Author Archives

رویش کمار

اجیت ڈوبھال کے بیٹے وویک ڈوبھال (بائیں) اور شوریہ ڈوبھال (دائیں)/ (فوٹو بشکریہ : کارواں میگزین)

ڈی کمپنی: نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال کے بیٹے کا بیرونی ممالک میں بلیک منی کا کارخانہ؟

ڈی کمپنی نام سے اب تک داؤد کا گینگ ہی ہوتا تھا۔ ہندوستان میں ایک اور ڈی کمپنی آ گئی ہے۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال اور ان کے بیٹے وویک اور شوریہ کے کارناموں کو اجاگر کرنے والی کارواں میگزین کی رپورٹ میں یہی عنوان دیا گیا ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: جیٹلی کو کیسے سمجھ آ گیا ایک جی ایس ٹی ریٹ، کیا آپ سمجھ پائے؟

جی ایس ٹی ریٹ ایک ٹیکس سے شروع ہوتا ہے اور بعد میں کئی ٹیکس آ جاتے ہیں یا بڑھنے لگتے ہیں۔ یا پھر کئی ٹیکس سے شروع ہوکر ایک ٹیکس کی طرف جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ٹیکس کو لےکر کوئی ٹھوس سمجھ نہیں ہے۔ شاید عوام کا موڈ دیکھ‌کر ٹیکس سے متعلق سمجھداری آتی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

رویش کا بلاگ: پردھان منتری  جی، موبائل کمپنیاں 120 ہو گئی ہیں تو روزگار کتنوں کو ملا؟

وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ 2014 سے پہلے ملک میں موبائل بنانے والی صرف 2 کمپنیاں تھیں، آج موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی تعداد 120 ہو گئی ہے۔سوال ہے کہ کمپنیوں کی تعداد 2 سے 120 ہو جانے پر کتنے لوگوں کو روزگار ملا؟

Jobs-Mange-India_CPIML

رویش کا بلاگ: 5 ہزار کروڑ کے اشتہارات کے نیچے چھپا ہے 35 لاکھ لوگوں پر نوٹ بندی کی مار کا درد

میں گزشتہ دنوں دہلی اور ممبئی میں کئی لوگوں سے ملا ہوں جن کا نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے پہلے اچھاخاصہ کاروبار چل رہا تھا مگر اس کے بعد وہ برباد ہو گئے۔ کسی کا 60 لاکھ کا پیمنٹ پھنس گیا تو کسی کا آرڈر اتنا کم ہو گیا کہ وہ برباد ہو گیا۔ ان میں سے کئی لوگ اولا ٹیکسی چلاتے ملے جو نوٹ بندی کے پہلے 200سے300 لوگوں کو کام دیا کرتے تھے۔

گلوکار محمد عزیز۔ (فوٹو بشکریہ : pinterest)

رویش کا بلاگ: اداس اور خالی دور میں محمد عزیز کی آواز ساون کی طرح تھی

محمد عزیز کے کئی گانوں میں امیری اور غریبی کا فرق نظر آئے ‌گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گلوکار کو گانے اتفاق سے ہی ملتے ہیں پھر بھی عزیز ان کے گلوکار بن گئے جن کو کہنا نہیں آیا، جن کو لوگوں نے نہیں سنا۔

سہراب الدین اور کوثر بی، بی جے پی صدر امت شاہ اور جج برج گوپال لویا (فوٹو بشکریہ : فیس بک / پی ٹی آئی / دی کارواں)

رویش کا بلاگ: کیا امت شاہ کبھی سوچتے ہوں‌گے کہ ہرین پانڈیا کا قتل اور انکاؤنٹرکی خبریں زندہ کیسے ہو جاتی ہے؟

کیا امت شاہ کبھی سوچتے ہوں‌گے کہ ہرین پانڈیا کا قتل اور سہراب الدین-کوثر بی-تلسی رام انکاؤنٹر کی خبر زندہ کیسے ہو جاتی ہے؟ امت شاہ جب پریس کے سامنے آتے ہوں‌گے تو اس خبر سے کون بھاگتا ہوگا؟ امت شاہ یا پریس؟

مدھیہ پردیش کے چھندواڑا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر / بی جے پی)

رویش کمار نے وزیر اعظم کے لیے اسپیچ لکھی ہے،کیا وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں؟

بی جے پی کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم پرسب سے زیادہ پیسے بچائے ہیں۔ ہمارا نوجوان خودہی پروفیسر ہے۔ وہ تو بڑےبڑے کو پڑھا دیتا ہے جی، اس کو کون پڑھائے‌گا۔ مدھیہ پردیش کے پونے 6لاکھ نوجوان کالجوں میں بنا پروفیسر،اسسٹنٹ پروفیسر کے ہی پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا نوجوان ملک مانگتا ہے، کالج اور کالج میں ٹیچرنہیں مانگتا ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ: کیا ہندوستان کینسر سے لڑنے کو تیار ہے؟

