جموں و کشمیر

بھارت ایکتا ریلی کے دوران گجرات کے وزیراعلیٰ وجئے روپانی (فوٹو : فیس بک)

گجرات: یونیورسٹی نے طلبا سے 370 ختم ہونے کی حمایت والی ریلی میں شامل ہونے کو کہا

گجرات کے وڈودرا واقع ایم ایس یونیورسٹی کا ہےمعاملہ۔ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ایک بی جے پی ممبر نے کہا کہ ہم نے طلبا اور ملازمین‎ سے اپنی مرضی سے ریلی میں شامل ہونے کو کہا ہے، کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی گئی۔

فوٹو: پی آئی بی

احمد آباد: اسکولوں کوسرکلر جاری –پی ایم مودی کے یوم پیدائش پر آرٹیکل 370  پر کریں پروگرام

ضلع ایجوکیشن افسر راکیش ویاس نے بتایا کہ اس کا مقصد طلبا کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے بارے میں بتانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ،ہمیں کسی ایک دن اس کوکرنا تھا اس لیے وزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش کو اس کے لیے منتخب کیا گیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

اترپردیش کی جیلوں میں بند تقریباً 300 کشمیری دوسرے قیدیوں سے الگ بیرکوں میں رکھے گئے

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد حراست میں لیے گئے 285 لوگوں کو اتر پردیش کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا ہے ۔ آگر ہ سینٹرل جیل میں 1933 قیدیوں میں 85 کشمیری قیدی ہیں حالاں کہ جیل کی صلاحیت محض 1350 کی ہے۔

جموں و کشمیر ڈی جی پی دلباغ سنگھ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر / جموں و کشمیر پولیس)

پانچ میں سے ایک کو حراست میں رکھتے ہیں، کچھ سو لوگ ہی حراست میں: جموں و کشمیر ڈی جی پی

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے ایک مہینے بعد ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے کہا کہ اگر کچھ پابندیوں سے آپ کسی کی زندگی بچا سکتے ہیں تو اس سے اچھا کیا ہو سکتا ہے؟ لوگ زندگی کے ساتھ آزادی کی بات کہتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ زندگی پہلے آتی ہے، آزادی بعد میں۔

فوٹو: رائٹرس

مدھیہ پردیش: آرٹیکل 370 ہٹانے پر لکھی کتاب بیچنے والے سی پی آئی ایم رہنما کے خلاف معاملہ درج

یہ معاملہ مدھیہ پردیش کے گوالیار کا ہے ۔سی پی ایم رہنما شیخ عبدل غنی’ دھارا 370:سیتو یا سرنگ‘نامی کتاب بیچ رہے تھے۔ جس کے مصنف مدھیہ پردیش کی سی پی آئی ایم یونٹ کے چیف جسوندر سنگھ ہیں۔

شہلا رشید، فوٹو: پی ٹی آئی

فوج کے خلاف مبینہ بیان کو لےکر شہلا رشید پر سیڈیشن کا معاملہ درج

جموں و کشمیر پیپلس موومنٹ کی رہنما شہلا رشید نے گزشتہ مہینے کشمیر میں ہندوستانی فوج پر اذیت رسانی کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ کے ایک وکیل کی شکایت پر دہلی پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

ششی کانت سینتھل (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

کرناٹک: آئی اے ایس افسر کا استعفیٰ، کہا-جمہوریت سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے

کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع‎ کے ڈپٹی کمشنر ششی کانت سینتھل نے کہا کہ ایسے وقت میں جب غیر معمولی طریقے سے جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے، ایسے میں ان کا ایڈمنسٹریٹواہلکار کے طور پر حکومت میں بنے رہنا غیراخلاقی ہوگا۔

التجا مفتی اور محبوبہ مفتی (فوٹو: پی ٹی آئی/فیس بک)

سپریم کورٹ نے محبوبہ مفتی کی بیٹی کو ان سے ملنے کی اجازت دی

جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو 5 اگست سے سرینگر کے چشم شاہی ہٹ کی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اپنی عرضی میں، محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا تھا کہ وہ اپنی ماں کی صحت کے بارے میں فکرمند ہے کیونکہ وہ ان سے ایک مہینے سے نہیں ملی ہیں۔

Cricket-Bat_PTI

آرٹیکل 370: کشمیر میں موجود غیر کشمیری مزدور کیا سوچتے ہیں؟

گراؤنڈ رپورٹ : ایک مزدور کا کہنا تھاکہ،اگر دفعہ 370 ہٹانا اور ریاست کی تقسیم کا فیصلہ کشمیریوں کے حق میں ہوتا تو یہاں حالات اس قدر ابتر نہیں ہوتے۔ مواصلاتی خدمات پر پابندی عائد نہیں ہوتی۔ ہر جمعہ کو کرفیو نہیں لگایا جاتا۔ اسکول، دفاتر اور بینک بند نہیں ہوتے۔ سڑکوں پر اتنے فورسز اہلکار تعینات نہیں ہوتے۔

Kashmir PCO Story 6.00_16_57_18.Still002

گراؤنڈ رپورٹ: 5 جی کے زمانے میں کشمیر میں فون بھی میسر نہیں

ویڈیو:جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد وہاں پر موبائل اور انٹرنیٹ خدمات پر روک لگی ہوئی ہے۔ 4 ہفتے گزر جانے کے بعد بھی ان خدمات کو بحال نہیں کیا گیا ہے۔اس مدعے پر کشمیریوں سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

