روس

فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر کو سینٹرل جیل میں کیوں نہیں بدل دیتی مرکزی حکومت: یوسف تاریگامی

جموں وکشمیر کے سابق ایم ایل اے اور سینئرسی پی ایم رہنما یوسف تاریگامی نے ریاست کے بڑے رہنماؤں کی حراست کو لےکر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر جموں وکشمیر میں حالات معمول پر ہیں تو حکومت وہاں الیکشن کیوں نہیں کراتی۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

17 غیر ملکی سیاسی رہنما کو آج جموں و کشمیر کا دورہ کرائے‌ گی حکومت، یورپی یونین شامل نہیں

اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔

14 اگست، 2019 کو سرینگر میں ہوئے ایک مظاہرہ کے بعد(فوٹو : رائٹرس)

جموں و کشمیر میں 2017 اور 2018 کے مقابلے 2019 میں پتھربازی کے واقعات میں اضافہ، 1996 معاملے درج: آر ٹی آئی

جموں و کشمیر میں 2018 میں پتھر پھینکنے کے 1458 اور 2017 میں 1412 واقعات درج کئے گئے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے بعد سے یہاں 1193 واقعات درج کئے گئے ہیں۔ اگست 2019 میں ریاست میں پتھربازی کے کل 658 واقعات سامنے آئے، جبکہ اس سے پہلے جولائی میں صرف 26 واقعات ہوئے تھے۔

فوٹو : رائٹرس

کشمیر: لوگ مقامی اخبارات سے ناراض کیوں ہیں؟

فون او رانٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کے بعد سے اب تک صحافیوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک فوٹو جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ، میں نے کبھی اپنے کیمرے کو بند نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ 17 ہفتوں کے دوران جہاں بھی گیا مجھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں ایک دوسری صحافی کا کہنا ہے کہ ، میں نے کشمیر کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب میری اسٹوری چھپتی تھی تو اس میں میرا لکھا ہوا 40 فیصد ہی ہوتا تھا اور باقی وہ خود ہی شامل کرتے تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر میں پابندیوں کے خلاف عرضی پر شنوائی پوری، فیصلہ محفوظ

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ہٹانے کے ساتھ ہی وہاں ذرائع ابلاغ پر لگی پابندیوں کو چیلنج دیتےہوئے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد، کشمیر ٹائمس کی مدیر انورادھا بھسین اور دیگرلوگوں نے عرضیاں دائر کی تھیں۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس سوشل میڈیا پوسٹ کی نگرانی کر رہی ہے

جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انجانے میں صحافیوں کو بھیجے گئے ای میل میں ’ ڈی این اے فائل ‘نام سے ایک فائل تھی، جس میں ایسے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹ تھے، جو کہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بارے میں لکھے گئے تھے۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، کہا-انتظامیہ کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق ایک ایک سوال کا جواب دے

کشمیر میں لگی پابندی پر عرضی داخل کرنے والوں کی جانب سے پیش ایک وکیل نے جب کہا کہ ہردن ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے باوجود ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے مظاہرین پر سے سرکاری پابندی ہٹا لینے کی مثال دی ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بنائے رکھنے میں ہندوستان کا سپریم کورٹ کہیں زیادہ بہترہے۔

فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں حالات معمول پر ہو نے کے امت شاہ کے دعوے کو نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مکر و فریب بتایا

پارلیامنٹ سیشن میں فاروق عبداللہ کو حصہ لینے کی اجازت دینے کے اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے دوران 30 رکن پارلیامان کو حراست میں رکھا تھا۔ اس پر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریڈی کا تبصرہ اس بات کی دلیل ہےکہ جموں و کشمیر ایمرجنسی کے برے دور سے گزر رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر میں 4 اگست سے اب تک 5000 لوگ گرفتار: امت شاہ

وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد پتھربازی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ حالانکہ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے 4 اگست تک اوسطاً ہر مہینے پتھربازی کے 50 واقعات ہوئے۔وہیں 5 اگست کے بعد ایسے معاملے اوسطاً ہر مہینے بڑھ‌کر 55 ہو گئے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

سابق وزرائے اعلیٰ  کے نظربند رہنے سے اگر گھاٹی میں امن  ہے، تو بہتر ہے وہ ایسے ہی رہیں:وزیر

مرکزی وزیر نے کہا، ‘ہمارے پاس ایک نیا نظام ہے اوریہ نظام سیدھے مرکز کو رپورٹ کرتا ہے اور ہم اسے اس حلقے کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے اور کامیاب بنانے کے لئے اس کا سہرا دیتے ہیں۔’

جموں و کشمیر کے رگھوناتھ بازار میں تعینات سی آر پی ایف کا جوان(فوٹو : پی ٹی آئی)

