آر بی آئی

(فائل فوٹو : رائٹرس)

این پی اے معاملہ : رگھو رام راجن کی رپورٹ رسوخ داروں پر سرکاری مہربانی کا دستاویز ہے

اب یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ کیا مودی حکومت ان بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے، جو آنے والے عام انتخابات میں نامعلوم انتخابی بانڈس کے سب سے بڑے خریدار ہو سکتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ : مالیا کو’مالیا‘کس نے بنایا ؟

وجے مالیا نے ہر پارٹی کی مدد سے خود کو راجیہ سبھا میں پہنچا کر ہندوستان کی پارلیامانی روایت پر احسان کیا ۔میں مالیا کا اس وجہ سے احترام کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں میں پرو-مالیا ہوں ۔کیا مالیا بہت بڑے سیاسی مفکر تھے؟ جن جن لوگوں نے ان کو پارلیامنٹ پہنچایا وہ آکر سامنے بولیں تو ون سنٹینس میں !

(فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس)

رویش کا بلاگ : NPA تنازعہ میں عوام اسی طرح الو بن رہی ہے جیسے ہندومسلم معاملے میں بنتی ہے

اگر یہ سیاسی تنازعہ کسی بھی طرح سے اقتصادی جرم کا ہے تو دس لاکھ کروڑ روپے لےکر فرار مجرموں کے نام لئے جانے چاہیے۔ کس کی حکومت میں لون دیا گیا یہ تنازعہ ہے، کس کو لون دیا گیا اس کا نام ہی نہیں ہے۔

RBI-RTI-1

سی آئی سی نے ریزرو بینک سے نوٹ بندی کے وقت جن دھن کھاتے میں جمع رقم کی جانکاری دینے کو کہا

آر ٹی آئی کارکن سبھاش اگروال نے ریزرو بینک سے آر ٹی آئی کے تحت نوٹ بندی سے متعلق بینک افسروں کے خلاف شکایتوں ، مختلف کھاتوں میں جمع رقم اور لوگوں کے ذریعے لین دین کی گئی کل کرینسی کے بارے میں جانکاری مانگی تھی۔

نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ : این پی اے کو لےکریو پی اے اور این ڈی اے کی پالیسیوں کوئی فرق نہیں ہے

کچھ امیر صنعت کار اور امیر ہوتے رہے، عوام ہندو-مسلم کرتی رہی، اس لئے کانگریس بھی نہیں بتاتی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئے‌گی تو اس کی الگ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی۔ بی جے پی بھی یہ سب نہیں کرتی ہے جبکہ وہ اقتدار میں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فائل فوٹو : پی آئی بی)

رگھو رام راجن نے پی ایم او کو دی تھی این پی اے سے جڑے گھوٹالےبازوں کی فہرست، لیکن نہیں ہوئی کارروائی

پارلیامنٹ کی Estimates Committee کو بھیجے خط میں آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ان طریقوں کے بارے میں بتایا ہے جن کے ذریعے بےایمان بزنس گھرانوں کو حکومت اور بینکنگ نظام سے گھوٹالہ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی۔

(فوٹو : رائٹرس)

کہیں نوٹ بندی بلیک منی کو وہائٹ کرنے کا طریقہ تو نہیں تھا؟

حکومت کا کہنا تھا کہ بند کئے گئے نوٹوں میں سے تقریباً 3 لاکھ کروڑ قیمت کے نوٹ بینکوں میں واپس نہیں آئیں‌گے اور یہ بلیک منی پر سخت وار ہوگا، لیکن ریزرو بینک کے مطابق اب نوٹ بندی کے بعد جمع ہوئے نوٹوں کا فیصد 99 کے پار پہنچ گیا ہے۔ یعنی یا تو ان نوٹوں میں کوئی بلیک منی تھا ہی نہیں یا اس کے ہونے کے باوجود حکومت اس کو نکالنے میں ناکام رہی۔

فوٹو: رائٹرس

ریزرو بینک کے ذریعے این پی اے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کرنے پر پارلیامانی کمیٹی نے اٹھائے سوال

سینئر کانگریسی رہنما ایم ویرپا موئلی کی قیادت والی فنانس پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اس رپورٹ کو منظور کرلیا ہے ۔ اس کو پارلیامنٹ کے ونٹر سیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

علامتی تصویر (فوٹو : پی ٹی آئی)

نوٹ بندی کے بعد نئے نوٹوں کی ڈھلائی میں 29.41 کروڑ روپے خرچ ہوئے ، ایئر فورس نے بھیجا بل

آر ٹی آئی سے ملی جانکاری کے مطابق؛ نوٹ بندی کے بعد نئے نوٹوں کو ملک کے مختلف حصوں میں پہنچانے کے لئےانڈین ایئر فورس کے ہوائی جہاز سی-17 اور سی-130 جے سپر ہرکیولس کا استعمال کیا گیا تھا۔

پیوش گوئل (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئے وزیر خزانہ پیوش گوئل ’بیڈ بینک‘ کاقیام کیوں چاہتےہیں؟

انڈین ریزرو بینک کے ذریعے فروری 2018 میں جاری ایک سرکلر اس کے اور نریندر مودی حکومت کے درمیان تکرار کی وجہ بن گئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ تمام بڑے کارپوریٹ گروپ،جو بینکوں سے لئے گئے قرض کی دوبارہ دائیگی کرنے میں ناکام رہتے ہیں،ان کو1اکتوبر، 2018 سے دیوالیہ کئے جانے کے پروسس میں شامل ہونا پڑے‌گا۔

سابق آر بی آئی گورنر وائی وی ریڈی (فوٹو : پی ٹی آئی)

ریزرو بینک کے سابق گورنر نے پی این بی گھوٹالے  پر حکومت کو لتاڑا

سابق گورنر وائی وی ریڈی نے کہا کہ بینکنگ گھوٹالوں میں ہونے والے نقصان کی بھرپائی ٹیکس دینے والے کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی ملکیت والے بینکوں کو اپنا پیسہ سونپا، ان کو حکومت سے اس پر جواب مانگنا چاہیے۔

فوٹو : رائٹرس

آر بی آئی گورنر کے نام گاؤں والوں کا خط،منافع کے لئے نہیں بلکہ غریبوں کے لئے چلائیں سرکاری بینک

یوم مزدور کے موقع پر جھارکھنڈ کے منریگا مزدور اور پینشن خوار نے بینک ادائیگی میں آ رہے مسائل کے بارے میں ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کو اپنی مانگیں لکھ‌کر بھیجی ہیں۔

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن /فوٹو : پی ٹی آئی

نوٹ بندی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر نہیں لیا گیا تھا : سابق آر بی آئی گورنر

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت کا خیال تھا کہ نوٹ بندی کے بعد بیسمنٹ میں نوٹ چھپاکر رکھنے والے لوگ سامنے آئیں‌گے اور معافی مانگ‌کر کہیں‌گے کہ ہم اس کے لئے ٹیکس دینے کو تیار ہیں۔

People walk past a roadside currency exchange vendor in the old quarters of Delhi May 22, 2012.  REUTERS/Adnan Abidi/Files

نفع کارپوریٹ کا، نقصان ٹیکس دہندگان کا

مرکزی حکومت کے 1.35 لاکھ کروڑ قیمت کے سرکاری بانڈوں کی شکل میں بینکوں کو اضافی سرمایہ دینے کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ٹیکس دہندگان  کے پیسوں سے بینکوں اور بقائےدار کارپوریٹ گروپوں کو بچایا جا رہا ہے۔ 1.35 لاکھ کروڑ قیمت کے سرکاری بانڈوں کی شکل […]