سیاست

لالو یادو(فوٹو: پی ٹی آئی)

چارہ گھوٹالہ: جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ڈورنڈا ٹریژری معاملے میں لالو یادو کو ضمانت دی

جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں چارہ گھوٹالہ کے تمام پانچوں معاملے میں اب آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کو ضمانت مل گئی ہے۔ اب ان کے خلاف پٹنہ میں ہی چارہ گھوٹالہ کے معاملے زیر سماعت رہ گئے ہیں۔

طاہر حسین۔ (فوٹو: دی وائر/ویڈیوگریب)

دہلی: عدالت نے 2015 کے ایک معاملے میں طاہر حسین کو بری کرتے ہوئے کہا – ان کے خلاف ثبوت نہیں

یہ طاہر حسین کی جانب سے نئے سال کی مبارکباد پیش کرنےکے لیے ایک ستون پر بورڈ لگا کر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا معاملہ تھا۔ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے بالکل بھی ثبوت نہیں ہیں کہ حسین یا ان کی جانب سے کسی نے وہ ہورڈنگ لگائی تھی۔

عمر خالد۔ (تصویر: دی وائر)

آخر عمر خالد کو ضمانت کیوں نہیں مل رہی

عمر خالد کی ضمانت عرضی مسترد کرنے کے اپنے فیصلے میں عدالت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ وکیل دفاع کی جانب سے پولیس کے بیان میں جو تضادات یا خامیاں نشان زد کیے گئے وہ ٹھیک ہیں۔ لیکن پھر وہ کہتی ہے کہ بھلے ہی تضاد ہو، اس پروہ ابھی غور نہیں کرے گی۔ یعنی ملزم بغیر سزا کے سزا بھگتنے کے لیےملعون ہے!

عمر خالد، ٖفوٹو بہ شکریہ: فیس بک

دہلی فسادات: جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کو ضمانت دینے سے عدالت کا انکار

جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کو دہلی پولیس نے ستمبر 2020 میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ ہندوستان کے دوران دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی منصوبہ بندی کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔

عشرت جہاں۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

دہلی فسادات: عشرت جہاں کو ضمانت، عدالت نے کہا- وہ چکہ جام یا سازش کا حصہ نہیں تھیں

کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں 26 فروری 2020 سے جیل میں تھیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے،جس سے ظاہر ہو کہ عشرت جہاں فروری 2020 میں دہلی فسادات کے دوران شمال-مشرقی دہلی کے علاقوں میں موجود تھیں یا ان فسادات کی مبینہ سازش میں ملوث کسی تنظیم یا وہاٹس ایپ گروپ کی ممبر تھیں۔

فائل فوٹو: رائٹرس

ای وی ایم: وہ کون ہے جس کے دباؤ میں ہم اس سسٹم کو اپنائے ہوئے ہیں

رویش کا بلاگ: وہ کون ہے جس کے دباؤ میں ہم اس سسٹم کو اپنائے ہوئے ہیں جو امریکہ، فرانس، جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک تک نہیں اپناتے؟ کس کا پریشر ہے ؟؟؟ اتنا ہی بتا دو کہ دباؤ اندرون ملک سے ہی کسی کا ہے یا کوئی بیرون ملک بیٹھا ہوا سب کچھ سنبھال رہا ہے؟

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

دہلی فسادات: عمر خالد کی ضمانت عرضی پر فیصلہ محفوظ، 14مارچ کو عدالت سنائے گی فیصلہ

یو اے پی اے کے تحت اکتوبر  2020  میں جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالدکوگرفتار کیا گیا تھا۔ یو اے پی اے کے ساتھ ہی اس معاملے میں فسادات اور مجرمانہ سازش کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ جون 2021 کو دہلی ہائی کورٹ نے اس […]

عمر خالد کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا(فوٹو: اسکرین گریب)

عدالت کی ہدایت کے باوجود عمر خالد کو ہتھکڑی میں پیش کیا گیا، جیل انتظامیہ کو نوٹس

