ادبستان

maxresdefault (16)

شاہین باغ میں شہر یت قانون کے خلاف مظاہرہ: ہندی فلموں کے رومانٹک گانے کیوں بن رہے ہیں انقلابی؟

ویڈیو: نئی دہلی کے شاہین باغ میں شہریت قانون کے خلاف تقریباً ایک مہینے سے مظاہرہ جاری ہے ۔لوگ یہاں مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج درج کررہے ہیں ، وہیں گزشہ دنوں’چپی توڑو گروپ‘کے شارق حسین اور شائقہ شوکت نے وہاں مشہو ر زمانہ نغمہ’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘کی پیروڈی کے توسط سے شاہ رخ خان جیسے فلم اسٹار کی خاموشی پر سوال اٹھایا ۔ اس گروپ نے مختلف ہندی نغموں کے ذریعے امیتابھ بچن،عامر خان اور اکشے کمار وغیرہ پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ ان سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فیض احمد فیض ، پینٹنگ بہ شکریہ: شبھم گل

فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ ’ہندو مخالف‘ ہے یا نہیں، آئی آئی ٹی کانپور کرے گا جانچ

گزشتہ17 دسمبر کو آئی آئی ٹی کانپور میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئی پولیس کارروائی کے خلاف پرامن مارچ میں فیض احمد فیض کی نظم‘ہم دیکھیں گے’ گائی گئی تھی۔ ایک فیکلٹی ممبر نے اس کو ہندو مخالف بتاتے ہوئےنظم کے ‘بت اٹھوائے جا ئیں گے’ اور ‘نام رہےگا اللہ کا’والے حصہ پر اعتراض کیاہے۔

2511 Faiyaz Interview.00_39_12_22.Still004

’کرشن چندر آج لکھ رہے ہو تے تو تہاڑ جیل میں ہو تے‘

ویڈیو: گزشتہ دنوں آئی سی ایس ای نے معروف فکشن نویس کرشن چندر کی کہانی’جامن کا پیڑ‘کو دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی فکشن نویسی اور ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں ان کے بھتیجے پون چوپڑہ سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

والدین کے ساتھ شبانہ اعظمی

شوکت کیفی؛ آخر شب کی سحر…

شوکت کیفی جہاں اپنے اندر کے انسان اور فنکار کو ایک دقیانوسی سماج میں اس عورت کے طور پر تیار کر رہی تھیں جس کا اپنا سرمایہ ہوجس کا اپنا جیتا-جاگتا وجود ہو، وہیں اپنے پورے وجود کو تلاش کرنے والی شوکت ایک ایسے آدمی سے عشق کرنے کا جرم کر رہی تھیں، اوربعد میں اس کو مثال بنا دینے کی راہ میں قدم اٹھا رہی تھیں-جو ان کے عقیدے کا آدمی تھا ہی نہیں۔

فوٹو : عشق اردو

کیا اردو-فارسی کے نکلنے سے قانونی زبان  عام لوگوں کے لئے آسان ہو جائے‌گی؟

ہندی سے فارسی یاعربی کے الفاظ کو چھانٹ‌کر باہر نکال دینا ناممکن ہے۔ایک ہندی داں روزانہ نادانستہ طورپر ہی کتنی فارسی، عربی یا ترکی کے لفظ بولتا ہے، جن کے بنا کسی جملےکی ساخت تک ناممکن ہے۔

فوٹو : ویکی پدیا/رائٹرس

رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے سچ کو پیش کرتی ایک غیر معمولی کتاب

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

un-campement-de-refugies-afghans

فرانس میں کیوں اردو بر صغیر کے پناہ گزینوں کی مشترکہ زبان بن رہی ہے؟

کیمپوں میں ایک ساتھ رہنے سے افغانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی کے لئے اردو خود بخود مُشترکہ زبان بَن گئی ہے۔ دراصل جِن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، وہ سب کسی نہ کسی طرح اردو یا ہندی سےوابستہ ہیں۔ شمالی پاکستان اور پنجاب کے علاقوں میں اردو اگر ٹی وی چینلوں یا ریڈیو یا درسگاہوں میں غالب ہے تو افغانستان اور بنگلہ دیش میں بالی ووڈکی ہندی فلمیں یا انڈین ڈرامے کافی مقبول ہیں۔

JaunEliaPoetry

جون ایلیا: ایک تماشا لگتا ہوں…

جون کے یہاں وجود کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے انسان کے وجود اور خود اپنی ذات کے سراب کو کھنگالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ امروہہ صرف ایک قصبہ ہی نہیں تہذیب و تمدن کا گہواراہ بھی ہے۔یہاں ایک کہاوت سینہ بہ […]

0611 Yasmeen Mono.00_14_44_06.Still002

سنیے کرشن چندر کی وہ کہانی جس کو مبینہ طور پر حکومت کی تنقید کے الزام میں نصاب سے ہٹا دیا گیا

