Author Archives

پنیہ پرسون باجپئی

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جمہوریت اور آئین بھی اقتدار کے سامنے بےمعنی ہو گیا ہے…

اے ڈی آر اور نیشنل الیکشن واچ کی رپورٹ مانیں تو جس پارلیامنٹ کو ملک کا قانون بنانے کا حق ہے، اسی کے اندر لوک سبھا میں 185 اور راجیہ سبھا میں 40 رکن پارلیامان داغدار ہیں۔ تو یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آخر کیسے وہ رہنما ملک میں بد عنوانی یا سیاست میں جرم کو لےکر غوروفکربھی کر سکتے ہیں جو خود داغدار ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اقتدار کے سامنے ہندوستانی میڈیا رینگنے لگا ہے؟

مدیران کا کام اقتدار کے لحاظ سےمواد کو بنائے رکھنے کا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ اقتدار کے موافق تشہیر کی ایک ہوڑ مچی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ حالات یہ بھی ہو چلے ہیں کہ اشتہار سے زیادہ تعریف نیوز رپورٹ میں دکھائی دے جاتی ہے۔

Narendra-Modi-Amit-Shah-Media1-1200x600

نریندر مودی اور امت شاہ کیسے اور کیوں کر رہے ہیں میڈیا کی نگرانی

مانیٹرنگ کےطریقوں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مانیٹرنگ کا چہرہ مودی حکومت کی ہی دین ہے ایسا نہیں ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں مانیٹرنگ کے معنی اور مانیٹرنگ کے ذریعہ میڈیا پر نکیل کسنے کا انداز ہی سب سے اہم ہو گیا ہے۔

ماسٹراسٹروک پروگرام

اے بی پی نیوز سے استعفیٰ کی کہانی، پنیہ پرسون باجپئی کی زبانی

اپنے اس مضمون میں ماسٹراسٹروک پروگرام کے اینکررہے پنیہ پرسون باجپئی ان واقعات کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں جن کی وجہ سےاے بی پی نیوز چینل کے منیجمنٹ نے مودی حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دئے اور ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

Don`t copy text!