Author Archives

دی وائر اسٹاف

(فوٹو: دی وائر)

ملک میں مذہب کی بنیاد پر ہیٹ کرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ ایک مسلمان شخص کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ جولائی 2021 میں مذہب کے نام پر ان پر حملہ کیا گیا، ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور یوپی پولیس نے ہیٹ کرائم کی شکایت تک درج نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ جب نفرت کے جذبے سے کیے جانے والے جرائم کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی تب ایسا ماحول بنے گا، جو خطرناک ہوگا۔

(علامتی  تصویر: فیس بک)

کیندریہ ودیالیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ٹیچنگ – نان ٹیچنگ  کے 58000 عہدے خالی: حکومت

وزیر مملکت سبھاش سرکار نے لوک سبھا کو بتایا کہ کیندریہ ودیالیوں میں اساتذہ کے 12099 اور غیر تدریسی عملے کے 1312 عہدے خالی ہیں۔ اسی طرح جواہر نوودیہ ودیالیوں میں اساتذہ کے 3271 اور غیر تدریسی عملے کے 1756 عہدے خالی ہیں۔

گزشتہ 27 جنوری کو نئی دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں پریکشا پہ چرچہ کے 6 ویں ایڈیشن کے دوران طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

پریکشا پہ چرچہ کے پانچ پروگراموں پر 28 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے: حکومت

‘پریکشا پہ چرچہ’ایک سالانہ پروگرام ہے، جس کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی بورڈ کے امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرتے ہیں۔ طلبہ کے ساتھ وزیر اعظم کے اس انٹر ایکٹو پروگرام کا پہلا ایڈیشن 16 فروری 2018 کو منعقد کیا گیا تھا۔

سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

سرکاری نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں، ہر طرح کے کام کی عزت کریں: موہن بھاگوت

آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے کہا کہ محنت مزدوری کےتئیں احترام کے جذبے کی کمی ملک میں بے روزگاری کی ایک اہم وجہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایشور کی نظر میں سب برابر ہیں اور اس کے سامنے کوئی ذات یا فرقہ نہیں ہے۔ یہ سب پنڈتوں نے بنایا ہے۔

مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ  بند کیے جانےکے خلاف احتجاج کر رہےطلبہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/ AISA-SFI)

مولانا آزاد اسکالر شپ کے مستحق طلبہ کو مہینوں سے نہیں ملی فیلو شپ

اقلیتی امور کی وزارت کے زیر انتظام مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ اسکیم کے مستحق ریسرچ اسکالروں کو مہینوں سے ان کی گرانٹ کی رقم نہیں ملنے کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ طلبہ اپنی پڑھائی ترک کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

جامعہ تشدد: عدالت نے فیصلے میں کہا-دہلی پولیس نے پرانے حقائق کو ہی نئے شواہد کے طور پر پیش کیا

سال 2019 کے جامعہ تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت 11 لوگوں کو بری کرنے والے کورٹ کے فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ معاملے میں پولیس کی طرف سے تین ضمنی چارج شیٹ دائرکرنا انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس نے ضمنی چارج شیٹ داخل کرکے ‘تفتیش’ کی آڑ میں پرانے حقائق کو ہی پیش کرنے کی کوشش کی۔

(اسکرین شاٹ بہ شکریہ: بی بی سی یوکے)

بی بی سی ڈاکیومنٹری پر روک لگانے کے لیے سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم نے حکومت کی مذمت کی

بی بی سی ڈاکیومنٹری سیریز ‘انڈیا: دی مودی کویسچن’ پر ہندوستانی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کو 500 سے زیادہ ہندوستانی سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم نے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے لیے نقصاندہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکیومنٹری پر روک لگانا ہندوستانی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا۔ (تصویر: پی ٹی آئی/فیس بک)

جامعہ تشدد: شرجیل امام اور صفورہ سمیت 11 افراد الزام سےبری، عدالت نے کہا – قربانی کا بکرا بنایا گیا

جامعہ نگر علاقے میں دسمبر 2019 میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں درج ایک معاملے میں شرجیل امام، صفورہ زرگر اور آصف اقبال تنہا سمیت11 افراد کو الزام سے بری کرتے ہوئے دہلی کی عدالت نے کہا کہ چونکہ پولیس حقیقی مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی، اس لیے اس نے ان ملزمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

