رویش کا بلاگ

فرانس میں داسو ایویشن کی فیکٹری میں رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : رائٹرس)

سی اے جی نے رافیل ڈیل میں سرکاری گارنٹی کے بجائے یقین دہانی کے خط کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا

مودی حکومت کے ذریعے کئے گئے معاہدے کے تحت گارنٹی سے متعلق اہتماموں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ ‌ ٹوٹنے کی صورت میں ہندوستان کو پہلے پنچاٹ یا ثالثی کے ذریعے سیدھے طور پر ہوائی طیارے کے فرانسیسی فراہم کنندگان کے ساتھ معاملے کو سلجھانا پڑے‌گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند کے ساتھ نئے رافیل معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو : پی آئی بی)

نریندر مودی کے ذریعے کی گئی رافیل ڈیل یو پی اے والی ڈیل سے بہتر نہیں ہے : رپورٹ

رافیل کو لےکر مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئی ڈیل یو پی اے حکومت سے بہتر ہے اور اس کی وجہ سے ہندوستان کو طیارے جلدی مل جائیں‌گے۔ حالانکہ وزارت دفاع کے تین سینئر افسروں نے حکومت کے ان دعووں سےاتفاق نہیں کیا تھا۔

فوٹو: رائٹرس

رویش کا بلاگ: دی ہندو کی رپورٹ سے اٹھا سوال، کس کے لئے رافیل ڈیل میں ڈیلر اور کمیشن خور پر مہربانی کی گئی؟

آخر مودی حکومت فرانس کی دونوں کمپنیوں کو بد عنوانی کی حالت میں کارروائی سے کیوں بچا رہی تھی؟ اب مودی جی ہی بتا سکتے ہیں کہ بد عنوانی ہونے پر سزا نہ دینے کی مہربانی انہوں نے کیوں کی۔ کس کے لئے کی۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: رافیل معاملے میں امبانی کے لئے وزیر اعظم نے وزارت دفاع اور سپریم کورٹ سے جھوٹ بولا

دی ہندو میں این رام نے جو نوٹ چھاپا ہے وہ کافی ہے وزیر اعظم مودی کے کردار کو صاف صاف پکڑنے کے لئے۔ یہی نہیں حکومت نے اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ سے بھی یہ بات چھپائی ہے کہ اس ڈیل میں وزیر اعظم دفتر بھی شامل تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مکیش امبانی اور کانگریس صدر راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس / ٹوئٹر)

کیوں ملک کی سیاسی اور اقتصادی طاقت کچھ خاندانوں تک سمٹ‌کر رہ گئی ہے

کیا اگلے عام انتخاب میں مودی حکومت یا مہاگٹھ بندھن میں سے کوئی رہنما یا جماعت اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کر سکتی ہے کہ وہ ملک کےعوام کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت دینے کی آئینی ذمہ داری نبھانے کے لئے 2019 سے ملک کے ارب پتیوں اور امیروں پر مناسب ٹیکس لگانے کا کام کرے‌گی؟

Narendra-Modi-Pareeksha-Pe-Charcha-PIB

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم کو نہیں معلوم  کہ ڈپریشن بورڈ اگزام کی وجہ سے نہیں تعلیمی صورت حال کی وجہ سے ہے

ملک کے سرکاری اسکولوں میں دس لاکھ اساتذہ نہیں ہیں۔ کالجوں میں ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی کمی بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں کے بچّے تیسری کی کتاب نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ ڈپریشن سے گزریں‌گے کیونکہ اس کے ذمہ دار بچّے نہیں، وہ سسٹم ہے جس کو پڑھانے کا کام دیا گیا ہے۔

نریندر مودی اور امت شاہ، پرینکا اور راہل گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کے لئے’پریوارواد‘کا مدعا صرف راہل اور پرینکا کے لئے ہے؟

