Author Archives

منوج سنگھ

(فوٹو: پی ٹی آئی)

’ میں ذات-برادری، ہندو-مسلمان نہیں جانتا، دشمن بھی مصیبت میں پھنسے تو مدد کرنی چاہیے‘

مہاراشٹر کے بھیونڈی میں کام کر رہے پاورلوم مزدوروں کا ایک گروپ 25 اپریل کو اتر پردیش کے مہراج گنج آنے کے لیے سائیکل سے نکلا تھا۔ اس گروپ کے ایک ممبر تبارک انصاری نے تقریباً 400 کیلومیٹر کی دوری طے کرنے کے بعد مدھیہ پردیش کے سرحدی علاقہ کے سیندوا میں دم توڑ دیا۔

ہندوستان-نیپال سرحد پر نو مینس لینڈ میں پھنسے نیپالی مزدور، جن کوبعد میں ہندوستانی سرحد میں لے جایا گیا۔(فوٹو : راجیش جیسوال)

لاک ڈاؤن: ہندوستان-نیپال سرحد پر 22 گھنٹے نو مینس لینڈ میں بند رہے 326 نیپالی شہری

لاک ڈاؤن کی وجہ سے جگہ جگہ پھنسے مہاجر مزدوروں کے لئے حکومت کے ذریعے بسیں چلانے کے بعد نوئیڈا، فریدآباد، گڑگاؤں وغیرہ جگہوں پر کام کرنے والے نیپالی مزدوربھی اپنے ملک کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ سونولی تک تو پہنچ گئے لیکن دونوں طرف کی سرحدبند ہونے کی وجہ سے 326 نیپالی شہری ہندوستان کی طرف پھنسے ہوئے ہیں۔

راشد(فوٹو : منوج سنگھ)

شہریت قانون: ’ہم اب تک سمجھ نہیں پائے کہ ہمیں کس جرم میں گورکھپور پولیس نے گرفتار کیا تھا‘

اتر پردیش کے گورکھپورشہر میں گزشتہ 20 دسمبر کوشہریت قانون اور این آر سی کی مخالفت میں ہوئے مظاہرہ کے دوران پولیس نے سیتاپور کے دو پھیری والے راشد علی اور محمد یاسین کو گرفتار کر لیا تھا۔ 12 دن جیل میں رکھنے کے بعد انہیں ضمانت دی گئی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

شہریت قانون: ضمانت ملنے کے باوجود گورکھپور جیل میں بند ہیں سیتاپور کے دو پھیری والے

گراؤنڈ رپورٹ : گورکھپور میں 20 دسمبر کو شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ہوئے مظاہرے کے بعد پولیس نے کئی لوگوں کو گرفتارکیا تھا۔ ان میں سے کئی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے لوگ مظاہرے میں موجود نہیں تھے، لیکن پولیس نے ان کو حراست میں لیااور بےرحمی سے مارپیٹ کی۔

ڈاکٹر کفیل خان(فوٹو : پی ٹی آئی)

آکسیجن اسکینڈل: کیا ڈاکٹر کفیل کو گھیر نے کے چکر میں یوگی حکومت خودگھرتی جا رہی ہے؟

گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئے آکسیجن اسکینڈل میں ملزم ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف کی جا رہی جانچ کی رپورٹ گزشتہ اپریل میں ملنے کے بعدحکومت اب تک کوئی فیصلہ نہیں لے سکی ہے۔ اس کے علاوہ بہرائچ معاملے میں ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف جانچ کے لئے اسی مہینے افسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ڈاکٹرکفیل پر لگے الزامات کی تیزی سے جانچ کرانے میں خود حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

safe_image

چمکی بخار: مرض تو پرانا ہے پھر حکومتوں کی جانب سے اتنی لاپروائی کیوں ؟

اے ای ایس/جے ای کے بارے میں جب مرکز-ریاستی حکومتیں اور ان کے وزیر بڑے-بڑے اعلان کرتے ہیں تو ان حقائق کو ضرور دھیان میں رکھانا چاہیے اور ان سے سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اس بیماری سے جب اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی موت ہو رہی ہے تو اس بیماری کی روک تھام کی تدبیروں پر عمل کرنے میں اتنی سستی کیوں ہے