وزیر اعظم نے 2019 سے اب تک 21 غیر ملکی دورے کیے، 22.76 کروڑ روپے خرچ ہوئے: حکومت

وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی مرلی دھرن نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ حکومت نے 2019 سےصدر کے دورے کے لیے تقریباً 6.25 کروڑ روپے، وزیر اعظم کے دورے کے لیے 22.76 کروڑ روپے اور وزیر خارجہ کے دورے کے لیے 20.87 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ صدر نے آٹھ غیر ملکی دورے کیے، جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 86 غیر ملکی دورے کیے ہیں۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

مہاراشٹر پولیس اس بات کو یقینی بنائے کہ ہندوجن آکروش مورچہ کے پروگرام میں ہیٹ اسپیچ نہ ہو: کورٹ

اتوار کو ممبئی میں ہونے والے ہندو جن آکروش مورچہ کے پروگرام پر اس کے پچھلے پروگرام میں مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کا حوالہ دیتے ہوئے روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ پروگرام میں ہیٹ اسپیچ نہ ہو۔ عدالت نے پولیس سے پروگرام کی ویڈیو گرافی کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کو بھی کہا ہے ۔

(اسکرین گریب بہ شکریہ: bbc.co.uk)

بی بی سی ڈاکیومنٹری: برطانوی حکومت نے بی بی سی کی آزادی کا دفاع کیا

گجرات دنگوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے رول پر بنی بی بی سی ڈاکیومنٹری کے خلاف اوورسیز انڈین کمیونٹی کے بڑے پیمانے پر احتجاج کےمدنظر برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس بات پر زور دینا چاہیں گے کہ ہم ہندوستان کو ناقابل یقین حد تک اہم بین الاقوامی شراکت دارتسلیم کرتے ہیں۔

ممتا بنرجی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

بی جے پی اپنےقریبی لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیےایل آئی سی کا پیسہ استعمال کر رہی ہے: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ حکومت زیادہ دنوں تک رہی تو تمام بینک بند ہو جائیں گے۔ لائف انشورنس کا خاتمہ ہو جائے گا۔

(فوٹو : دی وائر)

ہمارے احکامات کے باوجود ہیٹ اسپیچ پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی: سپریم کورٹ

ممبئی میں ہندو جن آکروش مورچہ کی طرف سے 5 فروری کوہونے والے ایک پروگرام پر روک لگانے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ کیا۔ بنچ نے کہا کہ اگر عدالت عظمیٰ کو ہیٹ اسپیچ پر پابندی لگانے کے لیے مزید ہدایات دینے کو کہا جاتا ہے تو اسے بار بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سینٹرل سکریٹریٹ۔ (تصویر کریڈٹ: مارک ڈینیئلسن/فلکر (CC BY-NC 2.0))

مرکزی وزارتوں اور محکموں میں نو لاکھ سے زیادہ عہدے خالی: حکومت

راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے عملہ (پرسنل)جتندر سنگھ نےبتایا کہ مرکزی حکومت کی 78 وزارتوں اور محکموں میں 9.79 لاکھ سے زیادہ اسامیاں ہیں، جن میں سے 2.93 لاکھ ریلوے میں، 2.64 لاکھ ڈیفنس (سول)میں اور وزارت داخلہ میں 1.43لاکھ اسامیاں خالی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس ارون مشرا۔ (تصویر بہ شکریہ: این ایچ آر سی)

جسٹس ارون مشرا نے انٹرنیٹ پر ’غیر قانونی‘ برتاؤ کے خلاف سخت قوانین کا مطالبہ کیا

احمد آباد میں25 ویں آل انڈیا فارنسک سائنس کانفرنس میں این ایچ آر سی کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور سائبر اسپیس میں اظہار رائے کی آزادی– آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت دی گئی آزادی سے ‘بڑی’ نہیں ہے۔

کیرل کے صحافی صدیقی کپن۔ (فوٹو بی شکریہ: ٹوئٹر/@vssanakan)

صحافی صدیق کپن اٹھائیس ماہ بعد جیل سے رہا

صحافی صدیق کپن اور تین دیگر افرادکو اکتوبر 2020 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ اتر پردیش میں ہاتھرس گینگ ریپ کیس کی رپورٹنگ کے لیے جا رہے تھے۔ یوپی پولیس نے کپن کے خلاف ذات پات کی بنیاد پر فسادات بھڑکانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد ان پر سیڈیشن اور یو اے پی اے کے تحت مقدمات بھی شامل کیے گئے تھے۔

