ادبستان

un-campement-de-refugies-afghans

فرانس میں کیوں اردو بر صغیر کے پناہ گزینوں کی مشترکہ زبان بن رہی ہے؟

کیمپوں میں ایک ساتھ رہنے سے افغانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی کے لئے اردو خود بخود مُشترکہ زبان بَن گئی ہے۔ دراصل جِن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، وہ سب کسی نہ کسی طرح اردو یا ہندی سےوابستہ ہیں۔ شمالی پاکستان اور پنجاب کے علاقوں میں اردو اگر ٹی وی چینلوں یا ریڈیو یا درسگاہوں میں غالب ہے تو افغانستان اور بنگلہ دیش میں بالی ووڈکی ہندی فلمیں یا انڈین ڈرامے کافی مقبول ہیں۔

JaunEliaPoetry

جون ایلیا: ایک تماشا لگتا ہوں…

جون کے یہاں وجود کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے انسان کے وجود اور خود اپنی ذات کے سراب کو کھنگالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ امروہہ صرف ایک قصبہ ہی نہیں تہذیب و تمدن کا گہواراہ بھی ہے۔یہاں ایک کہاوت سینہ بہ […]

0611 Yasmeen Mono.00_14_44_06.Still002

سنیے کرشن چندر کی وہ کہانی جس کو مبینہ طور پر حکومت کی تنقید کے الزام میں نصاب سے ہٹا دیا گیا

ویڈیو: کہانی جامن کا پیڑ،2015 سے ہندی نصاب میں شامل تھی ۔ معروف فکشن نویس کرشن چندر نے یہ کہانی 60 کی دہائی میں لکھی تھی ، لیکن بعض حکام اس کو موجودہ حکومت کی تنقید کے طو رپر دیکھ رہے ہیں ۔کرشن چندر کی یہ کہانی پیش کر رہی ہیں یاسمین رشیدی ۔

کرشن چندر، فوٹو بہ شکریہ : انجمن ترقی اردو ہند

جامن کا پیڑ: کرشن چندر کی کہانی جس کو مبینہ طور پر حکومت کی تنقید کے الزام میں آئی سی ایس ای نے نصاب سے ہٹا دیا

غور طلب ہے کہ یہ کہانی 2015 سے ہندی نصاب میں شامل تھی ۔ کرشن چندر نے یہ کہانی 60 کی دہائی میں لکھی تھی ، لیکن بعض حکام اس کو موجودہ حکومت کی تنقید کے طو رپر دیکھ رہے ہیں

فوٹو : پی ٹی آئی

سیڈیشن جیسا ظالمانہ قانون کیوں ختم نہیں کیا جا رہا ہے؟

اس کتاب میں سیڈیشن جیسے پیچیدہ موضوع پراس طرح اور عام فہم زبان میں بات کی گئی ہے کہ پرائمر بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔اس میں میں کچھ ایسے بھی اہم سیڈیشن معاملات پر گفتگو کی گئی ہے جس کا عام طور پر سیڈیشن سے متعلق مباحث میں ذکر نہیں ہوتا۔

Ganesh-Shankar-Vidyarthi

ہندو ملک ، ہندو ملک چلا نے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں؛ گنیش شنکرودیارتھی

مجاہد آزادی اور بیباک صحافی گنیش شنکر ودیارتھی،جنگ آزادی کے دوران نہ صرف انقلابیوں کے ساتھ سرگرم تھے، بلکہ اپنے اخبار ‘پرتاپ ‘میں بھی آزادی کا جذبہ جگا رہے تھے۔ یوم پیدائش کی مناسبت سے ان کامضمون ملاحظہ کیجیے ۔

عصمت چغتائی، فوٹو بہ شکریہ: وکیپیڈیا

عصمت چغتائی عورتوں کی اندھیری دنیا سے زیادہ مردوں کی چالاک دنیا کو اجاگر کرتی ہیں…

عصمت نے نہ صرف زبان پر پدری اجارہ داری کو توڑا بلکہ اپنی مخصوص زبان اور لفظیات سے ایک ایسی دنیا تشکیل دی جہاں عورت،انسان بھی ہے اور آزادی سے سانس بھی لیتی ہے، زنجیروں کو توڑتی بھی ہے؛ دکھ تکلیف میں آنسو بھی بہاتی ہے، کہیں معصوم،نرم و نازک سی تو کہیں فولادی۔عورت کی یہ دنیا کالی سفید جیسی بھی ہے کم از کم عورت کی دنیا تو ہے۔

Iqbal 2

سڑکوں پر نام پتہ پوچھنے والا ’جئے شری رام‘ کا نعرہ اب اسکولوں میں اپنے پاؤں پسار رہا ہے