سو دنوں میں مزید نوکری -مزید فیکٹری کے وعدوں کے برعکس، کشمیریوں کو ملی مزید پابندیاں-مزید افواج

رام چندر گہا کا کالم: مکیش امبانی کشمیر میں سرمایہ کاری سے متعلق بالکل خاموش ہیں؛ جبکہ سرکار نے سرمایہ کاری میلے کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا دیا ہے۔ وعدے تو مزید نوکری، مزید فیکٹریز کے کیے گئے تھے، مگر 5اگست کے بعد سے کشمیریوں نے پایا کیا ہے؛ مزید افواج، مزید پابندیاں۔ اس نے ان میں گہرا غصہ پیدا کر دیا ہے۔

سرینگر کی ڈل جھیل میں شکارے میں یورپی یونین کے رکن پارلیامان کا وفد(فوٹو: پی ٹی آئی)

یورپی رکن پارلیامان کے کشمیر دورے کو فنڈ کر نے والے گروپ پر کیوں اٹھ رہے ہیں سوال؟

کشمیر میں یورپی رکن پارلیامان کے دورے کو مبینہ طور پر فنڈ دینےوالا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار نان-الائنڈ اسٹڈیز، شریواستو گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس کے کئی کاروبار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ دستاویز ایساکوئی بزنس نہیں دکھاتے، جس سے وہ یورپی رکن پارلیامان کو ہندوستان بلانے اور وزیراعظم سے ملاقات کروانے میں اہل ہوں۔

 کشمیر دورے پر آئے یورپی یونین کے وفد کے ممبر اور جرمن رکن پارلیامان نکولس فیسٹ(فوٹو : رائٹرس)

کشمیر گئے یورپی رکن پارلیامان نے کہا، ہندوستان کو اپوزیشن کو بھی کشمیر جا نے دینا چا ہیے

مرکزی حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ختم کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال جاننے کے لئے سرینگر پہنچےیورپی وفدمیں شامل جرمنی کے رکن پارلیامان نکولس فیسٹ نے یہ بات کہی ہے۔

سرینگر میں ڈل جھیل کے کنارے یورپی وفد(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: کشمیر اندرونی مسئلہ ہے تو غیرملکی رکن پارلیامان کو پچھلے دروازے سے کیوں بلایا گیا؟

ہندوستان کو ایک انٹرنیشنل بزنس بروکر کے ذریعے غیر ملکی رکن پارلیامان کے کشمیر آنے کی تمہید تیار کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جو رکن پارلیامان بلائے گئےہیں وہ شدید طور پر رائٹ ونگ جماعتوں کے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسی پارٹی سے نہیں ہے جن کی حکومت ہو یا نمایاں آواز رکھتے ہوں۔ تو ہندوستان نے کشمیر پر ایک کمزور وفد کوکیوں چنا؟ کیا اہم جماعتوں سے من مطابق ساتھ نہیں ملا؟

برٹن کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

کشمیر میں مودی حکومت کے پروپیگنڈہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا: برٹش ایم پی

برٹن کی لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس کا کہنا ہے کہ کشمیر دورہ کے لئے ان کو دی گئی دعوت کو حکومت ہند نے واپس لے لیا کیونکہ انہوں نےسکیورٹی کی غیر موجودگی میں مقامی لوگوں سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

 سری نگر میں لوگوں نے مظاہرہ کے دوران سڑک بند کردی (فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر: یورپی رکن پارلیامان کی ٹیم پہنچی، مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے بیچ جھڑپوں میں چار زخمی

سرینگر اور ریاست کے کئی حصے پوری طرح سے بند رہے۔ پانچ اگست کو مرکزی حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر کےخصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے 86ویں دن بھی کشمیرمیں معمولات زندگی درہم برہم رہی۔

نئی دہلی میں گزشتہ سوموار کو یورپی یونین کے وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی(فوٹو بہ شکریہ : پی آئی بی)

ہندوستانی رہنماؤں کو منع کرنا اور یورپی رہنماؤں کو جموں و کشمیر جانے دینا پارلیامنٹ کی توہین: کانگریس

یورپی یونین کے 27 رکن پارلیامان کا وفد منگل کو جموں وکشمیر کا دورہ کررہا ہے۔ یہ وفد آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ہٹائے جانے کے بعد وہاں کی صورتحال کا جائزہ لے گا۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے گئی کانگریس سمیت کئی پارٹیوں کے رہنماؤں کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔

منگل کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے سی پی آئی ایم  جنرل سکریٹری سیتارام یچوری اور محمد یوسف تاریگامی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نہ تو میں غیر ملکی ہوں، نہ ہی ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دوسرے کشمیری رہنما دہشت گرد ہیں: سی پی آئی ایم رہنما تاریگامی