بی بی سی کی دستاویزی سیریز کی دوسری  قسط۔ (اسکرین شاٹ بہ شکریہ: بی بی سی یوکے)

امریکہ کے نیشنل پریس کلب نے مودی سرکار سے کہا – بی بی سی ڈاکیومنٹری سے پابندی ہٹائیں

امریکہ کےنیشنل پریس کلب نےاپنے بیان میں ہندوستانی حکومت سے بی بی سی کی دستاویزی سیریز ‘انڈیا: دی مودی کویسچن’ سے پابندی ہٹانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہندوستان ‘پریس کی آزادی کو تباہ کرنا جاری رکھتا ہے’ تو وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر اپنی پہچان کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔

محبوبہ مفتی (تصویر: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر کے لوگوں کو بے گھر اور ہراساں کرنے کے لیے انسداد تجاوزات مہم بی جے پی کا نیا ہتھیار: محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر میں ‘غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی’ سرکاری زمین کو خالی کرانے کے لیے انتظامیہ کی انسداد تجاوزات مہم کے حوالے سے پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے مرکز پر الزام لگایا ہے کہ وہ شہریوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جموں کے مضافات میں ہزاروں شہریوں نے اس مہم کے خلاف سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا۔

شانتی بھوشن۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

 سابق وزیر قانون اور نامور وکیل شانتی بھوشن کا 97 سال کی عمر میں انتقال

نامور وکیل اور سابق وزیر قانون شانتی بھوشن نے 1975 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے انتخاب کو رد کر انے والے تاریخی مقدمے میں مشہور لیڈر راج نارائن کی نمائندگی کی تھی۔ وہ عوامی مفاد کے کئی معاملوں میں پیش ہوئے، جس میں رافیل لڑاکا طیارہ ڈیل بھی شامل ہے۔

قائد ملت ٹرسٹ نے بے خوف صحافت کے لیےدی وائر کواعزاز سے نوازا

قائد ملت ٹرسٹ نے ’بے خوف‘ صحافت کے لیے دی وائر کو اعزاز سے نوازا

قائد ملت ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ چنئی نے ایوارڈ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اعلیٰ صحافتی اقدارکی پیروی اور بے خوف صحافت کے لیے دی وائر کی غیر معمولی خدمات اور اظہار رائے کی آزادی کے لیےاس کی مسلسل جدوجہد کا اعتراف کرتے ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ٹی وی چینل کو مارچ سے مہینے میں 15 گھنٹے ’قومی مفاد‘ سے متعلق پروگرام  نشر کرنے ہوں گے: مرکز

گزشتہ سال نومبر میں وزارت اطلاعات و نشریات نے نجی ٹی وی چینلوں سے کہا تھا کہ وہ قومی اہمیت کےحامل موضوعات پر روزانہ 30 منٹ کا مواد نشر کریں۔ اب وزارت نے ایک ایڈوائزری میں کہا ہے کہ مواد کا ٹیلی کاسٹ مسلسل 30 منٹ تک نہیں ہونا چاہیے، اسے چند منٹوں کے الگ الگ ‘سلاٹ’ میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

سدھارتھ وردراجن حکومت کیرالہ کےمحکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں۔ (فوٹو بہ شکریہ: آرگنائزر)

سرکار کا صحافت پر فرمان جاری کرنا خطرناک ہے: سدھارتھ وردراجن

کیرالہ حکومت کے محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ کی جانب سے منعقد ایک تقریب کے دوران دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں کی جانب سے میڈیا اور میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں، لیکن آج اس میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

’پٹھان‘ فلم تنازعہ کے بعد مرکزی وزیر نے کہا – بائیکاٹ کلچر سے ماحول خراب ہوتا ہے

اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیرانوراگ ٹھاکر نے کہا کہ اگر کسی کو کسی فلم سے کوئی مسئلہ ہے تو اسے متعلقہ سرکاری محکمے سے بات کرنی چاہیے جو فلمسازوں کے ساتھ متعلقہ مسئلے کو اٹھا سکتا ہے۔ بعض اوقات ماحول کو خراب کرنے کے لیے کچھ لوگ اسے پوری طرح جاننے سے پہلے ہی اس پر تبصرہ کر دیتے ہیں۔

