اترپردیس پولیس

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

سال 2016-18 کے بیچ یو اے پی اے کے تحت 3005 معاملے درج، صرف 821 کیس میں چارج شیٹ داخل: سرکار

سرکار نے پارلیامنٹ میں یہ جانکاری بھی دی کہ سال 2017 اور 2018 میں ملک بھر میں 1198 لوگوں کواین ایس اےکے تحت حراست میں لیا گیا۔ مدھیہ پردیش میں این ایس اے کے تحت سال 2017 اور 2018 میں سب سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد اتر پردیش کا نمبر ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش میں اس سال 139 لوگوں پر این ایس اے لگا، آدھے سے زیادہ معاملے گئوکشی سے متعلق: رپورٹ

ااس سال 19 اگست تک یوپی پولیس نے ریاست میں 139 لوگوں کے خلاف این ایس اے لگایا ہے، جن میں سے 76 معاملے گئوکشی سے جڑے ہیں۔ 31 اگست تک صرف بریلی پولیس زون میں ہی 44 لوگوں پر این ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔

ڈاکٹر کفیل خان اور پرشانت کنوجیا(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

دلت ،مسلمان اور آدی واسی  کے لیے انصاف کی راہ مشکل کیوں ہے

این سی آربی کی ایک رپورٹ کے مطابق جیلوں میں بند دلت، آدی واسی اور مسلمانوں کی تعدادملک میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے، ساتھ ہی مجرم قیدیوں سے زیادہ تعدادان طبقات کے زیر غور قیدیوں کی ہے۔ سرکار کا ڈاکٹر کفیل اور پرشانت کنوجیا کو باربار جیل بھیجنا ایسے اعدادوشمار کی تصدیق کرتا ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا ڈاکٹر کفیل خان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں

گزشتہ سال آکسیجن حادثے کی محکمہ جاتی جانچ میں دوالزامات میں ملی کلین چٹ کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، لیکن سرکار نے نئےالزام جوڑتے ہوئے دوبارہ جانچ شروع کر دی۔ متھرا جیل میں رہائی کے وقت ہوئی حجت یہ اشارہ ہے کہ اس بار بھی حکومت کا روریہ ان کے لیےنرم ہونے والا نہیں ہے۔

متھرا جیل سے رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوگی حکومت کے آگے نہیں جھکوں گا، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا: ڈاکٹر کفیل خان

اے ایم یو میں سی اے اے کے خلاف مبینہ‘ہیٹ اسپیچ’دینے کے الزام میں جنوری سے متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل خان کو ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد منگل دیر رات کو رہا کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اتنے دن جیل میں اس لیے رکھا گیا کیونکہ وہ ریاست کی طبی خدمات کی کمیوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر کفیل۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/drkafeelkhanofficial)

الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف این ایس اے کے الزام  ہٹانے اور فوراً رہائی کاحکم  دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پرمتنازعہ بیان دینے کے معاملے میں29 جنوری کو ڈاکٹرکفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پراین ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر کفیل خان(فوٹو : پی ٹی آئی)

ڈاکٹر کفیل کی این ایس کی مدت پھر تین مہینے کے لیے بڑھائی گئی

گزشتہ 29 جنوری کو اتر پردیش ایس ٹی ایف نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات کے معاملے میں ڈاکٹر کفیل خان کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں ہیں۔

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

پندرہ دن میں طے کریں کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کر سکتے ہیں یا نہیں: سپریم کورٹ

اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں متنازعہ بیانات دینے کےالزام میں29 جنوری کو ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پر این ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

AKI 16 July 2020.00_20_31_04.Still002

کب ہوگی ڈاکٹر کفیل اور بھیما کورے گاؤں کارکنوں کی رہائی؟

ویڈیو: ڈاکٹر کفیل خان کو گزشتہ دسمبر میں اے ایم یو میں ہوئے اینٹی سی اےاےمظاہرہ میں مبینہ اشتعال انگیزتبصرہ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری میں انہیں ضمانت ملی لیکن جیل سے باہر آنے کے کچھ گھنٹے بعد ان پر این ایس اے لگا دیا گیا۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