رام کو امامِ ہند کہنے والے اقبال نے کیا نہیں لکھا،لیکن اب ملک کی سیاست زیادہ شدت سے پہچان کی سیاست کے گرد ناچ رہی ہے۔ زبان و ادب یا کوئی بھی ایسی چیز جو ان دو ملکوں کو جوڑ سکتی ہے اس پرحملہ تیز ہو گیا ہے اتفاق سے ہندوستان میں ایسی تمام چیزیں کسی نہ کسی طور پرمسلمانوں سے جوڑ دی گئی ہیں اس لئے مسلمان اس حملے کی زد میں ہے۔

ashfaqullah khan wikipedia

شہید اشفاق اللہ خاں کی زبانی انقلاب کی کہانی

آج میں ہر بدیسی حکومت کو برا سمجھتا ہوں اور ساتھ ہی ہندوستان کی ایسی غیر جمہوری حکومت کو بھی جس میں کمزوروں کا حق حق نہ سمجھا جائے یا جو حکومت سرمایہ داروں اور زمینداروں کے دماغوں کا نتیجہ ہو، یا جس میں مزدوروں اور کسانوں کا مساوی حصہ نہ ہو ، یا باہم امتیاز و تفریق رکھ کر حکومت کے قوانین بنائے جائیں ۔

فوٹو : پنگوئن انڈیا

ممبئی انڈر ورلڈ کا حقیقی چہرہ دکھاتی سابق پولیس افسر کی کتاب

بک ریویو: یہ کتاب گڑھی ہوئی کہانیاں نہیں سناتی بلکہ انڈرورلڈ کا حقیقی چہرہ دکھاتی ہے۔وہ حقیقی چہرہ جس میں ’گلیمر‘سے کہیں زیادہ ’تاریکی ‘ہے۔یہ ایک ریٹائرڈ پولیس افسر اسحاق باغبان کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔وہ ممبئی پولیس کے ان اعلیٰ افسران میں سے ایک تھے جنہو ں نے شہر ممبئی میں انڈرورلڈ کی کمر توڑنے میں بھی اور شہر کو جرائم سے پاک کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

sir syed_amu

جب سرسید نےگھنگھرو باندھے

سر سید کے رفیق مولوی سید اقبال علی نے اپنے سفرنامہ پنجاب میں اس دورے کی تفصیلات لکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ امرتسر میں یوروپی قومی تھیئٹر کے نام سے صاحبان و خانُمانِ افرنگ ایک ہال میں اپنا کھیل تماشا رچا رہے تھے جس پر ٹکٹ لگا تھا جس سے ہونے والی آمدن یورپیئن عوام کی بہبود کے لیے وقف تھی۔

Photo: Twitter/@KensingtonRoyal

کیٹ مڈلٹن کوئی عام شہزادی نہیں ، ایک تمیز دار بہو ہیں…

ہمارے دیسی مرد بھی کمال ہیں کہ ان کے تبصرے سے تو برطانوی شہزادی اور مستقبل کی ملکہ بھی محفوظ نہیں۔ ان کا بس چلے تو اسٹیچو آف لبرٹی کا بھی سر ڈھک آئیں اور خود باقی ماندہ بے پردہ عورتوں کو گھورتے پھریں۔

مارگریٹ ایٹ وڈ اور برنارڈین ایورسٹو(فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

مارگریٹ ایٹ وڈ اور برنارڈین ایورسٹو نے مشترکہ طور پر جیتا 2019 کا بکر پرائز

بکر کے اصولوں کے مطابق اس ایوارڈ کو بانٹا نہیں جا سکتا،لیکن جیوری نے ،اصولوں کو توڑتے ہوئے ، مارگریٹ ایٹ وڈ اور برنارڈین ایورسٹو کو مشترکہ فاتح قراردیا۔ ایورسٹویہ ایوارڈ پانے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہے۔

فوٹو: pixabay

میں موہن داس کرم چند گاندھی اب بابائے قوم نہیں کہلانا چاہتا…

آج ملک کو حقیقی  باپ کی ضرورت ہے، میرے جیسے صرف نام کے باپ سے کام نہیں چلنے والا ہے۔ آج بڑے-بڑے فیصلے ہو رہے ہیں۔ 56انچ کا سینہ دکھانا پڑ رہا ہے۔ ایسا باپ جو پبلک کو کبھی تھپڑ دکھائے تو کبھی لالی پاپ، اوراپنے طے کئے […]

2017_9largeimg28_Thursday_2017_184339711

خصوصی تحریر: مہاتما گاندھی کا خیالی انٹرویو

ایماندرای کی بات یہ ہے کہ مجھے خودنہیں معلوم کہ میرا یوم پیدائش کیوں منایاجاتا ہے۔ میرا خیال ہے، سیاستدانوں کو شاید اس کی ضرورت ہے،تاکہ سال میں کم از کم ایک بار وہ اس بات کا ڈھونگ رچ سکیں کہ وہ میرے اور میرے نظریات کے پیروکار ہیں۔

