آئین

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

اقلیت کی تعریف طے کرنے میں آئینی معاملوں کے ماہرین کی رائے لے‌ گا کمیشن

سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کر کے کہا گیا ہے کہ ہندو جو ملک گیر اعداد و شمار کے مطابق ایک اکثریتی کمیونٹی ہے، نارتھ ایسٹ کی کئی ریاستوں اور جموں و کشمیر میں اقلیت ہے۔ کورٹ نے اقلیتی کمیشن کو تعریف طے کرنے کے لئے تین مہینے کا وقت دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، فوٹو بہ شکریہ:Increasing Diversity by Increasing Access

سپریم کورٹ کے جج نے کہا؛ خاص طرح کے کھانے کی وجہ سے لنچنگ آئین کی لنچنگ ہے

ایک پروگرام کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ جب کسی کارٹونسٹ کوسیڈیشن کے الزام میں جیل میں ڈالا جاتا ہے یا مذہبی عمارت کی تنقید کرنے پر کسی بلاگر کو ضمانت کے بجائے جیل ملتی ہے، تب آئین ناکامیاب ہوجاتا ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

3مہینے  کے اندر اقلیت کی تعریف طے کرے قومی اقلیتی کمیشن: سپریم کورٹ

بی جے پی رہنما اشونی کمار اپادھیائے نے ایک پی آئی ایل دائر کر کےکہا ہے کہ ہندو جو ملک گیر اعداد و شمار کے مطابق ایک اکثریتی کمیونٹی ہے، نارتھ ایسٹ کی کئی ریاستوں اور جموں و کشمیر میں اقلیت میں ہے۔ ہندو کمیونٹی ان فوائد سے محروم ہے جو کہ ان ریاستوں میں اقلیتی کمیونٹی کے لئے موجود ہیں۔ اقلیتی کمیشن کو اس تناظر میں ’ اقلیت ‘لفظ کی تعریف پر پھر سے غور کرنا چاہیے۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

ملک آئین سے نہیں بلکہ منو اسمرتی چل رہا ہے: ساوتری بائی پھولے

بی جے پی سے استعفیٰ دینے والی ساوتری بائی پھولے نے کہا کہ نہ کھاؤں‌گا اور نہ کھانے دوں‌گا کی بات کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی خود گھوٹالےبازوں کے حصہ دار بن گئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیامنٹ میں اپنی من کی بات کہنے کی اجازت نہیں ملتی۔

jharkhand

جھارکھنڈ: کیا عیسائی مشنریوں پر ظالمانہ رویہ اپنا رہی ہے حکومت؟

جھارکھنڈ میں عیسائی تنظیم اور چرچ ،ریاستی حکومت کے رویے پر لگاتار سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ واقعات کو مرکز میں رکھ‌کر بی جے پی، آر ایس ایس اور وی ایچ پی بھی مشنری اداروں کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہی ہے۔

sahir-ludhianvi

ساحر لدھیانوی : اقتدار، آئین ،سماج اور سیاست سے سوال کرنے والا شاعر

ساحر بڑا شاعر ہے اس لیے بھی کہ ان کی شاعری میں اقتدار، آئین،سماج اور سیاست سے سوال ہے۔ ساحر کو کسی سند کی ضرورت نہیں کہ ان کے کلام میں ماورائے زماں زندہ رہنے کی بھرپور قوت موجود ہے۔ وجودیاتی یا علمیاتی بیان کی حاجت بھی نہیں […]