الہ آباد

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی میں این ایس اے کا غلط استعمال: مناسب کارروائی  کے فقدان کا حوالہ دیتے ہو ئے ہائی کورٹ نے تمام فرقہ وارانہ مقدمات رد کیے

یوپی سرکار کی جانب سے گزشہ تین سالوں میں درج قومی سلامتی قانون کے 120معاملوں پر الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے، جن میں آدھے سے زیادہ معاملے گئو کشی اورفرقہ وارانہ تشدد سے متعلق تھے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق کورٹ نے فرقہ وارانہ معاملوں سے متعلق تمام حبس بے جا کی عرضیوں کو سنتے ہوئے این ایس اےکو رد کر دیا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

یوپی: الہ آباد ہائی کورٹ نے این ایس اے کے غلط استعمال کا حوالہ دیتے ہو ئے 120 میں سے 94 احکامات کو رد کیا

پولیس اور عدالت کے ریکارڈزدکھاتے ہیں کہ این ایس اے لگانے کے معاملوں میں ایک ہی طرز کی پیروی کی جا رہی تھی، جس میں پولیس کی جانب سےالگ الگ ایف آئی آر میں اہم جانکاریاں کٹ پیسٹ کرنا، مجسٹریٹ کے دستخط شدہ ڈٹینشن آرڈر میں دماغ کا استعمال نہ کرنا، ملزم کو متعینہ ضابطہ مہیا کرانے سے انکار کرنا اور ضمانت سے روکنے کے لیے قانون کا لگاتار غلط استعمال شامل ہے۔

فوٹو پی ٹی آئی

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی سرکار سے کہا-من مانے طریقے سے حراست میں رکھے گئے لوگوں کو معاوضہ دیں

اتر پردیش کے وارانسی ضلع کا معاملہ۔ پولیس نے بدامنی پیدا کرنے کے لیے پچھلے سال آٹھ اکتوبر کو دو لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں نے 12 اکتوبر کو نجی بانڈ اور دیگر دستاویز جمع کرائے تھے، لیکن ایس ڈی ایم نے انہیں رہا نہیں کیا تھا۔

(فوٹوبہ شکریہ :سوشل میڈیا/ویڈیوگریب)

اتر پردیش: سرکاری ہاسپٹل کے باہر معمر خاتون سے مارپیٹ، ملزم گارڈ گرفتار

واقعہ الہ آباد کے سوروپ رانی ہاسپٹل کے باہر کا ہے، جہاں ہاسپٹل کے باہر بیٹھی ایک معمرخاتون کے ساتھ وہاں تعینات سکیورٹی گارڈ نے بےرحمی سے مارپیٹ کی۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون ذہنی طور پرمعذور ہیں۔

Allahabad-CAA-Protest-Photo-The-Wire3

’ہم اس ہندوستان کی تعمیر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، جو بسمل اور اشفاق بنانا چاہتے تھے‘

اتر پردیش کے الہ آباد شہر کے روشن باغ میں شہریت قانون، این آر سی اوراین پی آر کے خلاف گزشتہ 12 جنوری سے لگاتار مظاہرہ چل رہا ہے، جس میں خواتین بڑی تعداد میں حصہ لے رہی ہیں۔

Don`t copy text!