ڈاکٹر کفیل خان۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ڈاکٹر کفیل خان کی این ایس اے کی مدت تین مہینے کے لیے بڑھائی گئی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات دینے کے معاملے میں 29 جنوری کو ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کرنے کے بجائے ان پر این ایس اے لگا دیا گیا تھا۔

مسلم جوان کو پیٹتے لوگ، فوٹو بہ شکریہ اے این آئی

اترپردیش: بلندشہر میں مسلم نوجوانوں کی بے رحمی سے پٹائی، تیزاب ڈالنے کی دھمکی دی

دو مارچ کو بلند شہر کے سکندرآباد علاقے میں ہوئے اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ مارپیٹ میں زخمی ہوئے نوجوان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ان کے مذہب کو لے کر گالیاں دیں اور گئو کشی کا الزام لگایا۔

اسد الدین اویسی، فوٹو : پی ٹی آئی

ڈاکٹر کفیل معاملے پر اویسی نے کہا-ایک ڈاکٹر نہیں، ’ٹھوک دیں گے‘ جیسا بیان دینے والے ہیں نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ

اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت قانون (سی اےاے) کےخلاف بیان دینے کے الزام میں متھرا جیل میں بند ڈاکٹر کفیل خان پر این ایس اے لگایا گیا ہے۔

ڈاکٹر کفیل خان، فوٹو: دی وائر

ڈاکٹر کفیل خان کو مبینہ طور پر متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں ضمانت، لیکن رہائی کے بجائے این ایس اے کے تحت کارروائی

ڈاکٹر کفیل خان کو 29 جنوری کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ متھرا جیل میں بند خان کو ضمانت مل گئی تھی۔ علی گڑھ کے ایس ایس پی آکاش کلہری نے بتایا کہ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے اور وہ جیل میں ہی رہیں گے۔

ڈاکٹر کفیل خان، فوٹو: ٹوئٹر

شہریت قانون: ڈاکٹر کفیل خان نے عدالت سے کہا-یوپی پولیس ان کا ’انکاؤنٹر‘ کر سکتی ہے

عدالت کے باہر خان کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ خان کو انکاؤنٹرکا ڈر ہے ‘‘کیونکہ ان کے پاس پوری جانکاری ہے کہ بچوں کی موت (اتر پردیش کے ایک میڈیکل کالج میں) کا ذمہ دار کون ہے۔’’

 ڈاکٹر کفیل خان(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

شہریت قانون: اے ایم یو میں مبینہ طور پر متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں ڈاکٹر کفیل ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار

اتر پردیش پولیس نے ڈاکٹر کفیل خان پر آر ایس ایس اورمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لیےغیر مہذب تبصرہ کرنے، طلبا کو مرکزی حکومت کے شہریت قانون کے خلاف لڑنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کاالزام لگایا ہے۔

انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ، فوٹو: پی ٹی آئی

بلند شہر تشدد: انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قتل کے ملزم کا مجسمہ لگایا گیا

بلند شہر میں 3 دسمبر 2018 کو مبینہ گئو کشی کو لے کر ہوئے تشدد میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل کر دیا گیا تھا۔ تشدد میں سمت نامی شخص کی بھی موت ہو گئی تھی، جس کو بعد میں پولیس نے سبودھ کمار سنگھ کے قتل کا ملزم بنایا تھا۔

نصیر الدین شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

سماج میں کھلے عام نفرت کا جذبہ پریشان کن ہے: نصیر الدین شاہ

ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات کو لے کر وزیراعظم نریندر مودی کو کھلا خط لکھنے والی 49 ہستیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تنقید کرنے والی ادب اور آرٹ شعبے کی 180 سے زیادہ ہستیوں میں نصیر الدین شاہ بھی شامل تھے۔

AKI 26 September.00_11_35_15.Still002

یوگی حکومت میں مبینہ ریپ متاثرہ کو جیل، قتل کے ملزم کو ضمانت

ویڈیو: اتر پردیش کے بلند شہر میں مبینہ گئو کشی کے بعد ہوئے تشدد کے کلیدی ملزم کو ضمانت مل گئی ہے۔ دوسری طرف سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما چنمیانند پر ریپ کا الزام لگانے والی طالبہ کو رنگداری مانگنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان مدعوں پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

