جرائم

SwachBharat

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کھلے میں قضائے حاجت سے نجات کا دعویٰ قابل اعتماد نہیں ہے

خصوصی رپورٹ: ڈیٹا بیس میں درج اطلاعات کی صداقت مشکوک ہے۔ لیکن اگر ہم حکومت کی بات مان بھی لیتے ہیں، توبھی اس علاقے میں حکومت کامظاہرہ اتنا بےداغ نہیں ہے، جتنا دعویٰ حکومت کر رہی ہے۔

Sagar-Madhya-Pradesh

مدھیہ پردیش: کھلے میں قضائے حاجت کو لے کر ڈیڑھ سالہ بچے کو لاٹھیوں سے پیٹ کر مار ڈالا، دو گرفتار

مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع کے بگس پور گاؤں کا معاملہ ہے۔گزشتہ 25 ستمبر کو بھی ریاست کے شیوپوری ضلع میں قضائے حاجت کے معاملے پر دو لوگوں نے مبینہ طور سے دو دلت بچوں کو پیٹ -ییٹ کر مار ڈالا تھا۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

جس ملک میں لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا جاتا ہے، وہاں گاندھی کو بابائے قوم نہیں کہنا چاہیے: کیرکر وردھا

کیرکر وردھانے کہا جس ملک میں گائے کا گوشت رکھنے کے لئے لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا جاتا ہے اور دانشور وں کو اپنی رائے ظاہر کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے،اس ملک کو مہاتما گاندھی کو اپنا بابائے قوم نہیں کہنا چاہیے۔

1z__KD9D

ہریانہ میں بد عنوانی کی صورت بدل گئی ہے اور جرائم بڑھتے ہی جا رہے ہیں: یوگیندر یادو

ویڈیو: یوگیندر یادو گزشتہ کئی سالوں سے ہریانہ کی سیاست پر نظر رکھتے رہے ہیں۔پہلے عام آدمی پارٹی کے رہنما کے طور پر اور بعد میں سوراج ابھیان کے قومی صدر کے طور پر انھوں نے ریاست میں تشہیر کے لیے کافی وقت گزارا ہے۔ریاست کے 22 ضلعوں میں سے 13 ضلعوں میں 9 دن کا جن سروکار ابھیان پورا کرکے لوٹے یوگیندر یادو نے ریاست کی پہلی بی جے پی حکومت ،کسانوں اور خواتین کی حالت،بے روزگاری سمیت مختلف مدعوں پر دی وائر کے ڈپٹی ایڈیٹر گورو وویک بھٹناگر سے بات کی۔

(فوٹو: رائٹرس)

ہریانہ: گڑگاؤں میں گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ریپ اور قتل، فریدآباد دوسرے نمبر پر

ہریانہ اسمبلی میں کانگریسی ممبر کرن سنگھ دلال کے سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی گئی۔ گڑگاؤں میں گزشتہ پانچ سالوں میں ریپ کے سب سے زیادہ 663 معاملے درج ہوئے جبکہ قتل کی 470 وارداتیں ہوئیں۔ گڑگاؤں اور فریدآباد میں بچوں کے ریپ کے معاملے بھی سب سے زیادہ پائے گئے۔

valsad-Map

گجرات: سرکاری پروجیکٹ پر رپورٹ کرنے کی وجہ سے صحافی پر حملہ، 1 گرفتار

یہ معاملہ گجرات کے ولساڈ کا ہے۔ الزام ہے کہ ایک تالاب کے رینوویشن پروجیکٹ کو لےکر شائع خبر سے گاؤں کا سابق سرپنچ ناراض تھا اور اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل‌کر صحافی اور ان کی فیملی پر حملہ کیا۔

مختار انصاری/ فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

بی جے پی رہنما کرشنانند رائے کے قتل معاملے میں بی ایس پی ایم ایل اے مختار انصاری بری

اتر پردیش کے محمد آباد سے بی جے پی ایم ایل اے کرشنانند رائے کا نومبر 2005 میں قتل ہو گیا تھا۔ سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ نے بدھ کو مختار انصاری سمیت سبھی ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہا کہ اگر گواہ نہیں مکرتے تو اس معاملے میں فیصلہ کچھ اور ہوتا۔

Muzaffarnagar

اتر پردیش: نابالغ دلت لڑکی کو گینگ ریپ  کے بعد زندہ جلایا، 7 کے خلاف مقدمہ درج

یہ معاملہ اتر پردیش کے مظفرنگر کا ہے۔ الزام ہے کہ ایک اینٹ بھٹہ کے مالک اور 6 دیگر لوگوں نے وہاں کام کرنے والی نابالغ دلت لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا اور ثبوت مٹانے کے لئے اس کو زندہ جلا دیا۔

فوٹو : مزمل مٹو

وادی کشمیر میں ریپ کے واقعات: کٹھوعہ سے لے کر بانڈی پورہ معاملے تک کیا کچھ بدلا ہے؟

تین سالہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پ رریپ سے قبل وادی میں ریپ اور خواتین کے خلاف دوسرے جرائم ‘خاموش جرائم’ بن کر رہ گئے تھے۔ ریپ کے خلاف عوامی حلقوں میں تب ہی کوئی آواز اٹھتی تھی جب ہندو اکثریتی خطہ جموں میں متاثرین یا ملزم کا تعلق مختلف طبقوں سے ہوتا تھا یا پھر ریپ یا جنسی زیادتی کرنے والے فورسز اہلکار ہوتے تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : رائٹرس)

ایسڈاٹیک وحشیانہ جرم، مجرم کسی طرح کی نرمی کا حق دار نہیں: سپریم کورٹ

ہماچل پردیش میں ہوئے ایک ایسڈ اٹیک کے الزام میں سزا کاٹ چکے دو مجرموں کو متاثرہ کو اضافی معاوضہ دینے کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے جرم میں کسی طرح کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔ متاثرہ کو ایسے حملے سے صدمہ پہنچا ہے اس کی بھرپائی مجرموں کو سزا دینے یا کسی بھی معاوضے سے نہیں کی جا سکتی۔

علامتی تصویر: رائٹرس

ہریانہ: ’خرید کی بہو‘ کے چلن کی ماری ایک متاثرہ کی کہانی

ہریانہ کے فریدآباد کی ایک نابالغ دلت لڑکی کا الزام ہے کہ اغوا کرنے کے بعد ڈیڑھ لاکھ روپے میں اس کاسودا کر کےجبراً شادی کروائی گئی، جس کے بعد لگاتار ریپ کیا گیا۔ پولیس میں معاملہ درج ہونے کے بعد اثر ورسوخ والے ملزم معاملہ واپس لینے کا دباؤ بنا رہے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

بہار: جرائم میں ہو رہا ہے اضافہ،یہ محض اپوزیشن کا الزام نہیں پولیس کے اعداد و شمار بھی یہی کہتے ہیں

خصوصی رپورٹ:2016 سے موازنہ کریں تو گزشتہ دو سالوں میں تقریباً ہر طرح کے سنگین جرائم میں اضافہ ہوا۔مثلاً2016 میں اوسطاً ہر مہینے 215 قتل ہوئے مگر اس کے بعد 2017 میں یہ اوسط پہلے سے بڑھ‌کر 234 ہوا اور 2018 میں یہ اوسط 250 کے اعداد و شمار کو بھی پارکر گیا۔

Don`t copy text!