سیاست

نتاشا نروال(فوٹوبہ شکریہ : سوشل میڈیا)

دہلی تشدد: جے این یو اسٹوڈنٹ نتاشا نروال پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے پہلے سے ہی حراست میں لی گئی پنجرہ توڑ تنظیم کی کارکن اور جے این یو کی ریسرچ اسکالر نتاشا نروال کو دہلی تشدد معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فسادات کی سازش میں نتاشا کے رول کو لےکر ان کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

جامعہ گرفتاری: دہلی کی عدالت نے کہا کہ جانچ ایک ہی فریق کو نشانہ بناتی نظر آ رہی ہے

دہلی تشدد سے جڑے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیے گئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالبعلم آصف اقبال تنہا کو مقامی عدالت میں پیش کیے جانے پر ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ پولیس تشدد میں شامل دوسرے فریق کے بارے میں اب تک ہوئی جانچ کو لےکر کچھ نہیں بتا سکی ہے۔ تنہا کو جمعرات کو ضمانت دے دی گئی۔

2605-Covid.00_08_35_02.Still002

دہلی تشدد معاملے میں اسکرپٹ پہلے ہی لکھی گئی، اب بس کردار تلاش کر رہی ہے پولیس

ویڈیو: لاک ڈاؤن کے دوران دہلی فسادات کی سازش کرنے کے الزام میں کئی طالبعلموں ا ور سماجی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر طالبعلم سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں شامل تھے۔اسٹوڈنٹ لیڈر اور سماجی کارکنوں نے دہلی پولیس کی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔

SV-Apoorvavand-and-Manoj-Jha-Discussion.00_29_53_14.Still002-1200x600

امت شاہ کرونالوجی کا نیا سلسلہ: اب نشانے پر سی اے اے مظاہرین

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی فسادات کے تین مہینے بعد پولیس سلسلےوار ڈھنگ سے لوگوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ ان میں اکثر لوگوں نے سی اے اے کے خلاف پرامن مظاہرہ کیا تھا۔ دی وائر کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن کی دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور راجیہ سبھاممبر منوج جھا سے بات چیت۔

نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

شہریت قانون: دہلی تشدد معاملے میں پنجرہ توڑ کی دو کارکن گرفتار

گرفتار کی گئیں دونوں کارکن نتاشا کلیتا اور دیوانگنا نروال جے این یو کی طالبات ہیں۔ پنجرہ توڑ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے گزشتہ کچھ مہینوں میں کئی طالبعلموں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

جامعہ اسٹوڈنٹ آصف اقبال تنہا(فوٹو: فیس بک)

دہلی تشدد: جامعہ کے ایک اور اسٹوڈنٹ کو یو اے پی اے کے تحت ملزم بنایا گیا

اس سال فروری میں نارتھ-ایسٹ دہلی میں ہوئےتشدد معاملے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 24 سالہ اسٹوڈنٹ آصف اقبال تنہا کو بدھ کو گرفتار کیا گیا اور سات دنوں کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

عالمی مذہبی آزادی کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیرسیم براؤن بیک(فوٹو: رائٹرس)

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بیان بازی اور حملہ شرمناک: امریکی سفیر

عالمی مذہبی آزادی کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیرسیم براؤن بیک نے دنیا بھر کی اقلیتی کمیونٹی پر کووڈ 19 کے اثرات کو لےکر کہا کہ ہندوستان میں اس دوران فرضی خبروں کی بنیاد پر مسلمانوں کےاستحصال کی کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

صفورہ زرگر۔فوٹو بہ شکریہ : فیس بک ،صفورہ زرگر

صفورہ زرگر کے خلاف جاری کردار کشی کی مہم کیا بتاتی ہے

دہلی پولیس نے اپریل کی شروعات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایم فل کی اسٹوڈنٹ صفورہ زرگر کو دہلی تشدد سے جڑے ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ صفورہ شادی شدہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، لیکن اس بیچ سوشل میڈیا پر ان کی شادی اور ان کے حاملہ ہونے کو لےکر بیہودہ دعوے کیے گئے ہیں۔

