جعفرآباد

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات کی جانچ کو لے کر کئی بار پولیس پر سوال اٹھانے والے ایڈیشنل سیشن جج کا تبادلہ

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو دہلی کےکڑکڑڈوما ضلع عدالت میں دنگوں سے متعلق کئی معاملوں کی شنوائی کر رہے تھے۔ ان کاتبادلہ نئی دہلی ضلع کےراؤز ایونیو عدالت میں خصوصی جج (پی سی قانون) (سی بی آئی)کے طور پر کیا گیا ہے۔جسٹس یادو نے دہلی دنگوں کو لےکر پولیس کی جانچ کو لےکر سوال اٹھاتے ہوئے کئی بار اس کی سرزنش کر چکے ہیں۔ انہوں نے اکثر معاملوں میں جانچ کے معیار کو گھٹیا بتایا تھا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: متضاد بیانات پر عدالت نے کہا-حلف اٹھا کر جھوٹی گواہی دے رہے پولیس گواہ

دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے فسادات سےمتعلق ایک معاملے کو سنتے ہوئے کہا کہ پولیس گواہوں میں سے ایک حلف لےکر غلط بیان دے رہا ہے۔کورٹ نے ایسا تب کہا جب ایک پولیس اہلکار نے تین مبینہ دنگائیوں کی پہچان کی لیکن ایک اور افسر نے کہا کہ جانچ کے دوران ملزمین کی پہچان نہیں ہو سکی۔ یہ پہلی بار نہیں ہیں جب عدالت نے دہلی دنگوں کے معاملے میں پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات پل بھر میں نہیں ہوئے، منصوبہ بند سازش تھی: ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ فروری2020 میں ملک کی قومی راجدھانی کو ہلا دینے والے فسادات واضح طور پرپل بھر میں نہیں ہوئے اور ویڈیوفوٹیج میں موجود مظاہرین کے طرزعمل سے یہ صاف پتہ چلتا ہے۔یہ حکومت کے کام کاج میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ شہر میں لوگوں کی عام زندگی کو متاثرکرنے کے لیے سوچی سمجھی کوشش تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: زخمی نوجوانوں کو قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کی پہچان

گزشتہ سال دنگوں کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا،جس میں زخمی حالت میں پانچ نوجوان زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکارنوجوانوں کو گھیرکرقومی ترانہ گانے کے لیےمجبورکرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئےنظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی، جس کی پہچان 23 سال کے فیضان کے طورپر ہوتی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا تھا کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے پیٹے جانے اور وقت پر علاج نہ ملنے سے ان کی جان گئی۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: مسلم نوجوان کے قتل معاملے میں سات لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد

گزشتہ سال 25 فروری کو 18سالہ مونس اپنےوالد سے مل کر اور مٹھائیاں لےکر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ تبھی دنگے بھڑک گئے۔ جب وہ دہلی کے یمنا بس اسٹینڈ پر اترا تو اس نے دنگوں کو بھڑکتے دیکھا۔ مشتعل بھیڑ نے اس کے مسلم ہونے کا پتہ چلنے کے بعد لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں سے پیٹ پیٹ کر اس کی جان لے لی۔

موج پور لال بتی کے قریب ڈی سی پی(نارتھ-ایسٹ)وید پرکاش سوریہ کےساتھ بی جے پی رہنما کپل مشرا(فوٹو : ویڈیو اسکرین گریب/ٹوئٹر)

دہلی فسادات: کپل مشرا کے ساتھ ویڈیو میں موجود پولیس افسر نے ڈیوٹی کے لیے مانگا بہادری میڈل

فروری2020 میں موج پور میں سی اے اےکی حمایت میں بی جے پی رہنما کپل مشرانے متنازعہ بیان دیا تھا۔ اس دوران شمال-مشرقی دہلی کےاس وقت کے ڈی ایس پی وید پرکاش سوریہ ان کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔ اب سوریہ اور ان کے ساتھ تقریباً 25 پولیس افسروں نے دہلی فسادات میں اپنی غیرمعمولی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے میڈل کے لیےاپنے نام بھیجےہیں۔

