ادبستان

BJP_Reuters

بی جے پی کیسے جیتتی ہے…؟

مودی ایک ایسے قائد کے طو رپر سامنے لائے گئے جو پاکستان کو سبق دے سکتا تھا اور اعلیٰ ذات کی خواہشات کی تکمیل بھی کرسکتا تھا۔ قوم پرستی کے جذبے کو اس حد تک پروان چڑھایاگیاکہ’نوٹ بندی’ اور’جی ایس ٹی’ کے بداثرات نظر انداز کرکے لوگوں کے ووٹ بی جے پی کو گئے۔

‘فکرفردا’ناشر101پبلشرزاینڈ کمیونکیٹرز، پہلی منزل 101،مین روڈ، ذاکرنگر نئی دہلی25

اردو صحافت: بندگلی سےآگے …

اخبارات کے کالم نگاروں کا موازنہ آپ نیوز چینلوں کے اینکرز سے کر سکتے ہیں کہ چینلوں کی تعداد جس رفتار سے بڑھی ہے، اچھے اینکرز کی اہمیت و مقبولیت بڑھتی گئی ہے لیکن جس طرح چینلوں پربہت سے بھانڈ اورمسخرے میڈیا کی رسوائی کا سامان کرتے ہیں، ہمارے درمیان بھی قلم کی روشنائی سے اپنی روسیاہی کاسامان کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔

anjuman

انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیر اہتمام اردو کی تھیٹر ریپیٹری کا آغاز

اردو تھیٹر کی زبوں حالی کے پیشِ نظر انجمن ترقی اردو (ہند)نئی دہلی، نے اپنے مرکزی دفتر اردو گھر میں ایک روزہ ورک شاپ کے سا تھ اپنی ریپیٹری کا آغاز کیا ہے۔جہاں باقاعدہ مشقِ سخن کا آغاز یکم مئی سے شام 5 بجے سے 7 بجے تک ہوا کرے گا۔

Book Front Page

ورق در وق: اقبال کے فکر وفن پر انگریزی میں تنقیدی مضامین کے اردو تراجم

۔ یہ تراجم محض عبارت کی روانی یا ترجمہ پر اصل کے گمان جیسی مقبول خوش گمانیوں کی بھی تکذیب کرتے ہیں اور ایک نیا علمی محاورہ قائم کرتے ہیں جس کے لیے پروفیسر عبد الرحیم قدوائی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔

Capture

ورق در ورق: خیام شناسی

کتاب کے آخر میں پروفیسر اخلاق احمد نے عمرخیام کی رباعیات کا انتخاب مع اردو تراجم کے شامل کیا ہے۔ تراجم منظوم نہیں ہیں تاہم سلاست زبان اور محاورے کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے۔

Screenshot 2019-04-07 at 4.30.32 AM

ورق در ورق: سہیل کاکوروی کی طویل ترین محاوراتی غزل

سہیل کاکوروی کی تخلیقی تازہ کاری کا احساس ان اشعار کے انگریزی تراجم سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اردو محاوروں کو انگریزی میں منتقل کرنا بہت مشکل ہے کہ محاوروں کی جڑیں مقامی اور مذہبی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔اسی طرح ہندی میں محض رسم الخط نہیں بدلا گیا ہے بلکہ مشکل اردو الفاظ کی فرہنگ بھی درج کی گئی ہے۔

BegumAkhter

ورق در ورق: اختری (بیگم اختر)-سوزاورساز کا افسانہ

یہ کتاب محض بیگم اخترکے سوانحی کوائف اور فنِ موسیقی پر ان کی ماہرانہ دسترس کے سپاٹ یا عالمانہ بیان تک خود کومحدود نہیں رکھتی بلکہ مرتب کے مطابق یہ ان کی گلوکاری، ان کے کردار اور ان کی زندگی سے متعلق بعض گم شدہ کڑیوں کو ایک مربوط اور کثیر حسی بیانیہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔

فوٹو : ٹیلیگراف

ورق در ورق: مسٹر اینڈ مسزجناح

یہ کتاب محض پسند کی شادی کے رومان کی سنسنی خیز اور دلچسپ حکایت رقم نہیں کرتی بلکہ پارسیوں اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات، ہندو مسلم روابط، کانگریس اور مسلم لیگ کے اشتراک اور پھر اختلافات بلکہ مخاصمت کے اور انگریزوں کے تئیں جناح کے رویہ کی تفصیلات پوری معروضیت کے ساتھ پیش کرتی ہے۔

Book Front Page

ورق در ورق: ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی، افکار و جہات

سفلہ پروری اور علم دشمنی کے دور میں جب سیاسی لیڈروں کا قرطاس و قلم سے رشتہ بڑی حد تک منقطع ہو چکا ہے، ہاشم قدوائی صاحب کو یاد کرنا دراصل اپنے گم شدہ متاع کی بازیافت کرنا ہے اور یہی اس کتاب کی اشاعت کا جواز بھی ہے

Faiyaz 0802.00_30_32_46.Still010

ویڈیو: ’ولایت خاں اپنے آس پاس کی ہر شے کو موسیقی میں ڈھال دیتے تھے‘

صحافی اور مصنفہ نمیتا دیوی دیال سے مشہور ستار نواز استاد ولایت خاں پر ان کی تاز ہ ترین کتاب ، The Sixth String Of Vilayat Khan کے تناظر میں ولایت خاں اور ہندوستانی موسیقی کی روایت کے بارے میں فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فوٹو : @shafinasegon

ورق در ورق:لنچ فائلز، محض وقتی اور ہنگامی مسئلے پر ایک کتاب نہیں ہے

ضیاء السلام نے محض وقتی اور ہنگامی مسئلے کو موضوع بحث نہیں بنایا ہے بلکہ انہوں نے اپنی اس کتاب کے توسط سے انسانی سرشت میں مضمر تشدد سے گہری دلچسپی کی روش کو بھی گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے اور اس نوع کے واقعات کے تاریخی پس منظر کو بھی موضوع بحث بنایا ہے۔

Mahatma-Gandhi-PTI

مہاتما گاندھی کے پرسنل سکریٹری وی کلیانم کی زبانی’گاندھی جی کا آ خری دن‘

ایسا عام طور پر کہا جا تا ہے کہ گاندھی جی جب آ خری سانس لے رہے تھے تو انہوں نے ’’ہے رام‘‘ پکارا۔مگر سچ یہ ہے کہ جب گاندھی جی کو گولی لگی، تب ان کی زبان سے ایک لفظ کا ادا ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔یہ فرضی بات کسی منچلے رپورٹر نے لکھ دی اور دیکھتے دیکھتے پوری دنیا نے اس کو سچ مان لیا۔

Hakeem Ahsanullah Khan

ورق در ورق: حکیم احسن اللہ خاں کی داغدار سیاسی شبیہ کے جالوں کو صاف کرتی کتاب

یہ کتاب تحقیقی دقت نظری کے نئے باب وا کرتی ہے اور حکیم احسن اللہ خاں کو ایک نئے تاریخی تناظر میں پیش کرتی ہے جہاں حکیم صاحب مغلیہ سلطنت کے سچے بہی خواہ اور انگریزوں کے مخالف کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ یہ پہلی ایسی کتاب ہے جو حکیم صاحب پر لگائے گئے الزامات کا پوری معروضیت کے ساتھ جائزہ لیتی ہے اور الزام تراشی کے مسلسل عمل پر فل اسٹاپ لگاتی ہے۔

UrduAdab_Doha

ورق در ورق: عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ

مجلس فروغ اردو ادب، دوحہ قطر کے ایوارڈ کو ادبی خدمات کے مستند اورباوقار اعتراف کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔امسال ہندوستان کے ممتاز فکشن نگار سید محمد اشرف اور پاکستان کے ممتاز محقق اور عالم ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