سرکاری نوکریاں

اروند سبرمنیم (فوٹو : پی ٹی آئی)

2011 سے 12اور 2016سے17 کے بیچ جی ڈی پی 7 فیصد نہیں، بلکہ 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی : اروند سبرمنیم

ملک کے سابق چیف اکانومک ایڈوائزراروند سبرمنیم کا کہنا ہے کہ سال 2011سے12 اور 2016سے17 کے دوران ملک کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو کافی بڑھاچڑھاکر بتایا گیا۔ اس دوران جی ڈی پی سات فیصد نہیں، بلکہ 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن /فوٹو : پی ٹی آئی

ملک میں نوکریوں کی بھاری قلت ہے اور حکومت اس پر  توجہ نہیں دے رہی: رگھورام راجن

سابق آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ ہمیں جاب سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے والی شماریات میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ہم ای پی ایف اویا اس طرح کے دوسرے ورزن پر منحصر نہیں رہ سکتے۔ہمیں بہتر جاب ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت ہے۔

Narendra-Modi-Pareeksha-Pe-Charcha-PIB

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم کو نہیں معلوم  کہ ڈپریشن بورڈ اگزام کی وجہ سے نہیں تعلیمی صورت حال کی وجہ سے ہے

ملک کے سرکاری اسکولوں میں دس لاکھ اساتذہ نہیں ہیں۔ کالجوں میں ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی کمی بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں کے بچّے تیسری کی کتاب نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ ڈپریشن سے گزریں‌گے کیونکہ اس کے ذمہ دار بچّے نہیں، وہ سسٹم ہے جس کو پڑھانے کا کام دیا گیا ہے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

حکومت کے اعلیٰ محکموں میں طےشدہ حدود سے کافی کم ہے ریزرو طبقے کی نمائندگی

آر ٹی آئی کے تحت ملی جانکاری کے مطابق 40 مرکزی یونیورسٹیوں میں او بی سی ریزرویشن کے تحت تقرر کیے جانے والے پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تعداد زیرو، اسسٹنٹ پروفیسر کی سطح پر او بی سی طبقے کی نمائندگی تقریباً آدھی۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

تیزی سے کم ہو  رہی ہیں سرکاری محکمہ، بینکوں میں نوکریاں

ڈی او پی ٹی نے گزشتہ تین سالوں میں اہم ایجنسیوں کے ذریعے بھرتی کے اعداد و شمار اکٹھا کئے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ سال 2015 میں کل 113524 امیدوار کا انتخاب اور تقرری ہوئی تھی۔ جبکہ 2017 میں یہ اعداد و شمار گر‌کر 100933 پر آ گیا۔