جرائم

فوٹو : مزمل مٹو

وادی کشمیر میں ریپ کے واقعات: کٹھوعہ سے لے کر بانڈی پورہ معاملے تک کیا کچھ بدلا ہے؟

تین سالہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پ رریپ سے قبل وادی میں ریپ اور خواتین کے خلاف دوسرے جرائم ‘خاموش جرائم’ بن کر رہ گئے تھے۔ ریپ کے خلاف عوامی حلقوں میں تب ہی کوئی آواز اٹھتی تھی جب ہندو اکثریتی خطہ جموں میں متاثرین یا ملزم کا تعلق مختلف طبقوں سے ہوتا تھا یا پھر ریپ یا جنسی زیادتی کرنے والے فورسز اہلکار ہوتے تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : رائٹرس)

ایسڈاٹیک وحشیانہ جرم، مجرم کسی طرح کی نرمی کا حق دار نہیں: سپریم کورٹ

ہماچل پردیش میں ہوئے ایک ایسڈ اٹیک کے الزام میں سزا کاٹ چکے دو مجرموں کو متاثرہ کو اضافی معاوضہ دینے کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے جرم میں کسی طرح کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔ متاثرہ کو ایسے حملے سے صدمہ پہنچا ہے اس کی بھرپائی مجرموں کو سزا دینے یا کسی بھی معاوضے سے نہیں کی جا سکتی۔

maxresdefault-2

ویڈیو: ’جتنا تنوع ملک میں ہے، اتنا ہی عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں بھی ہے‘

ہندوستان میں عورتوں کے خلاف جرائم پر لمبے وقتوں سے رپورٹنگ اور ریپ کے معاملوں پر- نو نیشن فار وومین کتاب لکھنے والی صحافی اور مصنفہ پرینکا دوبے سے میناکشی تیواری کی بات چیت ۔

علامتی تصویر: رائٹرس

ہریانہ: ’خرید کی بہو‘ کے چلن کی ماری ایک متاثرہ کی کہانی

ہریانہ کے فریدآباد کی ایک نابالغ دلت لڑکی کا الزام ہے کہ اغوا کرنے کے بعد ڈیڑھ لاکھ روپے میں اس کاسودا کر کےجبراً شادی کروائی گئی، جس کے بعد لگاتار ریپ کیا گیا۔ پولیس میں معاملہ درج ہونے کے بعد اثر ورسوخ والے ملزم معاملہ واپس لینے کا دباؤ بنا رہے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

بہار: جرائم میں ہو رہا ہے اضافہ،یہ محض اپوزیشن کا الزام نہیں پولیس کے اعداد و شمار بھی یہی کہتے ہیں

خصوصی رپورٹ:2016 سے موازنہ کریں تو گزشتہ دو سالوں میں تقریباً ہر طرح کے سنگین جرائم میں اضافہ ہوا۔مثلاً2016 میں اوسطاً ہر مہینے 215 قتل ہوئے مگر اس کے بعد 2017 میں یہ اوسط پہلے سے بڑھ‌کر 234 ہوا اور 2018 میں یہ اوسط 250 کے اعداد و شمار کو بھی پارکر گیا۔