اخبار

فوٹو بہ شکریہ، میتھیکل انڈیا

اندر کمار گجرال: ’پابندیوں میں جکڑی صحافت آخر میں معاشرہ اور لوگوں کے رشتے ڈھیلے کر دیتی ہے‘

جس کو ہم ’ایمرجنسی‘ کہتے ہیں اس زمانے میں گجرال نے اندرا گاندھی کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ میڈیا کو آزادی دینی چاہیے اور اس سلسلے میں کچھ اقدامات ضروری ہیں ،انہو ں نے دستاویز بھی تیار کیے ،لیکن جب جے پی تحریک سامنے آئی تو اندرا پیچھے ہٹ گئیں ،گجرال کہتے ہیں؛’اقتدار کے قلعے کی فصیلوں پر جئے پرکاش نرائن کی تحریک کی یلغار شروع ہوگئی ۔مسز اندرا گاندھی نے محاصرے کی اس حالت میں یہ محسوس کیا کہ میڈیا ان کے لیے صحافتی ڈھال بن سکتی ہے ،اس طرح وہ میڈیا کو آزادی دینے کی بات سے پیچھے ہٹ گئیں ۔

فوٹو بہ شکریہ : www.brecorder.com

ہندوستانی  اردو ویب سائٹس: کیا کہتے ہیں اعداد و شمار؟

آج کل ہندوستان میں یہ مفروضہ عام ہے کہ اردو کی بقا کا دارومدار مدارس اور دینی اداروں اور تنظیموں پر ہے، کیونکہ عربی کے بعد اسی زبان میں مذہبی مواد کی کثرت ہے۔ اس کے باوجود افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معروف و مقبول دینی جماعتوں کے نیوز پورٹل یا ویب سائٹس اردو یونیکوڈ میں دستیاب نہیں ہیں۔

NationalPressDay_Patrika

نیشنل پریس ڈے:راجستھان پتریکا نےاپناادارتی کالم خالی چھوڑا

نیشنل پریس ڈےکے موقع پر راجستھان کی وسندھرا حکومت کے’کالے قانون‘پراحتجاج  کرتے ہوئے ’راجستھان پتریکا ‘نے اپنا ادارتی کالم خالی چھوڑ دیاہے۔ راجستھان کے اہم ہندی روزنامہ راجستھان پتریکا نے وسندھرا حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئےنیشنل پریس ڈےکے موقع پر اپنا ادارتی کالم خالی چھوڑ […]

RajasthanBill_Patrika

راجستھان پتریکا کا اداریہ : جب تک کالا -تب تک تالا

راجستھان پتریکا کے مدیر اعلیٰ گلاب کوٹھاری نے ‘جب تک کالا:تب تک تالا’ کے عنوان سے پہلے صفحے پر ادارتی مضمون لکھا ہے ۔اس میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا ،تب تک راجستھان پتریکا وزیراعلیٰ وسندھرا راجے اور ان سے متعلق […]

Don`t copy text!