بی جے پی

منورفاروقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی معاملہ: اندور پولیس نے کہا-ثبوت نہیں، اب یوپی پولیس کر رہی ہےگرفتاری کی تیاری

اس مہینے کی شروعات میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو اندور میں ہندو دیوتاؤں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پچھلے ہفتے پولیس کے ذریعے ان کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی بات کہنے کے باوجود ایک جوڈیشیل مجسٹریٹ نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی کی گرفتاری: پولیس نے کہا-ثبوت نہیں، لیکن  ضمانت عرضی خارج کی جائے

مدھیہ پردیش پولیس نے ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے سامنے ہندو دیوتاؤں کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار اسٹینڈاپ کامیڈین منور فاروقی کی ضمانت عرضی کی شنوائی میں کیس ڈائری پیش نہیں کی اور کہا کہ فاروقی کو رہا کرنے سے نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہو سکتاہے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

سری لنکا بنام کشمیر: 13ویں ترمیم اور دفعہ 370

سری لنکا کے آئین میں اس 13ویں ترمیم کو وہی حیثیت ہے، جو ہندوستانی آئین میں دفعہ 370اور 35اے کو حاصل تھی، جس کی رو سے ریاست جموں و کشمیر کو چند آئینی تحفظات حاصل تھیں۔ان دفعات کو اگست 2019میں ہندوستانیحکومت نے نہ صرف منسوخ کردیا بلکہ ریاست ہی تحلیل کردی۔ اب سری لنکا حکومت کو تامل ہند و اقلیت کے سیاسی حقوق کی پاسداری کرنے کا وعدہ یاد لانا اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت والا معاملہ لگتا ہے۔

Firozabad-MAP

یوپی: لڑکی کامذہب تبدیل کر نے کےالزام سے انکار، ناراض بھیڑ نے ملزم مسلم نوجوان کے گھر والوں کا پیچھا کیا

اتر پردیش کے فیروزآباد ضلع کے ناگلا ملا گاؤں کا معاملہ۔ لڑکی گزشتہ سال دسمبر میں ملزم مسلم نوجوان کے ساتھ گھر چھوڑکر چلی گئی تھی۔ پولیس نے لڑکی کا پتہ لگا لیا، لیکن پولیس کو ابھی نوجوان کی تلاش ہے۔ فی الحال نوجوان اور لڑکی کے گاؤں میں کشیدگی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تبدیلی مذہب کے الزام میں کیس درج ہو نے کے ایک مہینے بعد یوپی سرکار نے کہا، نہیں ملے ثبوت

الہ آباد ہائی کورٹ میں معاملے کی شنوائی کے دوران ایک حلف نامہ داخل کرکےیوپی سرکار کی جانب سے عدالت کو یہ جانکاری دی گئی۔ اتر پردیش میں تبدیلی مذہب سے متعلق قانون نافذ ہونے کے ایک دن بعد گزشتہ سال 29 نومبر کو مظفرنگر میں دو مسلمان مزدوروں کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: بریلی پولیس نے کہا جبراً تبدیلی مذہب کےمعاملے میں مسلم نوجوانوں کو پھنسایا گیا

معاملہ بریلی ضلع کا ہے، جہاں پہلی جنوری کوایک24 سالہ خاتو ن پر جبراًتبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالنے کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں پر معاملہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ میں تینوں نوجوانوں پر لگائے گئے الزام غلط پائے گئے ہیں۔

(فوٹوا سپیشل ارینجمنٹ)

مغربی بنگال: بی جے پی نے کیا تھا75 لاکھ روزگار کارڈ دینے کا اعلان، دو ہفتے بعد واپس لیا

گزشتہ13 دسمبر کو بی جے پی نے روزگار کارڈ دینے والی مہم کو شروع کرتے ہوئے پارٹی کے آئندہ اسمبلی انتخاب جیتنے پر 75 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اب اس مہم کو روک دیا گیا ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم اور سریش رانا۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

مظفرنگر فسادات: یوپی سرکار نے تین بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف کیس واپس لینے کی کارروائی شروع کی

