ایس پی

فوٹو: فیس بک

لوک سبھا میں ایک بھی سیٹ نہ ہونے کے باوجود مایاوتی پی ایم کی دوڑ میں

مایاوتی کی زندگی تضادات سے بھرپور ہے اور وہ سودےبازی کرنےمیں ماہر ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو چاہیے کہ وہ تضادات کو سلجھانے کے ساتھ مایاوتی جیسی پکی سودےباز لیڈر کو رام کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔

Election-Commission-1

سیاسی پارٹیاں  آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر ہیں : الیکشن  کمیشن

آر ٹی آئی کے تحت بی جے پی، کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، بی ایس پی اور این سی پی کے سیاسی چندے کی مانگی گئی جانکاری کے جواب میں کمیشن نے ایسا کہا۔ جبکہ ان پارٹیوں کو 2013 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن آر ٹی آئی کے دائرے میں لےکر آیا تھا۔

بی ایس پی سپریمو مایاوتی/ فوٹو: پی ٹی آئی

’منھ میں رام بغل میں چھری ‘والی کہاوت سچ کر رہی ہے بی جے پی اور مودی حکومت : مایاوتی

بی ایس پی سپریمونے کہا، ‘راجیہ سبھا انتخاب نتیجہ کے باوجود ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان جاری تال میل سے بی جے پی کے لوگ بہت بری طرح پریشان ہیں۔ میں ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہماری یہ نزدیکی اپنی خود غرضی کے لئے نہیں ہے۔ یہ مفاد عامہ میں ہے۔ ‘

Mayawati-Akhilesh-PTI

گورکھ پور اور پھول پور میں بی جے پی کی ہار پر حیرت نہیں ہونی چاہیے

گورکھ پور سے گراؤنڈ رپورٹ : مارچ 2017 کے بعد یوپی کی سیاست میں نئی تبدیلی کی جوکمزور آوازیں اٹھ رہی تھیں اس کو سنا نہیں گیا۔ یہ آوازیں اس انتخاب میں بہت جارحانہ تھیں لیکن اس کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اب جب اس نے اپنا اثر دکھا دیا تو سبھی حیران ہیں۔