فکر و نظر

ماہر ماحولیات پروفیسر جی ڈی اگروال۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

حکومت ’نمامی گنگے‘ کا سبز باغ دکھاتی رہی اور پروفیسر جی ڈی اگروال کی بلی چڑھ گئی

ماہر ماحولیات پروفیسر جی ڈی اگروال نے 100 سے زیادہ دنوں تک اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی تو صرف اس لئے کیونکہ حکومتوں کی غیر سنجیدگی کے باوجود ان کے دل و دماغ میں جمہوریت کو لےکر کوئی نہ کوئی امید ضرور باقی رہی ہوگی۔ ان کے جانے کا غم اس معنی میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے کہ یہ بھوک ہڑتال کے رہنما مہاتما گاندھی کی پیدائش کے ایک 150 سال میں ہوا ہے۔

فوٹو: فیس بک

لوک سبھا میں ایک بھی سیٹ نہ ہونے کے باوجود مایاوتی پی ایم کی دوڑ میں

مایاوتی کی زندگی تضادات سے بھرپور ہے اور وہ سودےبازی کرنےمیں ماہر ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو چاہیے کہ وہ تضادات کو سلجھانے کے ساتھ مایاوتی جیسی پکی سودےباز لیڈر کو رام کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔

Rajasthan-High-Court-Manu

راجستھان ہائی کورٹ میں لگا منو کا مجسمہ ایک بار پھر تنازعے میں کیوں ہے؟

منو کے مجسمہ کو ہائی کورٹ کے احاطے سے ہٹانے کی عرضیاں سال 1989 سے زیر التوا ہیں، جن پر 2015 کے بعد سے سماعت نہیں ہوئی ہے۔ سوموار کو اورنگ آباد کی دو خواتین کے مجسمہ پر سیاہی پوتنے کے بعد معاملہ پھر گرما گیا ہے۔

دہلی میں چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت کے ساتھ الیکشن کمشنر سنیل اروڑااور اشوک لواسا (فوٹو : پی ٹی آئی)

الیکشن کمیشن کا صرف غیر جانبدار ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ نظر آنا بھی ضروری ہے

پانچ ریاستوں میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم کےاسمبلی انتخابات کے اعلان کے لئے بلائے گئے پریس کانفرنس کو لےکراپوزیشن پارٹی کانگریس کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سنگین ہیں۔

فوٹو: آئی اے این ایس

رویش کا بلاگ: مودی کے اکبر تو’دی گریٹ‘ نکلے…

سوچیے آج وزیر خارجہ سشما سوراج اس اکبر سے کیسے نظر ملائیں‌گی، وزارت خارجہ کی خاتون افسر اور ملازم اس اکبر کے کمرے میں کیسے جائیں‌گی؟ابھی اکبر کابیان نہیں آیا ہے، انتظار ہو رہا ہے، انتظار وزیر اعظم کی رائے کا بھی ہو رہا ہے۔

TariqAnwar_PTI

کانگریس میں طارق انور کی واپسی کے کیا معنی ہیں ؟

طارق انور کی کانگریس میں واپسی ہو رہی ہے۔ 2014 کے مقابلے اس بار کانگریس کی حالت اچھی دکھ رہی ہے۔ ایسے میں ان کا کانگریس سے جڑنا، نہ صرف ان کے اپنے صوبے بہار میں بلکہ ملک بھر میں خاص طور سے مسلمانوں کے درمیان ایک مثبت پیغام ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور انٹر نیشنل مانیٹری  فنڈ کی نئی  چیف  اکانومسٹ  گیتا گوپی ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی اور @IMFNews / twitter )

رویش کا بلاگ : جب ہارورڈ کی گیتا ہارڈورک والے  مودی سے ملیں‌گی، تو بیک گراؤنڈ میں نوٹ بندی کی اسپیچ بجے گی!

نریندر مودی نے کم سے کم ایک ایسا اقتصادی سماج تو بنا دیا ہے جو نتیجے سے نہیں نیت سے تجزیہ کرتا ہے۔ حماقت کی ایسی اقتصادی جیت کب دیکھی گئی ہے؟ گیتا گوپی ناتھ جیسی ماہر اقتصادیات کو نیت کا ڈیٹا لےکر اپنا نیا ریسرچ کرنا چاہیے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: مودی حکومت کی مہربانی-امیروں کے 3 لاکھ کروڑ لون معاف ہوئے

مودی حکومت کے 4 سالوں میں21سرکاری بینکو ں نے 3 لاکھ 16 ہزار کروڑ کے لون معاف کئے ہیں۔یہ ہندوستان کی صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے کل بجٹ کا دو گنا ہے۔ سخت اور ایماندار ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت میں تو لون وصولی زیادہ ہونی چاہیے تھی، مگر ہوا الٹا۔ ایک طرف این پی اے بڑھتا گیا اور دوسری طرف لون وصولی گھٹتی گئی۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈرے ہوئے لوگ خوف کی سیاست کر رہے ہیں…

اب تک ہماری جمہوریت کی تاریخ یہی رہی ہے کہ جس نے بھی اقتدار کے تکبر میں خود کو رائےووٹر سے بڑا سمجھنے کی حماقت کی،ووٹراس کو اقتدار سے بے دخل کرکے ہی مانے۔صاف ہے کہ ووٹ کی ایسی سیاست سے ووٹر کو نہیں، ان کو ہی ڈر لگتا ہے جو ڈرانے کی سیاست کرتے ہیں

Photo: Reuters

رافیل ڈیل پر  بی جے پی کےدعوے اورامت شاہ کے متعلق  انڈین ایکسپریس کی خبر  کا سچ 

بی جے پی نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکا ہے اور ملک کو گمراہ کیا ہے۔دراصل 2012 میں ایک معاہدہ ضرور ہوا تھا لیکن اس میں معاہدہ کی ساجھے دار کمپنی ریلائنس انڈیا لمیٹڈ (RIL)تھی۔ریلائنس انڈیا لمیٹڈ کے سربراہ مکیش امبانی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ انل امبانی۔ (فائل فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ : اگر سرکار کو امبانی کے لئے ہی کام کرنا ہے تو اگلی بار نعرہ دے، اب کی بار امبانی سرکار

ستمبر 2016 میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پریکر اور فرانس کے وزیر دفاع کے درمیان رافیل قرار پر دستخط ہوئے تھے، اس کے ٹھیک پہلے وزارت دفاع کے ایک سینئر افسر نے رافیل لڑاکو ہوائی جہازوں کی قیمتوں کو لےکر سوال اٹھائے تھے اور اس کو فائل میں درج کیا تھا۔

فوٹو: ٹوئٹر

کیا مسلم لڑکے کے ساتھ ہندو لڑکی کی دوستی جرم ہے؟

اتر پردیش کے میرٹھ میں ایک لڑکی اپنے مسلم دوست سے ملنے اس کے گھر آئی تھی ۔ الزام ہے کہ اس دوران وشو ہندو پریشد نے’ لوجہاد ‘کے نام پر لڑکی پر حملہ کر دیا تھا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا ،جس کے بعد ایک ویڈیو میں پولیس لڑکی کے ساتھ بدتمیزی اور مارپیٹ کرتی نظر آتی ہے ۔