سیڈیشن

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

سیڈیشن پر سپریم کورٹ کے آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے شرجیل امام نے عبوری ضمانت کے لیے عرضی داخل کی

رواں سال جنوری میں دہلی کی ایک عدالت نے 2019 کے سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالبعلم شرجیل امام کے خلاف سیڈیشن کا الزام طےکیا تھا۔ اسی ماہ سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر غوروخوض ہونے تک اس سے متعلق تمام کارروائیوں پر روک لگانے کی ہدایت دی ہے۔

(علامتی تصویر، بہ شکریہ: Ahdieh Ashrafi/Flickr CC BY-NC-ND 2.0)

سیڈیشن پر پابندی بجا ہے، لیکن عدالتوں کو حکومت کے جابرانہ رویوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے

اس بات کا امکان ہے کہ سیڈیشن کے جلد خاتمہ کے بعد صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں ،حزب اختلاف کے رہنماؤں کو چپ کرانے اور ناقدین کو ڈرانے کے لیے ملک بھر کی پولیس (اور ان کے آقا) دوسرے قوانین کے استعمال کی طرف قدم بڑھائے گی۔

(تصویر: دی وائر)

سپریم کورٹ نے قانون پر نظر ثانی تک سیڈیشن معاملوں کی کارروائی پر روک لگائی

سپریم کورٹ کی ایک خصوصی بنچ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں کسی بھی ایف آئی آر کو درج کرنے، جانچ جاری رکھنے یا آئی پی سی کی دفعہ 124 اے (سیڈیشن) کے تحت زبردستی قدم اٹھانے سے تب تک گریز کریں گی، جب تک کہ اس پر نظر ثانی نہیں کر لی جاتی ۔ یہ مناسب ہوگا کہ اس پر نظرثانی ہونے تک قانون کی اس شق کااستعمال نہ کیا جائے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

جامعہ تشدد کے معاملے میں جے این یو کے طالبعلم شرجیل امام کو ضمانت

دہلی کی ایک عدالت نے دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئےتشدد سے متعلق معاملےمیں شرجیل امام کوضمانت دیتے ہوئے کہا کہ جرم کی نوعیت اور اس حقیقت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کی عرضی کو منظور کیا جاتا ہے کہ انہیں جانچ کے دوران گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

فوٹو بہ شکریہ : وکی پیڈیا

سیڈیشن کا الزام عائد کیے جانے پر مولانا آزاد نے کیا کہا تھا

میں یقیناً یہ کہتا رہا ہوں کہ ہمارے فرض کے سامنے دو ہی راہیں ہیں؛ گورنمنٹ نا انصافی اور حق تلفی سے باز آ جائے، اگر باز نہیں آ سکتی تو مٹا دی جائے گی۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے ؟ یہ تو انسانی عقائد کی اتنی پرانی سچائی ہے کہ صرف پہاڑ اور سمندر ہی اس سے کم عمر کہے جا سکتے ہیں۔

TISS

شرجیل امام کے حق میں نعرے بازی پر درج سیڈیشن کیس میں دو طالبعلموں کو پیشگی ضمانت

گزشتہ سال فروری میں ممبئی کے آزاد میدان میں ہوئے ایک ایل جی بی ٹی کیو پروگرام میں جے این یواسٹوڈنٹ شرجیل امام کے حق میں مبینہ نعرے بازی کے لیے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے دو طالبعلموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

السلام علیکم سے پتہ چلتا ہے کہ شرجیل امام کی تقریر ایک خاص کمیونٹی کے لیے تھی: دہلی پولیس

شرجیل امام کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 13 دسمبر 2019 اور اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں16جنوری 2020 کو شہریت قانون کے خلاف مبینہ طور پرمتنازعہ بیانات دینے کا الزم ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ آسام اور بقیہ شمال مشرقی صوبوں کو ‘ہندوستان سے الگ’کر دیا جائے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

سیڈیشن پر سپریم کورٹ کے تبصرے سے وکلاء کا اتفاق، کہا-اختلاف رائے کو دبانے کے لیے تھوپے جاتے ہیں مقدمے

وکیل ورندا گروور نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 میں سیڈیشن کے 30 معاملوں میں فیصلہ آیا، جہاں 29 میں ملزم بری ہوئے اور محض ایک میں سزا ہوئی۔ گروور نے بتایا کہ 2016 سے 2019 کے بیچ ایسے معاملوں کی تعداد 160فیصد تک بڑھی ہے۔

سپریم کورٹ(فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر تشویش کا اظہار کیا، پوچھا-آزادی کے 75 سال بعد بھی اس کو بنائے رکھنا ضروری کیوں

