Author Archives

منوج سنگھ

جنگل کوڑیا سی ایچ سی۔ (فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

یوپی: وزیر اعلیٰ کے گود لیے اسپتال صوبے کی خستہ حال صحت خدمات کا نمونہ محض ہیں

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ دنوں گورکھپور کے دو کمیونٹی ہیلتھ سینٹرکو گود لینے کا اعلان کیا تھا۔ قیام کے کئی سالوں بعد بھی یہاں نہ مناسب تعداد میں طبی عملہ ہیں، نہ ہی دیگر سہولیات۔المیہ یہ ہے کہ دونوں اسپتالوں میں ایکسرے ٹیکنیشن ہیں، لیکن ایکسرے مشین ندارد ہیں۔

File photo of Narendra Modi and Yogi Adityanath. Photo: PTI

کیا اتر پردیش بی جے پی میں ہو رہی اٹھاپٹک کسی تبدیلی کا اشارہ ہے

اسمبلی انتخابات سے کچھ مہینے پہلے اتر پردیش بی جے پی میں‘سیاسی عدم استحکام’کا انفیکشن شروع ہو گیا، جس کے مرکزمیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے رہنماؤں کے غوروخوض کے بیچ سوال اٹھتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ انہیں یوپی کا میدان فتح کرنااتنا آسان نہیں دکھ رہا، جتنا سمجھا جا رہا تھا۔

گورکھ ناتھ مندر۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

یوپی: گورکھ ناتھ مندر کے قریب رہنے والے مسلمان کیوں چھت چھن جانے کی بات سے خوف زدہ ہیں

گراؤنڈ رپورٹ: گزشتہ دنوں گورکھپورانتظامیہ پرگورکھ ناتھ مندر کے پاس زمین کےحصول کے لیےیہاں کے کئی مسلم خاندانوں سے زبردستی ایک کاغذ پردستخط کروانے کا الزام لگا ہے۔ کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نےدستخط تو کر دیےہیں،لیکن وہ اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

یوپی: دیہی علاقوں میں نظر آنے لگا ہے کووڈ کا قہر، بڑی تعداد میں موت کی خبریں

کورونا کی پہلی لہر ملک کےدیہی علاقوں کو بہت متاثر نہیں کر پائی تھی، لیکن دوسری لہر غم کا سمندر لےکر آئی ہے۔گزشتہ ایک ہفتہ عشرے میں پوروانچل کے گاؤں میں ہر دن کئی لوگ بخار، کھانسی و سانس کی تکلیف کے بعد جان گنوا رہے ہیں۔ جانچ کے فقدان میں انہیں کورونا سے ہوئی اموات کے طور پر درج نہیں کیا گیا ہے۔

بلیا کے اسپتال میں کمرے میں بند وینٹی لیٹرز۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

یوپی: کووڈ کے قہر سے زندگیاں بچانے کو جوجھ رہے کئی شہروں کے اسپتال میں بیکار پڑے ہیں وینٹی لیٹر

ملک بھر میں کووڈ انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے بیچ مریضوں کووقت پر وینٹی لیٹر نہ ملنے کی بات سامنے آ رہی ہے، وہیں اتر پردیش کے درجن بھر سے زیادہ ا ضلاع کے اسپتالوں میں ٹرینڈاسٹاف کی کمی یا آکسیجن کا صحیح دباؤ نہ ہونے جیسی کئی وجہوں سے دستیاب وینٹی لیٹرز ہی کام میں نہیں آ رہے ہیں۔

سنگیتا اور ششانک۔ (فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

یوپی پنچایت انتخاب: ’حکومت اور ریاستی الیکشن کمیشن میری بیوی اور بچوں کی موت کے ذمہ دار ہیں‘

حاملہ ہونے کے باوجود شراوستی ضلع کی اسسٹنٹ ٹیچرسنگیتا سنگھ کی پنچایت انتخاب میں ڈیوٹی لگائی گئی، جس کی ٹریننگ کے دوران وہ کورونا سے متاثرہو گئیں۔ اس بیچ ان کی ڈیوٹی ہٹوانے کی تمام کوشش ناکام رہی اور ان کی حالت بگڑتی گئی۔ 17 اپریل کو سنگیتا نے بارہ بنکی کے ایک اسپتال میں دم توڑ دیا۔

راپتی پل کی ریلنگ پر لگا بینر۔ (بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

یوپی: مخالفت کے بعد غائب ہوئے گورکھپور کے شمشان گھاٹ پر فوٹو-ویڈیو لینے کی پابندی کے بینر

