تقسیم ہند

indo-pak-pti

امید سحر کی بات سنو…

کچھ عرصے سے ہندوستان سے بہت دکھ دیوا باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ کبھی کسی کو گائے کا گوشت کھانے پر مار دیا جاتا ہے تو کبھی کسی کشمیری مسلمان کو کرائے پر گھر دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کا نام ایک گالی بن چکا ہے کہ جس سے ذرا سا بھی مسئلہ ہو اسے پاکستان جانے کا مفت مشورہ یا یوں کہیے دھمکی دے دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی منافرت اپنے عروج پر ہے۔ اقلیتوں کے حالات ان دونوں ملکوں میں کچھ خاص اچھے نہیں۔

میگھالیہ ہائی کورٹ (فوٹو: وکی پیڈیا)

میگھالیہ ہائی کورٹ نے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنائے جانے والےاپنے متنازعہ فیصلے کو خارج کیا

10 دسمبر، 2018 کو دئے ایک فیصلے میں میگھالیہ ہائی کورٹ کے جسٹس سدیپ رنجن سین نے وزیر اعظم سے گزارش کی تھی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی، عیسائی، کھاسی، جینتیا اور گارو لوگوں کو بنا کسی سوال یا دستاویزوں کے شہریت دی جائے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ملک کو ہندو راشٹر بنائے جانے سے متعلق تبصرہ پر میگھالیہ ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ کا نوٹس

میگھالیہ ہائی کورٹ کے جسٹس ایس آر سین نے دسمبر 2018 کے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ بٹوارے کے بعد ہندوستان کو ہندوراشٹر بنایا جانا چاہیے تھا۔ اس تبصرے کو ہٹانے کو عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے سی جے آئی رنجن گگوئی کی بنچ نے ہائی کورٹ سے جواب مانگا ہے۔

میگھالیہ ہائی کورٹ۔  (فوٹو بشکریہ: وکیپیڈیا)

میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج نے اپنے ایک فیصلے میں کہا؛ ہندوستان کو ہندو راشٹر ہونا چاہیے تھا

میگھالیہ ہائی کورٹ نے وزیر اعظم سے گزارش کی ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ، جین، بدھ ، پارسی، عیسائی، کھاسی، جینتیا اور گارو لوگوں کو بنا کسی سوال یا دستاویز کےشہریت دی جائے۔

Ep 50

میڈیا بول: وزیر اعظم کی تاریخ دانی،جمہوریت اور میڈیا

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں تاریخی حقائق کا غلط استعمال اور میڈیا کے رول پر سینئر جرنلسٹ ونود کمار اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد سجاد کے ساتھ ارملیش کی بات چیت۔

Don`t copy text!