Bhagat-Singh-3-1

بھگت سنگھ اور آج کا ہندوستان

بھگت سنگھ کی تحریروں  سے سن و سال مٹا دیجیے ،اس کے بعد  پڑھیے ،ایسا محسوس ہوگا کہ بھگت سنگھ ہمارے زمانے میں لکھ رہے ہیں موجودہ سیاسی منظر نامے اور اس کی “گودی میڈیا” کی بات کر رہے ہیں۔ بھگت سنگھ آج ہی کے دن1907کوبنگا میں پیدا […]

خیام، فوٹو: ٹوئٹر

خیام کی موجودگی میں یقین ہوتا ہے کہ آج کی موسیقی نظریں زیادہ چراتی ہے باتیں کم کرتی ہے

ویڈیو: ہندوستانی سنیما کے عظیم موسیقار خیام کے بارے میں بتارہی ہیں یاسمین رشیدی ۔ خیام ان موسیقاروں میں رہے جو مانتے ہیں کہ پہلے گیت لکھے جائیں دھن بعد میں تیا رہو۔یوں سوچیں تو آج کی موسیقی میں ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا

خیام، جن کی موسیقی میں خاموشی اپنی فطرت کے ساتھ بول اٹھتی ہے…

ایک مذہبی گھرانے میں بچپن سے ہی آوازوں کے پیچھے بھاگنے والے خیام کو ان کے جرم کی سزا سنائی گئی اور گھر کے دروازے بند کر دئے گئے۔اب فلموں کے عاشق خیام ہیں اور پیچھے بند دروازہ۔ مگر ان کی دستک کسی اور دروازے پر تھی ،جس کی تھاپ میں زندگی کو رقص کرنا تھا۔

Firaq-Gorakhpuri-The-Wire-Hindi-21

آدمی بنا ہی اِس لیے ہے کہ پیار کرے: فراق گورکھپوری

آج اُردوکے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری کی  سالگرہ ہے۔ دی وائر اُردو کے قارئین کے لیے ایکسپریس نیوز کے شکریے کے ساتھ فراق صاحب کا انٹرویو پیش کیا جارہا ہے ۔یہ انٹرویوان کے انتقال سے چند روز قبل ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا۔ انیتا: آج سیاست […]

فوٹو، یو ٹیوب/ پی ٹی آئی

خیام ہندوستانی موسیقی کے سنہری دور کے آخری رتن تھے…

یہ خیام کا فن تھا کہ انہوں نے قدامت کو یوں جدت دی کہ گویا لافانی کر دیا۔ اگر خیام نے صرف ایک دھن بنائی ہوتی تو وہ تب بھی اسی مرتبے پر فائز ہوتے جس پہ کہ ہوئے۔ اور وہ دھن تھی میر تقی میر کی غزل کی جوانہوں نے ساگر سرحدی کی فلم بازار کے لیے بنائی۔

فوٹو بہ شکریہ، اعجاز خان فیس بک

جس کشمیری چائلڈ ایکٹرکو نیشنل ایوارڈ ملا، اس کو خبر تک نہیں

اُردوفلم حامد کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بند ہونے کی وجہ سے فلم کے مرکزی کردار طلحہ ارشد ریشی سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے ۔ ریشی کو حامد فلم کے لیے بیسٹ چائلڈ ایکٹر کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ہے۔

Illustration: Pariplab Chakraborty

افسانہ: ’ لنچنگ‘

بوڑھی عورت کو جب یہ بتایا گیا کہ اس کے پوتے سلیم کی’لنچنگ‘ ہو گئی ہے تو اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اسے اندازہ تھا کہ انگریزی کے لفظ اچھے ہوتے ہیں اور اس کے پوتے کے بارے میں بھی یہ کوئی اچھی خبر ہے۔

Samay Ki Kasak

انگریزی نظموں کا خیال انگیز انتخاب ’سمے کی کسک‘

اس مجموعے میں شامل تراجم شاعر کی تخلیقی دبازت اور فنی ہنر مندی کا اس طرح نقش پیش کرتے ہیں کہ ہر نظم ایک جیتے جاگتے تجربے کی طرح حواس پر وارد ہوتی ہے جس کے لیے سکریتا پال اور ریکھا سیٹھی داد و تحسین کی مستحق ہیں۔ […]

Narendra-Modi-Karan-Thapar-1024x511

کرن تھاپر کے مشہور پروگرام کے پیچھے کی ان سنی کہانیاں

رہنماؤں کی شان میں قصیدے پڑھنے کے اس دور میں آمنے سامنے بیٹھ‌کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال‌کر سخت اور مشکل سوالوں کے لئے معروف کرن تھاپر کی کتاب ‘میری ان سنی کہانی’ کو پڑھنا باعث تسکین ہے، کیونکہ عدم اتفاق اور سوال پوچھنا ہی جمہوریت کی طاقت ہے۔

Don`t copy text!