ویڈیو: کہانی جامن کا پیڑ،2015 سے ہندی نصاب میں شامل تھی ۔ معروف فکشن نویس کرشن چندر نے یہ کہانی 60 کی دہائی میں لکھی تھی ، لیکن بعض حکام اس کو موجودہ حکومت کی تنقید کے طو رپر دیکھ رہے ہیں ۔کرشن چندر کی یہ کہانی پیش کر رہی ہیں یاسمین رشیدی ۔

کرشن چندر، فوٹو بہ شکریہ : انجمن ترقی اردو ہند

جامن کا پیڑ: کرشن چندر کی کہانی جس کو مبینہ طور پر حکومت کی تنقید کے الزام میں آئی سی ایس ای نے نصاب سے ہٹا دیا

غور طلب ہے کہ یہ کہانی 2015 سے ہندی نصاب میں شامل تھی ۔ کرشن چندر نے یہ کہانی 60 کی دہائی میں لکھی تھی ، لیکن بعض حکام اس کو موجودہ حکومت کی تنقید کے طو رپر دیکھ رہے ہیں

فوٹو : پی ٹی آئی

سیڈیشن جیسا ظالمانہ قانون کیوں ختم نہیں کیا جا رہا ہے؟

اس کتاب میں سیڈیشن جیسے پیچیدہ موضوع پراس طرح اور عام فہم زبان میں بات کی گئی ہے کہ پرائمر بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔اس میں میں کچھ ایسے بھی اہم سیڈیشن معاملات پر گفتگو کی گئی ہے جس کا عام طور پر سیڈیشن سے متعلق مباحث میں ذکر نہیں ہوتا۔

Ganesh-Shankar-Vidyarthi

ہندو ملک ، ہندو ملک چلا نے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں؛ گنیش شنکرودیارتھی

مجاہد آزادی اور بیباک صحافی گنیش شنکر ودیارتھی،جنگ آزادی کے دوران نہ صرف انقلابیوں کے ساتھ سرگرم تھے، بلکہ اپنے اخبار ‘پرتاپ ‘میں بھی آزادی کا جذبہ جگا رہے تھے۔ یوم پیدائش کی مناسبت سے ان کامضمون ملاحظہ کیجیے ۔

عصمت چغتائی، فوٹو بہ شکریہ: وکیپیڈیا

عصمت چغتائی عورتوں کی اندھیری دنیا سے زیادہ مردوں کی چالاک دنیا کو اجاگر کرتی ہیں…

عصمت نے نہ صرف زبان پر پدری اجارہ داری کو توڑا بلکہ اپنی مخصوص زبان اور لفظیات سے ایک ایسی دنیا تشکیل دی جہاں عورت،انسان بھی ہے اور آزادی سے سانس بھی لیتی ہے، زنجیروں کو توڑتی بھی ہے؛ دکھ تکلیف میں آنسو بھی بہاتی ہے، کہیں معصوم،نرم و نازک سی تو کہیں فولادی۔عورت کی یہ دنیا کالی سفید جیسی بھی ہے کم از کم عورت کی دنیا تو ہے۔

Iqbal 2

سڑکوں پر نام پتہ پوچھنے والا ’جئے شری رام‘ کا نعرہ اب اسکولوں میں اپنے پاؤں پسار رہا ہے

رام کو امامِ ہند کہنے والے اقبال نے کیا نہیں لکھا،لیکن اب ملک کی سیاست زیادہ شدت سے پہچان کی سیاست کے گرد ناچ رہی ہے۔ زبان و ادب یا کوئی بھی ایسی چیز جو ان دو ملکوں کو جوڑ سکتی ہے اس پرحملہ تیز ہو گیا ہے اتفاق سے ہندوستان میں ایسی تمام چیزیں کسی نہ کسی طور پرمسلمانوں سے جوڑ دی گئی ہیں اس لئے مسلمان اس حملے کی زد میں ہے۔

ashfaqullah khan wikipedia

شہید اشفاق اللہ خاں کی زبانی انقلاب کی کہانی

آج میں ہر بدیسی حکومت کو برا سمجھتا ہوں اور ساتھ ہی ہندوستان کی ایسی غیر جمہوری حکومت کو بھی جس میں کمزوروں کا حق حق نہ سمجھا جائے یا جو حکومت سرمایہ داروں اور زمینداروں کے دماغوں کا نتیجہ ہو، یا جس میں مزدوروں اور کسانوں کا مساوی حصہ نہ ہو ، یا باہم امتیاز و تفریق رکھ کر حکومت کے قوانین بنائے جائیں ۔

