این آر سی

unnamed

مودی کے انکار کے باوجود کیوں ڈٹینشن سینٹر بنا رہی ہے یوپی سرکار؟

ویڈیو: وزیراعظم نریندر مودی نے دسمبر 2019 میں کہا تھا کہ کوئی ڈٹینشن سینٹر نہیں ہے۔ اس کے باوجود غازی آباد کے نندگرام میں مبینہ طور پر ڈٹینشن سینٹر بنایا جا رہا تھا۔بی ایس پی چیف مایاوتی کے وزیراعلیٰ رہتےہوئے بنے ایک ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر بنائے جانے پر انہوں نے ٹوئٹ کر کےاس کو دوبارہ ہاسٹل بنانے کی مانگ کی۔ دی وائر کے شیکھر تیواری کی یہاں کےطلبا سے بات چیت۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات: گرفتار جامعہ اسٹوڈنٹ نے تہاڑ جیل کے اہلکاروں پرذہنی ہراسانی کے الزام لگائے

دہلی تشددسے جڑے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار اسٹوڈنٹ گل فشا ں فاطمہ نے مقامی عدالت کی شنوائی میں الزام لگایا کہ جیل میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، فرقہ وارانہ تبصرےکیے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ خود کو کوئی نقصان پہنچاتی ہیں، تو جیل انتظامیہ اس کی ذمہ دار ہوگی۔

فارنرس ٹربیونل، دھبری۔ (فوٹو: مسعود زمان)

آسام: سرحدی اضلاع کے فارنرس ٹربیونل میں مسلمان وکلاء کو ہٹا کر ہندوؤں کی تقرری کی گئی

مذہب کی بنیادپر فارنرس ٹربیونل کےسرکاری وکلاءکی تقرری سے پہلے ریاستی حکومت سرحدی اضلاع میں این آرسی سے باہر رہنے والے لوگوں کی شرح کو لےکر کئی بار اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔

کامروپ ضلع یں این آر سی کی حتمی فہرست کی  اشاعت کے بعد اپنا نام چیک کرتے مقامی  لوگ۔ (فوٹو پی ٹی آئی)

آسام این آر سی کا ایک سال: حتمی فہرست سے باہر ہو ئے 19 لاکھ لوگوں کا کیا ہوا

این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت کے ایک سال بعد بھی اس میں شامل نہ ہونے والےلوگوں کو آگے کی کارروائی کے لیے ضروری ریجیکشن سلپ کا انتظار ہے۔ کارروائی میں ہوئی تاخیر کے لیے تکنیکی خامیوں سے لےکر کورونا جیسے کئی اسباب بتائے جا رہے ہیں، لیکن جانکاروں کی مانیں تو بات صرف یہ نہیں ہے۔

طاہر حسین۔ (فوٹو: دی وائر/ویڈیوگریب)

دہلی پولیس کے پاس طاہر حسین کو فسادات سے جوڑ نے کا کوئی ثبوت نہیں: وکیل

گزشتہ دنوں دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ عآپ کےسابق کونسلر طاہرحسین نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں شامل ہونے کی بات قبول کرلی ہے۔حسین کے وکیل جاوید علی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کبھی اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا۔ پولیس کے پاس اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: ایل جی کے آرڈر پر پیروی کے لیے سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ سمیت چھ وکیلوں کی تقرری

دہلی سرکار نے اس سے پہلے دہلی پولیس کی جانب سے بتائے گئے وکیلوں کے ناموں کوقبول کرنے سے منع کر دیا تھا۔ایل جی انل بیجل نے سرکار کے آرڈر کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے وکیلوں کے نام کو قبول کرنے کو کہا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: جب راجدھانی تشدد کی آگ میں جل رہی تھی، تب وزیر داخلہ اور وزارت کیا کر رہے تھے؟