ہندوستان میں کینسر کو لےکر کوئی ضد کسی رہنما میں نظر نہیں آتی۔ کینسر ہوتے ہی مریض کے ساتھ پوری فیملی برباد ہو جاتی ہے۔ کئی ادارے کینسر کے مریضوں کے لئے کام کرتے ہیں مگر اس کو لےکر ریسرچ کہاں ہے، بیداری کہاں ہے، تیاری کیا ہے؟

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: کسی دن یہ رہنما سپریم کورٹ سے کہہ دیں‌گے کہ ہمارے پاس مینڈیٹ ہے، فیصلہ ہم کریں‌گے

حکومت کے پاس اگر سپریم کورٹ کے حکم کو نافذ کرانے کا ڈھانچہ اور ارادہ نہیں ہے تو پھر سپریم کورٹ کو ہی حکومت سے پوچھ لینا چاہیے کہ ہم حکم دینا چاہتے ہیں، پہلے آپ بتا دیں کہ آپ نافذ کرا پائیں‌گے یا نہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: کیا ریزرو بینک کے ریزرو پرحکومت کی نظر ہے؟

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر مہر شرما نے لکھا ہے کہ ریزرو بینک اپنے منافع سے ہرسال حکومت کو 50 سے 60 ہزار کروڑ دیتی ہے۔ اس کے پاس ساڑھے تین لاکھ کروڑ سے زیادہ کا ریزرو ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس ریزرو سے پیسہ دے تاکہ وہ انتخابات میں عوام کے بیچ گل چھرے اڑا سکے۔

فوٹو: پی ٹی آئی/ دی وائر

سی بی آئی کی ’چندر مکھی‘ اور ’پارو‘ میں کس کا انتخاب کریں ‌گے حضور

آپ دیوداس کی چندر مکھی آلوک ورما اور پارو استھانا کا ڈولا رے ڈولا رے ڈانس دیکھیے۔ آپ کو مذہب کا نشہ دےکر حکومت کرنے کے سارے گھناؤنے کام کئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ دیوداس پارو کو بچاتا ہے یا چندر مکھی کو۔

آزاد ہند حکومت کی 75ویں سالگرہ کے پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی آئی بی)

رویش کا بلاگ: مودی کو پردھان سیوک کے ساتھ ہندوستان کا پردھان اتہاس کار بھی بنا دینا چاہیے

وزیر اعظم اسی لئے آج کے اہم سوالوں کے جواب دینا بھول جا رہے ہیں کیونکہ وہ ان دنوں نایکوں کے نام، جنم دن اور ان کے دو چار کام یاد کرنے میں لگے ہیں۔ میری رائے میں ان کو ایک منوہر پوتھی لکھنی چاہیے، جو بس اڈے سے لےکر ہوائی اڈے پر بکے۔ اس کتاب کا نام مودی-منوہر پوتھی ہو۔

فوٹو: آئی اے این ایس

رویش کا بلاگ: مودی کے اکبر تو’دی گریٹ‘ نکلے…

سوچیے آج وزیر خارجہ سشما سوراج اس اکبر سے کیسے نظر ملائیں‌گی، وزارت خارجہ کی خاتون افسر اور ملازم اس اکبر کے کمرے میں کیسے جائیں‌گی؟ابھی اکبر کابیان نہیں آیا ہے، انتظار ہو رہا ہے، انتظار وزیر اعظم کی رائے کا بھی ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور انٹر نیشنل مانیٹری  فنڈ کی نئی  چیف  اکانومسٹ  گیتا گوپی ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی اور @IMFNews / twitter )

رویش کا بلاگ : جب ہارورڈ کی گیتا ہارڈورک والے  مودی سے ملیں‌گی، تو بیک گراؤنڈ میں نوٹ بندی کی اسپیچ بجے گی!

نریندر مودی نے کم سے کم ایک ایسا اقتصادی سماج تو بنا دیا ہے جو نتیجے سے نہیں نیت سے تجزیہ کرتا ہے۔ حماقت کی ایسی اقتصادی جیت کب دیکھی گئی ہے؟ گیتا گوپی ناتھ جیسی ماہر اقتصادیات کو نیت کا ڈیٹا لےکر اپنا نیا ریسرچ کرنا چاہیے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: مودی حکومت کی مہربانی-امیروں کے 3 لاکھ کروڑ لون معاف ہوئے

مودی حکومت کے 4 سالوں میں21سرکاری بینکو ں نے 3 لاکھ 16 ہزار کروڑ کے لون معاف کئے ہیں۔یہ ہندوستان کی صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے کل بجٹ کا دو گنا ہے۔ سخت اور ایماندار ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت میں تو لون وصولی زیادہ ہونی چاہیے تھی، مگر ہوا الٹا۔ ایک طرف این پی اے بڑھتا گیا اور دوسری طرف لون وصولی گھٹتی گئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ انل امبانی۔ (فائل فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ : اگر سرکار کو امبانی کے لئے ہی کام کرنا ہے تو اگلی بار نعرہ دے، اب کی بار امبانی سرکار