ایک شہری اور کارکن کے طور پر محتاط رہنا چاہیے کہ سیاست چند گھرانوں کے ہاتھ میں نہ رہ جائے۔ لیکن اس سوال پر بحث کرنے کے لائق نہ تو امت شاہ ہیں، نہ نریندر مودی اور نہ راہل گاندھی۔ صرف عوام اس کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ جب تک یہ رہنما کوئی صاف لائن نہیں لیتے ہیں، پریوارواد کے نام پر ان کی بکواس نہ سنیں۔

ہیکر سید شجاع (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر / FPALondon اور پی ٹی آئی)

ای وی ایم ہیکنگ معاملہ: یہ مذاق بھی ہوسکتا ہے اور مذاق ہے تب بھی اس کی جانچ ہونی چاہیے

لندن میں ہوئی ہیکر سید شجاع کی پریس کانفرنس کو دو حصے میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک ای وی ایم کو چھیڑنے کی تکنیک کے طور پر ، جس پر ہنسنے والوں کے ساتھ ہنسا جا سکتا ہے، مگر دوسرا حصہ قتل کے سلسلے کا ہے۔ ایک کمرے میں ای وی ایم چھیڑنے کی تکنیکی جانکاری رکھنے والے 11 لوگوں کو بھون دیا جائے، یہ بات فلمی لگ سکتی ہے تب بھی اس پر ہنسا نہیں جا سکتا۔

فوٹو: رائٹرس

رویش کا بلاگ: پردھان منتری  جی، موبائل کمپنیاں 120 ہو گئی ہیں تو روزگار کتنوں کو ملا؟

وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ 2014 سے پہلے ملک میں موبائل بنانے والی صرف 2 کمپنیاں تھیں، آج موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی تعداد 120 ہو گئی ہے۔سوال ہے کہ کمپنیوں کی تعداد 2 سے 120 ہو جانے پر کتنے لوگوں کو روزگار ملا؟

سہراب الدین اور کوثر بی، بی جے پی صدر امت شاہ اور جج برج گوپال لویا (فوٹو بشکریہ : فیس بک / پی ٹی آئی / دی کارواں)

رویش کا بلاگ: کیا امت شاہ کبھی سوچتے ہوں‌گے کہ ہرین پانڈیا کا قتل اور انکاؤنٹرکی خبریں زندہ کیسے ہو جاتی ہے؟

کیا امت شاہ کبھی سوچتے ہوں‌گے کہ ہرین پانڈیا کا قتل اور سہراب الدین-کوثر بی-تلسی رام انکاؤنٹر کی خبر زندہ کیسے ہو جاتی ہے؟ امت شاہ جب پریس کے سامنے آتے ہوں‌گے تو اس خبر سے کون بھاگتا ہوگا؟ امت شاہ یا پریس؟

مدھیہ پردیش کے چھندواڑا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو بشکریہ: ٹوئٹر / بی جے پی)

رویش کمار نے وزیر اعظم کے لیے اسپیچ لکھی ہے،کیا وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں؟

بی جے پی کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم پرسب سے زیادہ پیسے بچائے ہیں۔ ہمارا نوجوان خودہی پروفیسر ہے۔ وہ تو بڑےبڑے کو پڑھا دیتا ہے جی، اس کو کون پڑھائے‌گا۔ مدھیہ پردیش کے پونے 6لاکھ نوجوان کالجوں میں بنا پروفیسر،اسسٹنٹ پروفیسر کے ہی پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا نوجوان ملک مانگتا ہے، کالج اور کالج میں ٹیچرنہیں مانگتا ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ: کیا ہندوستان کینسر سے لڑنے کو تیار ہے؟

ہندوستان میں کینسر کو لےکر کوئی ضد کسی رہنما میں نظر نہیں آتی۔ کینسر ہوتے ہی مریض کے ساتھ پوری فیملی برباد ہو جاتی ہے۔ کئی ادارے کینسر کے مریضوں کے لئے کام کرتے ہیں مگر اس کو لےکر ریسرچ کہاں ہے، بیداری کہاں ہے، تیاری کیا ہے؟

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: کسی دن یہ رہنما سپریم کورٹ سے کہہ دیں‌گے کہ ہمارے پاس مینڈیٹ ہے، فیصلہ ہم کریں‌گے