عمر خالد کو دہلی فسادات سےمتعلق معاملے میں پیشی پرہتھکڑی لگائے جانے کے خلاف ان کے وکیلوں کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے اپنے ایک آرڈر میں کہا ہے کہ پولیس کمشنر کسی ذمہ دارسینئر پولیس افسرکی نگرانی میں جانچ کے بعد رپورٹ دائر کرکے بتائیں کہ کیا عمر کو ہتھکڑی میں پیش کیا گیا، اگر ہاں تو کس بنیاد پر؟

آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو چارہ گھوٹالہ سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے لیے منگل کو رانچی کی خصوصی سی بی آئی عدالت پہنچے تھے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

سی بی آئی عدالت نے لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ سے متعلق پانچویں معاملے میں قصوروار ٹھہرایا

سی بی آئی عدالت نے آر جے ڈی سپریمو اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کے علاوہ 74 دیگر کو چارہ گھوٹالہ سے متعلق 139.5 کروڑ روپے کے ڈورانڈا ٹریژری غبن معاملے میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ لالو کو چارہ گھوٹالہ کے دیگر چار معاملوں میں 14 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان کے علاوہ بانکا– بھاگلپور کی ٹریژری سے غیر قانونی طور پر پیسہ نکالنے سے متعلق ایک اور معاملہ سی بی آئی پٹنہ کے سامنے زیرغور ہے۔

Press Club.00_00_20_21.Still001

ہم دیکھیں گے: سی اے اے مخالف مظاہروں اور دہلی فسادات کی حقیقت کو پیش کرتی کتاب

ویڈیو: شہریت قانون(سی اے اے)کے خلاف دہلی کےشاہین باغ میں احتجاجی مظاہرہ، جامعہ میں پولیس کی بربریت اور فسادات کی حقیقت کو پیش کرنے والی ایک فوٹو بک شائع کی گئی ہے، جس کا عنوان ہے’ہم دیکھیں گے’۔ اس تصویری کتاب میں شامل اکثر تصاویر جامعہ کے طلبا نے لی ہیں۔

1612 AKI.00_13_34_16.Still001

شاہین باغ تحریک کے دو سال: کب منسوخ ہوگا سی اے اے؟

ویڈیو: شہریت قانون(سی اے اے )کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں ہوئی تحریک کو دو سال ہو چکے ہیں۔اس قانون کو منسوخ کرنے کے مطالبات کے ساتھ تازہ احتجاجی مظاہرے میں شدت آنے لگی ہے۔ اس تحریک پر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

shaheen bagh .00_00_00_18.Still001

شاہین باغ تحریک کے دو سال: تیز ہوا سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

ویڈیو: سی اے اےمخالف مظاہرہ کےلیےمعروف شاہین باغ تحریک کے دو سال ہونے پرپرگتیشیل مہیلا سنگٹھن،نیشنل فیڈریشن فاروومین اور کمیشن آف دی اسٹیٹس آف وومین کی طرف سے دہلی کے جنتر منتر پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اس تحریک میں حصہ لینے کے الزام میں قید افراد کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے طلبا، سول سوسائٹی کے ارکان اور کارکنوں نے دھرنا بھی دیا۔

گزشتہ13 دسمبر کو ہوئے بند کے دوران ایک چوک پر سناٹا۔ (فوٹو اسپیشل: ارینجمنٹ)

لداخ کے لوگ مودی حکومت سے ناراض کیوں ہیں؟

اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بنائے جانے کے بعد سے اس کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اوریہاں کے باشندوں کو زمین اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔عام طور پر لداخ کےمسلم اکثریتی کارگل اور بودھ اکثریتی لیہہ کے علاقے ایک دوسرے سے بنٹے رہتے ہیں، لیکن اس بار لوگوں نے متحد ہو کر خطے کی آئینی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیشنل پیپلزپارٹی(این پی پی)ایم پی  اگاتھا سنگما۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بی جے پی کی اتحادی  نیشنل پیپلز پارٹی نے زرعی قوانین کی طرح سی اے اے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا

