سیپٹک ٹینک

علامتی تصویر/ فوٹو : رائٹرس

سیور صفائی اہلکاروں‎ کی اموات سے جڑے معاملوں میں کسی کو سزا نہیں ہوئی: حکومت

سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ سکریٹری نیلم ساہنی نے قبول کیا کہ سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران صفائی اہلکاروں کی موت کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود ان تمام معاملوں میں 10 لاکھ روپے کے معاوضے کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔

جاہنوی سین/ دی وائر

غلاظت ڈھونے پر روک‌ کے باوجود کم سے کم تین گنا بڑھ گئی غلاظت ڈھونے والوں کی تعداد

سال2018میں18ریاستوں کے170اضلاع میں سروے کرایا گیا تھا۔ اس دوران کل 86528 لوگوں نے خود کو غلاظت ڈھونے والا بتاتے ہوئے رجسٹریشن کرایا،لیکن ریاستی حکومتوں نے صرف 41120 لوگوں کو ہی غلاظت ڈھونے والا مانا ہے۔ بہار، ہریانہ، جموں و کشمیر اور تلنگانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے یہاں غلاظت ڈھونے والا ایک بھی آدمی نہیں ہے۔

(علامتی فوٹو : پی ٹی آئی)

اتر پردیش: سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران 3 ملازمین‎ کی موت، 2 کی حالت نازک

یہ معاملہ اتر پردیش کے ہاپوڑ ضلع‎ کا ہے۔ پلکھوا تھانہ حلقہ کے ٹیکسٹائل سٹی میں واقع جی ایس داس کیمیکل فیکٹری میں جمعہ کی دوپہر سیپٹک ٹینک کی صفائی کرنے کے لئے ایک ملازم اترا تھا، جبکہ باقی چار اس کو بچانے کے لئے ٹینک میں اترے تھے۔

فوٹو: ٹوئٹر

نریندر مودی کیمرے کے لیے جیتے ہیں: راہل گاندھی

الہ آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے صفائی اہلکاروں کے پاؤں دھونے پر کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کیمرے کے لیے جیتے ہیں۔کیمرہ بند ہو نے کے بعد وزیر اعظم نے صفائی ملازمین کے مسائل تک نہیں سنے۔ایونٹ بنایا اور نکل گئے،اگلے ایونٹ کے لیے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

غلاظت صاف کرنے کو روحانی عمل بتانے والے مودی صفائی ملازمین کے پاؤں کیوں دھو رہے ہیں ؟

ذات پات کو صحیح ٹھہرانے والے نریندر مودی نے گجرات کا وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اپنی کتاب’ کرم یوگی ‘میں غلاظت صاف کرنے والے دلتوں کو ان کی مجبوری کا کام نہیں بلکہ روحانیت کا کام قرار دیا تھا۔

فوٹو: ٹوئٹر

صفائی ملازمین کا سوال ’پیر‘ کا نہیں بلکہ ’پیٹ‘ کا ہے: شیو سینا

شیو سینا نے اپنی پارٹی کے ماؤتھ پیس سامنا میں کہا ہے کہ ، صفائی ملازمین کے پاؤں دھونے کے لیے مودی کو مبارکبا ددینی چاہیے لیکن ان سے جڑا سوال ان کے پیٹ کے بارے میں ہے نہ کہ ان کے پیر کے بارے میں۔

AKI BYTES.00_18_53_17.Still001

’صفائی ملازمین‎ کے پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں، ان کے پاؤں کو کیچڑ سے نکالنے کی ضرورت ہے‘

سیور میں ہونے والی اموات کے خلاف صفائی ملازمین‎ کی تنظیم نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر کیا تھامظاہرہ۔ تنظیم نے کہا کہ صفائی ملازم کا بچہ صفائی ملازم نہ بنے، اس کے لئے حکومت کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

فوٹو: ٹوئٹر

اور ایک دن نریندر مودی صفائی ملازمین کے پاؤں دھوکر میڈیا میں عظیم بن گئے…

کیا کسی بے روزگار کے گھر سموسہ کھالینے سے بے روزگاروں کی عزت ہوسکتی ہے ؟ ان کو نوکری چاہیے یا وزیر اعظم کے ساتھ سموسہ کھانے کا موقع؟ اگر پاؤں دھونا ہی عزت ہے تو پھر آئین میں ترمیم کرکے پاؤں دھونے اور دھلوانے کا حق جوڑ دیا جانا چاہیے۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

میلا ڈھونے والوں کے متعلق حکومتی اعداد و شمار کی حقیقت کیا ہے؟

مرکز کے تحت کام کرنے والا ادارہ نیشنل صفائی کرمچاری فائننس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بتایا کہ 163اضلاع میں کرائے گئے سروے میں 20000 لوگوں کی پہچان میلا ڈھونے والوں کے طور پر ہوئی ہے۔ حالانکہ ادارہ نے یہ اعداد و شمار نہیں بتایا کہ کتنے لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ میلا ڈھونے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔

SanitationWorkerPTI

گراؤنڈ رپورٹ : صفائی ملازم سیویج میں اترنے کے لیےکیوں مجبور ہیں؟

مغربی دہلی کے موتی نگر علاقے میں واقع ڈی ایل ایف کامپلیکس میں سیویج ٹینک صاف کرتے وقت دم گھٹنے کی وجہ سے 5لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔مرنے والوں کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ ہاؤس کیپنگ کے لئے رکھے گئے ملازمین‎ کو ٹینکوں کی صفائی کے لئے مجبور کیا گیا تھا۔