والد مہاویر نروال کے ساتھ نتاشا نروال۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات: والد کی کووڈ 19 سے موت کے بعد نتاشا نروال کو کچھ شرطوں کے ساتھ ملی ضمانت

دہلی ہائی کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ دہلی فسادات کےمعاملے میں گرفتار کی گئیں نتاشا نروال کی فیملی میں آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے کوئی نہیں ہے۔ پچھلے سال 22 فروری 2020 کو دہلی کے جعفرآبادمیٹرو اسٹیشن کے باہرشہریت قانون کے خلاف ہوئے ایک احتجاج میں حصہ لینے پر 23 مئی2020 کو نروال کو ان کی ایک ساتھی دیوانگنا کلیتا کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

فوٹو: ویڈٰیو اسکرین گریب

دہلی فسادات: پولیس کا دعویٰ-’قومی ترانہ والے ویڈیو‘ میں موجود نوجوان کی حراست کے وقت  تھانے کا کیمرہ خراب تھا

گزشتہ سال دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں کچھ پولیس والے پانچ مسلم نوجوانوں کو پیٹتے ہوئے انہیں قومی ترانہ گانے کو مجبور کررہے تھے۔ بعد میں ان میں سے ایک 23 سالہ فیضان کی موت ہو گئی تھی۔ فیضان کی ماں نے پولیس اہلکاروں پر حراست میں قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انصاف کی فریاد کی ہے۔

یتی نرسنہانند کے ساتھ مرکزی وزیر گریراج سنگھ۔ بیچ میں بی جے پی کے بی ایل شرما ہیں اور پیچھے سفید قمیص اور گمچھے میں یتی کا قریبی اور 'ہندو فورس'کا بانی دیپک سنگھ ہندو۔

دہلی فسادات سے ٹھیک پہلے شدت پسند ہندوتوادی رہنما نے لگاتار مسلمانوں کے ’قتل عام‘ کی اپیل کی تھی

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند ہندوتوادی رہنمایتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

AKI MOno 1 MARCH.00_35_41_03.Still010

دہلی فسادات: موج پور کے دکانداروں کو نقصان کے مقابلے بہت کم معاوضہ ملا

گراؤنڈ رپورٹ: شمال – مشرقی دہلی کے موج پور علاقے میں پچھلے سال ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران تمام دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جتنے نقصان کا دعویٰ کیا تھا، اس سے کافی کم معاوضہ انہیں دیا گیا۔

راگنی تیواری، دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری۔

دہلی فسادات کی اصل سازش؛ جس کو پولیس نے نظر انداز کیا

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: حکومت کی یقین دہانی کے بعد متاثرین کو ملا 10 فیصدی سے بھی کم معاوضہ

گراؤنڈ رپورٹ:شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے دنگوں میں متاثرہ موج پور،اشوک نگر جیسے علاقوں کے55 دکانداروں نے نقصان کی بھرپائی کے لیےکل 3.71 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن دہلی سرکار نے اس میں سے 36.82 لاکھ روپے کی ہی ادائیگی کی ہے۔ جودعوے کے مقابلے9.91 فیصدی ہی ہے۔

Kapil Mishra Final Interview 23 Feb.00_53_44_15.Still002

’ گولی مارو‘ نعرہ لگانے میں کوئی حرج نہیں: بی جے پی رہنما کپل مشرا

ویڈیو: گزشتہ سال 23 فروری کو کپل مشرا نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا، جس میں وہ دہلی کے موج پور ٹریفک سگنل کے پاس سی اے اے کی حمایت میں جمع بھیڑ کوخطاب کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے اگلے دن راجدھانی دہلی کے کچھ علاقوں میں فرقہ وارانہ تشددبرپا ہوا تھا۔ دی وائر کے اجئے آشیرواد اور عصمت آرا کی ان سے بات چیت۔

