اسٹینڈ اپ کامیڈین

2202 MB.00_38_46_16.Still003

میڈیا بول: لطیفہ بنتی سیاست اور میڈیا

ویڈیو: موجودہ دور میں سیاست اور میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم ایسے قابل رحم حالت میں ہیں کہ خود ہی لطیفہ بن گئے ہیں۔ دوسری طرف سنجیدہ صحافیوں یا کامیڈینس کے تبصرے سے کبھی سرکار ، تو کبھی عدلیہ کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔ ان مدعوں پرسینئر صحافی پریہ درشن اور ٹی وی اینکر میناکشی شیوران سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ارملیش۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

سو سے زائد فنکاروں اور قلمکاروں نے منور فاروقی اور چار دیگر پر لگے الزامات کو خارج کر نے کی اپیل کی

اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی اور چار دیگر کو ہندو دیوتاؤں اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گزشتہ ایک جنوری کو اندور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ فاروقی کو سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد چھ فروری کی رات کو رہا کیا گیا تھا۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

اندور: دیر رات سپریم کورٹ کے جج کے کال کے بعد ہوئی منور فاروقی کی رہائی

منور فاروقی کو ضمانت ملنے کے بعدجیل انتظامیہ نے یوپی کی ایک عدالت کے پیشی وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کی رہائی میں عذر کا اظہار کیا تھا۔ دیر رات سپریم کورٹ کے ایک جج نے اندور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کو فون کرکے انہیں احکامات کے لیے ویب سائٹ دیکھنے اور اس پر عمل کرنے کوکہا۔

منورفاروقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سپریم کورٹ سے منور فاروقی کو ملی عبوری ضمانت، یوپی پولیس کی گرفتاری سے بھی تحفظ

اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کو جنوری میں ہندو دیوتاؤں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں اندور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گرفتاری میں 2014 میں دیے سپریم کورٹ کے گائیڈ لائن پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

مدھیہ پردیش: ہائی کورٹ نے منور فاروقی اور نلن یادو کی ضمانت عرضی خارج کی

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کی ضمانت عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کر دی کہ ضمانت دینے کاکوئی گراؤنڈ نہیں بنتا ہے۔ فاروقی کو اس مہینے کی شروعات میں ہندو دیوتاؤں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

منورفاروقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی کو جیل میں رکھنا بنیادی آزادی کی سنگین خلاف ورزی: پی یو ڈی آر

اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کو اس مہینے کی شروعات میں ہندو دیوتاؤں کےخلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پیپلزیونین فار ڈیموکریٹک رائٹس نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی آزادی کونظر انداز کرنے اور اس کو بنائے رکھنے میں عدلیہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ، کورٹ نے کہا-ایسے لوگوں کوبخشا نہیں جانا چاہیے

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کی ضمانت عرضی پر سوموار کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ انہیں اس مہینے کی شروعات میں اندور میں ہندو دیوتاؤں کے خلاف مبینہ طور پرقابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

منورفاروقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی معاملہ: اندور پولیس نے کہا-ثبوت نہیں، اب یوپی پولیس کر رہی ہےگرفتاری کی تیاری

اس مہینے کی شروعات میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو اندور میں ہندو دیوتاؤں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پچھلے ہفتے پولیس کے ذریعے ان کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی بات کہنے کے باوجود ایک جوڈیشیل مجسٹریٹ نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی کی گرفتاری: پولیس نے کہا-ثبوت نہیں، لیکن  ضمانت عرضی خارج کی جائے

مدھیہ پردیش پولیس نے ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے سامنے ہندو دیوتاؤں کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کی ضمانت عرضی کی شنوائی میں کیس ڈائری پیش نہیں کی اور کہا کہ فاروقی کو رہا کرنے سے نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہو سکتاہے۔

0102 Media Bol Master.00_24_53_02.Still002

میڈیا بول: جامعہ ملیہ میں فائرنگ اور ارنب کے لیے اتری سرکار

ویڈیو: دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس فائرنگ اور اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا اور ٹی وی جرنلسٹ ارنب گوسوامی کے بیچ ہوئے تنازعہ پر سی ایس ڈی ایس کے مدیر ابھئے کمار دوبے اور سینئر صحافی شیبااسلم فہمی کے ساتھ سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

کنال کامرا، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

انڈیگو، اسپائس جیٹ اور ایئر انڈیا نے کامیڈین کنال کامرا پر لگائی پابندی، صحافی ارنب گوسوامی کو پریشان کر نے کا الزام

وہیں سول ایویشن منسٹر ہردیپ سنگھ پوری نے معاملے کو اپنی جانکاری میں لیتے ہوئے ہندوستان کی دوسری ایئرلائنس سے کامراپر اسی طرح کی پابندی لگانے کی‘صلاح’دی ہے۔

kunal-kamra-1200x600

گجرات: وزیر اعظم مودی کی تنقید کرنے والے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کا شو رد

اس شو میں شریک ہونے کی کوشش کرنے والے ایک فرد نے کئی ٹوئٹ کرکے یہ کہا ہے کہ پروگرام میں رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد ہندو تنظیم سے وابستہ تھے اور وہ کنال کامرا کو اینٹی نیشنل اور اینٹی ہندو کہہ رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ اسلام مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

Don`t copy text!