تلنگانہ میں ذہنی صحت کے ادارے کی فائل فوٹو۔ (تصویر: بتھنی ونے کمار گوڑ)

ذہنی صحت کے سرکاری اداروں کی حالت تشویشناک، مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک: این ایچ آر سی

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نےملک میں ذہنی صحت کے 46 اداروں میں مینٹل ہیلتھ کیئر ایکٹ کے نفاذ کا مشاہدہ کرنے کے لیے لیےدورہ کیا تھا۔اس میں یہ بات سامنے آئی کہ مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد بھی ان اداروں میں رکھا جا رہا تھا اور انہیں ان کے خاندانوں سے ملانے یا سماجی زندگی میں شامل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

سینٹرل یونیورسٹی آف ہریانہ کے ہاسٹل میں اسکریننگ۔ (فوٹو بہ شکریہ: ایس ایف آئی فیس بک پیج)

مرکز کی جانب سے پابندی عائد کرنے کی کوششوں کے باوجود مختلف ریاستوں میں بی بی سی ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ جاری

ہندوستان میں گجرات دنگوں میں نریندر مودی کے رول سےمتعلق بی بی سی ڈاکیومنٹری کے ٹیلی کاسٹ کو روکنے کے لیے مرکزی حکومت کی ہر ممکن کوشش کے باوجود جمعرات کو ملک میں کم از کم تین جگہوں- ترواننت پورم میں کانگریس اورکولکاتہ اور حیدرآباد میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے اس کی اسکریننگ کا اہتمام کیا۔

گوتم اڈانی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اڈانی گروپ)

اڈانی گروپ شیئروں میں ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ میں ملوث رہا ہے: فنانشل ریسرچ فرم ہنڈنبرگ

فنانشل ریسرچ فرم ہنڈنبرگ کا کہنا ہے کہ اس کی دو سالہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ 17800ارب روپے والے اڈانی گروپ کے زیر کنٹرول شیل کمپنیاں کیریبین اور ماریشس سے لے کر یو اے ای تک میں ہیں ، جن کا استعمال بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے لیے کیا گیا۔ گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

(علامتی تصویر فوٹو،بہ شکریہ: فیس بک/White Oak Cremation)

بی بی سی ڈاکیومنٹری کو بلاک کرنے کے لیےسرکار  نے کون سے ’ہنگامی قوانین‘ استعمال کیے ہیں

گزشتہ ہفتے اطلاعات و نشریات کے سکریٹری کی طرف سے آئی ٹی رول 2021 کے رول 16 کا استعمال کرتے ہوئے گجرات فسادات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے رول کو اجاگر کرنے والی بی بی سی کی ڈاکیومنٹری کو بلاک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

(اسکرین شاٹ بہ شکریہ: بی بی سی یوکے)

انٹرنیٹ آرکائیو نے اپنی ویب سائٹ سے نریندر مودی پر بنی بی بی سی کی دستاویزی فلم کو ہٹایا

انٹرنیٹ آرکائیودنیا بھر کے صارفین کے ذریعےویب پیج کے مجموعوں اور میڈیا اپ لوڈ کا ایک ذخیرہ ہے۔ بی بی سی کی ڈاکیومنٹری ‘انڈیا: دی مودی کویسچن’ کی پہلی قسط کے بارے میں اس کی ویب سائٹ پر لکھا ہوا نظر آرہا ہے کہ ‘یہ مواد اب دستیاب نہیں ہے’۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

ہندوستان نے گجرات دنگوں پر ڈاکیومنٹری کو ’پروپیگنڈہ‘ بتایا، بی بی سی نے کہا – حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا

برطانیہ میں نشر ہونے والی ڈاکیومنٹری ‘انڈیا: دی مودی کویسچن’ میں بی بی سی نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کی خفیہ تحقیقات میں نریندر مودی گجرات دنگوں کے ذمہ دار پائے گئے تھے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اسے ‘پروپیگنڈہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تعصب ہے،غیرجانبداری کا فقدان ہے اور نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی ہے۔

مدھیہ پردیش کے پنچایتی وزیر مہندر سنگھ سسودیا۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/مہندر سنگھ سسودیا)

مدھیہ پردیش کے وزیر نے کہا – بی جے پی میں شامل ہوں ورنہ وزیر اعلی کا بلڈوزر تیار ہے