ان ملزمین میں بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم، سریش رانا، کپل دیو شامل ہیں۔ فساد سے پہلے جاٹ کمیونٹی کے لوگوں کی جانب سے بلائی کے گئی مہاپنچایت کے سلسلے میں یہ کیس درج کیا گیا تھا۔ بی جے پی ایم ایل اےپرہیٹ اسپیچ کا الزام ہے۔

اتراکھنڈکےدواراہاٹ سے بی جے پی ایم ایل اے مہیش سنگھ نیگی۔(فوٹو بہ شکریہ:فیس بک/@ mahesh.negi.12)

اتراکھنڈ: عدالت نے دی ریپ کے ملزم بی جے پی ایم ایل اے کے ڈی این اے ٹیسٹ کی ہدایت

دواراہاٹ سے بی جے پی ایم ایل اے مہیش سنگھ نیگی پر ایک خاتون کی شکایت کی بنیادپر عدالت کے آرڈر کے بعد دہرادون پولیس نے ریپ اور دھمکی دینے کا معاملہ درج کیا تھا۔ خاتون نے اپنی بچی کی ولدیت کے تعین کو لےکر نیگی کے ڈی این اے ٹیسٹ کی مانگ کی تھی۔

عمر خالد، ٖفوٹو بہ شکریہ: فیس بک

جو عوام  آج عمر کو دہشت گرد کہہ ر ہی ہے، وہ انہی  کے لیے کام کرنا چاہتا تھا…

دہلی پولیس نے لکھا ہے کہ عمر خالد سیکولرازم کا نقاب اوڑھ کر شدت پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے۔آپ کو بھی یہی لگتا ہے تو کم سے کم یہ مطالبہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ دہلی پولیس کے افسروں کو فلم ہدایت کار بن جانا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کے اندر چھپے اداکار کو پہچان لیتے ہیں۔

کلکتہ ہائی کورٹ(فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@LexisNexisIndia)

بالغ خاتون اپنی مرضی سے شادی اور مذہب تبدیل کرے تو دخل اندازی کی ضرورت نہیں :  کلکتہ ہائی کورٹ

کلکتہ ہائی کورٹ نےایک 19سالہ لڑکی کے والد کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ پولیس کے مطابق، لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے شادی کی تھی اوروہ اپنے والد کے گھر نہیں لوٹنا چاہتی۔

یوپی پولیس( فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بین مذہبی شادی کرانے والے وکیل نے پولیس پر ہراساں کر نے کے الزام  لگائے

دہلی کے ایک وکیل نے بتایا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع واقع جلیسر کی خاتون کو ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرواکر شادی کروانے میں مدد کی تھی۔ ڈر کی وجہ سےجوڑا لاپتہ ہو گیاہے۔الزام ہے کہ ان کی تلاش میں اتر پردیش پولیس نے وکیل کی فیملی کے لگ بھگ دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

’لو جہاد‘ کے نام پر ہراسانی کے ڈر سے لڑکے-لڑکی نے کہا-لوٹ کر یوپی نہیں جا ئیں گے

اتر پردیش کے ایک مسلم نوجوان اور ہندولڑکی نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے نہ صرف ان کی فیملی بلکہ یوپی پولیس سے بھی تحفظ کی مانگ کی ہے۔ دہلی سرکار کی جانب سے تحفظ کا بھروسہ دلائے جانے کے بعد دونوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔

کنال کامرا اور رچتا تنیجہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/پی ٹی آئی/ٹوئٹر)

سپریم کورٹ نے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا اور کارٹونسٹ رچتا تنیجہ کو توہین عدالت کے نوٹس بھیجے

گزشتہ11 نومبر کواسٹینڈاپ کامیڈین کنال کامرا نےخودکشی کے لیےاکسانےکےمعاملے میں صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت کے سلسلےمیں سپریم کورٹ اور اس کے ججوں کے خلاف کئی ٹوئٹ کیے تھے۔ اسی بارے میں کارٹونسٹ رچتا تنیجہ نے بھی ٹوئٹ کیے تھے۔ اٹارنی جنرل نے دونوں کے خلاف کارروائی کی منظوری دی ہے۔

