بی جے پی

HBB 21 June.00_27_17_15.Still005

ویڈیو: ایک ملک ایک انتخاب؛ کیا آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے؟

ویڈیو: ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں ایک ملک ایک انتخاب کے مدعے پر الیکشن کمیشن کے سابق قانونی صلاح کار ایس کے میندی رتا، سوراج انڈیا پارٹی کے قومی صدر یوگیندر یادو اور دی وائر کے پالیٹیکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹو : وکی میڈیا کامنس)

رام چندر گہا کا کالم:کیا ہندوستانی کمیونسٹ پارٹیوں کا کوئی مستقبل ہے؟

لوک سبھا چناؤکے بعد مختلف کمیونسٹ پارٹیوں کو ‘متحد’ کرنے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایک نئی اور متحدہ پارٹی کے لیے ایک نئے نام کی ضرورت ہوگی۔ میرا مشورہ ہے کہ اس نئی پارٹی کے نام میں سے ‘کمیونسٹ’ کا لفظ ہٹا دیا جائے۔ اس کے بجائے اسے ‘ڈیموکریٹک سوشلسٹ’ سے منسوب کیا جائے۔ یہ لیفٹ کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔

17ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن کے لئے پارلیامنٹ  پہنچے گرداس پور سے بی جے پی کے رکن پارلیامان سنی دیول (فوٹو : پی ٹی آئی)

انتخابی خرچ کے معاملے میں بی جے پی ایم پی سنی دیول کو نوٹس

ضلع الیکشن آفیسر کے مطابق؛ گرداس پور لوک سبھا سیٹ سے نو منتخب رکن پارلیامان سنی دیول کا انتخابی خرچ شروعاتی حساب میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ پایا گیا ہے، جس کے سبب ان کو خرچ کا بیورہ دینے کو کہا گیا ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

جموں و کشمیر: بی جے پی اسمبلی حلقوں کی حدبندی کیوں کرنا چاہتی ہے؟

جموں و کشمیر کا اپنا آئین ہے اور مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے آئین میں ترمیم کے بغیر ریاست میں حدبندی نہیں کر سکتی اوریہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ کشمیر کی کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہ ہو۔وہیں لوگوں کا ماننا ہے کہ ، بی جے پی اسمبلی انتخابات سے قبل اس خطے میں اسمبلی حلقوں میں اضافہ کرکے اقتدار میں آنا چاہتی ہے ۔

فوٹو : یو ٹیوب

عارف محمدخان صاحب، شاہ بانو معاملے کے بعد بہت کچھ بدل چکا ہے

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عارف محمد خان سیکولرزم کے اپنے دقیانوسی تصور کو گلے لگائے اب بھی 1986 میں جی رہے ہیں۔ ان کا سیکولرزم انہیں شاہ بانو کے مقدمے سے آگے سوچنے ہی نہیں دیتا۔ موجودہ حالات میں مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں ان پر غور کرنے کیلئے بھی عارف محمد خان صاحب شاہ بانو مقد مے کوبنیادی حوالہ بنائے ہوئے ہیں۔

Muzaffarnagar

نوجوان کے قتل کے 6سال بعد پانچ ملزم گرفتار،اسی قتل کے بعد ہوا تھا مظفر نگر فساد

اتر پردیش کے مظفر نگر میں 27اگست 2013 کو 6 لوگوں نے شاہنواز کو چاقو مارکر قتل کردیا تھا۔ شاہنواز کے قتل اور ایک دوسرے حادثے میں دو نوجوانوں کی موت کے بعد مظفر نگر اور آس پاس کے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا، جس میں 60لوگ مارے گئے تھے اور تقریباً40000 لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

Kashmir_TW

جموں و کشمیر: مرکز میں بی جےپی کی واپسی کے بعد آئندہ اسمبلی انتخابات میں کیا ہوگا؟

ریاست میں 1996ء کے بعد سے 2014ء تک ہوئے اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ بی جے پی اپنی کارکردگی بہتر کرتی جارہی ہے۔ بی جے پی نے جموں میں ‘ہندو کارڈ’ کھیلتے ہوئے ہندو اکثریتی اضلاع جیسے ادھم پور، جموں، سانبہ، کٹھوعہ اور ریاسی میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کا تقریباً صفایا کردیا ہے۔ تاہم ان اضلاع میں کچھ علاقے جیسے نگروٹہ ہیں جہاں نیشنل کانفرنس کی پوزیشن کافی مستحکم ہے۔

نریندر مودی(فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا مودی کی واپسی سے مسلمان بے وجہ ڈرے ہوئے ہیں؟

