سابق آر بی آئی گورنر

ادئے کوٹک/فوٹو: رائٹرس

کوٹک مہندرا بینک کے ایم ڈی نے کہا،نوٹ بندی کا منصوبہ بہتر طریقے سے بنایا جاتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا

نوٹ بندی کے دو سال بعد اہم بینکر ادئے کوٹک نے 2000 روپے کا نوٹ لانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند کر رہے ہیں تو اس سے بڑا نوٹ لانے کی کیا ضرورت تھی؟

Arvind-Subramanian_PTI

نوٹ بندی کا فیصلہ ایک بڑا جھٹکا تھا ،گر گئی تھی جی ڈی پی: سابق چیف اکانومک ایڈوائزر

سابق چیف اکانومک ایڈوائزر سبرامنین کے زمانے میں ہوئی نوٹ بندی کی وجہ سے 500 اور 1000روپے کے نوٹ چلن سے باہر ہوگئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے وقت بھی وہ چیف اکانومک ایڈوائزر تھے۔

(فوٹو : رائٹرس)

کہیں نوٹ بندی بلیک منی کو وہائٹ کرنے کا طریقہ تو نہیں تھا؟

حکومت کا کہنا تھا کہ بند کئے گئے نوٹوں میں سے تقریباً 3 لاکھ کروڑ قیمت کے نوٹ بینکوں میں واپس نہیں آئیں‌گے اور یہ بلیک منی پر سخت وار ہوگا، لیکن ریزرو بینک کے مطابق اب نوٹ بندی کے بعد جمع ہوئے نوٹوں کا فیصد 99 کے پار پہنچ گیا ہے۔ یعنی یا تو ان نوٹوں میں کوئی بلیک منی تھا ہی نہیں یا اس کے ہونے کے باوجود حکومت اس کو نکالنے میں ناکام رہی۔

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن /فوٹو : پی ٹی آئی

نوٹ بندی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر نہیں لیا گیا تھا : سابق آر بی آئی گورنر

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت کا خیال تھا کہ نوٹ بندی کے بعد بیسمنٹ میں نوٹ چھپاکر رکھنے والے لوگ سامنے آئیں‌گے اور معافی مانگ‌کر کہیں‌گے کہ ہم اس کے لئے ٹیکس دینے کو تیار ہیں۔