خصوصی مضمون: فروری کےآخری ہفتے میں شمال مشرقی دہلی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی اہم وجہوں میں سے ایک سینٹرل فورسز کو تعینات کرنے میں ہوئی تاخیرہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ تشدد25 فروری کو رات 11 بجے تک ختم ہو گیا تھا،سچ کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات : وکیلوں کی تقرری کے سلسلے میں دہلی سرکار نے پولیس کی تجویز کو خارج کیا

دہلی کابینہ کی میٹنگ میں وکیلوں کی تقرری کے سلسلےمیں دہلی پولیس کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنگا معاملے میں پولیس کی جانچ کو عدالت نے غیرجانبدارنہیں پایا ہے، اس لیے پولیس کے پینل کو منظوری دی گئی، تو معاملوں کی غیرجانبدارشنوائی نہیں ہو پائےگی۔

(فوٹو : رائٹرس)

گجرات: سی اے اے مخالف کارکن کو ’مجرمانہ سرگرمیوں‘ میں پوچھ تاچھ کے لیے سمن

احمدآباد میں سی اے اے کےخلاف مظاہرہ منعقد کرنے والے کلیم صدیقی کو پولیس نے نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے انہیں دو سال کے لیے احمدآباد سٹی سمیت چار نزدیکی اضلاع سے باہر کیوں نہیں کیا جانا چاہیے۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار گل فشاں فاطمہ کی رہائی کے لیےشہریوں  نے اپیل کی

دہلی فسادات کےسلسلےمیں گرفتار گل فشاں فاطمہ سو دن سے زیادہ عرصے سے تہاڑ جیل میں ہیں۔سول سوسائٹی کے ممبروں، ماہرین تعلیم اور قلمکاروں سمیت450 سے زیادہ لوگوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس وباکا فائدہ اٹھاکر مظاہرین کو غیر قانونی طریقےسے گرفتار کر رہی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: کیا انصاف کا گلا گھونٹنے کے لیےمرکزی حکومت ’گجرات ماڈل‘ اپنا رہی ہے؟

گجرات فسادات کے بعد کی گئی کچھ ریکارڈنگس بتاتی ہیں کہ کس طرح سنگھ پریوار کے ممبروں کی پبلک پراسیکیوٹر کے طور پرتقرری کی گئی، جنہوں نے ان معاملوں کو ‘سیٹل’ کرنے میں مدد کی، جن میں ملزم ہندو تھے۔ اب دہلی فسادات کے معاملے میں مرکزی حکومت اپنی پسند کے پبلک پراسیکیوٹر چننا چاہتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ایک ہی معاملے میں دو عرضیاں دائر کر نے پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی

دہلی ہائی کورٹ نے ایک ہی معاملے میں الگ الگ عرضیاں دائر کرنے کے لیے دہلی پولیس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی نظام کاغلط استعمال کر رہی ہےاور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔

AKI 20 July 2020.00_36_01_20.Still002

دہلی فسادات کا سچ: پولیس چارج شیٹ بنام دہلی اقلیتی کمیشن

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے جون میں عدالت میں دائر کئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نریندرمودی سرکار کو بدنام کرنے کی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس مدعے پر سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

]

دہلی تشدد: کئی کیس فری میں لڑ نے والے ایک وکیل، کیوں اٹھا رہے ہیں جانچ پر سوال؟

ویڈیو: فروری میں ہوئے دہلی فسادات سے متعلق تقریباً50 کیس وکیل عبدالغفار اکیلے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے کے لیے وہ فیس بھی نہیں لے رہے۔ دہلی فسادات میں ہو رہی جانچ اور گرفتاریوں پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ عبدالغفار کا بھی ماننا ہے کہ جانچ میں شواہد سے پہلے ایک نیریٹو سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

دہلی انتخاب کے دوران بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد فسادات ہو ئے: رپورٹ

فروری2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات پر دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی رہنما کپل مشراکی تقریر کے بعد فسادات شروع ہوئے تھے لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات میں رہنماؤں کے رول کے ثبوت نہیں: دہلی پولیس