پولیس کے ساتھ کلیدی  ملزم یوگیش راج (فوٹو : اے این آئی)

بلندشہر تشدد کے کلیدی ملزم یوگیش راج کو ملی ضمانت

گزشتہ سال دسمبر میں اتر پردیش کے بلندشہر میں مبینہ گئو کشی کے شک میں ہوئے مظاہرے کے دوران انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل کر دیا گیا تھا۔ چارج شیٹ کے مطابق، یوگیش راج نے ہی بھیڑ جمع کرکے لوگوں کو تشدد کے لئے اکسایا تھا۔

Screenshot-248

بلندشہر تشدد: ضمانت پر رہا ملزمین کا مالا پہناکر ہوا استقبال، جئے شری رام کے نعرے لگے

گزشتہ سال دسمبر میں اتر پردیش کے بلندشہر میں گئو کشی کے شک میں ہوئے مظاہرہ کے دوران انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت ہو گئی تھی۔ اس سال مارچ میں کل 38 لوگوں کے خلاف فردجرم داخل کیا گیا تھا۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

جھارکھنڈ ماب لنچنگ: امریکی ادارے نے تبریز انصاری کے قتل کی مذمت کی

مذہبی آزادی سے متعلق کمیشن یو ایس سی آئی آر ایف نےگزشتہ21 جون کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان میں 2018 میں گائے کے کاروبار یا گئو کشی کی افواہ پر اقلیتی کمیونٹی، خاص طو رپر، مسلمانوں کے خلاف انتہاپسند ہندو گروہوں نے تشدد کیا ہے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

ہندوستان میں پر تشدد ہندو انتہا پسند گروپوں کے ذریعے اقلیتوں پر حملے جاری: امریکی رپورٹ

امریکہ کے ذریعے تیار ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوستان میں گئو کشی کے نام پر ہندو انتہا پسند گروپوں کے ذریعے اقلیتی کمیونٹیز، خاص طورپر مسلمانوں پر حملے 2018 میں بھی جاری رہے ۔حالانکہ ہندوستان نے امریکہ کی اس رپورٹ کو خارج کیا ہے۔

fake 3

کیانصیر الدین شاہ، جاوید اختر، شبانہ اعظمی اور ممتا بنرجی نے مودی کے دوبارہ پی ایم بننے پر وطن چھوڑنے یا خودکشی کرنے کا عہدلیا تھا؟ 

فیک نیوز راؤنڈ اپ: کیا کیرالہ کے وائناڈمیں راہل گاندھی کی فتح پرپاکستانی پرچم لہرائےگئے؟کیامودی نےپی ایم بننےکےبعدملک بھر میں شراب پرپابندی عائدکی؟کیاعارفہ خانم شیروانی نےحزب المجاہدین کمانڈرذاکرموسیٰ کی حمایت اپنےٹوئٹ میں کی؟

 بلندشہر میں ہوئے تشدد میں بھیڑ کے ذریعے جلائی گئی گاڑی (فوٹو : پی ٹی آئی)

بلندشہر تشدد سے پہلے بجرنگ دل کنوینر اور ملزمین کے بیچ  ہوئی تھی فون پر بات: ایس آئی ٹی

ایس آئی ٹی کے ذریعے دائر چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے کلیدی ملزم سچن نے 3 دسمبر کی صبح بجرنگ دل کے کنوینر یوگیش کو مہاؤ میں ہوئی مبینہ گئو کشی کی جانکاری دی، جس کے بعد یوگیش نے اس کو گائے کی ہڈی اور اپنے حامیوں کے ساتھ جائے واردات پر جمع ہونے کو کہا۔

انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

بلند شہر تشدد اور انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ قتل معاملہ: ملزمین کے خلاف  ہٹایا گیاسیڈیشن چارج

سبودھ کمار سنگھ کی بیوی رجنی سنگھ کا الزام ہے کہ پولیس کی طرف سے لاپرواہی برتی گئی ہے اور پولیس نے چارج شیٹ کمزور کرنے کے لیے ہی سیڈیشن کی دفعہ کے لیے ضروری پروسیس پورا نہیں کیا،جس کے لیے کورٹ نے بھی پولیس کو پھٹکار لگائی ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

