این پی اے

(فوٹو :رائٹرس)

کیاقرض وصولی اور این پی اے سے دھیان ہٹانے کے لیے 3 بینکوں کو ضم کیا جارہا ہے؟

آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن نے کہا کہ اس سے پہلے ایس بی آئی کے ساتھ پانچ معاون بینکوں کا انضمام ہوا تھا، لیکن کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ گجرات بینک ملازم یونین کا کہنا ہے کہ اس سے بےروزگاری بڑھے‌گی۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

این پی اے معاملہ : رگھو رام راجن کی رپورٹ رسوخ داروں پر سرکاری مہربانی کا دستاویز ہے

اب یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ کیا مودی حکومت ان بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے، جو آنے والے عام انتخابات میں نامعلوم انتخابی بانڈس کے سب سے بڑے خریدار ہو سکتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ : مالیا کو’مالیا‘کس نے بنایا ؟

وجے مالیا نے ہر پارٹی کی مدد سے خود کو راجیہ سبھا میں پہنچا کر ہندوستان کی پارلیامانی روایت پر احسان کیا ۔میں مالیا کا اس وجہ سے احترام کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں میں پرو-مالیا ہوں ۔کیا مالیا بہت بڑے سیاسی مفکر تھے؟ جن جن لوگوں نے ان کو پارلیامنٹ پہنچایا وہ آکر سامنے بولیں تو ون سنٹینس میں !

(فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس)

رویش کا بلاگ : NPA تنازعہ میں عوام اسی طرح الو بن رہی ہے جیسے ہندومسلم معاملے میں بنتی ہے

اگر یہ سیاسی تنازعہ کسی بھی طرح سے اقتصادی جرم کا ہے تو دس لاکھ کروڑ روپے لےکر فرار مجرموں کے نام لئے جانے چاہیے۔ کس کی حکومت میں لون دیا گیا یہ تنازعہ ہے، کس کو لون دیا گیا اس کا نام ہی نہیں ہے۔

نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ : این پی اے کو لےکریو پی اے اور این ڈی اے کی پالیسیوں کوئی فرق نہیں ہے

کچھ امیر صنعت کار اور امیر ہوتے رہے، عوام ہندو-مسلم کرتی رہی، اس لئے کانگریس بھی نہیں بتاتی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئے‌گی تو اس کی الگ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی۔ بی جے پی بھی یہ سب نہیں کرتی ہے جبکہ وہ اقتدار میں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فائل فوٹو : پی آئی بی)

رگھو رام راجن نے پی ایم او کو دی تھی این پی اے سے جڑے گھوٹالےبازوں کی فہرست، لیکن نہیں ہوئی کارروائی

پارلیامنٹ کی Estimates Committee کو بھیجے خط میں آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ان طریقوں کے بارے میں بتایا ہے جن کے ذریعے بےایمان بزنس گھرانوں کو حکومت اور بینکنگ نظام سے گھوٹالہ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی۔

فوٹو: رائٹرس

ریزرو بینک کے ذریعے این پی اے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کرنے پر پارلیامانی کمیٹی نے اٹھائے سوال

سینئر کانگریسی رہنما ایم ویرپا موئلی کی قیادت والی فنانس پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اس رپورٹ کو منظور کرلیا ہے ۔ اس کو پارلیامنٹ کے ونٹر سیشن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

مرلی منوہر جوشی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

جوشی کی قیادت والی کمیٹی نے این پی اے پر اروند سبرامنیم اور ہس مکھ ادھیا کو بھیجا سمن

سینئر بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی کی قیادت والی لوک سبھا کی Estimates Committee ہندوستان میں بیڈ لون کی مقدار اور دانستہ طورپر دیوالیہ ہونے کے معاملے کی جانچ‌کر سکتی ہے۔

فوٹو : رائٹرس

پنجاب نیشنل بینک: جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والے بڑے قرض داروں کا بقایا 15490 کروڑ روپے پہنچا

یہ وہ لوگ ہیں جن پر بینک کے  25 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کے قرض بقایا ہیں اوراہل ہونے کے باوجود انھوں نے یہ بقایا ادا نہیں کیا ہے۔ نئی دہلی: پنجاب نیشنل بینک (پی این بی )کے جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والے (ول […]

پیوش گوئل (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئے وزیر خزانہ پیوش گوئل ’بیڈ بینک‘ کاقیام کیوں چاہتےہیں؟

انڈین ریزرو بینک کے ذریعے فروری 2018 میں جاری ایک سرکلر اس کے اور نریندر مودی حکومت کے درمیان تکرار کی وجہ بن گئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ تمام بڑے کارپوریٹ گروپ،جو بینکوں سے لئے گئے قرض کی دوبارہ دائیگی کرنے میں ناکام رہتے ہیں،ان کو1اکتوبر، 2018 سے دیوالیہ کئے جانے کے پروسس میں شامل ہونا پڑے‌گا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

معیشت کے 4 ٹائروں میں سے 3 پنکچر: چدمبرم

سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ جن چار ٹائروں کی بنیاد پر معیشت کی گاڑی چلتی ہے ان میں سے تین ٹائر؛ایکسپورٹ ،نجی سرمایہ کاری اور کھپت پنکچر ہوچکے ہیں ۔یہ صورت حال مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

Photo : Reuters

رویش کا بلاگ: بینکوں کا این پی اے 1 لاکھ 40 ہزار کروڑ بڑھا، بینکر اور دیہی ڈاک ملازمین ہڑتال پر

چھوٹے فنانس بینک کا این پی اے بھی6-5 فیصد بڑھ گیا ہے۔ نوٹ بندی کے پہلے یہ ایک فیصد تھا۔ اس رپورٹ میں آہستہ سے نوٹ بندی اور قرض معافی کو وجہ بتایا گیا ہے۔ بڑے بینک ہوں یا چھوٹے بینک سب کے سب ڈوب رہے ہیں۔

فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر

رویش کا بلاگ : پیٹرول کی بڑھتی قیمت پر میڈیا چپ ہے، بولے‌گا تو گودی سے اتار‌کر سڑک پر پھینک دیا جائےگا…

پیٹرول کی قیمت ریکارڈ سطح پر ہے، پھر بھی آپ میڈیا میں اس کی خبروں کو دیکھئے تو لگے‌گا کہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ یہی دام اگر حکومت ایک روپیہ سستاکر دے تو گودی میڈیا پہلے صفحے پر چھاپے‌گا۔

Photo: Reuters

کسانوں کے مقابلے بڑے کاروباریوں پر نوگنا زیادہ این پی اے : آر ٹی آئی

آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری کے مطابق، کسانوں کا این پی اے 66176 کروڑ ہے، تو صنعتوں کا این پی اے 567148 کروڑ روپے ہے۔  کل این پی اے میں نجی بینکوں کے مقابلے سرکاری بینکوں کا این پی اے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ نئی دہلی […]