موج پور لال بتی کے قریب ڈی سی پی(نارتھ-ایسٹ)وید پرکاش سوریہ کےساتھ بی جے پی رہنما کپل مشرا(فوٹو : ویڈیو اسکرین گریب/ٹوئٹر)

دہلی فسادات: متنازعہ تقریر پر کپل مشرا نے کہا-سڑکیں بند کی گئیں تو پھر سے ایسا کروں گا

بی جے پی رہنما کپل مشرانے یہ بیان‘دہلی رائٹس2020:د ی ان ٹولڈ اسٹوری’نام کی کتاب کے رسم اجراکے موقع پر دیا۔ مشرا نے کہا کہ جب بھی سڑکیں بند کی جائیں گی اور لوگوں کو کام پر یا بچوں کو اسکول جانے سے روکا جائےگا تو اس کو روکنے کے لیے وہاں ہمیشہ کپل مشرا ہوگا۔

جے سی سی کی جانب سےجاری سی سی ٹی وی فوٹجد مں  پولسض اہلکار لائبریری مںھ بٹھے  طلبا کو لاٹھی سے مارتے دکھ رہے تھے۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر/ویڈیوگریب)

جامعہ تشدد: پولیس پر ایف آئی آر کی عرضی خارج، عدالت نے کہا-سرکاری ڈیوٹی تھی

دسمبر2019 میں سی اے اے کے خلاف ایک احتجاج میں ہوئے جھڑپ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یونیورسٹی نے بنا اجازت کیمپس داخل ہونے اور طلباا ورسکیورٹی گارڈز پر حملے کے الزام میں پولیس پر ایف آئی آر درج کرنے کی عرضی دائر کی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات:  قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے گئے نوجوان کی موت کی جانچ کی مانگ کو لے کر عرضی

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی دنگے کے دوران 23 سالہ فیضان کی موت کے معاملے میں عدالت کی نگرانی میں جانچ کی مانگ سےمتعلق عرضی پر دہلی سرکار اور کرائم برانچ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دنگوں کے دوران ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر فیضان سمیت کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔ فیضان کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔

2307 Gondi.00_12_44_11.Still215

سی اے اے کی مخالفت کیوں ضروری تھی اور ہے؟

ویڈیو: حکومت ہند کی جانب سے لائے گئے شہریت قانون کی مخالفت11دسمبر 2019 سے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شروع ہوئی تھی۔ اس قانون کے پاس کیے جانے اور اس کی مخالفت کے ایک سال مکمل ہونے پر تحریک کی ضرورت اوراہمیت پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

WhatsApp Image 2020-12-15 at 14.44.35

جامعہ تشدد کا ایک سال: ’پولیس کی بربریت کو بھول پانا آسان نہیں‘

ویڈیو:گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں ، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں کی گئی توڑ پھوڑ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

جامعہ تشدد کے ایک سال بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں، اب امید بھی نہیں: وی سی

گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

عمر خالد، ڈونالڈ ٹرمپ اور کپل مشرا(فوٹو:رائٹرس/فیس بک)

دہلی فسادات: ٹرمپ کرونالوجی میں  ہوئی فاش غلطی کے بعد دہلی پولیس کا یو ٹرن

دہلی فسادات کے معاملے میں دائر ایک چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 8 جنوری کو منعقد ایک میٹنگ میں ٹرمپ کے ہندوستان دورے کےوقت تشدد کامنصوبہ بنایا گیاتھا۔ پچھلے دنوں ایک دوسری چارج شیٹ میں پولیس نے اس کو ہٹاتے ہوئے کہا ہے کہ سی اے اےمخالف مظاہرہ2019کے عام انتخابات میں بی جے پی کی جیت سے کھوئی زمین پانے کے لیے بڑے پیمانےپرفسادات کروانے کی‘دہشت گردانہ سازش’کا حصہ تھے۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات: گرفتار جامعہ اسٹوڈنٹ نے تہاڑ جیل کے اہلکاروں پرذہنی ہراسانی کے الزام لگائے