ہیومن رائٹس واچ نے کہا؛ گئو رکشا کے نام پر ہونے والے تشدد کے خلاف کارروائی کی جائے

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں گئو رکشا نے نام پر ہونے والی لنچنگ اور قتل معاملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ فرقہ وارانہ بیان بازی پر پابندی لگائی جائے اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

بلند شہر تشدد: یو پی پولیس نے انسپکٹر سبودھ کی فیملی کو مدد کے طور پر دیے70 لاکھ

بلندشہر کے سیانہ علاقے کے چنگراوٹھی میں مبینہ طور پر گئوکشی کو لےکر مشتعل بھیڑ کے تشدد میں تھانہ کوتوالی میں تعینات انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ اور سمت نامی ایک دیگر جوان کی موت ہو گئی تھی۔ سبودھ دادری میں گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیے گئے اخلاق معاملے کے جانچ افسر رہ چکے ہیں ۔

nasseruddin-shah-the-wire-1200x531

ہندوستان کو نصیرالدین شاہ جیسےلوگوں کی ضرورت کیوں ہے؟

جہاں ہندوستانی سنیما کے زیادہ تر اداکار سچ سے منھ موڑنے اور خاموش رہنے کے لئے جانے جاتے ہیں، وہیں صاف گوئی نصیرالدین شاہ کی شناخت رہی ہے۔ ان کی شخصیت ان کو فلم انڈسٹری کی اس بھیڑ سے الگ کرتی ہے، جس کے لئےطاقتور کی پناہ میں جانا، گڑگڑاتے ہوئے معافی مانگنا اور کبھی بھی من کی بات نہ کہنا ایک روایت بن چکی ہے۔

پولیس کے ساتھ کلیدی ملزم یوگیش راج/فوٹو: اے این آئی

بلند شہر تشدد: فرار کلیدی ملزم بجرنگ دل  لیڈر یوگیش راج گرفتار

بلندشہر کے سیانہ علاقے کے چنگراوٹھی میں مبینہ طور پر گئوکشی کو لےکر مشتعل بھیڑ کے تشدد میں تھانہ کوتوالی میں تعینات انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ اور سمت نامی ایک دیگر جوان کی موت ہو گئی تھی۔ سبودھ دادری میں گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیے گئے اخلاق معاملے کے جانچ افسر رہ چکے ہیں ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

بلند شہر تشدد: پولیس کا دعویٰ ،انسپکٹر قتل معاملے میں ملزم پرشانت نٹ نے قبول کیا جرم

ملزم پرشانت نٹ نے پوچھ تاچھ میں قبول کیا ہے کہ اس نے سبودھ کمار سنگھ پر گولی چلائی تھی۔پوچھ تاچھ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سبودھ کمار سنگھ پر پہلے کلہاڑی سے حملہ کیا گیا اور ان کو جلانے کی کوشش بھی کی گئی ۔

نصیرالدین شاہ (فوٹو بشکریہ: یو ٹیوب/ہندی کویتا)

نصیرالدین شاہ کے بیان پر تنازعہ: نہ تڑپنے کی اجازت ہے، نہ فریاد کی

ملک میں سماج کی نچلی سطح تک ڈر اور عدم اعتماد کا ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ مزاحمت کی ساری آوازیں گھٹ‌کر رہ گئیں اور اب اوپری سطح پر کوئی عامر خان اپنا ڈر یا نصیرالدین شاہ غصہ جتانے لگتے ہیں ، تو ان کا منھ نوچنے کی سرپھری کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں۔

سنجے شرما/ فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

بلند شہر تشدد: بی جے پی ایم ایل اے نے کہا، صرف دو لوگوں کی موت نظر آتی ہے 21 گایوں کی نہیں

بلند شہر تشدد معاملے میں سابق 83 نوکر شاہوں کے ذریعے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفیٰ مانگنے پر انوپ شہر سے بی جے پی ایم ایل اے سنجے شرما نے کھلا خط لکھ کر 21 گائے کی موت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Don`t copy text!