اے بی پی نیوز

ری پبلک کے ایڈیٹران چیف ارنب گوسوامی (فوٹو بشکریہ : ری پبلک ٹی وی)

نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینل کب تک ’میڈیا کی آزادی‘ کا سہارا لیتے رہیں گے ؟

جسٹس کاٹجو کی تجویز پر ٹی وی چینلس کے مالکان نے زبردست واویلا مچایا اور اسے میڈیا کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ ان کی تجویز سرد خانے میں پڑ گئی۔ مگر یہ مسئلہ اب بھی باقی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔

ری پبلک کے ایڈیٹران چیف ارنب گوسوامی (فوٹو بشکریہ : ری پبلک ٹی وی)

غلط رپورٹنگ کے لئے معافی مانگے ری پبلک ٹی وی : میڈیا ریگولیٹری باڈی

ری پبلک چینل کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی نے ایک شخص پر جنوری میں ہوئی وڈگام ایم ایل اے جگنیش میوانی کی یووا ہنکار ریلی میں چینل کی رپورٹر سے بد سلوکی کا الزام لگایا تھا، جس کو نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی نے غلط بتاتے ہوئے معافی مانگنے کو کہا ہے۔

Narendra-Modi-Amit-Shah-Media1-1200x600

نریندر مودی اور امت شاہ کیسے اور کیوں کر رہے ہیں میڈیا کی نگرانی

مانیٹرنگ کےطریقوں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مانیٹرنگ کا چہرہ مودی حکومت کی ہی دین ہے ایسا نہیں ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں مانیٹرنگ کے معنی اور مانیٹرنگ کے ذریعہ میڈیا پر نکیل کسنے کا انداز ہی سب سے اہم ہو گیا ہے۔

ماسٹراسٹروک پروگرام

اے بی پی نیوز سے استعفیٰ کی کہانی، پنیہ پرسون باجپئی کی زبانی

اپنے اس مضمون میں ماسٹراسٹروک پروگرام کے اینکررہے پنیہ پرسون باجپئی ان واقعات کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں جن کی وجہ سےاے بی پی نیوز چینل کے منیجمنٹ نے مودی حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دئے اور ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

FN 1

نوبل اکنامسٹ رچرڈ تھیلر کے ٹوئٹ اور کانگریس سے متعلق فیک نیوز

 ملک کے مختلف صوبوں میں اسمبلی انتخابات اور پھر اس کے بعد  2019 میں لوک سبھا کے انتخابات ہونے والے ہیں ۔ وقت سے پہلے ہی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر افواہوں کا بازار گرم ہے۔ اے بی پی  نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر 30 اگست 2017 […]