AKI Kashmir Story 1.00_20_19_05.Still002

گراؤنڈ رپورٹ: ’جئے ہند سے جیل‘، کشمیری رہنماؤں کا سفر

ویڈیو: جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد وہاں تمام رہنماؤں کو حراست میں رکھا گیا ہے ۔ دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے سرینگر واقع سینٹور ہوٹل میں نظربند سجاد لون ، عمران انصاری ،عمر عبداللہ کے صلاح کار تنویر صادق اور شاہ فیصل سے بات چیت کی ۔

فوٹو : رائٹرس

آرٹیکل 370: حکومت نے کشمیریوں کے زخم پر مرہم کی جگہ نمک رگڑ دیا ہے

سرینگر سے گراؤنڈ رپورٹ : مین اسٹریم میڈیا میں آ رہی کشمیر کی خبروں میں سے 90 فیصد جھوٹی ہیں۔ کشمیر کے حالات معمولی مظاہرہ تک محدود نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں کوئی سڑکوں پر ساتھ مل‌کر بریانی کھا رہا ہے۔

نذیر احمد رونگا(فوٹو : فیس بک)

رائے دہندگی کے لیےآمادہ کرنے والے کشمیری وکیل مظاہرہ کے خوف سے حراست میں

کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نذیر احمد رونگا کو خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے سے ایک دن پہلے 4 اگست کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ وہ اس فیصلے کو لےکرلوگوں کو متاثر کر سکتے تھے۔

جموں و کشمیر کے رگھوناتھ بازار میں تعینات سی آر پی ایف کا جوان(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر: فوج پر عوام کو ٹارچر کرنے کا الزام، فوج نے کیا انکار

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے کچھ گاؤں میں لوگوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر مارپیٹ اور شدید طور پر ٹارچر کرنے کے الزامات لگائے ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ انھیں لاٹھیوں اور بھاری تاروں سے مارا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔فوج کا کہنا ہے کہ ان کو ایسے کسی واقعے کا علم نہیں ہے۔

سرینگر کے ایک گھر میں سکیورٹی اہلکاروں  کی پیلیٹ گن سے زخمی ایک آدمی (فوٹو : رائٹرس)

پانچ اگست کے بعد کشمیر میں پیلیٹ سے 36 لوگ زخمی ہوئے : رپورٹ

ریاست سے آرٹیکل 370 ہٹانے اور دو یونین ٹریٹری میں باٹنے کے بعد سے حالات معمول پر نہیں ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ پیلیٹ سے زخمی 36 لوگوں میں سے 8 بند کے پہلے ہفتے میں زخمی ہوئے تھے۔ اس دوران پتھربازی کے 200 واقعات ہوئے۔

جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک (فوٹو : پی ٹی آئی)

انتخاب میں لوگوں سے کہہ دیں‌گے کہ یہ 370 کے حمایتی ہیں، تو لوگ جوتوں سے ماریں‌گے: ستیہ پال ملک

جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور فون خدمات بند کرنے پر گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ دہشت گردوں اور پاکستان کے لئے یہ زیادہ مفید ہے۔ اس کا استعمال جھوٹ پھیلانے اور ورغلانے کے لئے کیا جاتا ہے۔

ایم ایچ آر ڈی منسٹر  پرکاش جاویڈکر (فوٹو : پی ٹی آئی)

کسی سے رابطہ نہ کر پانا یا کمیونی کیشن کا کوئی ذریعہ نہ ہونا سب سے بڑی سزا: پرکاش جاویڈکر

دہلی میں ایک پروگرام میں انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ منسٹر پرکاش جاویڈکر نے کہا،’کسی سے رابطہ نہ ہو،کسی سے بات نہ کر سکتے ہوں اور آپ کے پاس کمیونی کیشن کا کوئی ذریعہ نہ ہو،یہ سب سے بڑی سزا ہو سکتی ہے۔‘

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

اشتعال انگیز تقریر کرنے کی وجہ سے شاہ فیصل کو حراست میں لیا گیا: جموں و کشمیر انتظامیہ

راج بھون کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی آدمی کو حراست میں لئے جانے یا رہا کئے جانے میں جموں و کشمیر کے گورنر شامل نہیں ہیں۔ اس طرح کے فیصلے مقامی پولیس انتظامیہ کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔

فائل فوٹو :رائٹرس

آخر کیوں کشمیری پنڈت کشمیریوں کے ہم قدم نہیں ہیں؟

کشمیریوں نے اقلیت کو کبھی اقلیت نہیں سمجھا بلکہ انہیں ہمیشہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی مانند اپنی محبتوں سے نوازا ہے۔ مگر بد قسمتی یہ رہی کہ جب بھی کوئی تاریخی موڑ آیا‘یہاں کی اقلیت اکثریت کے ہم قدم نہیں تھی۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ دہلی کے ایوانوں میں نوکر شاہی کو اپنا کعبہ و قبلہ تصور کرنے کے بجائے کشمیری پنڈت ہم وطنوں کے مفادات کا بھی خیال رکھیں۔

راہل گاندھی: پی ٹی آئی

کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ، یہاں ہو رہے تشدد میں ہے پاکستان کا ہاتھ: راہل گاندھی

کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کئی مدعوں پر نریندر مودی حکومت سے متفق نہیں ہیں، لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان یا کوئی دوسرا ملک اس میں دخل نہیں دے سکتا۔