حکومت کے پاس اگر سپریم کورٹ کے حکم کو نافذ کرانے کا ڈھانچہ اور ارادہ نہیں ہے تو پھر سپریم کورٹ کو ہی حکومت سے پوچھ لینا چاہیے کہ ہم حکم دینا چاہتے ہیں، پہلے آپ بتا دیں کہ آپ نافذ کرا پائیں‌گے یا نہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: کیا ریزرو بینک کے ریزرو پرحکومت کی نظر ہے؟

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر مہر شرما نے لکھا ہے کہ ریزرو بینک اپنے منافع سے ہرسال حکومت کو 50 سے 60 ہزار کروڑ دیتی ہے۔ اس کے پاس ساڑھے تین لاکھ کروڑ سے زیادہ کا ریزرو ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس ریزرو سے پیسہ دے تاکہ وہ انتخابات میں عوام کے بیچ گل چھرے اڑا سکے۔

فوٹو: پی ٹی آئی/ دی وائر

سی بی آئی کی ’چندر مکھی‘ اور ’پارو‘ میں کس کا انتخاب کریں ‌گے حضور

آپ دیوداس کی چندر مکھی آلوک ورما اور پارو استھانا کا ڈولا رے ڈولا رے ڈانس دیکھیے۔ آپ کو مذہب کا نشہ دےکر حکومت کرنے کے سارے گھناؤنے کام کئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ دیوداس پارو کو بچاتا ہے یا چندر مکھی کو۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور انٹر نیشنل مانیٹری  فنڈ کی نئی  چیف  اکانومسٹ  گیتا گوپی ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی اور @IMFNews / twitter )

رویش کا بلاگ : جب ہارورڈ کی گیتا ہارڈورک والے  مودی سے ملیں‌گی، تو بیک گراؤنڈ میں نوٹ بندی کی اسپیچ بجے گی!

نریندر مودی نے کم سے کم ایک ایسا اقتصادی سماج تو بنا دیا ہے جو نتیجے سے نہیں نیت سے تجزیہ کرتا ہے۔ حماقت کی ایسی اقتصادی جیت کب دیکھی گئی ہے؟ گیتا گوپی ناتھ جیسی ماہر اقتصادیات کو نیت کا ڈیٹا لےکر اپنا نیا ریسرچ کرنا چاہیے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ انل امبانی۔ (فائل فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ : اگر سرکار کو امبانی کے لئے ہی کام کرنا ہے تو اگلی بار نعرہ دے، اب کی بار امبانی سرکار

ستمبر 2016 میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پریکر اور فرانس کے وزیر دفاع کے درمیان رافیل قرار پر دستخط ہوئے تھے، اس کے ٹھیک پہلے وزارت دفاع کے ایک سینئر افسر نے رافیل لڑاکو ہوائی جہازوں کی قیمتوں کو لےکر سوال اٹھائے تھے اور اس کو فائل میں درج کیا تھا۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

نرملا سیتارمن (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: نرملا جی کو کوئی یاد دلائے کہ وہ جے این یو کی نہیں، ملک کی وزیر دفاع ہیں

اگر وزیر دفاع کو یونیورسٹیوں میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو جیو اانسٹی ٹیوٹ پر ہی ایک پریس کانفرنس کر دیں۔ بہت سی یونیورسٹی میں استاد نہیں ہیں۔ جو عارضی استاد ہیں ان کی تنخواہ بہت کم ہیں۔ ان سب پر بھی پریس کانفرنس کریں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ : مالیا کو’مالیا‘کس نے بنایا ؟

وجے مالیا نے ہر پارٹی کی مدد سے خود کو راجیہ سبھا میں پہنچا کر ہندوستان کی پارلیامانی روایت پر احسان کیا ۔میں مالیا کا اس وجہ سے احترام کرتا ہوں ۔ اس معاملے میں میں پرو-مالیا ہوں ۔کیا مالیا بہت بڑے سیاسی مفکر تھے؟ جن جن لوگوں نے ان کو پارلیامنٹ پہنچایا وہ آکر سامنے بولیں تو ون سنٹینس میں !

