورتیاں رکھنے والوں کی بھی جیت ہوگی۔ ایسے میں عدالت کا ان دونوں کارناموں کوغیر-قانونی ماننے کا کیا حاصل ہے؟

بی جے پی ایم ایل اے وید گپتا اپنے کیمپ میں آفس میں مٹھائی کھلاتے ہوئے۔

وزیر اعظم مودی کی اپیل کو درکنار کر تے ہوئے فیصلے کا ’جشن‘ منا رہے ہیں ایودھیا کے بھاجپائی

ایودھیا میں بی جے پی کے منتخب رکن پارلیامان، ایم ایل اے اور اہلکاروں نےسنیچر کو فیصلے کے دن دیپ جلائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ سوموار کو پارٹی ضلع صدردفتر پر رامائن کاپاٹھ کیا گیا ، جہاں رہنما اور کارکنان نے ایک دوسرے کو مبارکبادی۔وہیں منگل کو 1992 کی کارسیوا کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے رضاکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

فوٹو: بہ شکریہ پی آئی بی

وزیر خزانہ اگر ’نیو انڈیا‘ میں نئی معاشی پالیسی کا جوکھم اٹھا لیتیں تو بہتر ہوتا

جب تک گلوبلائزیشن کی اقتصادی پالیسیوں میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہیں ہوتی، ہندوستان وشوشکتی بن جائے توبھی، حکومت کا سارا بوجھ ڈھونے والے نچلے طبقے کی یہ تقدیر بنی ہی رہنے والی ہے کہ وہ تلچھٹ میں رہ‌کر عالمی سرمایہ داری کے رساؤ سے گزر بسر کرے۔

وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی جی! وہ دن ہوا ہوئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے

غنیمت ہے کہ اپنی خود ستائی اور خودنمائی میں مہارت کو رائےدہندگان کو پھانسنے کے جال کی طرح استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایئراسٹرائک پر جا رہے پائلٹوں کو رام کا نام لینے، کوئی منتر بدبدانے یا ہنومان چالیسہ پڑھنے کا مشورہ نہیں دیا۔

چودھری چرن سنگھ (فوٹو : دی وائر)

جب چودھری چرن سنگھ نے کہا-اگر میری پارٹی کا امیدوار کسان-مزدوروں سے دھوکہ کرتا ہو، تو ووٹ نہ دینا

الیکشن کے قصے: چودھری چرن سنگھ نے ایک انتخابی جلسہ میں رائےدہندگان سے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی کے امیدوار کا کردار خراب ہو یا وہ شراب پیتا ہو، تو وہ اس کو ہرانے میں نہ جھجکیں۔

ہنومان گڑھی ایودھیا،فوٹو بشکریہ : فیس بک@HanumanGarhi.Ayodhya

کیوں رام جنم بھومی کی رٹ لگانے والی جماعتیں ایودھیا کی ہنومان گڑھی کا نام زبان پر نہیں لاتیں؟

ایودھیا کے تاریخی ہنمان گڑھی نے آزادی سے پہلے سے ہی اپنے سسٹم میں جمہوریت اور انتخاب کا ایسا انوکھا اور ملک کا غالباً پہلا تجربہ کر رکھا ہے، جس کا ذکر تک کرنا فرقہ وارانہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو راس نہیں آتا۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

وی ایچ پی کے لوک سبھا انتخاب تک رام مندر تحریک کو روکنے کی وجہ عقیدہ نہیں سیاست ہے

وشو ہندو پریشد کو اپنی رام مندر تحریک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی مہم سے بی جے پی کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کو لےکر کسی بھی طرح کی شدت پسندی مودی حکومت کے خلاف جائے‌گی، اس لئے اس نے مدافعتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھوے کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ لئے ہیں۔

نصیرالدین شاہ (فوٹو بشکریہ: یو ٹیوب/ہندی کویتا)

نصیرالدین شاہ کے بیان پر تنازعہ: نہ تڑپنے کی اجازت ہے، نہ فریاد کی

ملک میں سماج کی نچلی سطح تک ڈر اور عدم اعتماد کا ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ مزاحمت کی ساری آوازیں گھٹ‌کر رہ گئیں اور اب اوپری سطح پر کوئی عامر خان اپنا ڈر یا نصیرالدین شاہ غصہ جتانے لگتے ہیں ، تو ان کا منھ نوچنے کی سرپھری کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں۔

Photo: Reuters

بابری مسجد-رام مندر تنازعہ : ہندو بنام مسلمان  کے ساتھ ساتھ ہندو بنام ہندو بھی ہے

