جنوبی ہندوستان

Girish-Karnad-Twitter-1-e1560164919531

رام چندر گہا کا کالم: گریش کرناڈ کی یادیں

ہمیں گریش کرناڈ کو ایک عظیم ڈرامہ نگار، ایک زبردست اداکار کے ساتھ بے حد مہذب انسان کے طور پر یاد رکھنا چاہیے۔ ایک ایسا انسان جو ہندوستانی تہذیب کے بارے میں اتنا تو بھول ہی گیا تھا، جتنا آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں کو یاد ہے۔

علامتی تصویر: رائٹرس

اتراکھنڈ: راستے میں مندر ہونے کی وجہ سے ماہواری کے دوران لڑکیوں کے اسکول جانے پر روک

مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ ماہواری کے دوران اگر عورتیں یا لڑکیاں ادھر سے گزریں تو مندر ناپاک ہو جائے گا۔والدین کو ڈر ہے کہ اگر انھوں نے ماہواری کے وقت لڑکیوں کو اسکول بھیجا تو ان کو کمیونٹی سے نکال دیا جائے گا۔

girish-karnad_LiveMint

گریش کرناڈ: 6 ہندوستانی زبانوں میں لکھنے پڑھنے والا فنکار

مجھے تو دوسرا کوئی نہیں دکھتا، جس کو شمال سے لےکر جنوبی ہندوستان تک کے آرٹ ، مثلاً موسیقی، ادب، رقص، عوامی ادب اور بصری آرٹ کے ساتھ ہی اپنی گہری کلاسیکی روایت کی بھی اتنی باریک سمجھ ہو۔ وہ کم سے کم 6ہندوستانی زبانوں میں لکھ، پڑھ اور بول سکتے ہیں۔