گزشتہ 30 اپریل کو گورکھپور کے راج گھاٹ شمشان کے پاس ایک پل کی جالیوں کو فلیکس سے ڈھکتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے حکم دیا کہ آخری رسومات کی فوٹو اور ویڈیو لینا قانوناً ٹھیک نہیں ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔کھل کر مخالفت کیے جانےبعد اگلے دن یہ فلیکس پھٹے ہوئے ملے اور میونسپل کی جانب سے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

ایک مریض کے ساتھ وکی۔ (لال قمیص میں،فوٹوبہ شکریہ: ویڈیوگریب)

یوپی: ’تڑپ رہے مریضوں کو آکسیجن دینا جرم  کیسے ہوگیا‘

گزشتہ 29 اپریل کو جون پور کے ضلع اسپتال کے باہر ایک ایمبولینس آپریٹر نے آکسیجن اور بیڈ نہ پا سکے کئی مریضوں کو ایمبولینس کے سلینڈر سے آکسیجن دی تھی۔ ضلع اسپتال کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سےمینجمنٹ اور انتظامیہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور مریضوں کو غلط ڈھنگ سے آکسیجن دینے جیسے الزامات کے بعد ان پر معاملہ درج کیا گیا ہے۔

یوپی کے رام پور میں پنچایتی انتخاب کے دوران ایک سینٹر پر رائے دہندگان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی پنچایتی انتخاب: اساتذہ یونین نے کہا-الیکشن ڈیوٹی کے بعد کووڈ سے 706 ملازمین کی جان گئی

اتر پردیش پرائمری اساتذہ یونین نےوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ،ریاستی الیکشن کمیشن اوروزیر تعلیم کو لکھے خط میں بتایا ہے کہ پنچایتی انتخاب میں ڈیوٹی کے دوران کورونا سے متاثر ہوئے 706پرائمری اساتذہ اور بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی جان گئی ہے۔ یونین نے گنتی کو ٹالنے کی مانگ کی ہے۔

کسان مہاپنچایت کو خطاب کرتے نریش ٹکیت۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/بھارتیہ کسان یونین)

بی جے پی کا ساتھ دینا بڑی بھول تھی، سرکار کسانوں کو برباد کر نے پر تلی ہے: نریش ٹکیت

دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف چل رہے کسانو ں کے احتجاج کی گونج پوروانچل میں بھی سنائی دی، جہاں بستی ضلع میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدرنریش ٹکیت نے کسان پنچایت کا اہتمام کیا اور جم کر بی جے پی اورمرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: 212 کروڑ روپے کا بقایہ چھوڑ بند ہو گئیں پوروانچل کی چار چینی ملیں

شوگرکین کنٹرول آرڈر 1966 کہتا ہے کہ چینی ملیں کسان کو گنا فراہمی کے 14 دن کے اندر ادائیگی کریں گی،اگروہ ایسا نہ کریں تو انہیں بقایہ گنا قیمت پر 15فیصد سالانہ انٹریسٹ دینا ہوگا۔ یوپی سرکار اس ضابطے کی تعمیل نہ تو نجی چینی ملوں سے کروا پا رہی ہے نہ اس کی اپنی چینی ملیں اس کو مان رہی ہیں۔

ایک تقریب میں سپنا اور وشال۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

یوپی: دبنگوں کا خوف، دو مہینے سے چھپ کر رہ رہے ہیں اپنے گیتوں میں امبیڈکر کے خیالات کوپیش کر نے والے گلوکار

غازی پور ضلع کے وشال غازی پوری اور ان کی اہلیہ سپنا دلت اورپسماندہ مفکرین کی تعلیمات کو گیتوں کے ذریعہ پیش کرتے ہیں۔گزشتہ اکتوبر میں ان گیتوں سے ناراض علاقے کے کچھ دبنگوں نے ان کے اسٹوڈیو میں آگ زنی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ پولیس میں شکایت درج ہونے کے باوجود وشال اپنی فیملی کے ساتھ چھپ کر رہنے کو مجبور ہیں۔

سہرسہ میں باڑھ میں پھنسے لوگ،فوٹو :پی ٹی آئی

بہا ر:  اس سال ریاست میں باڑ ھ سے برباد ہوئی 7.54 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین

لوک سبھا میں اراکین پارلیامنٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں مرکزی حکومت نے بتایا کہ سال 2019-20میں پورے ملک کی114.295لاکھ ہیکٹر فصل متاثر ہوئی، جس میں بہار میں باڑھ سے متاثرمجموعی فصل 2.61لاکھ ہیکٹر تھی۔

کھیتوں میں سے بالو نکال رہے 75 سالہ منگرو۔ (تمام  فوٹو: منوج سنگھ)