عمر خالد (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹ عمر خالد نے جیل میں طبی سہولیات نہیں ملنے کا الزام لگایا

جے این یواسٹوڈنٹ یونین کے سابق رہنما عمر خالد کو شمال-مشرقی دہلی فسادات معاملے میں گزشتہ ستمبر میں گرفتار کیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے تین دن سے دانت درد کی شکایت کے بعد بھی تہاڑ جیل انتظامیہ نے کوئی علاج مہیا نہیں کرایا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

فیس بک کی جانب سے بجرنگ دل پر کارروائی کی بات پر سیکورٹی ٹیم نے حملے کے خدشات کا اظہار کیا تھا: رپورٹ

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کی سیکورٹی ٹیم نے سوشل میڈیا کمپنی کو وارننگ دی تھی کہ اگر پلیٹ فارم سے بجرنگ دل کو بین کیا گیا، تو جوابی طور پر ممکنہ حملہ ہو سکتا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اترپردیش تبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قانون کی قانونی ’خامیاں‘ اس کے نفاذکی بدنیتی کو دکھاتی ہیں

مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کےتبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قوانین میں کہیں بھی بین مذہبی شادی کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تھا۔ ایسے میں اتر پردیش سرکار کا ایسا کوئی اختیار نہیں بنتا کہ وہ بنا کسی ثبوت یادلیل کے بین مذہبی شادیوں کو نظم و نسق کے سوال سے جوڑ دے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

یوپی پولیس نے لو جہاد کی افواہ پر مسلمان لڑکے-لڑکی کی شادی رکوائی

اتر پردیش کے کشی نگر ضلع کا معاملہ۔لڑکے نے پولیس پر پٹائی کا الزام لگایا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے لڑکے-لڑکی کو تب تک حراست میں رکھا جب تک کہ لڑکی کے بھائی نےثبوت دیتے ہوئے یہ نہیں بتایا دیا کہ دونوں پیدائش سے مسلمان ہیں اور مذہب تبدیل نہیں ہوا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

اتر پردیش: گھر والوں کی رضامندی کے باوجود لکھنؤ پولیس نے بین مذہبی شادی رکوائی

پولیس کے مطابق، ہندو یووا واہنی کے کچھ ممبروں نے شادی کو لےکر اعتراض کیا تھا۔ نئے قانون کے تحت بین مذہبی شادی کے لیے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری کر دیا گیا ہے۔ اس کی جانکاری لڑکے اور لڑکی کے اہل خانہ کو دے دی گئی ہے، انہوں نے منظوری ملنے کے بعد شادی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

Amit-Malviya-tweet

ہندوستان میں پہلی بار ٹوئٹر نے بی جے پی آئی ٹی سیل کے ٹوئٹ کو ’مینیپولیٹیڈ میڈیا‘ قرار دیا

بی جے پی آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ کے ذریعےکسانوں کے احتجاج کی ایڈیٹیڈ کلپ ٹوئٹ کیے جانے کے ایک دن بعد ٹوئٹر نے اسے ‘مینیپولیٹیڈ میڈیا’ کے طور پر نشان زد کیا ہے،جس کا مطلب ہے کہ اس ٹوئٹ میں شیئر کی گئی جانکاری سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل  کے کے  وینو گوپال۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کنال کامرا کے بعد کارٹونسٹ کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی شروع کر نے کی اجازت

اٹارنی جنرل نے سینٹری پینلس نام کے ایک ویب کامکس پیج پرشائع ایک کارٹون کو لےکر کارٹونسٹ رچتا تنیجہ کے خلاف کارروائی کو منظوری دی ہے۔اس کارٹون میں ارنب گوسوامی کی ضمانت پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کامیڈین کنال کامرا کے خلاف اسی سلسلے میں کارروائی کی اجازت دی گئی تھی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات : پولیس کے انکار کے بعد کورٹ نے ایف آئی آر درج کر کے غیر جانبدارانہ جانچ کر نے کا حکم دیا