دہلی ہائی کورٹ کے سامنے دہلی پولیس نے یہ جواب ان پی آئی ایل عرضیوں کے جواب میں دیا ہے، جن میں کپل مشرا سمیت بی جےپی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر ہیٹ اسپیچ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے کہا، ہندوؤں کی گرفتاری پر کمیونٹی میں غصہ، احتیاط برتنے کی ضرورت

دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اورگرفتاریوں کے بیچ اسپیشل پولیس کمشنر پرویر رنجن نے ایک آرڈر میں خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندو نوجوانوں کوحراست میں لیے جانے سے کمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔

HBB 1 July 2020.00_45_37_04.Still002

سی اے اے مخالف تحریک کے 200 دن بعد شہری حقوق پر حکومت کا جبر

ویڈیو: شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرہ کو ختم ہوئے 200 دن سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اس موضوع پر سماجی کارکن ہرش مندر،اسٹوڈنٹ لیڈرعمر خالد اور اوئیشی گھوش سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ’پہلے شرپسندوں  نے گھر اور دکان لوٹ لیا، اب مقدمہ واپس لینے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے‘

رواں سال فروری میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے شکار ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجرنثار احمد نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے الزام لگایا ہے کہ پولیس ان کی شکایت پر مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہے اور ملزمین کی جانب سے ان کو ڈرایا- دھمکایا جا رہا ہے۔

فروری میں ہوئےتشدد کے دوران موج پور میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات سیکورٹی فورس۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: پولیس نے چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ’فسادات کا ماسٹر مائنڈ‘ بتایا، وکیل نے کہا-پھنسایا جا رہا ہے

فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس نے مقامی عدالت میں ہزارصفحات سے زیادہ کی چارج شیٹ دائر کی ہے۔ طاہر حسین کے وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے موکل کے خلاف ایک بھی ثبوت نہیں پیش کر پائی ہے اور انہیں سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ حسین ملزم نہیں مظلوم ہیں۔

عالمی مذہبی آزادی کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیرسیم براؤن بیک(فوٹو: رائٹرس)

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بیان بازی اور حملہ شرمناک: امریکی سفیر

عالمی مذہبی آزادی کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیرسیم براؤن بیک نے دنیا بھر کی اقلیتی کمیونٹی پر کووڈ 19 کے اثرات کو لےکر کہا کہ ہندوستان میں اس دوران فرضی خبروں کی بنیاد پر مسلمانوں کےاستحصال کی کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

(فوٹو: رائٹرس)

امریکی کمیشن  نے ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والے ممالک‘ میں شامل کر نے کی سفارش کی

سال 2004 کے بعد سے یہ پہلی بار ہے کہ عالمی سطح پر آزادی مذہب پرنظر رکھنے والی امریکی کمیشن یو ایس سی آئی آر ایف نے ہندوستان کو خصوصی زمرے میں شامل کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ہندوستان نے اس کوتعصب اور جانبدارانہ بتاتے ہوئے کمیشن کے اعتراضات کو خارج کیا ہے۔

پرتیک ہجیلا۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

مدھیہ پردیش: وزیر اعلیٰ شیو راج چوہان نے پرتیک ہجیلا کو ہیلتھ چیف کے عہدے سے ہٹایا

بدھ کو ایک میٹنگ میں کورونا وائرس کا جائزہ لیتے ہوئےوزیراعلیٰ شیوراج چوہان نے ہیلتھ چیف پرتیک ہجیلا کو ہٹانے کی ہدایت دی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے ہجیلا کے مدھیہ پردیش ٹرانسفر کئے جانے سےمتعلق حکم جاری کیا تھا۔

آسام کی 10 ضلع جیلوں میں ڈٹینشن سینٹر بنائے گئے ہیں۔ گولپاڑا ضلع جیل (فوٹو : عبدالغنی)