پارلیامنٹ کےسرمائی اجلاس سے پہلے بی جے پی کی اتحادی نیشنل پیپلز پارٹی(این پی پی)نےشہریت قانون کو منسوخ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ میگھالیہ کے تورا لوک سبھا حلقہ سے ایم پی اگاتھا سنگما نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ جس طرح اس نے لوگوں کےجذبات مدنظر زرعی قانون منسوخ کیے ہیں، اسی طرح نارتھ ایسٹ کے لوگوں کے جذبات کے مدنظرسی اے اے کوبھی منسوخ کیا جانا چاہیے۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک@MuhammedSalih)

دہلی فسادات: ایک سال سے قید عمر خالد کی رہائی کا مطالبہ

گزشتہ سال 13 ستمبر کوشمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں یو اے پی اے کے تحت اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد کو گرفتار کیا تھا۔ یو اے پی اے کے ساتھ ہی اس معاملے میں ان کے خلاف فساد برپا کرنے اور مجرمانہ طور پر سازش کرنے کے بھی الزام لگائے گئے ہیں۔

آصف اقبال تنہا۔ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: آصف کے مبینہ اقبالیہ بیان کے میڈیا میں لیک ہونے کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ

دہلی فسادات معاملے میں ملزم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹوڈنٹ آصف اقبال تنہا نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ متعلقہ عدالت کےنوٹس لینے سے پہلے ہی جانچ ایجنسی کے ذریعے درج ان کے بیان کو مبینہ طور پر میڈیا میں لیک کرکے پولیس افسروں نےبدعنوانی کی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: کورٹ نے کہا-صحیح جانچ کرنے میں پولیس کی ناکامی ٹیکس دہندگان کے وقت اور پیسے کی بربادی ہے

فروری2020 میں دہلی کے چاندباغ علاقے میں فسادات کے دوران ایک دکان میں مبینہ لوٹ پاٹ اور توڑ پھوڑ سے متعلق معاملے میں عآپ کےسابق کونسلر طاہر حسین کے بھائی شاہ عالم اور دو دیگر کوبری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ چشم دید گواہوں، حقیقی ملزموں اور تکنیکی شواہد کا پتہ لگانے کی کوشش کیے بنا ہی صرف چارج شیٹ داخل کرنے سے ہی معاملہ سلجھا لیا گیا۔

آگرہ میں عام آدمی پارٹی کی ترنگا یاترا کے دوران دہلی کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا اور راجیہ سبھا ایم پی  سنجے سنگھ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/@ManishSisodiaAAP)

عام آدمی پارٹی کی ترنگا یاترا اکثریتی قوم پرستی کا ہی نمونہ ہے

عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے ترنگے کے رنگ پکے ہیں۔ خالص گھی کی طرح ہی وہ خالص قوم پرستی کا کاروبار کر رہی ہے۔ ہندوستان اور ابھی اتر پردیش کے رائے دہندگان کو قوم پرستی کا اصل ذائقہ اگر چاہیے تو وہ اس کی دکان پر آئیں۔اس کی قوم پرستی کی دال میں ہندوازم کی چھونک اور سشاسن کے بگھار کا وعدہ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات میں بڑی تعداد میں جانچ کا معیار بہت گھٹیا ہے: عدالت

دہلی فسادات سےمتعلق ایک معاملے کی شنوائی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے کہا کہ پولیس آدھے ادھورے چارج شیٹ دائر کرنے کے بعد جانچ کو منطقی انجام تک لے جانے کی بہ مشکل ہی پرواہ کرتی ہے، جس وجہ سے کئی الزامات میں نامزد ملزم سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میں جانچ افسر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

عمر خالد۔ (فوٹو: دی وائر)

دہلی فسادات: عمر خالد نے کہا، ٹی وی چینلوں نے ان کی تقریر  کے ترمیم شدہ حصے کو نشر کرکے انہیں پھنسایا

دہلی دنگوں کو لےکریو اے پی اے کےتحت گرفتار جے این یو کےسابق اسٹوڈنٹ عمر خالد نے اپنا دفاع کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ پولیس کے دعووں میں تضادات ہیں۔ ان کے خلاف یو اے پی اے کا معاملہ بی جے پی رہنما اور آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ کی جانب سے ٹوئٹ کیے گئے ان کی مختصر تقریر کے ترمیم شدہ ویڈیو کلپ پر مبنی ہے۔ چارج شیٹ پوری طرح سے فرضی ہے۔ ان کے خلاف منتخب گواہ لائے گئے اور انہوں نے مضحکہ خیز بیان دیے ہیں۔