AKS Prashant Bhushan.00_17_38_10.Still002

عمر خالد اور جامعہ کے طلبا کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے

ویڈیو: نارتھ -ایسٹ دہلی میں سی ا ے اے کے خلاف مظاہرہ کے بعدہوئے فرقہ وارانہ تشددسے جڑے ایک معاملے میں دہلی پولیس نے عمر خالد سمیت جامعہ کے طلبا پر یو اے پی اے قانون کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ اس مدعے پر سینئر وکیل پرشانت بھوشن سے چرچہ کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی

فوٹو: رائٹرس

کورونا وائرس: مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستوں کا نیا ہتھیار

ہندوستان میں جہاں اس وقت پورا ملک لاک ڈاؤن کی زد میں ہے، پولیس نے اس کا فائدہ اٹھا کر چن چن کر ایسے نوجوان مسلمانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جو پچھلے کئی ماہ سے شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ میں پیش پیش تھے۔

دہلی کے جی ٹی بی ہاسپٹل کی مورچری کے باہر تشدد میں مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا دہلی پولیس دہلی فسادات میں مارے گئے لوگوں کی جانکاری چھپا رہی ہے؟

ایک آر ٹی آئی کے جواب میں دہلی پولیس نے بتایا ہے کہ فروری میں نارتھ -ایسٹ دہلی میں ہوئے تشدد میں 23 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس سے پہلے وزارت داخلہ نے پارلیامنٹ میں کہا تھا کہ اس تشدد میں 52 جانیں گئی ہیں۔

PTI01-04-2020_000087B

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دوہری مار بن کر آیا ہے کورونا وائرس

سب جانتے ہیں کہ کووڈ 19 ایک مہلک وائرس کی وجہ سے پھیلا ہے، لیکن ہندوستان میں اس کو فرقہ وارانہ جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ یاد رکھا جائےگا کہ جب پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تھا، تب بھی مسلمان فرقہ وارانہ تشددکا شکار ہو رہے تھے۔

جیسلمیر میں رہنے والی ایک پناہ گزین فیملی،تمام فوٹو، Special Arrangement

’مودی سرکار ہماری شہریت کے لیے قانون تو لے آئی، لیکن مشکل وقت میں بھول گئی‘

کو رونا وائرس کے مدنظر ہوئے ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران راجستھان میں رہ رہے پاکستانی ہندو پناہ گزینوں کی خبرلینے والا کوئی نہیں ہے۔ریاستی حکومت نے امداد مہیا کرانے کے احکامات دیے ہیں، لیکن اب تک تمام پناہ گزینوں تک مدد نہیں پہنچی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھا کر دہلی پولیس مسلم کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے؟

گرفتار کیے گئے لوگوں میں کتنے مسلمان ہیں اور کتنے غیر مسلم اس کے متعلق کوئی واضح اعداد و شمار نہیں ہے لیکن جانکاروں کا ماننا ہے کہ ان میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ مقامی لوگوں نے بھی اسی طرح کے الزا مات عائد کیے ہیں ۔

شمال مشرقی دہلی کے شیو وہار علاقے میں شرپسندوں کے ذریعے جلائی گئیں گاڑیاں۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

دہلی فسادات سے متعلق اطلاعات فراہم کر نے سے پولیس کا انکار، کہا-اس سے لوگوں کی جان کو خطرہ

نارتھ -ایسٹ دہلی میں ہوئے فسادات کو لے کر پولیس پر اٹھ رہے سوالوں کو لے کر دی وائر نے آر ٹی آئی کے تحت کئی درخواست دائر کر کے اس دوران پولیس کے ذریعے لیے گئے فیصلے اور ان کی کارروائی کے بارے میں جانکاری مانگی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی پولیس نے سی اے اے مظاہرہ بھڑکانے کے الزام میں جامعہ کی اسٹوڈنٹ کو گرفتار کیا