کشمیر کے سی پی آئی ایم رہنما اور سابق ایم ایل اے محمد یوسف تاریگامی پہلے ایسے کشمیری رہنما ہیں جو حراست میں رکھے جانے کے بعد دہلی آ سکے ہیں ۔ نئی دہلی واقع پارٹی صدر دفتر پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے کشمیری آہستہ آہستہ مر رہے ہیں، گھٹن ہو رہی ہے وہاں۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

کشمیر پر مسلم رہنماؤں کا رویہ -یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا…

یہ واقعی شرم کی بات ہے کہ ہندوستان کے مسلم لیڈران نے جموں وکشمیر میں ہورہی زیادتیوں کے متعلق اپنے منہ ایسے بند کئے ہیں جیسے ان کی چابیاں ہندو انتہا پسندوں کے پاس ہوں۔ جمیعۃ کے لیڈران آئین کی اس شق کی ترمیم و تحلیل کی حمایت کرتے ہیں تو پھر یونیفار م سول کوڈ اور تین طلاق قانون کے اطلاق پر کیوں شور مچا رہے ہیں؟

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

تقریباً بند پڑا ہوا ہے جموں و کشمیر ہائی کورٹ

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے لوگ اپنے معاملوں کی سماعت کے لئے ہائی کورٹ نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سرکاری محکمے بھی اپنی پیروی کرنے کے لئے کورٹ میں حاضر نہیں ہو سکے۔

AppleMark

جموں و کشمیر کے حالات جاننے سرینگر پہنچے اپوزیشن رہنماؤں کو واپس دہلی بھیجا گیا

آٹھ سیاسی پارٹیوں کے 11 ممبران جموں وکشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے سرینگر پہنچے تھے ۔ وفد میں شامل کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے اپنے ساتھ گئے میڈیا اہلکاروں سے بدسلوکی کا الزام لگایا ہے۔

ڈی ایم کے کی قیادت میں جموں و کشمیر کے رہنماؤں کی گرفتاری کی مخالفت میں جنتر منتر پر مظاہرہ کرتی حزب مخالف پارٹیاں (فوٹو : اے این آئی)

کشمیر میں رہنماؤں کی گرفتاری پر ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے جنتر منتر پر کیا مظاہرہ

نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمعرات کو ڈی ایم کے کی قیادت میں کانگریس، ٹی ایم سی، آر جے ڈی، سی پی آئی اور سی پی ایم سمیت کئی دیگر پارٹیوں نے ایک ساتھ آکر جموں و کشمیر میں حالات کو نارمل کرنے، وادی میں مواصلاتی نظام کو درست کرنے اور حراست میں لئے گئے تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی کی مانگ کی۔

)فائل فوٹو : رائٹرس(

کشمیر میں فون کرنے کے لئے لمبی قطاریں، دو گھنٹے انتظار کے بعد دو منٹ کی بات

فون اور انٹرنیٹ خدمات بند کئے جانے کے ایک ہفتے سے زیادہ وقت بیت جانے کے بعد لوگوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ افسر یہ قبول‌کر رہے ہیں کہ فون لائنوں کے بند رہنے سے معمولات بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں ۔

علامتی تصویر(فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: سی آر پی ایف کی ہیلپ لائن سروس پر آئے بڑی تعداد میں ملک و بیرون ملک سے فون

ریاست میں فون اور انٹرنیٹ خدمات بند ہونے کی وجہ سے اتوار کو سی آر پی ایف کے ذریعے ہیلپ لائن سروس ’مددگار ‘ شروع کی گئی ہے، جس پر دو دنوں میں 870 سے زیادہ کال آئی ہیں، جن میں بڑی تعداد وادی میں تعینات حفاظتی دستوں کے رشتہ داروں کی بھی ہے۔

جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک (فوٹو : پی ٹی آئی)

راہل گاندھی کو کشمیر دکھانے کے لئے ہوائی جہاز بھیجیں‌ گے: گورنر ستیہ پال ملک

گزشتہ ہفتے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر سے تشدد کی کچھ خبریں آئی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرنا چاہیے۔

-JFxzTX1

جموں و کشمیر: حکومت کا ’امن‘ کا دعویٰ، لیکن ہاسپٹل میں پیلیٹ سے زخمی ہونے والوں کی بڑھتی تعداد

ویڈیو: آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد حکومت کے ذریعے وادی میں’امن‘کے دعوے کے بیچ گزشتہ کچھ دنوں میں سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل میں پیلیٹ گن سے زخمی ہوئے تقریباً دو درجن مریض بھرتی ہوئے ہیں۔

Don`t copy text!