23r

سروے: وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں زبردست گراوٹ

ویڈیو: انڈیا ٹو ڈے میگزین کی جانب سے کیے گئے ‘موڈ آف دی نیشن’ سروے میں پایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جو پچھلے سال تک ملک کے 66 فیصد لوگوں کے لیے اگلے وزیر اعظم کے طور پر پہلی پسند تھے۔ حالانکہ اس مقبولیت میں 24 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات میں ملزم ایک شخص کو پرانی رنجش کی وجہ سے اس کے پڑوسی نے پھنسایا: پولیس

شمال-مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران بم بنانے اور سپلائی کرنے کےالزام میں46سالہ کردم پوری کے انصار خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ان کے گھر کی چھت سے جو پائپ بم برآمد کیے گئے تھے، اصل میں انہیں ان کے پڑوسی نے رکھا تھا۔ اس معاملے میں پڑوسی مجمل علوی کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔

آصف اقبال تنہا۔ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے عدالت کو بتایا-جانچ کی تفصیلات میڈیا کو کیسے ملی، اس کا پتہ نہیں چلا

دہلی فسادات معاملے میں ملزم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالبعلم آصف اقبال تنہا نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ متعلقہ عدالت کی طرف سے نوٹس لینے سے پہلے ہی جانچ ایجنسی کے ذریعے درج ان کے بیان کو مبینہ طور پرمیڈیا میں لیک کرکے پولیس حکام نے بدعملی کی ہے۔

عمر خالد۔ (فوٹو: دی وائر)

دہلی فسادات: پولیس نے عمر خالد کی ضمانت عرضی کی مخالفت کی، کہا-اس میں دم نہیں

یو اے پی اے کے تحت گرفتار جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کی ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ استغاثہ معاملے میں دائر چارج شیٹ کے حوالے سے عدالت میں ملزم کےخلاف پہلی نظرکامعاملہ دکھائےگا۔معاملہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے اور یہ چھ مارچ 2020 کو درج ہوا تھا۔ خالد کو فسادات سےمتعلق ایک دوسرے معاملے میں ضمانت مل چکی ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: مدینہ مسجد آگ زنی معاملے میں پولیس کی لاپرواہی پر عدالت کی سرزنش

پچھلے سال فروری مہینے میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران شیو وہار کی مدینہ مسجد میں آگ لگا دی گئی تھی۔ اس کے لےکر کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پولیس اس کیس میں ایک الگ ایف آئی آر دائر کرے۔ اب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے لےکر پہلے ہی ایف آئی ار درج کی گئی تھی، لیکن اس کی جانکاری عدالت کو انجانے میں نہیں دے سکی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات معاملے میں آیا پہلا فیصلہ، کورٹ نے ملزم کو بری کیا

دہلی کی ایک عدالت نے سریش نام کے ایک ملزم کو بری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس کیس کو ثابت کرنے میں بری طرح فیل ہوئی ہے۔ دہلی پولیس کا الزام تھا کہ ملزم سریش نے دنگائیوں کی بھیڑ کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر 25 فروری2020 کی شام کو بابرپور روڈ پر واقع ایک دکان کا تالا توڑکر لوٹ پاٹ کی تھی۔

(فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: عدالت نے پولیس کی جانچ کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دے کر جرمانہ لگایا

پولیس نے مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج دیا تھا، جس میں فسادات کے دوران گولی لگنے سے اپنی ایک آنکھ گنوانے والے محمد ناصر نام کے شخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں بری طرح سے ناکام رہے ہیں۔

Untitled-design-2021-06-15T142751.494

کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے…

کسی بھی عام شہری کے لیےجیل ایک خوفناک جگہ ہے، لیکن دیوانگنا، نتاشا اور آصف نے انتہائی عزم اور حوصلے سے جیل کے اندر ایک سال کاٹا۔ان کے تجربات جدوجہد آزادی کے سپاہیوں نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد کے جیل کی سرگزشت کی یاد دلاتے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: سات ملزمین کو ضمانت، کورٹ نے کہا-مقدمہ پورا ہونے تک جیل میں نہیں رکھ سکتے