صفورہ زرگر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم فل کی اسٹوڈنٹ ہیں اور جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی کی ممبر ہیں۔ دہلی پولیس کے مطابق وہ نارتھ -ایسٹ دہلی کے جعفرآباد میں ہوئے سی اے اے مخالف مظاہرہ کا حصہ تھیں، جہاں گزشتہ فروری میں سڑک بند کر دینے کے بعد فساد شروع ہوئے تھے۔

A woman casts her vote at a polling station during the sixth phase of the general election, in New Delhi, India, May 12, 2019. REUTERS/Anushree Fadnavis - RC1C65C4F5F0

دہلی نے بےداغ امیج کے امیدواروں کے مقابلے مجرمانہ معاملوں کے 26 ملزمین کو ایم ایل اے منتخب کیا: اے ڈی آر

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اور دہلی الیکشن واچ کی رپورٹ کے مطابق، دہلی میں صرف 8 ایم ایل اے ہیں، جن کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہے اور انہوں نے ان امیدواروں کو ہرایا، جن کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں۔

مصطفیٰ آباد میں فساد متاثرین کے لئے بنا راحت کیمپ۔(فوٹو : پی ٹی آئی)

دہلی فسادات کے بعد کیا تھی دہلی حکومت کی ذمہ داری اور اس نے کیا کیا؟

عوام کی طرف سے فساد متاثرین کے لئے جو بھی کوششیں کی جارہی ہیں وہ قابل تعریف ہے، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ فسادات میں سب کچھ کھو دینے والے بے گناہ لوگوں کو حکومت کی طرف سے قابل احترام مدد ملنی چاہیے تھی کہ ان کو سماج کے عطیات پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

پرشانت کشور(فوٹو : پی ٹی آئی)

نتیش کمار سے الگ ہو ئے پرشانت کشور بہار اسمبلی انتخابات میں کیا گل کھلائیں‌ گے؟

جے ڈی یو سے باہر نکالے جانے کے بعد پرشانت کشور نے ‘ بات بہار کی ‘مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے وہ مثبت سیاست کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کو جوڑنا چاہتے ہیں۔مہم کے تحت ان کے ذریعے دیے جا رہے اعداد وشمار بہار کی این ڈی اے حکومت کی ریاست میں پچھلے 15 سالوں میں ہوئی ترقی کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہیں۔

24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں شرپسند۔ (فوٹو : رائٹرس)

دہلی فساد یکطرفہ اور منصوبہ بند تھا: دہلی اقلیتی کمیشن

دہلی اقلیتی کمیشن کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے بعد ہزاروں لوگ اتر پردیش اور ہریانہ میں اپنے آبائی گاؤں چلے گئے ہیں۔ نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں فسادات پر دہلی اقلیتی کمیشن کی ایک رپورٹ میں دعویٰ […]

Harsh Mander. Photo: Flickr/IFPRI South Asia CC BY NC ND 2.0

مرکز کے ذریعے ہرش مندر کی تقریر کو ’بھڑکاؤ‘ کہنے کا دعویٰ غلط ہے

سماجی کارکن ہرش مندر کے ذریعے سپریم کورٹ میں بی جے پی رہنماؤں کی ہیٹ اسپیچ پر ایف آئی آر درج کروانے کے لئے عرضی لگائی گئی ہے۔ اس کے جواب میں سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے مندر کی ایک پرانی تقریر کے حصہ کاحوالہ دیتے ہوئے اس کو تشدد بھڑکانے والا کہا ہے۔

image

اگر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر کے لیے جیل بھی جانا پڑا، تو میں جاؤں گا: ہرش مندر

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کےبعد ہیٹ اسپیچ دینے کے لیے بی جے پی رہنماؤں -کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما پر ایف آئی آر درج کرانے کے لیے سماجی کارکن ہرش مندر نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔اس بارے میں ان سے دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو کی بات چیت۔

mustafabad-missing-3

’گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے گیا تو پولیس نے فرقہ وارانہ تبصرہ کرتے ہوئے بھگا دیا‘

دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہوئے فسادات کے بعد کئی فیملی کےممبر گمشدہ ہیں۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس اس کو لےکر ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ہے اور حکومت سے بھی ان کو ضروری مدد نہیں مل رہی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

بی جے پی رہنما کا الزام-فساد میں فیکٹری جل گئی لیکن مسلمان ہو نے کی وجہ سے پارٹی نے کیا نظر انداز

برہم پوری منڈل کے بی جے پی اقلیتی سیل کے صدر محمد عتیق نے کہا کہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ میں یقین کرتا تھا اور بی جے پی کی تنقید کرنے والوں سے بحث کرتا تھا۔ اب کمیونٹی کے لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ پارٹی نے میرے لیے کیا کیا۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

اولڈ مصطفیٰ آباد کے الہند اسپتال میں ایک مریض(فوٹو : رائٹرس)

دہلی تشدد کے دوران سرکاری طبی خدمات کا تھا برا حال، حکومت خاموش تماشائی بنی رہی: رپورٹ

جن سواستھ ابھیان نامی ادارے کی طرف سے جاری ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق دہلی تشدد کے دوران حکومت متاثرین کو مناسب علاج مہیا کرانے میں ناکام رہی اور کئی جگہوں پر مریضوں کو امتیازی سلوک اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔

(فوٹو : رائٹرس)

دہلی فسادات نے لوگوں کو اپنے ہی شہر میں مہاجر بنا دیا

شمال مشرقی دہلی کے شیو وہار میں گزشتہ دنوں ہوئے فسادات کے بعد سینکڑوں مسلم فیملی نے مصطفیٰ آباد میں پناہ لی ہے۔ متاثرین کو ڈر ہے کہ اگر وہ واپس جائیں‌گے، تو ہندوتوا تنظیم کے لوگ ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔ نئی دہلی: دہلی کے فساد […]

XiMFUDhV

’جنگ میں بھی طبی سہولیات مہیا کرائی جاتی ہیں لیکن دہلی فسادات میں ایسا نہیں ہوا‘

ویڈیو: دہلی فسادات پر جن سواستھ ابھیان نامی تنظیم کی طرف سے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں اس دوران مہیا طبی سہولیات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ سماجی کارکن ہرش مندر بھی رپورٹ بنانے والی ٹیم کا حصہ تھے اور ان کا کہنا ہے کہ جس وقت دہلی فسادات میں جل رہی تھی، حکومتیں عوام کے بیچ نہ ہو کر سوشل میڈیا پر سرگرم تھیں۔ ان سے ریتو تومر کی بات چیت۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: ملک کا ایسا پہلا فساد جس کی تیاری اعلانیہ طور پر کی گئی تھی …

گزشتہ دو ماہ سے حکمراں جماعت کے لوگ کھلے عام مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلی اور دھمکی آمیز زبان استعما ل کررہے تھے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ ملک گیر سطح پر شہریت ترمیم قانون کے خلاف تحریک چلانے والوں کو خوف زدہ کیا جائے۔

0103 Sexual Harrasment Delhi Riots.00_13_13_12.Still002

دہلی فسادات: شیو وہار کی متاثرہ خواتین اپنے ساتھ ہوئے جنسی تشدد  کے بارے میں بتا رہی ہیں

ویڈیو: دہلی کے شیو وہار میں تشدد کے بعد متاثرہ خواتین مصطفیٰ آباد میں پناہ لے چکی ہیں۔ ان خواتین نے سرشٹی شریواستوسے بات چیت میں بتایا کہ ان کے ساتھ جنسی تشدد کے معاملے بھی ہوئے ہیں۔

 جسٹس شرد ارویند بوبڈے۔ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

فسادات کو نہیں روک سکتے، ہم ایسا دباؤ نہیں جھیل سکتے: سپریم کورٹ

قومی راجدھانی دہلی میں ہوئے تشدد کو مبینہ طور پر بھڑکانے والے ہیٹ اسپیچ کے لئے رہنماؤں کےخلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل والی ایک عرضی پر فوری سماعت کے مطالبے کوٹھکراتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کو معاملے کو سننے کی بات کہی۔

Don`t copy text!