حیدر آباد

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

روہت ویمولا اور پائل تڑوی کی ماؤں کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا

2016 میں حیدرآبادیونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر روہت ویمولا اور اس سال مئی میں ممبئی کے ایک ہاسپٹل میں ڈاکٹرپائل تڑوی نے مبینہ طور پر ذات پات کی بنیاد پرامتیازی سلوک کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔ دونوں کی ماؤں نے سپریم کورٹ سے یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے امتیازی سلوک کو ختم کئے جانے کی اپیل کی ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف عدالت پہنچیں روہت ویمولا-پائل تڑوی کی مائیں

مبینہ طور پر ذات پات کی بنیا دپر امتیازی سلوک کو ذمہ دار بتاتے ہوئے حیدرآباد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے روہت ویمولا نے سال 2016 میں اور اسی سال مئی میں ممبئی کے ایک ہاسپٹل میں ڈاکٹر پائل تڑوی نے خودکشی کر لی تھی۔

این آئی ایف ٹی (فوٹو : ویب سائٹ)

این آئی ایف ٹی حیدر آباد جنسی استحصال معاملہ : نوکری سے نکالے گئے سبھی 56 ملازمین بحال کیے گئے

حیدر آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی کے ایک اسٹینوگرافر کے خلاف 56 خاتون ملازمین‎ نے گزشتہ سال اکتوبر میں جنسی استحصال کی شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد ان خواتین کو نوکری سے نکال دیا گیا جبکہ ملزم اسٹینوگرافر ابھی بھی کیمپس میں کام کر رہا ہے۔

این آئی ایف ٹی (فوٹو : ویب سائٹ)

حیدر آباد: این آئی ایف ٹی نے جنسی استحصال کا الزام لگانے والی 56 خاتون ملازمین‎ کو نوکری سے نکالا

حیدر آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی کے ایک اسٹینوگرافر کے خلاف 56 خاتون ملازمین‎ نے گزشتہ سال اکتوبر میں جنسی استحصال کی شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد ان خواتین کو نوکری سے نکال دیا گیا جبکہ ملزم اسٹینوگرافر ابھی بھی کیمپس میں کام کر رہا ہے۔

ٹھاکر راجا سنگھ لودھ، فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر

پاکستان کا دعویٰ، بی جے پی ایم ایل اے نے ان کے گانے کی کاپی کی اور  ہندوستانی فوج کونذر کیا

حید ر آبا دسے بی جے پی ایم ایل اے ٹھاکر راجا سنگھ لودھ نے رام نومی پر ہندوستانی فوج کو ایک گانا نذر کیا تھا ، جس کو پاکستان نے چوری کیا ہوا بتایا ہے ۔ ان کے دعوے کے بعد ایم ایل اے نے کہا –ہوسکتا ہے کہ انہوں نے میرے گانے کی کاپی کی ہوکیوں کہ ہمیں پاکستان جیسے دہشت گرد ملک سے کچھ بھی کاپی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

علامتی تصویر : پی ٹی آئی

حسن روحانی کا دور ہ اور ایرانی قیادت کی ذمہ داریاں

ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر نئی دہلی کو اپنے 1994ء کے وعدوں کی یاد دہانی کرائے۔ اگر یہ وعدہ ایفا ہوتا ہے تو اس خطے میں امن اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس میں ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور ایران اسٹیک ہولڈرز ہوں گے۔