کیا نریندر مودی یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو جس ڈر کی سیاست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں‌گے؟ اگر ان کو سنجیدگی کے ساتھ اس کے لیے کام کرنا ہے تو اس کی شروعات سنگھ پریوار سے نہیں ہونی چاہیے؟

فوٹو: بہ شکریہ ،وکی میڈیا کامنس

رام چندر گہا کا کالم: گاندھی کو دیس نکالا دے دیں گے گوڈسے بھکت

ہندوستان نے بدھ کو دیس نکالا دے دیا کیونکہ سماجی مساوات کی ان کی تعلیمات ہماری معاشرتی روایات سے میل نہیں کھاتی تھیں۔ اب بہت سے ہندوستانی مہاتما کو روانہ کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی اکثریت پسندی کے آگے مہاتما کے مذہبی ہم آہنگی والی فکر کو اپنے موافق نہیں پاتے۔

نئی دہلی واقع پارٹی صدر دفتر پر وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا بی جے پی کی واپسی نے ہندوستان کے چہرے سے ’سیکولرازم کا نقاب‘ اتار دیا ہے؟

آخر بی جے پی نے اتنی بڑی جیت کیسے درج کی؟ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق پچھلے سال اہم صوبوں کے انتخابات کے بعد یہ طے ہوگیا تھا کہ کسان اور بی جے پی کا اپنا اعلیٰ ذات کا ہندو ووٹ بینک اس سے ناراض ہے۔ دوسری طرف اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد نے بھی گھنٹی بجائی تھی۔ اس لئے ان طبقات کو را م کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے پارلیامنٹ سے ایک آئینی ترمیمی بل پاس کروایا،جس کی رو سے اقتصادی طور پر پسماندہ اعلیٰ ذاتوں کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکریوں میں نشستیں مخصوص کروائی گیئں۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

مودی حکومت کی واپسی: مسلمان فکرمند ہیں، خوفزدہ نہیں…

ہمارے لبرل صحافی اور روشن خیال دانشوران فاشزم اورکمیونلزم کے خلاف اپنی لڑائی کو مسلمانوں کے کندھوں پر رکھ کر کیوں لڑنا چا ہتے ہیں؟ ڈر کو مسلمانوں کے ساتھ کیوں چپکا دینا چاہتے ہے؟ جہاں تک مسلمانوں کے ڈر جانے کا سوال ہے تو یہ محض ایک فیک نیوز ہے۔ متھ ہے۔ اور کچھ نہیں۔ مسلمان فکر مند ضرور ہیں، خوف زدہ با لکل نہیں۔تقسیم کے بعد جن مسلمانوں نے پاکستان کو ٹھکرا دیا کم از کم ان کے بارے میں تو ایسا ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔

BJP_Reuters

بی جے پی کیسے جیتتی ہے…؟

مودی ایک ایسے قائد کے طو رپر سامنے لائے گئے جو پاکستان کو سبق دے سکتا تھا اور اعلیٰ ذات کی خواہشات کی تکمیل بھی کرسکتا تھا۔ قوم پرستی کے جذبے کو اس حد تک پروان چڑھایاگیاکہ’نوٹ بندی’ اور’جی ایس ٹی’ کے بداثرات نظر انداز کرکے لوگوں کے ووٹ بی جے پی کو گئے۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

رام چندر گہا کا کالم: کیا ہندوستان اب زیادہ ہندو راشٹر ہوتا جا رہا ہے؟

ہندوستان اب زیادہ ہندو راشٹر ہوتا جا رہا ہے۔ 2014 کے برخلاف اس بار بی جےپی نے واضح طور پر ہندوؤں کی پارٹی کے طور پر کام کیا۔مسلم مخالف بیانات، پرگیہ ٹھاکر جیسی سخت گیر ہندووادی کو ٹکٹ دینا اور وزیر اعظم کا عقیدت مند ہندو کے طور پر کیدارناتھ کے نزدیک غار میں دھیان کرنا اور اس کی تشہیر کرنا۔ زمینی حقائق سے روبرو ہونے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ کئی ووٹرس مودی کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ ان کی نظر میں وہ ہندوؤں کے تفاخر کی حفاظت کرنے والے ہیں، نیز مسلمانوں کو سبق سکھادیں گے۔

نئی دہلی واقع پارٹی صدر دفتر پر وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا بی جے پی کی جیت کو ’ہندوستان کی جیت‘کہا جا سکتا ہے؟

نریندر مودی کی جیت کا ہندوستان کے لئے کیا معنی نکلتا ہے؟ ایک حد تک یہ ان کو اور بی جے پی کو دعویٰ کرنے کا موقع دیتا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس کے تئیں عوام نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟

کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

لوک سبھا انتخابات :کیا سونیا گاندھی کنگ میکر کا رول ادا کرنے والی ہیں؟

بہت منصوبہ بند طریقے سے پورے الیکشن کے دوران یا مشترکہ محاذ بنانے کے معاملے پر سونیا خاموش رہیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ راہل کی والدہ یا کانگریس کی سابق صدر ہونے کا کوئی اثر راہل کی سیاسی سرگرمیوں پر پڑے۔ لیکن اب چناوی سرگرمیاں تھمنے کے بعد، سونیا اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نتیش کمار(فوٹو بہ شکریہ : اے این آئی)

گوڈسے والے بیان کے لئے بی جے پی پرگیہ ٹھاکر کو باہر نکالنے پر غور کرے: نتیش کمار

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا،یہ قابل مذمت ہے۔ ہم ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کریں‌گے۔ باپو راشٹرپتا ہیں اور لوگ پسند نہیں کریں‌گے اگر کوئی اس طرح سے گوڈسے کے بارے میں بات کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی(فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی جی! وہ دن ہوا ہوئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے

غنیمت ہے کہ اپنی خود ستائی اور خودنمائی میں مہارت کو رائےدہندگان کو پھانسنے کے جال کی طرح استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایئراسٹرائک پر جا رہے پائلٹوں کو رام کا نام لینے، کوئی منتر بدبدانے یا ہنومان چالیسہ پڑھنے کا مشورہ نہیں دیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

گاندھی –گوڈسے تنازعہ: مودی نے کہا-پرگیہ ٹھاکر کو میں دل سے کبھی معاف نہیں کرپاؤں گا

مالیگاؤں بم دھماکے کی ملزمہ اور بھوپال لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی امیدوار پرگیہ سنگھ نے کہا تھا کہ ناتھو رام گوڈسے دیش بھکت تھے، دیش بھکت ہیں اور رہیں‌گے۔ ان کو دہشت گرد بولنے والے لوگ اپنے گریبان میں جھانک‌کر دیکھیں، اب کی بار انتخاب میں ایسے لوگوں کو جواب دے دیا جائے‌گا۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ممتا بنرجی کا میم شیئر کرنے پر بی جے پی کارکن کی گرفتاری پہلی نظرمیں من مانی تھی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب شرما کے بھائی کے وکیل نے کورٹ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا اور کہا کہ منگل کو عدالت کے حکم کے باوجود بی جے پی کارکن کو جیل سے رہا نہیں کیا گیا۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

کیا اب مسلمان سیاسی پارٹیوں کی مجبوری نہیں ہیں؟

کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھولے سے بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔کانگریس نے تو انتخابی منشور کی رسم اجراء کی تقریب میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے قدآور لیڈروں کو بھی دوررکھا۔ بہار کی راشٹریہ جنتا دل ،جس کی پوری سیاست مسلمانوں اوریادو پر منحصر ہے اس نے بھی اپنے منشور میں ایک جگہ بھی مسلم لفظ نہیں لکھا۔

بی جے پی کارکن پرینکا شرما

ممتا بنرجی کا میم شیئر کرنے پر گرفتار بی جے پی کارکن کو سپریم کورٹ نے دی ضمانت

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا ایک میم سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے لئے بی جے پی کارکن پرینکا شرما کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے شروع میں تحریری معافی مانگنے کی شرط پر ضمانت دی لیکن کچھ دیر بعد معافی مانگنے کی شرط کو واپس لے لیا۔

فوٹو: رائٹرس

انتخابی تشہیر کے لئے نیتی آیوگ کا پی ایم او کو جانکاری  دینا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں: الیکشن کمیشن

کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم دفتر نے نیتی آیوگ سے ان مقامات کی جانکاری جمع کرنے کو کہا تھا جہاں پر وزیر اعظم مودی کا انتخابی دورہ ہونے والا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اکتوبر 2014 میں کئے گئے اہتمام کے تحت وزیر اعظم کو تشہیر کے ساتھ سرکاری سفر کرنے کی چھوٹ ہے۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

رام چندر گہا کا کالم : کیا ہندوستان ایک ہندو پاکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے؟

2019 میں بی جے پی کی مہم خصوصی طور پر ہندو اکثریت کے لیے ہے۔ پارٹی ان کے خوف اور عدم تحفظ کے احساسات کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ اسی لیے امت شاہ مسلمانوں کو ‘دیمک’ بتا چکے ہیں، آدتیہ ناتھ بجرنگ بلی کو علی کے بالمقابل کھڑا کر چکے ہیں اور مودی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ مغربی بنگال میں ہندو ‘جئے شری رام‘ کا نعرہ بھی بلند نہیں کر سکتے۔