ہندوؤں کے 6 دعویداروں  میں سے دو ایودھیا واقع متنازعہ مقام پر وراجمان رام للا کے خلاف ہی عدالت گئے ہیں۔ ایودھیا کی رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازعہ کو آپ اب تک ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کا تنازعہ ہی مانتے رہے ہیں تو اب  اس نظریے کی […]

2017 کی دیوالی تقریب میں ایودھیا کا سریو ساحل (فوٹو : رائٹرس)

ایودھیا کی فکر اتر پردیش کی یوگی حکومت کو ہے نہ مرکز کی مودی حکومت کو

مذہبی سیاحت بڑھانے کے نام پر روشنی کے تیوہاردیوالی سمیت کئی سرکاری پروگراموں میں جذبات کا استعمال کرنے کے لئے بھاری بھرکم منصوبوں کے بڑے-بڑے اعلانات کے ذریعے مسلسل ایسی تشہیر کی جا رہی ہیں جیسے ایودھیا میں جنت اتار‌کر ہر کسی کے لئے لال غالیچہ بچھا دئے گئے ہیں، لیکن زمینی سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔

ماہر ماحولیات پروفیسر جی ڈی اگروال۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

حکومت ’نمامی گنگے‘ کا سبز باغ دکھاتی رہی اور پروفیسر جی ڈی اگروال کی بلی چڑھ گئی

ماہر ماحولیات پروفیسر جی ڈی اگروال نے 100 سے زیادہ دنوں تک اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی تو صرف اس لئے کیونکہ حکومتوں کی غیر سنجیدگی کے باوجود ان کے دل و دماغ میں جمہوریت کو لےکر کوئی نہ کوئی امید ضرور باقی رہی ہوگی۔ ان کے جانے کا غم اس معنی میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے کہ یہ بھوک ہڑتال کے رہنما مہاتما گاندھی کی پیدائش کے ایک 150 سال میں ہوا ہے۔

دہلی میں چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت کے ساتھ الیکشن کمشنر سنیل اروڑااور اشوک لواسا (فوٹو : پی ٹی آئی)

الیکشن کمیشن کا صرف غیر جانبدار ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ نظر آنا بھی ضروری ہے

پانچ ریاستوں میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم کےاسمبلی انتخابات کے اعلان کے لئے بلائے گئے پریس کانفرنس کو لےکراپوزیشن پارٹی کانگریس کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سنگین ہیں۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈرے ہوئے لوگ خوف کی سیاست کر رہے ہیں…

اب تک ہماری جمہوریت کی تاریخ یہی رہی ہے کہ جس نے بھی اقتدار کے تکبر میں خود کو رائےووٹر سے بڑا سمجھنے کی حماقت کی،ووٹراس کو اقتدار سے بے دخل کرکے ہی مانے۔صاف ہے کہ ووٹ کی ایسی سیاست سے ووٹر کو نہیں، ان کو ہی ڈر لگتا ہے جو ڈرانے کی سیاست کرتے ہیں

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا ملک کی سیاست ہمیشہ اسی طرح لوٹ کھسوٹ والی رہی ہے؟

ملک میں ارب پتیوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد کے درمیان آپ روتے رہیے کہ سیاست کا زوال ہو گیا ہے اور اب وہ سماجی خدمت یا ملک کی خدمت کا ذریعہ نہیں رہی،ان اکثریت والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہوں نے اس حالت کو سماجی و ثقافتی پہچان بھی دلا دی ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

کہیں نوٹ بندی بلیک منی کو وہائٹ کرنے کا طریقہ تو نہیں تھا؟

حکومت کا کہنا تھا کہ بند کئے گئے نوٹوں میں سے تقریباً 3 لاکھ کروڑ قیمت کے نوٹ بینکوں میں واپس نہیں آئیں‌گے اور یہ بلیک منی پر سخت وار ہوگا، لیکن ریزرو بینک کے مطابق اب نوٹ بندی کے بعد جمع ہوئے نوٹوں کا فیصد 99 کے پار پہنچ گیا ہے۔ یعنی یا تو ان نوٹوں میں کوئی بلیک منی تھا ہی نہیں یا اس کے ہونے کے باوجود حکومت اس کو نکالنے میں ناکام رہی۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی ٹی آئی)

وزیر اعظم نے عوام سے 60 مہینے مانگے تھے، 50 ہوابازی میں گزرا دیے!