ستمبر 2016 میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پریکر اور فرانس کے وزیر دفاع کے درمیان رافیل قرار پر دستخط ہوئے تھے، اس کے ٹھیک پہلے وزارت دفاع کے ایک سینئر افسر نے رافیل لڑاکو ہوائی جہازوں کی قیمتوں کو لےکر سوال اٹھائے تھے اور اس کو فائل میں درج کیا تھا۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

نرملا سیتارمن (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: نرملا جی کو کوئی یاد دلائے کہ وہ جے این یو کی نہیں، ملک کی وزیر دفاع ہیں

اگر وزیر دفاع کو یونیورسٹیوں میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو جیو اانسٹی ٹیوٹ پر ہی ایک پریس کانفرنس کر دیں۔ بہت سی یونیورسٹی میں استاد نہیں ہیں۔ جو عارضی استاد ہیں ان کی تنخواہ بہت کم ہیں۔ ان سب پر بھی پریس کانفرنس کریں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ : مالیا کو’مالیا‘کس نے بنایا ؟

وجے مالیا نے ہر پارٹی کی مدد سے خود کو راجیہ سبھا میں پہنچا کر ہندوستان کی پارلیامانی روایت پر احسان کیا ۔میں مالیا کا اس وجہ سے احترام کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں میں پرو-مالیا ہوں ۔کیا مالیا بہت بڑے سیاسی مفکر تھے؟ جن جن لوگوں نے ان کو پارلیامنٹ پہنچایا وہ آکر سامنے بولیں تو ون سنٹینس میں !

(فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس)

رویش کا بلاگ : NPA تنازعہ میں عوام اسی طرح الو بن رہی ہے جیسے ہندومسلم معاملے میں بنتی ہے

اگر یہ سیاسی تنازعہ کسی بھی طرح سے اقتصادی جرم کا ہے تو دس لاکھ کروڑ روپے لےکر فرار مجرموں کے نام لئے جانے چاہیے۔ کس کی حکومت میں لون دیا گیا یہ تنازعہ ہے، کس کو لون دیا گیا اس کا نام ہی نہیں ہے۔

نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ : این پی اے کو لےکریو پی اے اور این ڈی اے کی پالیسیوں کوئی فرق نہیں ہے

کچھ امیر صنعت کار اور امیر ہوتے رہے، عوام ہندو-مسلم کرتی رہی، اس لئے کانگریس بھی نہیں بتاتی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئے‌گی تو اس کی الگ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی۔ بی جے پی بھی یہ سب نہیں کرتی ہے جبکہ وہ اقتدار میں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور صنعت کار مکیش امبانی کی ایک پروگرام کے دوران کی تصویر/ (فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ : کیا ’چوکیدار جی ‘نے امبانی کے لئے چوکیداری کی ہے؟

وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے شروعاتی اصولوں میں امبانی کے جیو انسٹی ٹیوٹ کو مشہور ادارے کا ٹیگ نہیں مل پاتا۔ یہاں تک کہ وزارت خزانہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ جس ادارے کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے اس کو’ انسٹی ٹیوٹ آف ایمننس ‘ کا درجہ دینا دلیلوں کے خلاف ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

کیا ہندوستان کے بڑے اخبارات پریس کی آزادی پر چھوٹے اخباروں کے حق میں اداریہ لکھ سکتے ہیں؟ 

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل پریس پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔ امریکی پریس نے اس کے خلاف جم‌کر لوہا لیا ہے۔ اخبار بوسٹن گلوب کی قیادت میں 300 سے زیادہ اخباروں نے ایک ہی دن پریس کی آزادی کو لےکر اداریہ شائع کئے ہیں۔

علامتی تصویر/فوٹو: رائٹرز

رویش کا بلاگ : نوجوانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ روزگار کو لےکر اُن کے وزیر اعظم کا نظریہ کیا ہے ؟

ہندوستانی نوجوان پرماننٹ روزگار کی تیاری میں جوانی کے پانچ پانچ سال ہون کر رہے ہیں۔ان سے یہ بات کیوں نہیں کہی جا رہی ہے کہ روزگار کا چہرہ بدل گیا ہے۔ اب عارضی کام ہی روزگار کا نیا چہرہ ہوگا۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: ریلوے میں چوری ڈکیتی ڈبل ہوئی ہے اور وزیر ریل تعریف کے ری ٹوئٹ کرتے نہیں تھک رہے

وزیر ریل کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاکر دیکھیے ۔وہ انہی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہیں جس میں مسافر تعریف کرتے ہیں۔ مگر سیکڑوں کی تعداد میں طالب علم امتحان کے سینٹر کو لےکر شکایت کر رہے ہیں،ان پر کوئی رد عمل نہیں ہے۔

فوٹو : رائٹرز

رویش کا بلاگ : رافیل کو لےکر لڑائی کس بات کی ہو رہی ہے؟

وزیر دفاع نرملا سیتارمن بول چکی تھیں کہ وہ کچھ بھی نہیں چھپائیں‌گی، ملک کو سب بتائیں‌گی۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد مکر گئیں اور کہہ دیا کہ فرانس اور ہندوستان کے درمیان خفیہ قرار ہے اور وہ معاہدے کی معلومات عام نہیں کر سکتی ہیں۔