مدھیہ پردیش کے پنچایتی وزیر مہندر سنگھ سسودیا کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر کانگریس کے کارکنوں کو حکمراں بی جے پی میں شامل ہونے یا وزیر اعلیٰ کے بلڈوزر کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کو کہہ رہے ہیں۔

Sv-

آر ایس ایس کیوں نفرت اور تشدد کی وکالت کر رہا ہے؟

ویڈیو: گزشتہ دنوں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہندو سماج جنگ میں ہے، اس لڑائی میں لوگوں میں شدت پسندی دیکھنے کو ملے گی۔ان کے اس بیان پردہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر: رائٹرس)

برطانوی حکومت کی خفیہ تحقیقات میں گجرات دنگوں کے لیے مودی ذمہ دار پائے گئے تھے: بی بی سی

بی بی سی نے برطانیہ میں ‘انڈیا: دی مودی کویشچن’ کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری نشر کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سےکروائی گئی گجرات دنگوں کی جانچ (جو آج تک غیر مطبوعہ رہی ہے) میں نریندر مودی کو براہ راست تشدد کے لیے ذمہ دار پایا گیا تھا۔

(تصویر: انسپلیش)

مرکز کی تجویز، پی آئی بی فیکٹ چیک میں ’فرضی‘ قرار دی گئی خبروں کو تمام پلیٹ فارم سے ہٹانا ہوگا

الکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت نے انفارمیشن ٹکنالوجی رول،2021 کے ترمیم شدہ مسودے میں کہا ہے کہ پریس انفارمیشن بیورو کی فیکٹ چیکنگ اکائی یا حکومت کی طرف سے منظور کردہ کسی دوسری ایجنسی کے ذریعے بتائے گئے جھوٹے مواد کو سوشل میڈیا سمیت تمام پلیٹ فارم سے ہٹانا ہو گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

وزیر اعظم مودی نے بی جے پی کارکنوں سے کہا – فلموں کے خلاف غیر ضروری تبصرہ نہ کریں

بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کو فلموں اور نامور شخصیات کے خلاف غیر ضروری تبصرہ کرنے سےگریز کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان بھوپال کی رکن پارلیامنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا سمیت بی جے پی کے کچھ سرکردہ رہنماؤں کی جانب سے شاہ رخ خان کی آنے والی فلم ‘پٹھان’ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کے درمیان آیا ہے۔

جوشی مٹھ کے لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقے میں ایک گھر میں پڑا  شگاف ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

جوشی مٹھ بچاؤ سمیتی نے وزیر اعظم کو لکھا خط، باز آبادکاری کا کام اپنے ہاتھ میں لینے کی اپیل

جوشی مٹھ بچاؤ سنگھرش سمیتی نے اتراکھنڈ حکومت کے کاموں میں مطلوبہ ‘مستعدی اور تیزی ‘ نہیں ہونے کا الزام لگایا ہے۔دریں اثنا، سپریم کورٹ نے لینڈ سلائیڈنگ کو قومی آفت قرار دینے کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ریاستی ہائی کورٹ اس سے متعلق تفصیلی مقدمات کی سماعت کر رہی ہے، اس لیے اصولی طور پر اس کوہی اس معاملے کی سماعت کرنی چاہیے۔

(علامتی تصویر: پکسابے)

حکومت نے اقلیتی طلبہ کے لیے ’پڑھو پردیش‘ اسکیم بند کی: رپورٹ

‘پڑھو پردیش انٹرسٹ سبسڈی اسکیم’ کے تحت اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے لیے گئے قرض پر سودمیں سبسڈی دی جاتی تھی۔ 2006 میں شروع کی گئی یہ اسکیم اقلیتوں کی بہبود کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کا حصہ تھی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

ہیٹ اسپیچ معاملے میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کی سرزنش کی، کہا – کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی

دہلی میں ہوئے دھرم سنسد میں مبینہ طور پرہیٹ اسپیچ دینے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ واقعہ 19 دسمبر 2021 کو پیش آیا تھا اور ایف آئی آر پانچ ماہ بعد درج کی گئی۔ اتنا وقت کیوں لگا؟ ایسے معاملات میں ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے اور صرف ‘نام’ کے لیے ایف آئی آر درج نہیں کی جانی چاہیے۔

Don`t copy text!