یہ معاملہ فروری2020 میں ہوئے فسادات کے دوران شمال-مشرقی دہلی کے برہم پوری علاقے میں ہوئے ایک مبینہ قتل سے متعلق ہے۔ کورٹ نے ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ اکثرملزم ایک سال سے زیادہ سے جیل میں ہیں۔

Natasha

یو اے پی اے: کیا سپریم کورٹ نے انصاف کی طرف بڑھے قدموں میں پھر زنجیر ڈال دی ہے

دہلی ہائی کورٹ کے تین طلبا- کارکنوں کو یو اے پی اے کے معاملے میں ضمانت دینے کے فیصلے کو دوسری عدالتوں کےذریعےنظیر کےطور پر استعمال نہ کرنے کاحکم دےکرسپریم کورٹ نے پھر بتا دیا کہ فرد کی آزادی اور ریاست کی خواہش میں وہ اب بھی ریاست کو ترجیح دیتی ہے۔

WhatsApp Image 2021-06-18 at 21.14.35

طلبا -کارکنوں نے کہا؛ کوئی افسوس نہیں، سی اے اے تحریک میں شامل ہونےپر ہمیشہ فخر رہے گا

ویڈیو:گزشتہ15جون کو دہلی فسادات کےسلسلے میں یواپی اےکے تحت پچھلے سال مئی میں گرفتارنتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو ضمانت ملنے کے بعد رہا نہیں کیا گیا تھا۔ دہلی کی ایک عدالت میں تینوں طلبا- کارکنوں کی اپیل کے بعدگزشتہ17 جون کو انہیں تہاڑ جیل سے رہا کیا گیا۔

دہلی کی تہاڑ جیل سے جمعرات  شام کو آصف اقبال تنہا، دیوانگنا کلیتا اور نتاشا نروال کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: نتاشا، دیوانگنا، آصف جیل سے رہا؛ جدوجہد جاری رکھنے کاعزم

رہا ہونے کے بعد دیوانگنا کلیتا نے کہا کہ ہم ایسی خواتین ہیں، جو سرکار سے ڈرتی نہیں ہیں۔ سرکار لوگوں کی آواز اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نتاشا نروال نے کہا کہ ہمیں جیل کے اندر زبردست حمایت ملی ہے اور ہم یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ آصف اقبال تنہا نے کہا کہ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف لڑائی جاری رہےگی۔

Natasha

دہلی فسادات: عدالت نے ضمانت پانے والے طلبا-کارکنوں کی فوراً رہائی کا حکم دیا

گزشتہ 15جون کو دہلی ہائی کورٹ سےضمانت ملنے کے لگ بھگ 48 گھنٹے بعد بھی نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا جیل میں ہیں۔ اس بیچ پولیس نے بدھ کو سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹاکر دہلی ہائی کورٹ کے ضمانتی حکم پر فوراً روک لگانے کی اپیل کی ہے۔

نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا ، آصف اقبال تنہا

دہلی فسادات: طلبا اور کارکنوں کو ضمانت، کورٹ نے کہا-اختلاف رائے کو دبانے پر حکومت کا زور

جے این یو کی طالبعلم نتاشا نروال ، دیوانگنا کلیتا اور جامعہ ملیا اسلامیہ کےطالبعلم آصف اقبال تنہا پرشمال- مشرقی دہلی میں فروری 2020 میں ہوئے فرقہ وارانہ تشددکے لیے سازش کرنے کاالزام لگایا ہے۔ تینوں کو مئی 2020 میں یواے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

اس ملک میں مسلمانوں کو کھلے عام گالی دی جا سکتی ہے، ان کا خون کرنے کی بات کی جاسکتی ہے …

یہ ہندوستان کی معاشرتی فطرت بنتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام مارا جا سکتا ہے، ان کے خلاف پرتشدد پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے اور پولیس انتظامیہ سے لےکر سیاسی پارٹیوں تک کوئی بھی اسے سنگین معاملہ ماننے کو تیار نہیں۔

Don`t copy text!