دہلی تشددسے جڑے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار اسٹوڈنٹ گل فشا ں فاطمہ نے مقامی عدالت کی شنوائی میں الزام لگایا کہ جیل میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، فرقہ وارانہ تبصرےکیے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ خود کو کوئی نقصان پہنچاتی ہیں، تو جیل انتظامیہ اس کی ذمہ دار ہوگی۔

موج پور لال بتی کے قریب ڈی سی پی(نارتھ-ایسٹ)وید پرکاش سوریہ کےساتھ بی جے پی رہنما کپل مشرا(فوٹو : ویڈیو اسکرین گریب/ٹوئٹر)

دہلی فسادات: کپل مشرا کا دعویٰ کوئی ہیٹ اسپیچ نہیں دیا، صرف مظاہرہ کی بات کہی تھی

بی جے پی رہنما کپل مشرا کا دہلی فسادات سے ایک دن پہلے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا، جس میں وہ ایک ڈی ایس پی کے بغل میں کھڑے ہوکر دہلی پولیس کو الٹی میٹم دیتے ہوئے تین دنوں کے اندرجعفرآباد اور چاندباغ کی سڑکیں خالی کرانےکو کہہ رہے تھے۔ ایسا نہیں ہونے پر سڑکوں پر اترنے کی بات کہی تھی۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار گل فشاں فاطمہ کی رہائی کے لیےشہریوں  نے اپیل کی

دہلی فسادات کےسلسلےمیں گرفتار گل فشاں فاطمہ سو دن سے زیادہ عرصے سے تہاڑ جیل میں ہیں۔سول سوسائٹی کے ممبروں، ماہرین تعلیم اور قلمکاروں سمیت450 سے زیادہ لوگوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس وباکا فائدہ اٹھاکر مظاہرین کو غیر قانونی طریقےسے گرفتار کر رہی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: کیا انصاف کا گلا گھونٹنے کے لیےمرکزی حکومت ’گجرات ماڈل‘ اپنا رہی ہے؟

گجرات فسادات کے بعد کی گئی کچھ ریکارڈنگس بتاتی ہیں کہ کس طرح سنگھ پریوار کے ممبروں کی پبلک پراسیکیوٹر کے طور پرتقرری کی گئی، جنہوں نے ان معاملوں کو ‘سیٹل’ کرنے میں مدد کی، جن میں ملزم ہندو تھے۔ اب دہلی فسادات کے معاملے میں مرکزی حکومت اپنی پسند کے پبلک پراسیکیوٹر چننا چاہتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ایک ہی معاملے میں دو عرضیاں دائر کر نے پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی

دہلی ہائی کورٹ نے ایک ہی معاملے میں الگ الگ عرضیاں دائر کرنے کے لیے دہلی پولیس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی نظام کاغلط استعمال کر رہی ہےاور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات میں رہنماؤں کے رول کے ثبوت نہیں: دہلی پولیس

دہلی ہائی کورٹ کے سامنے دہلی پولیس نے یہ جواب ان پی آئی ایل عرضیوں کے جواب میں دیا ہے، جن میں کپل مشرا سمیت بی جےپی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر ہیٹ اسپیچ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے کہا، ہندوؤں کی گرفتاری پر کمیونٹی میں غصہ، احتیاط برتنے کی ضرورت

دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اورگرفتاریوں کے بیچ اسپیشل پولیس کمشنر پرویر رنجن نے ایک آرڈر میں خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندو نوجوانوں کوحراست میں لیے جانے سے کمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ’پہلے شرپسندوں  نے گھر اور دکان لوٹ لیا، اب مقدمہ واپس لینے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے‘