’بہار انتخاب: ہمرے دکھ میں کیہو ناہی آئل، ووٹ مانگے کے منھ کیہو کے نا با‘

گراؤنڈ رپورٹ:مغربی چمپارن ضلع کےلکشمی پور رمپروا گاؤں کےسرحدی پانچ ٹولے کے پانچ سو سے زیادہ لوگ گنڈک ندی کی باڑھ اور کٹان سے ہوئی بڑی تباہی کے بعد پھر سے زندگی کو پٹری پر لانے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ وجودکے بحران سےجوجھ رہے ان ٹولوں میں انتخابی ہنگامےکی گونج نہیں پہنچی ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا ڈاکٹر کفیل خان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں

گزشتہ سال آکسیجن حادثے کی محکمہ جاتی جانچ میں دوالزامات میں ملی کلین چٹ کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، لیکن سرکار نے نئےالزام جوڑتے ہوئے دوبارہ جانچ شروع کر دی۔ متھرا جیل میں رہائی کے وقت ہوئی حجت یہ اشارہ ہے کہ اس بار بھی حکومت کا روریہ ان کے لیےنرم ہونے والا نہیں ہے۔

بانس گاؤں  کے پردھان ستیہ میو جیتے(فوٹو: Special Arrangement)

’دلتوں پر دبدبہ قائم کر نے کے لیے ستیہ میو جیتے کو مار دیا گیا‘

گزشتہ14اگست کو اعظم گڑھ ضلع کے ترواں تھانہ حلقہ کے بانس گاؤں کے پردھان ستیہ میو جیتے کو گولی مارکر ہلاک کر دیا گیا۔ شیڈول کاسٹ سے آنے والے پردھان کے اہل خانہ کاالزام ہے کہ گاؤں کے نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں نے ایسا یہ پیغام دینے کے لیے کیا کہ آگے سے کوئی دلت بے حوفی سے کھڑا نہ ہو سکے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

’ میں ذات-برادری، ہندو-مسلمان نہیں جانتا، دشمن بھی مصیبت میں پھنسے تو مدد کرنی چاہیے‘

مہاراشٹر کے بھیونڈی میں کام کر رہے پاورلوم مزدوروں کا ایک گروپ 25 اپریل کو اتر پردیش کے مہراج گنج آنے کے لیے سائیکل سے نکلا تھا۔ اس گروپ کے ایک ممبر تبارک انصاری نے تقریباً 400 کیلومیٹر کی دوری طے کرنے کے بعد مدھیہ پردیش کے سرحدی علاقہ کے سیندوا میں دم توڑ دیا۔

ہندوستان-نیپال سرحد پر نو مینس لینڈ میں پھنسے نیپالی مزدور، جن کوبعد میں ہندوستانی سرحد میں لے جایا گیا۔(فوٹو : راجیش جیسوال)

لاک ڈاؤن: ہندوستان-نیپال سرحد پر 22 گھنٹے نو مینس لینڈ میں بند رہے 326 نیپالی شہری

لاک ڈاؤن کی وجہ سے جگہ جگہ پھنسے مہاجر مزدوروں کے لئے حکومت کے ذریعے بسیں چلانے کے بعد نوئیڈا، فریدآباد، گڑگاؤں وغیرہ جگہوں پر کام کرنے والے نیپالی مزدوربھی اپنے ملک کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ سونولی تک تو پہنچ گئے لیکن دونوں طرف کی سرحدبند ہونے کی وجہ سے 326 نیپالی شہری ہندوستان کی طرف پھنسے ہوئے ہیں۔

راشد(فوٹو : منوج سنگھ)

شہریت قانون: ’ہم اب تک سمجھ نہیں پائے کہ ہمیں کس جرم میں گورکھپور پولیس نے گرفتار کیا تھا‘

اتر پردیش کے گورکھپورشہر میں گزشتہ 20 دسمبر کوشہریت قانون اور این آر سی کی مخالفت میں ہوئے مظاہرہ کے دوران پولیس نے سیتاپور کے دو پھیری والے راشد علی اور محمد یاسین کو گرفتار کر لیا تھا۔ 12 دن جیل میں رکھنے کے بعد انہیں ضمانت دی گئی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

شہریت قانون: ضمانت ملنے کے باوجود گورکھپور جیل میں بند ہیں سیتاپور کے دو پھیری والے

گراؤنڈ رپورٹ : گورکھپور میں 20 دسمبر کو شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ہوئے مظاہرے کے بعد پولیس نے کئی لوگوں کو گرفتارکیا تھا۔ ان میں سے کئی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے لوگ مظاہرے میں موجود نہیں تھے، لیکن پولیس نے ان کو حراست میں لیااور بےرحمی سے مارپیٹ کی۔

ڈاکٹر کفیل خان(فوٹو : پی ٹی آئی)

آکسیجن اسکینڈل: کیا ڈاکٹر کفیل کو گھیر نے کے چکر میں یوگی حکومت خودگھرتی جا رہی ہے؟

گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئے آکسیجن اسکینڈل میں ملزم ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف کی جا رہی جانچ کی رپورٹ گزشتہ اپریل میں ملنے کے بعدحکومت اب تک کوئی فیصلہ نہیں لے سکی ہے۔ اس کے علاوہ بہرائچ معاملے میں ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف جانچ کے لئے اسی مہینے افسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ڈاکٹرکفیل پر لگے الزامات کی تیزی سے جانچ کرانے میں خود حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

safe_image

چمکی بخار: مرض تو پرانا ہے پھر حکومتوں کی جانب سے اتنی لاپروائی کیوں ؟

اے ای ایس/جے ای کے بارے میں جب مرکز-ریاستی حکومتیں اور ان کے وزیر بڑے-بڑے اعلان کرتے ہیں تو ان حقائق کو ضرور دھیان میں رکھانا چاہیے اور ان سے سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اس بیماری سے جب اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی موت ہو رہی ہے تو اس بیماری کی روک تھام کی تدبیروں پر عمل کرنے میں اتنی سستی کیوں ہے

گجرات کے گاندھی نگر میں ہوئی ایک میٹنگ میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مشرقی اتر پردیش میں کانگریس کے لئے کیا امکانات ہیں؟

مشرقی اتر پردیش میں شناخت کی سیاست سب سے زیادہ تلخ ہے۔ پٹیل، کرمی، راج بھر، چوہان، نشاد، کرمی- کشواہا وغیرہ کی اپنی پارٹیاں بن چکی ہیں اور ان کی اپنی کمیونٹی پر گرفت بےحد مضبوط ہے۔ کانگریس کو ان سب کے درمیان اپنے لئے کم سے کم 20 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوگا تبھی وہ یوپی میں باعزت مقام پا سکتی ہے۔

gorakhpur

گورکھپور میڈیکل کالج میں دماغی بخار سے مرنے والوں کی تعداد میں  کمی کا سچ کیا ہے؟

اترپردیش حکومت اگر دماغی بخار سے اموات میں کمی آنے کا دعویٰ کر رہی ہے تو اس کو پچھلے پانچ سالوں کی اگست مہینے تک گورکھپور واقع بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مریضوں کی تعداد اور اموات کی رپورٹ جاری کرنی چاہیے۔

Mayawati-Akhilesh-PTI

گورکھ پور اور پھول پور میں بی جے پی کی ہار پر حیرت نہیں ہونی چاہیے

گورکھ پور سے گراؤنڈ رپورٹ : مارچ 2017 کے بعد یوپی کی سیاست میں نئی تبدیلی کی جوکمزور آوازیں اٹھ رہی تھیں اس کو سنا نہیں گیا۔ یہ آوازیں اس انتخاب میں بہت جارحانہ تھیں لیکن اس کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اب جب اس نے اپنا اثر دکھا دیا تو سبھی حیران ہیں۔

پھول پور ضمنی انتخاب کی تشہیر کے دوران الٰہ آباد کے نواب گنج میں ایک مجلس میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور دیگر بی جے پی رہنما (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیوں گورکھپور اور پھول پور ضمنی انتخاب بی جے پی کے لئے ناک کا سوال بن گیا ہے؟

لگاتار جیت سے بےحد خوداعتمادی کی شکار بی جے پی کے لئے یہ ضمنی انتخاب آسان نہیں رہ گیا ہے۔ دونوں ضمنی انتخاب شروع سےہی پارٹی کے لئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں کے منفی نتائج اس کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

Rinki Singh, 31, holds a photo of her daughter Aarushi, 6, who died in the intensive care unit (ICU) of the Baba Raghav Das hospital in the Gorakhpur district, India August 14, 2017. REUTERS/Cathal McNaughton

گورکھ پور میڈیکل کالج میں اکتوبر کے 15 دنوں میں 231 بچّوں کی موت

گورکھ پور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بدنظمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اگست مہینے میں بچّوں کی موت کو فطری بتانے والی یوپی حکومت کے وزیر اب اس بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ آکسیجن کی کمی سے یوپی کے گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل […]

gorakhpur_university

کیا اسٹوڈنٹس یونین یونین انتخاب میں اے بی وی پی کو کامیاب بنانے کے لئے یوگی حکومت اقتدار کا غلط استعمال کر رہی ہے؟

گورکھ پور یونیورسٹی میں ا سٹوڈنٹس یونین انتخاب کے لیےکافی عرصے سے احتجاج اور مظاہرہ  جاری  ہے۔ 8 ستمبر کو دین دیال اپادھیائے گورکھ پور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات پر بے رحمی سے  لاٹھی چارج اور 27 نامزد اور 100 نامعلوم طلبا کے خلاف قتل کی کوشش […]

Don`t copy text!