آئی پی سی کی دفعہ124اے کو چیلنج دینے والی عرضی پر مرکز سے جواب طلب کرتے ہوئے کورٹ نے کہا کہ یہ نوآبادیاتی دور کا قانون ہے، جسے برٹش نے آزادی کی تحریک کو دبانے اور مہاتما گاندھی اور دوسروں کو چپ کرانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ کیا آزادی کے اتنے وقت بعد بھی اسے بنائے رکھنا ضروری ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: بچوں کو سی اے اے اور این آرسی کے بارے میں پڑھانے پر دو رضا کارانہ تنظیموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر)نے از خود نوٹس لیتے ہوئے دو رضاکارانہ تنظیموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کیا ہے۔ این سی پی سی آر نے کہا کہ انہوں نے معائنہ کے دوران کچھ طلبا کے ہوم ورک رجسٹر دیکھے، جن سے پتہ چلا کہ انہیں غلط طریقے سے سی اے اے اور این آرسی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

سیڈیشن کے معاملوں میں مرکز کا کوئی رول نہیں، ریاست درج کراتے ہیں مقدمے: مرکزی حکومت

سیڈیشن کے معاملوں میں قصور ثابت ہونے کی شرح کافی کم ہونے کو لےکر راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ حکومت نے سیڈیشن سمیت مجرمانہ قانون میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اور مختلف جماعتوں سے اس سلسلے میں تجاویزطلب کی گئی ہیں۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

سال 2019 میں سیڈیشن کے 93 معاملوں میں 96 گرفتار: مرکز

مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ 2019 میں 76 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کیےگئے، جبکہ 29 لوگوں کو عدالتوں کی جانب سے بری کر دیا گیا۔ سب سے زیادہ معاملے کرناٹک میں درج کیے گئے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

شرجیل امام کی رہائی، فوراً رہائی … ہندوستان میں مسلمانوں کے یقین کے لیے ضروری ہے

الزام ہے کہ شرجیل امام نے نارتھ -ایسٹ کو ہندوستان سے کاٹ دینے کا اکساوا دیتے ہوئے بیان دیے تھے۔ انہوں نے اتنا ہی کیا تھا کہ سرکار پر دباؤ ڈالنے کے لیے راستہ جام کرنے کی بات کہی تھی۔ کسان ابھی چاروں طرف سے دہلی کا راستہ بند کرنے کی بات کہہ رہے ہیں، تاکہ سرکار پر دباؤ بڑھے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے۔ کیا اسے دہشت گردانہ کارروائی کہا جائےگا؟

اتراکھنڈ ہائی کورٹ(فوٹو پی ٹی آئی)

 اتراکھنڈ: صحافی پر سیڈیشن کا مقدمہ درج کر نے پر ہائی کورٹ نے اٹھائے سوال، سرکار سے مانگا جواب

صحافی نے ایک فیس بک پوسٹ میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ راوت پر الزام لگائے تھے۔ اس کے بعد سیڈیشن سمیت آئی پی سی کی مختلف دفعات میں مقدمہ درج کر کےانہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

دہلی فسادات: پولیس نے اب جے این یو اسٹوڈنٹ شرجیل امام کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا

دہلی لائے جانے سے پہلے شرجیل امام گوہاٹی جیل میں بند تھے اورکوروناسے متاثر پائے گئے تھے۔ شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران متنازعہ بیان دینے کے الزام میں ان پرسیڈیشن کا معاملہ بھی چل رہا ہے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

جامعہ تشدد کے سلسلے میں شرجیل امام کے خلاف چارج شیٹ دائر

شرجیل امام کو سیڈیشن کے الزام میں گزشتہ 28 جنوری کو بہار سےگرفتار کیا گیا تھا۔ امام کے وکیل احمد ابراہیم نے کہا کہ، ہم نے دہلی پولیس کی جانب سے 17 اپریل، 2020 کو داخل کی گئی چارج شیٹ کو پوری طرح سے نہیں دیکھا ہے۔ اس کو دیکھنے کے بعد ہم مناسب قدم اٹھائیں گے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

سی اےاے مظاہرہ: اعظم گڑھ کورٹ نے سیڈیشن کے مقدمے کا سامنا کر رہے 19 لوگوں کی ضمانت عرضی خارج کی

کل12 پیج کےاس حکم میں پورے معاملے کا تفصیلی تذکرہ ہے اور ایف آئی آر میں شامل باتوں کو دوہرایا گیا ہے۔ حالانکہ ضمانت عرضی کو خارج کرنے کی بنیادکو فیصلے کے آخری دو جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔

مجاہد آزادی ، ایچ ایس ڈورے سوامی ، فوٹو بہ شکریہ ؛ وکی پیڈیا

ایک سو دو سالہ ڈورے سوامی کو دینا پڑ رہا ہے مجاہد آزادی ہو نے کا ثبوت، بی جے پی نے اٹھایا تھا سوال

کرناٹک کے بیجاپورسے بی جے پی ایم ایل اے بی پی یتنال نے مجاہد آزادی ایچ ایس ڈورے سوامی کو فرضی مجاہد آزادی بتاتے ہوئے ان سے تحریک آزادی میں شامل ہونے کے ثبوت مانگے تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جامعہ تشدد: اکسانے کے الزام میں شرجیل 3 مارچ تک عدالتی حراست میں

دہلی پولیس نے جامعہ نیو فرینڈس کالونی میں گزشتہ 15 دسمبر کو شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں منگل کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی۔ پولیس نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج ، کال ریکارڈس اور 100 سے زیادہ گواہوں کے بیان بطور ثبوت منسلک کئے گئے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