(فوٹو : پی ٹی آئی / رائٹرس)

رویش کا بلاگ : NPA تنازعہ میں عوام اسی طرح الو بن رہی ہے جیسے ہندومسلم معاملے میں بنتی ہے

اگر یہ سیاسی تنازعہ کسی بھی طرح سے اقتصادی جرم کا ہے تو دس لاکھ کروڑ روپے لےکر فرار مجرموں کے نام لئے جانے چاہیے۔ کس کی حکومت میں لون دیا گیا یہ تنازعہ ہے، کس کو لون دیا گیا اس کا نام ہی نہیں ہے۔

نریندر مودی کے ساتھ رگھو رام راجن (فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ : این پی اے کو لےکریو پی اے اور این ڈی اے کی پالیسیوں کوئی فرق نہیں ہے

کچھ امیر صنعت کار اور امیر ہوتے رہے، عوام ہندو-مسلم کرتی رہی، اس لئے کانگریس بھی نہیں بتاتی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئے‌گی تو اس کی الگ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی۔ بی جے پی بھی یہ سب نہیں کرتی ہے جبکہ وہ اقتدار میں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور صنعت کار مکیش امبانی کی ایک پروگرام کے دوران کی تصویر/ (فوٹو : رائٹرس)

رویش کا بلاگ : کیا ’چوکیدار جی ‘نے امبانی کے لئے چوکیداری کی ہے؟

وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے شروعاتی اصولوں میں امبانی کے جیو انسٹی ٹیوٹ کو مشہور ادارے کا ٹیگ نہیں مل پاتا۔ یہاں تک کہ وزارت خزانہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ جس ادارے کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے اس کو’ انسٹی ٹیوٹ آف ایمننس ‘ کا درجہ دینا دلیلوں کے خلاف ہے۔

Credit: Valay Singh

بڑھتی بے روزگاری اور معاشی ترقی ، آخر کھیل کیا ہے ؟

سرکاری خزانے میں یہ بے روزگار نوجوان کتنا مالی تعاون دیتے ہیں۔مدھیہ پردیش کے ویاپم گھپلے کے دوران یہ راز فاش ہو اتھا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً86 لاکھ بے روزگاروں نے مختلف سرکاری نوکریوں کے لئے جو فارم بھرے تھے اس فارم کی فیس سے حکومت کو چار سو تیس کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔

علامتی تصویر/فوٹو: رائٹرز

رویش کا بلاگ : نوجوانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ روزگار کو لےکر اُن کے وزیر اعظم کا نظریہ کیا ہے ؟

ہندوستانی نوجوان پرماننٹ روزگار کی تیاری میں جوانی کے پانچ پانچ سال ہون کر رہے ہیں۔ان سے یہ بات کیوں نہیں کہی جا رہی ہے کہ روزگار کا چہرہ بدل گیا ہے۔ اب عارضی کام ہی روزگار کا نیا چہرہ ہوگا۔

(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: ریلوے میں چوری ڈکیتی ڈبل ہوئی ہے اور وزیر ریل تعریف کے ری ٹوئٹ کرتے نہیں تھک رہے

وزیر ریل کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاکر دیکھیے ۔وہ انہی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہیں جس میں مسافر تعریف کرتے ہیں۔ مگر سیکڑوں کی تعداد میں طالب علم امتحان کے سینٹر کو لےکر شکایت کر رہے ہیں،ان پر کوئی رد عمل نہیں ہے۔

فوٹو : رائٹرز

رویش کا بلاگ : رافیل کو لےکر لڑائی کس بات کی ہو رہی ہے؟

وزیر دفاع نرملا سیتارمن بول چکی تھیں کہ وہ کچھ بھی نہیں چھپائیں‌گی، ملک کو سب بتائیں‌گی۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد مکر گئیں اور کہہ دیا کہ فرانس اور ہندوستان کے درمیان خفیہ قرار ہے اور وہ معاہدے کی معلومات عام نہیں کر سکتی ہیں۔