‘ چتر ‘وزیر اعظم نے انتخاب کے لئے طےشدہ وقت سے پہلے ہی خود کو اپنی پارٹی کےانتخابی مہم کی قیادت والے لیڈر کی صورت میں بدل لیا ہے۔ سرکاری نظام اور حمایتی میڈیا کی ہمنوائی کے ذریعے عوام کو یہ یقین کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت خوب کام کر رہی ہے۔

گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مارے گئے علیم  الدین انصاری کے قتل کے  آٹھ ملزمین کو پچھلے ہفتے ضمانت ملی تھی۔ گزشتہ 4 جولائی کو ان کے جیل سے نکلنے پر مرکزی وزیر اور بی جے پی رکن پارلیامان جینت سنہا نے ان کا استقبال کیا۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جینت سنہا کی صفائی : ’بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی ‘

بھیڑ کے ذریعے بےقصور لوگوں کو پیٹ پیٹ‌کر مار ڈالنے کے واقعات کی روک تھام کی مرکزی حکومت کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے، اس لئے وہ صرف ریاستی حکومتوں کو محتاط رہنے کو کہہ‌کر اپنے فرائض کو پورا کر لینا چاہتی ہے۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا رام مندر کا مدعا بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے؟

بی جے پی رہنما رام مندر تنازعہ کا بھرپور استعمال کر اقتدار یا آئینی عہدوں پر جا پہنچے ہیں لیکن اب مندر بنانے کے لئے ‘ اپنوں ‘ کا مسلسل دباؤ نہیں جھیل پا رہے ہیں۔ اب ان کو اچانک آئین، قانون اور عدالت کے وقار کی فکر ہو گئی ہے۔

وی پی سنگھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

وی پی سنگھ : سیاست میں سماجی انصاف نافذ کرنے والا شخص

یوم پیدائش پر خاص : وی پی سنگھ کہا کرتے تھے کہ سماجی تبدیلی کی جو مشعل انہوں نے جلائی ہے اور اس کے اجالے میں جو آندھی اٹھی ہے، اس کا منطقی عروج تک پہنچنا ابھی باقی ہے۔ ابھی تو سیمی فائنل ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ فائنل میرے بعد ہو۔ لیکن اب کوئی بھی طاقت اس کا راستہ نہیں روک پائے‌گی۔

فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر

یہ کریں‌گے، وہ کریں‌گے کی جگہ یہ بتاؤ کہ 4سال میں کیا کیا؟

ضمنی انتخاب کے نتیجےبتا رہے ہیں کہ اب جملوں سے کام نہیں چلنے والا۔ دس ریاستوں میں پھیلی لوک سبھا کی چار اور اسمبلیوں کی دس سیٹوں کے ضمنی انتخابی نتائج  کا پیغام،کم سے کم ملک پر حکومت‌کررہی بی جے پی کے لئے، آئینے کی طرح صاف ہے-جنوب […]

بھکتوں کے درمیان آسارام (فوٹوبشکریہ : فیس بک / آسارام)

لوگ اپنےعقائد کیوں آسارام جیسوں کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں؟ 

اوما بھارتی نے مدھیہ پردیش میں اپنے وزیراعلیٰ کے دور میں اسمبلی کے اندر آسارام کی تقریر کرائی تھی تو پورے کابینہ کے ساتھ حزب اقتدار کے سارے ایم ایل اے کے لئے اس کو سننا لازمی قرار دیا تھا۔ جودھ پور میں اسپیشل ایس سی ایس ٹی […]

(فوٹو : وکی میڈیا کامنس)

کمیونسٹوں سے اتنی نفرت کیوں؟

جس سیاست کے پاس کوئی قیمت نہیں ہوتی، اس میں نفرت ہی سب سے بڑی قیمت ہو جاتی ہے۔ سائنٹفک سماجواد کے سرخیل کارل مارکس کی سالگرہ (14 مارچ) بھلےہی کچھ روز بعد ہے، لیکن ان کے تریپورہ کے شکست خوردہ پیروکاروں کے جیت کے جنون سے بھرے […]

Photo: PTI

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ جمہوریت کا گلا گھونٹ دے‌گا 

ایک ملک، ایک انتخاب ‘کے ورد کے پیچھے چھپے مقصد سمجھنے کے لئے بہت باریکی میں جانے کی بھی ضرورت نہیں اور کچھ موٹی موٹی باتوں سے ہی اس کا پتا چل جاتا ہے۔ ان میں پہلی بات یہ کہ ابھی تک نہ ملک میں ایک تعلیمی نظام ہے، نہ ہی سارے شہریوں کو ایک جیسی طبی سہولت مل رہی ہے۔

Don`t copy text!