گجرات: کانگریس رہنما ہاردک پٹیل کی بیوی نے کیا ان کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ

گجرات کانگریس کے رہنما اور پاٹیدار ریزرویشن تحریک کی قیادت کرنے والے ہاردک پٹیل کو 18 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پٹیل 2015 میں پاٹیدار ریزرویشن تحریک سے متعلق سیڈیشن کے معاملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

سال 2014-18 کے بیچ ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے233 لوگوں پر لگائے گئے سیڈیشن کے الزام: حکومت

مرکزی وزیرریڈی نے بتایا کہ این سی آربی کے عدادوشمار کے مطابق، 2018 میں 70 لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124اے کے تحت سیڈیشن کے الزام لگائے گئے۔ 2017 میں یہ تعداد51،سال2016 میں35،سال2015 میں 30 اور سال 2014 میں 47 تھی۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

بہار: دہلی پولیس نے شرجیل امام کو جہان آباد سے کیا گرفتار

حالانکہ شرجیل نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ انہوں نے سرینڈر کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بہار کے باشندہ شرجیل امام کا پتہ لگانے کے لیے پانچ ٹیم کو تعینات کیاگیا تھا۔ اس کو پکڑنے کے لیے ممبئی، پٹنہ اور دہلی میں چھاپے مارے گئے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

یوپی آسام کے بعد جے این یو اسٹوڈنٹ کے خلاف دہلی، منی پور اور اروناچل پردیش میں کیس درج

جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے اسٹوڈنٹ شرجیل امام پر شہریت ترمیم قانون کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریرکرنے کے الزام میں سیڈیشن کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ بہار کے جہان آباد واقع ان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

دو سال میں سیڈیشن کے معاملوں میں ہوا دوگنا اضافہ، جھارکھنڈ میں سب سے زیادہ معاملے

این سی آربی کے ذریعے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2016 کی مقابلے 2018 میں سیڈیشن کے دوگنے معاملے درج ہوئے ہیں۔ جن ریاستوں میں یہ معاملے درج ہوئے ان میں جھارکھنڈ پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد آسام، جموں و کشمیر، کیرل اور منی پور ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

کرناٹک کے دو سابق وزیراعلیٰ کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج

لوک سبھا انتخاب کے دوران محکمہ انکم ٹیکس کی چھاپےماری کی سابق وزیرائے اعلیٰ سدھارمیا اور کمار سوامی کے ساتھ اس وقت کے کانگریس جے ڈی ایس گٹھ بندھن کے ایم پی اور ایم ایل نے مخالفت کی تھی۔ عدالت نے پولیس کو مجرمانہ سازش رچنے اور حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش کرنے کے لیے معاملہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

سیڈیشن جیسا ظالمانہ قانون کیوں ختم نہیں کیا جا رہا ہے؟

اس کتاب میں سیڈیشن جیسے پیچیدہ موضوع پراس طرح اور عام فہم زبان میں بات کی گئی ہے کہ پرائمر بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔اس میں میں کچھ ایسے بھی اہم سیڈیشن معاملات پر گفتگو کی گئی ہے جس کا عام طور پر سیڈیشن سے متعلق مباحث میں ذکر نہیں ہوتا۔

سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر، فوٹو: پی ٹی آئی

وزیر اعظم کے خلاف محض نازیبا تبصرہ کرناسیڈیشن نہیں: دہلی پولیس

بی جے پی رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل اجئے اگروال نے مبینہ طور پر وزیر اعظم مودی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر کانگریسی رہنما منی شنکر ایئر کے خلاف 2017 میں عرضی دائر کر کے سیڈیشن کا معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

cong-manifesto-1200x600

کانگریس کے انتخابی منشور میں روزگار، زراعت ،تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ

کانگریس نے اپنا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے غریبوں کو 72 ہزار روپے سالانہ دینے اور کسانوں کے لئے الگ بجٹ کے اہتمام کا وعدہ کیا ہے۔ پارٹی نے قرض نہ چکا پانے والے کسانوں کے خلاف فوجداری نہیں بلکہ سول کیس درج کرنے کی بات کہی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ انڈین ایکسپریس

اے ایم یو معاملے میں پولیس نے کہا؛ شروعاتی جانچ میں طلبا کے خلاف سیڈیشن کا کوئی ثبوت نہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں طلبا کے خلاف شکایت کرنے والے کے ذریعے فراہم کیے گئے ویڈیو میں کسی طرح کی کوئی نعرے بازی نہیں ہے ۔طلبا کے خلاف سیڈیشن کا مقدمہ واپس ہوسکتا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

ویڈیو: کیا اے ایم یو کو جے این یو کی طرح نشانہ بنایا جارہا ہے؟

ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں سنیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حالیہ تنازعہ پر دی وائر کے بیورو چیف رگھو کرناڈ اور اے ایم یواسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر مشکوراحمد عثمانی سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت ۔

Don`t copy text!