بچوں کا جنسی استحصال

مظفرپور کے ایک سرکاری شیلٹر ہوم میں پولیس اس مقام کی تفتیش کرتی ہوئی، جہاں ایک ریپ  متاثرہ کو مبینہ طور پر دفنایا گیا تھا(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

مظفر پور شیلٹر ہوم میں بچوں کے قتل کا کوئی ثبوت نہیں: سی بی آئی

گزشتہ چھ جنوری کو سی بی آئی نے بہار میں 17 شیلٹر ہوم کی جانچ‌کر ان میں سے 13 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ سی بی آئی نے بہار کے 25 ڈی ایم اور دیگر سرکاری ملازمین‎ کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ سی بی آئی کے مطابق، مختلف شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال اور ظلم و ستم کو روکنے میں سرکاری افسر ناکام رہے ہیں۔

فوٹو: ویکی پیڈیا

بہار: 17 شیلٹر ہوم کی جانچ‌ کے بعد 25 کلکٹر سمیت 71 افسروں پر کارروائی کی سفارش

بہار کے مظفر پور بالیکا گریہہ میں جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ریاست کے 17 شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال اور ظلم و ستم کے معاملے سامنے آئے تھے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو ان کی جانچ‌کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

2019 کی پہلی ششماہی میں بچوں سے ریپ کے 24 ہزار سے زیادہ معاملے درج ہوئے

سپریم کورٹ نے ملک میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ریپ کے معاملوں پراز خود نوٹس لیتے ہوئے اس بارے میں ہدایات تیار کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سی جے آئی کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ یہ چونکانے والا ہے کہ اس سال اب تک درج 24 ہزار سے زیادہ معاملوں میں سے صرف 6449 معاملوں میں شنوائی شروع ہوئی ہے۔

بہار کے مظفرپور واقع بالیکا گریہہ میں بچوں سے ریپ معاملے کا اہم ملزم برجیش ٹھاکر۔ (فوٹو بشکریہ : فیس بک / ٹوئٹر)

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملہ: سی بی آئی نے بتایا، بچیوں کو فحش گانوں پر نچایا، مہمانوں نے ریپ کیا

سی بی آئی نے 73 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے بالیکا گریہہ کے مالک برجیش ٹھاکر نے لڑکیوں کو کھلے کپڑے پہننے ،بھوجپوری گانوں پر ناچنے، نشہ کرنے اور مہمانوں کے ذریعے ریپ کرنے کے لیے مجبور کیا۔

علامتی تصویر، ٖفوٹو : رائٹرس

شیلٹر ہوم میں بچوں کے جنسی استحصال  سے نپٹنے کے لئے موجودہ نظام ناکافی: سپریم کورٹ

بہار کے مظفرپور کے شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر موجودہ نظام کافی ہوتا، تو مظفرپور میں جو بھی ہوا، وہ نہیں ہوتا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

چائلڈ شیلٹر ہوم کے سوشل آڈٹ کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں یوپی اور بہار کی حکومت

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال تمام ریاستوں کے چائلڈ شیلٹر ہوم کے سوشل آڈٹ کا حکم دیا تھا۔بہار اور اتر پردیش کے علاوہ ہماچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، کیرل، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور دہلی بھی سوشل آڈٹ کی مخالفت کر رہی ہے۔

Don`t copy text!