خاص خبر

بلقیس بانو۔ (تصویر: رائٹرس)

بلقیس معاملے میں سزا سنانے والے جج نے مجرموں کی رہائی پر کہا – اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے

پندرہ اگست کو گجرات کی بی جے پی حکومت نے اپنی معافی کی پالیسی کے تحت بلقیس بانو کے ساتھ گینگ ریپ اور ان کے خاندان کے سات افراد کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزاکاٹ رہے11 مجرموں کو رہا کر دیا تھا۔

گودھرا جیل سے باہر نکلتے  مجرم۔ (فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب/ٹوئٹر/یوگیتا بھیانا)

بلقیس بانوکیس: 6 ہزار سے زائد شہریوں کی اپیل – سزا کی معافی کے فیصلے کو رد کیا جائے

سپریم کورٹ سے بلقیس بانو کیس میں11 مجرموں کی سزا کی معافی کو رد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سماجی کارکنوں سمیت ان دستخط کنندگان نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے سے ہر اس ریپ متاثرہ کے حوصلے پست ہوں گے اور ان پر اثر پڑے گا جس کو انصاف کے نظام پر بھروسہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔

گودھرا سے بی جے پی ایم ایل اے سی کے راؤل جی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب/موجو اسٹوری)

کمیٹی میں شامل بی جے پی ایم ایل اے نے کہا – بلقیس کے ریپسٹ ’برہمن، اچھےسنسکاروں والے‘

بلقیس بانو ریپ کے11 قصورواروں کی سزا کو معاف کرنے والی سرکاری کمیٹی میں شامل رہےگودھرا سے بی جے پی ایم ایل اے سی کے راؤل جی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ رہا کیے گئے مجرم اس جرم میں شامل تھے یا نہیں اور یہ ممکن ہے کہ انہیں پھنسیایاگیاہو۔

Don`t copy text!