آسام میں گزشتہ سال ڈٹینشن سینٹر میں 10 لوگوں کی موت: حکومت

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں بتایا کہ آسام کے چھے ڈٹینشن سینٹر، جہاں غیر ملکی قرار دیے گئے یا مجرم غیر ملکیوں کو رکھا جاتا ہے۔ ان میں 3331 لوگوں کو رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے حکومت نے بتایا تھا کہ گزشتہ تین سال میں آسام کے ڈٹینشن سینٹر میں 29 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

فوٹو: ٹوئٹر@tahirhussainaap

کیا طاہر حسین کے مکان پر لڑکی کے ساتھ انہونی ہوئی؟

فیک نیوز راؤنڈ اپ : دہلی فسادات کے بعد سدرشن نیوز کی ایک رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کے مکان سے رپورٹ کر رہی ہیں۔ جہاں ان کوکسی خاتون کے جلے ہوئے کپڑے، انڈر گارمنٹس، جلا ہوا پرس وغیرہ ملے ہیں۔ رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ یہاں ایک خاتون کو گھسیٹ کر لایا گیا تھا اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی پھر اس کو قریب کے نالے میں ڈال دیا گیا۔

فوٹو: رائٹرس

امریکی صحافی کو واپس بھیجنے سے متعلق  پرسار بھارتی کی خبر کو وزارت خارجہ  نے غلط بتایا

ملک کاعوامی نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے امریکہ میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے ہندوستان مخالف رویے کو لے کر وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیائی ڈپٹی بیورو چیف ایرک بیل مین کو فوری اثر سے واپس بھیجنے کی ایک اپیل کو دیکھنے کے لیے کہا ہے۔ حالانکہ وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا کہ پرسار بھارتی نے غلط جانکاری دی۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

جسٹس مرلی دھر کے تبادلے پر وکیلوں کی بین الاقوامی تنظیم  نے تشویش کا اظہار کیا

جسٹس مرلی دھر نے شمال مشرقی دہلی میں فسادات سے پہلے بی جے پی کےکچھ رہنماؤں کی جانب سے مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں کیس درج کرنے میں ناکامیاب رہنے کو لےکر دہلی پولیس کی کھینچائی کی تھی۔ اس کے اگلے دن 26 فروری کی رات کو مرکزی حکومت نے ان کا تبادلہ کر دیا تھا۔

hsFHuTQg

دہلی فسادات: اپوزیشن پارٹیوں نے عدالتی تفتیش کی مانگ کی، وزارت داخلہ اور پولیس پر سوال کھڑے کئے

اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی تشدد کے دوران وزارت داخلہ اور دہلی پولیس پر اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا اور مانگ کی کہ اس معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی جانچ کرائی جانی چاہیے۔

23 سال کے فیضان۔(سبھی فوٹو : دی وائر)

دہلی فسادات: کیا دہلی پولیس ہے فیضان کی موت کی ذمہ دار

دہلی فسادات کے دوران سامنے آئے ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر پڑے کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔زخمیوں میں سے ایک فیضان کی موت ہو چکی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا ہے کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے […]

نارتھ بلاک (فوٹو بہ شکریہ : وکی میڈیا کامنس)

سی اے اے کی فائلوں کو عام کر نے سے وزارت داخلہ کا انکار، کہا-غیر ملکی رشتے خراب ہو جائیں گے

مرکزی وزارت داخلہ نے نہ صرف بوگس کی بنیاد پر شہریت ترمیم قانون سے جڑی فائلوں کو عام کرنے سے منع کیا بلکہ اطلاع دینے کے لئے آر ٹی آئی ایکٹ،2005 میں طے شدہ مدت کی بھی خلاف ورزی کی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات: ہائی کورٹ نے اگلے حکم تک لاوارث لاشوں کی تجہیز و تکفین پر روک لگائی

دلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو سبھی سرکاری اسپتالوں کو دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں فسادات کے دوران مرنے والے سبھی لوگوں کے ڈی این اے نمونے محفوظ کرنے اور ویڈیوگرافی پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ ان فسادات میں تقریباً 53 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

Don`t copy text!