دہلی فسادات میں ملزم ایک شخص نے اپنے پڑوسیوں کے ذریعے ان کے گھر پر حملہ کرنے کاالزام لگایا تھا۔ پولیس نے ایسا کوئی جرم ہونے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خود کو بچانے کے لیےملزم یہ الزام لگا رہا ہے۔

2307 Gondi.00_47_04_06.Still146

یوپی میں ’لو جہاد‘ آرڈیننس: ہندو مسلم شادی  پر کیا ہوگا اثر؟

ویڈیو: مبینہ لو جہاد کو لےکر اتر پردیش سرکار نے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت شادی کے لیے فریب، لالچ یا جبراًمذہب تبدیل کرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ10 سال کی قیداور جرما نے کی سزا کا اہتمام ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لو جہاد فحش پروپیگنڈہ ہے

بی جے پی لو جہاد کے راگ کو کیوں نہیں چھوڑ رہی؟وہ ہندوؤں میں خوف بٹھا رہی ہے کہ ‘ہماری’عورتوں کا استعمال کرکے ‘ودھرمی’اپنی تعداد بڑھانے کی سازش کر رہے ہیں۔ ‘ودھرمیوں’ کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ تعداد ہی طاقت ہے اور وہی برتری کی بنیاد ہے۔ اس لیے ایسی ہر شادی یا رشتے کی مخالفت کی جانی ہے، کیونکہ اس سے ‘ودھرمی’ کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

لو جہاد معاملے میں یوپی پولیس نے سونپی رپورٹ، کہا- کسی سازش یا غیرملکی فنڈنگ کے ثبوت نہیں

اتر پردیش کے کانپور شہر میں کچھ رائٹ ونگ ہندو تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ مسلم نوجوان مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادی سے کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہیں دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہا ہے اور لڑکیوں سے انہوں نے اپنی پہچان چھپا رکھی ہے۔ اس کی جانچ کے لیے کانپور رینج کے آئی جی نے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔

گنگاپور سے بی جے پی ایم ایل اے پرشانت بامب۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/prashantbumbspeaks)

مہاراشٹر: کسانوں کے فنڈ میں گھوٹالے کے الزام میں بی جے پی ایم ایل اے سمیت 16 پر معاملہ درج

اورنگ آباد ضلع کے گنگاپور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی ایم ایل اے پرشانت بامب گنگاپور کوآپریٹو شوگر مل کے چیئرمین بھی ہیں۔ الزام ہے کہ انہوں نے 15 لوگوں کے ساتھ مل کر چینی مل سے وابستہ ایک معاملے میں کسانوں کے ذریعےجمع کی گئی نو کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مبینہ طور پردیگر لوگوں کے بینک کھاتوں میں جمع کی۔

آندھرا پردیش کے بی جے پی رہنما رمیش نائیڈو نگوتھو، (فوٹو: Twitter/@Rnagothu)

آندھرا پردیش: بی جے پی رہنما نے ٹوئٹ کر کے گوڈسے کو دی سلامی، اعتراض کے بعد ہٹایا

بی جے پی رہنما رمیش نائیڈو نگوتھو نے ایک ٹوئٹ میں مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو سلامی دیتے ہوئے ‘سرزمین ہند میں پیدا ہوئےعظیم محب وطن میں سے ایک’ بتایا تھا۔شدید اعتراض اور تنقید کے بعد ٹوئٹ ہٹا لیاگیا اور نائیڈو نے کہا کہ یہ انہوں نے نہیں بلکہ ان کی سوشل میڈیا ٹیم میں سے کسی نے لکھا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نروانی اکھاڑہ کے سربراہ نے رام مندر ٹرسٹ کو ’غیر قانونی‘ بتایا، وزارت داخلہ کو لیگل نوٹس بھیجا

ایودھیا کے نروانی اکھاڑے کے سربراہ مہنت دھرم داس نے وزارت داخلہ کو نوٹس بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیرکے لیے بنا ٹرسٹ غیر قانونی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہے۔ اگر مرکزی حکومت نے عدالت کےاحکامات کے مطابق اس کی تشکیل اورریگولیشن نہیں کیاتو وہ قانون کی مدد لیں گے۔