فوٹو : پنگوئن انڈیا

ممبئی انڈر ورلڈ کا حقیقی چہرہ دکھاتی سابق پولیس افسر کی کتاب

بک ریویو: یہ کتاب گڑھی ہوئی کہانیاں نہیں سناتی بلکہ انڈرورلڈ کا حقیقی چہرہ دکھاتی ہے۔وہ حقیقی چہرہ جس میں ’گلیمر‘سے کہیں زیادہ ’تاریکی ‘ہے۔یہ ایک ریٹائرڈ پولیس افسر اسحاق باغبان کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔وہ ممبئی پولیس کے ان اعلیٰ افسران میں سے ایک تھے جنہو ں نے شہر ممبئی میں انڈرورلڈ کی کمر توڑنے میں بھی اور شہر کو جرائم سے پاک کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

sir syed_amu

جب سرسید نےگھنگھرو باندھے

سر سید کے رفیق مولوی سید اقبال علی نے اپنے سفرنامہ پنجاب میں اس دورے کی تفصیلات لکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ امرتسر میں یوروپی قومی تھیئٹر کے نام سے صاحبان و خانُمانِ افرنگ ایک ہال میں اپنا کھیل تماشا رچا رہے تھے جس پر ٹکٹ لگا تھا جس سے ہونے والی آمدن یورپیئن عوام کی بہبود کے لیے وقف تھی۔

Photo: Twitter/@KensingtonRoyal

کیٹ مڈلٹن کوئی عام شہزادی نہیں ، ایک تمیز دار بہو ہیں…

ہمارے دیسی مرد بھی کمال ہیں کہ ان کے تبصرے سے تو برطانوی شہزادی اور مستقبل کی ملکہ بھی محفوظ نہیں۔ ان کا بس چلے تو اسٹیچو آف لبرٹی کا بھی سر ڈھک آئیں اور خود باقی ماندہ بے پردہ عورتوں کو گھورتے پھریں۔

مارگریٹ ایٹ وڈ اور برنارڈین ایورسٹو(فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

مارگریٹ ایٹ وڈ اور برنارڈین ایورسٹو نے مشترکہ طور پر جیتا 2019 کا بکر پرائز

بکر کے اصولوں کے مطابق اس ایوارڈ کو بانٹا نہیں جا سکتا،لیکن جیوری نے ،اصولوں کو توڑتے ہوئے ، مارگریٹ ایٹ وڈ اور برنارڈین ایورسٹو کو مشترکہ فاتح قراردیا۔ ایورسٹویہ ایوارڈ پانے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہے۔

فوٹو: pixabay

میں موہن داس کرم چند گاندھی اب بابائے قوم نہیں کہلانا چاہتا…

آج ملک کو حقیقی  باپ کی ضرورت ہے، میرے جیسے صرف نام کے باپ سے کام نہیں چلنے والا ہے۔ آج بڑے-بڑے فیصلے ہو رہے ہیں۔ 56انچ کا سینہ دکھانا پڑ رہا ہے۔ ایسا باپ جو پبلک کو کبھی تھپڑ دکھائے تو کبھی لالی پاپ، اوراپنے طے کئے […]

2017_9largeimg28_Thursday_2017_184339711

خصوصی تحریر: مہاتما گاندھی کا خیالی انٹرویو

ایماندرای کی بات یہ ہے کہ مجھے خودنہیں معلوم کہ میرا یوم پیدائش کیوں منایاجاتا ہے۔ میرا خیال ہے، سیاستدانوں کو شاید اس کی ضرورت ہے،تاکہ سال میں کم از کم ایک بار وہ اس بات کا ڈھونگ رچ سکیں کہ وہ میرے اور میرے نظریات کے پیروکار ہیں۔

Bhagat-Singh-3-1

بھگت سنگھ اور آج کا ہندوستان

بھگت سنگھ کی تحریروں  سے سن و سال مٹا دیجیے ،اس کے بعد  پڑھیے ،ایسا محسوس ہوگا کہ بھگت سنگھ ہمارے زمانے میں لکھ رہے ہیں موجودہ سیاسی منظر نامے اور اس کی “گودی میڈیا” کی بات کر رہے ہیں۔ بھگت سنگھ آج ہی کے دن1907کوبنگا میں پیدا […]

خیام، فوٹو: ٹوئٹر

خیام کی موجودگی میں یقین ہوتا ہے کہ آج کی موسیقی نظریں زیادہ چراتی ہے باتیں کم کرتی ہے

ویڈیو: ہندوستانی سنیما کے عظیم موسیقار خیام کے بارے میں بتارہی ہیں یاسمین رشیدی ۔ خیام ان موسیقاروں میں رہے جو مانتے ہیں کہ پہلے گیت لکھے جائیں دھن بعد میں تیا رہو۔یوں سوچیں تو آج کی موسیقی میں ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا

خیام، جن کی موسیقی میں خاموشی اپنی فطرت کے ساتھ بول اٹھتی ہے…

ایک مذہبی گھرانے میں بچپن سے ہی آوازوں کے پیچھے بھاگنے والے خیام کو ان کے جرم کی سزا سنائی گئی اور گھر کے دروازے بند کر دئے گئے۔اب فلموں کے عاشق خیام ہیں اور پیچھے بند دروازہ۔ مگر ان کی دستک کسی اور دروازے پر تھی ،جس کی تھاپ میں زندگی کو رقص کرنا تھا۔

Don`t copy text!