بھوک مری

Photo: PTI-Reuters

سپریم کورٹ نے تین کروڑ راشن کارڈ رد کر نے کو بے حدسنگین معاملہ بتایا، مرکز اور ریاستوں  سے مانگا جواب

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس کومتضاد معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیےکیونکہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ ہم اس پر شنوائی کریں گے۔ مرکز اور ریاستوں کو نوٹس جاری کیے جائیں جن پر چار ہفتے میں جواب دیا جائے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ 19کی وجہ سے 2030 تک ایک ارب سے زیادہ افراد انتہائی غربت کا شکار ہوسکتے ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کےمطالعے میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19کےاثرات سے نجات پانے کاعمل طویل عرصے تک چلےگا۔ کووڈ 19 ایک اہم پڑاؤ ہے اور دنیاکے رہنما ابھی جو فیصلہ لیں گے، اس سے دنیا کی سمت و رفتار بدل سکتی ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران پیدل جاتے مزدور۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ 19وبا کی وجہ سے تقریباً 13کروڑ لوگ ہو سکتے ہیں بھوک مری کا شکار: رپورٹ

اقوام متحدہ کی پانچ ایجنسیوں کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اونچی قیمتوں اور خرچ برداشت کرنے کی قوت نہ ہو پانے کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو صحت مند اور مقدی غذا نہیں مل پا رہی ہے۔کووڈ وبا کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں اور اقتصادی بحران سے بھوک مری کا سامنا کر رہی آبادی کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران پیدل جاتے مزدور۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا بحران سے اس سال 4.9 کروڑ سے زیادہ  لوگ غربت کا شکار ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ

فوڈ سکیورٹی پر ایک پالیسی جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دنیا کی 7.8 ارب آبادی کو کھلانے کے لیے کافی سے زیادہ غذا دستیاب ہے، لیکن موجودہ وقت میں 82 کروڑ سے زیادہ لوگ بھوک مری کا شکار ہیں۔ ہماراغذائی نظام ٹوٹ رہا ہے۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ 19: لفٹننٹ گورنر نے بدلا کیجریوال کا فیصلہ، دہلی میں ہوگا سب کا علاج

اتوار کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ کووڈ 19انفیکشن کے دوران دہلی کے سرکاری اور نجی اسپتال صرف دہلی کے باشندوں کاہی علاج کریں گے۔لفٹننٹ گورنر انل بیجل نے اسے پلٹتے ہوئے انتظامیہ کوہدایت دی ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ رہائش کی بنیاد پر کسی بھی مریض کو علاج کے لیے منع نہ کیا جائے۔

 (فوٹوبہ شکریہ: پی آئی بی)

وزارت صحت کورونا اسپتالوں کے بارے میں تمام جانکاریاں 15 دن کے اندر اپ لوڈ کرے: سی آئی سی

سی آئی سی نے کہا کہ اس معاملے کے حقائق اورتمام اسٹیک ہولڈرس کے ذریعے کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا سے متعلق بےحد ضروری جانکاری کو وزارت کے کسی بھی محکمہ کے ذریعے مہیا نہیں کرایا جا سکا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

کورونا کی وجہ سے 26.5 کروڑ لوگوں کے سامنے بھوک مری کا خطرہ: رپورٹ

سینٹر فار سائنس اینڈانوائرنمنٹ(سی ایس ای)کی رپورٹ کے مطابق، کووڈ 19 کی وجہ سے عالمی سطح پرغربت کی شرح میں 22 سالوں میں پہلی بار اضافہ ہوگا۔ہندوستان کی غریب آبادی میں ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ اور جڑ جا ئیں گے، جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ نے بھوک سے ہوئی اموات پر سبھی ریاستوں کو نوٹس جاری کیا

جھارکھنڈ کے سمڈیگا میں 2017 میں سنتوشی نامی 11 سالہ ایک بچی کی بھوک کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔اس بچی کی ماں اور بہن نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔فیملی کا کہنا ہے کہ آدھار سے راشن کارڈ لنک نہیں ہونے کی وجہ سے ان کی فیملی کو راشن نہیں دیا گیا تھا۔

فوٹو : رائٹرس

بھوک مری سے لڑنے میں ناکام ہندوستان، گلوبل ہنگر انڈیکس میں 117 ممالک میں 102 ویں مقام پر

2019 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان دنیا کے ان 45 ممالک میں شامل ہے، جہاں بھوک مری سنگین سطح پر ہے۔ فہرست کے مطابق، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور میانمار اس معاملے میں ہندوستان سے بہتر حالت میں ہیں۔

علامتی تصویر (فوٹو : رائٹرس)

گزشتہ سال پوری دنیا میں 11.3 کروڑ لوگوں نے کیا شدید بھوک مری کا سامنا

اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آب وہوا سے جڑی آفات اور اقتصادی اتار چڑھاؤ جیسی وجہوں سے پیدا ہوئے اشیائےخوردنی کےبحران کی وجہ سے 53 ممالک میں یہ لوگ شدید بھوک مری کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کو فوراً اشیائےخوردنی ، مقوی غذا اور ذریعہ معاش کی ضرورت ہے۔

فوٹو بشکریہ : این ڈی ٹی وی

دہلی: رپورٹ میں ہوا انکشاف بھوک سے ہی ہوئی تھی تین بچیوں کی موت

مشرقی دہلی کے منڈاولی میں گزشتہ جولائی مہینے میں تین بچیوں کی موت ہوگئی تھی ۔ بچیاں سگی بہنیں تھیں ۔ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کو کئی دنوں سے کھانا نہیں ملا تھا ۔ جانچ کے دوران بچیوں کے بدن میں کوئی زہر نہیں ملا ۔

HungerDWUrdu

دنیا بھر میں 82 کروڑ انسان بھوک اور غذائیت کی کمی کے شکار

بھوک کے تازہ ترین عالمی انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوک اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ تعداد بین الاقوامی سطح پر مسلح تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے اور بڑھی ہے۔

Don`t copy text!