اعلیٰ تعلیم

Narendra-Modi-Pareeksha-Pe-Charcha-PIB

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم کو نہیں معلوم  کہ ڈپریشن بورڈ اگزام کی وجہ سے نہیں تعلیمی صورت حال کی وجہ سے ہے

ملک کے سرکاری اسکولوں میں دس لاکھ اساتذہ نہیں ہیں۔ کالجوں میں ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی کمی بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں کے بچّے تیسری کی کتاب نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ ڈپریشن سے گزریں‌گے کیونکہ اس کے ذمہ دار بچّے نہیں، وہ سسٹم ہے جس کو پڑھانے کا کام دیا گیا ہے۔

(فوٹو بشکریہ : فیس بک)

بہار میں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے کھلواڑ؟

علم کی جب بھی بات ہوتی ہے تو بہار کے تاریخی نالندہ اور وکرم شلا یونیورسٹی کا ذکر کئے بغیر پوری نہیں ہوتی ، لیکن اسی بہار میں آج تعلیمی نظام کا حال یہ ہے کہ آدھا درجن یونیورسٹیوں میں مختلف سیشن کے امتحان کئی سالوں سے التوا میں ہیں۔

علامتی تصویر / فوٹو : رائٹرز

اقلیتی کردار معاملہ میں جامعہ کو دہلی اقلیتی کمیشن کی نوٹس

جسٹس سہیل صدیقی کی سربراہی والے کمیشن نے 22 فروری 2011کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے خلاف کچھ لوگ عدالت میں گئے اور حکومت وقت نے جامعہ کے اقلیتی کردار کی تائید میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔

Don`t copy text!