گجرات کے گاندھی نگر میں ہوئی ایک میٹنگ میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مشرقی اتر پردیش میں کانگریس کے لئے کیا امکانات ہیں؟

مشرقی اتر پردیش میں شناخت کی سیاست سب سے زیادہ تلخ ہے۔ پٹیل، کرمی، راج بھر، چوہان، نشاد، کرمی- کشواہا وغیرہ کی اپنی پارٹیاں بن چکی ہیں اور ان کی اپنی کمیونٹی پر گرفت بےحد مضبوط ہے۔ کانگریس کو ان سب کے درمیان اپنے لئے کم سے کم 20 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوگا تبھی وہ یوپی میں باعزت مقام پا سکتی ہے۔

gorakhpur

گورکھپور میڈیکل کالج میں دماغی بخار سے مرنے والوں کی تعداد میں  کمی کا سچ کیا ہے؟

اترپردیش حکومت اگر دماغی بخار سے اموات میں کمی آنے کا دعویٰ کر رہی ہے تو اس کو پچھلے پانچ سالوں کی اگست مہینے تک گورکھپور واقع بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مریضوں کی تعداد اور اموات کی رپورٹ جاری کرنی چاہیے۔

Mayawati-Akhilesh-PTI

گورکھ پور اور پھول پور میں بی جے پی کی ہار پر حیرت نہیں ہونی چاہیے

گورکھ پور سے گراؤنڈ رپورٹ : مارچ 2017 کے بعد یوپی کی سیاست میں نئی تبدیلی کی جوکمزور آوازیں اٹھ رہی تھیں اس کو سنا نہیں گیا۔ یہ آوازیں اس انتخاب میں بہت جارحانہ تھیں لیکن اس کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اب جب اس نے اپنا اثر دکھا دیا تو سبھی حیران ہیں۔

پھول پور ضمنی انتخاب کی تشہیر کے دوران الٰہ آباد کے نواب گنج میں ایک مجلس میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور دیگر بی جے پی رہنما (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیوں گورکھپور اور پھول پور ضمنی انتخاب بی جے پی کے لئے ناک کا سوال بن گیا ہے؟

لگاتار جیت سے بےحد خوداعتمادی کی شکار بی جے پی کے لئے یہ ضمنی انتخاب آسان نہیں رہ گیا ہے۔ دونوں ضمنی انتخاب شروع سےہی پارٹی کے لئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں کے منفی نتائج اس کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

Rinki Singh, 31, holds a photo of her daughter Aarushi, 6, who died in the intensive care unit (ICU) of the Baba Raghav Das hospital in the Gorakhpur district, India August 14, 2017. REUTERS/Cathal McNaughton

گورکھ پور میڈیکل کالج میں اکتوبر کے 15 دنوں میں 231 بچّوں کی موت

گورکھ پور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بدنظمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اگست مہینے میں بچّوں کی موت کو فطری بتانے والی یوپی حکومت کے وزیر اب اس بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ آکسیجن کی کمی سے یوپی کے گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل […]

gorakhpur_university

کیا اسٹوڈنٹس یونین یونین انتخاب میں اے بی وی پی کو کامیاب بنانے کے لئے یوگی حکومت اقتدار کا غلط استعمال کر رہی ہے؟

گورکھ پور یونیورسٹی میں ا سٹوڈنٹس یونین انتخاب کے لیےکافی عرصے سے احتجاج اور مظاہرہ  جاری  ہے۔ 8 ستمبر کو دین دیال اپادھیائے گورکھ پور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات پر بے رحمی سے  لاٹھی چارج اور 27 نامزد اور 100 نامعلوم طلبا کے خلاف قتل کی کوشش […]

Don`t copy text!