ارندھتی رائے ، فوٹو: پی ٹی آئی

اے بی وی پی کے اعتراض کے بعد تمل ناڈو کی یونیورسٹی نے نصاب سے ارندھتی رائے کی کتاب ہٹائی

ایم سندرنر یونیورسٹی کے وی سی نے بتایا کہ انہیں اے بی وی پی سے شکایت ملی تھی کہ بی اے کے نصاب میں شامل بکر ایوارڈیافتہ ارندھتی رائے کی کتاب ‘واکنگ ود دی کامریڈس’ میں مصنفہ کے ماؤنوازعلاقوں میں جانے کو لےکر متنازعہ مواد ہے، جس کے بعد اس کونصاب سے ہٹا دیا گیا۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک@MuhammedSalih)

عمر خالد ’دہشت گرد‘ ہے کہ نہیں؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر بے قصور ہوگا تو اپنے آپ باہر آ جائےگا، ان کو میں کہہ دوں، کیوں نہ آپ کو سال بھر کے لیے جیل میں بند کر دیا جائے؟ کیوں نہ ملک کے ہر شہری کو 18سال کا ہوتے ہی سال بھر کے لیے جیل میں بند کر دیا جائے۔ ہم سب بے قصور ہیں، باہر آ ہی جائیں گے۔

خوشبو سندر نے سوموار کو نئی دہلی میں بی جے پی صدرجے پی نڈا کی موجودگی میں پارٹی کی رکنیت اخیتار کی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کانگریس سے استعفیٰ دینے کے کچھ گھنٹے بعد ہی خوشبو سندر بی جے پی میں شامل

کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد کانگریس نے خوشبو سندر کو پارٹی کےقومی ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تمل اداکارہ سندر 2014 میں کانگریس میں شامل ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ڈی ایم کے میں تھیں۔

جسٹس مدن لوکر، جسٹس اےپی شاہ، آر ایس سوڈھی، جسٹس انجنا پرکاش، جی کے پلئی اور میران چڈھا بورونکر۔

دہلی فسادات کی آزادانہ جانچ کے لیے سابق ججوں، سینئر آئی اے ایس-آئی پی ایس افسروں کی کمیٹی بنی

مرکز اورریاستی سرکاروں میں کام کر چکےسابق ملازمین کے ایک گروپ‘کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ’کے زیر اہتمام بنی اس کمیٹی کےصدر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن لوکر ہیں۔ یہ دہلی فسادات کے سلسلے میں سرکار، پولیس اور میڈیا کے رول کی بھی کی جانچ کرےگی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات: دہلی سرکار نے سات ویڈیو سونپے، دنگائیوں کے ساتھ پتھراؤ کرتی نظر آئی پولیس

دہلی سرکار کےمحکمہ داخلہ نے پانچ اکتوبر کو ایسے سات ویڈیو کلپ دہلی پولیس کو سونپے ہیں، جس میں سے کچھ میں دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران دو پولیس اہلکارمبینہ طور پر دنگائیوں کے ساتھ مل کر اینٹ اور انڈے پھینک رہے ہیں۔

دہلی پولیس اہلکاروں  کے ساتھ پولیس کمشنر ایس این شریواستو۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے جن ’سیکریٹ‘ گواہوں کی پہچان چھپانے کی بات کہی، چارج شیٹ میں دیے ان کے نام

دہلی پولیس نے کہا تھا کہ دہلی فسادات معاملے میں گواہی دینے والے 15گواہوں نے اپنی جان کو خطرہ بتایا ہے، جس کی وجہ سے عرفی ناموں کا استعمال کر کےان کی پہچان پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ حالاں کہ پچھلے دنوں دائر پولیس کی 17000صفحات کی چارج شیٹ میں ان سب کے نام پتے سمیت مکمل پہچان ظاہر کر دی گئی ہے۔

Don`t copy text!