رواں سال فروری میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے شکار ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجرنثار احمد نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے الزام لگایا ہے کہ پولیس ان کی شکایت پر مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہے اور ملزمین کی جانب سے ان کو ڈرایا- دھمکایا جا رہا ہے۔

فروری میں ہوئےتشدد کے دوران موج پور میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات سیکورٹی فورس۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی: پولیس نے چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ’فسادات کا ماسٹر مائنڈ‘ بتایا، وکیل نے کہا-پھنسایا جا رہا ہے

فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس نے مقامی عدالت میں ہزارصفحات سے زیادہ کی چارج شیٹ دائر کی ہے۔ طاہر حسین کے وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے موکل کے خلاف ایک بھی ثبوت نہیں پیش کر پائی ہے اور انہیں سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ حسین ملزم نہیں مظلوم ہیں۔

فوٹو: ٹوئٹر@tahirhussainaap

کیا طاہر حسین کے مکان پر لڑکی کے ساتھ انہونی ہوئی؟

فیک نیوز راؤنڈ اپ : دہلی فسادات کے بعد سدرشن نیوز کی ایک رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کے مکان سے رپورٹ کر رہی ہیں۔ جہاں ان کوکسی خاتون کے جلے ہوئے کپڑے، انڈر گارمنٹس، جلا ہوا پرس وغیرہ ملے ہیں۔ رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ یہاں ایک خاتون کو گھسیٹ کر لایا گیا تھا اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی پھر اس کو قریب کے نالے میں ڈال دیا گیا۔

فوٹو: رائٹرس

امریکی صحافی کو واپس بھیجنے سے متعلق  پرسار بھارتی کی خبر کو وزارت خارجہ  نے غلط بتایا

ملک کاعوامی نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے امریکہ میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے ہندوستان مخالف رویے کو لے کر وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیائی ڈپٹی بیورو چیف ایرک بیل مین کو فوری اثر سے واپس بھیجنے کی ایک اپیل کو دیکھنے کے لیے کہا ہے۔ حالانکہ وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا کہ پرسار بھارتی نے غلط جانکاری دی۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

جسٹس مرلی دھر کے تبادلے پر وکیلوں کی بین الاقوامی تنظیم  نے تشویش کا اظہار کیا

جسٹس مرلی دھر نے شمال مشرقی دہلی میں فسادات سے پہلے بی جے پی کےکچھ رہنماؤں کی جانب سے مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں کیس درج کرنے میں ناکامیاب رہنے کو لےکر دہلی پولیس کی کھینچائی کی تھی۔ اس کے اگلے دن 26 فروری کی رات کو مرکزی حکومت نے ان کا تبادلہ کر دیا تھا۔

hsFHuTQg

دہلی فسادات: اپوزیشن پارٹیوں نے عدالتی تفتیش کی مانگ کی، وزارت داخلہ اور پولیس پر سوال کھڑے کئے

اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی تشدد کے دوران وزارت داخلہ اور دہلی پولیس پر اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا اور مانگ کی کہ اس معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی جانچ کرائی جانی چاہیے۔

23 سال کے فیضان۔(سبھی فوٹو : دی وائر)

دہلی فسادات: کیا دہلی پولیس ہے فیضان کی موت کی ذمہ دار

دہلی فسادات کے دوران سامنے آئے ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر پڑے کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔زخمیوں میں سے ایک فیضان کی موت ہو چکی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا ہے کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے […]

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات: ہائی کورٹ نے اگلے حکم تک لاوارث لاشوں کی تجہیز و تکفین پر روک لگائی

دلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو سبھی سرکاری اسپتالوں کو دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں فسادات کے دوران مرنے والے سبھی لوگوں کے ڈی این اے نمونے محفوظ کرنے اور ویڈیوگرافی پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ ان فسادات میں تقریباً 53 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

Don`t copy text!