شاعر

HabibJalib_FridayTimes

باتیں حبیب جالب کی : ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑاالزام نہیں…

 انٹرویو:’ہم اردو شاعری کے عہد جالب میں رہ رہے ہیں…‘خواتین کی جو آزادی ہے، وہ ہمیشہ بڑی عزیز رہی ہے۔ وہ چاہے ایک رقاصہ ہو یا کوئی بڑی خاتون، مغنیہ ہو یا دفتر کی خاتون ان کی ایک عزت ہے۔مشاعرے میں پڑھنے کے میں پیسے نہیں لیتا۔ مشاعرے […]

NavalKishorePress

’  اگر نول کشور نہ ہوتے تو ہم  تخیلاتی ادب کے عظیم ترین کارناموں سے محروم رہ جاتے ‘

’یہ کہنا شاید صحیح نہیں کہ  ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کا علم نہیں ‘ لیکن کیا کیجیے کہ ہم اپنے کلچر ہیرو کو کہانیوں  میں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔منشی نولکشورکو میں کلچر ہیرو کے طور پر جانتا ہوں کہ انہوں نے کتابوں کی صورت آب حیات کے […]

JaunEliaPoetry

یوم پیدائش پر خاص : جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

جون کے یہاں وجود کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے انسان کے وجود اور خود اپنی ذات کے سراب کو کھنگالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ امروہہ صرف ایک قصبہ ہی نہیں تہذیب و تمدن کا گہواراہ بھی ہے۔یہاں ایک کہاوت سینہ بہ […]

sahir-ludhianvi

ساحر لدھیانوی : اقتدار، آئین ،سماج اور سیاست سے سوال کرنے والا شاعر

ساحر بڑا شاعر ہے اس لیے بھی کہ ان کی شاعری میں اقتدار، آئین،سماج اور سیاست سے سوال ہے۔ ساحر کو کسی سند کی ضرورت نہیں کہ ان کے کلام میں ماورائے زماں زندہ رہنے کی بھرپور قوت موجود ہے۔ وجودیاتی یا علمیاتی بیان کی حاجت بھی نہیں […]

NidaFazli

ندا فاضلی : بند کمروں سے باہر نکل کر چلتی پھرتی زندگی کا ساتھ نبھانے والی شاعری کے خالق

میری شاعری ماں کے ہونٹوں سے مسکراتی ہے۔ بہن کے آنچل سے سرسراتی ہے۔ بچوں کے ساتھ اسکول جاتی ہے۔ جوانی کے ساتھ اٹھلاتی ہے، دھوپ میں جھلستی ہے ۔ نئی دہلی : ممتاز شاعر ندا فاضلی (مقتداحسن)  دہلی میں پیدا ہوئے۔وہ مشاعروں میں  مقبول تھے اور ایک […]

perumal-murugan-1

اپنی موت کا اعلان کرنے والے ادیب پیرومل موروگن کی ادبی دنیا میں واپسی

شدت پسندوں کی مخالفت کے بعد اپنی موت کا اعلان کرنے والے تمل ادیب اور شاعر موروگن کا نیا شعری مجموعہ’بزدل کے نغمے’شائع  ہوچکا ہے۔ نئی دہلی :اپنے ناول کے خلاف شدت پسندوں کے شورشرابے اور مخالفت کے بعد 2015میں اپنی موت اور تخلیقی کام سے دستبردار ہونے […]

RaeesAmrohavi

خون دل میں انگلیاں ڈبولینے والے صحافی اور شاعر رئیس امروہوی

رئیس امروہوی بیسویں صدی کے سب سے بڑے قطعہ نگار شاعر تھے۔ نئی دہلی :آج ہی کے دن 1988کی شام جب رئیس امروہوی کراچی میں اپنے دولت کدےپرمطالعےمیں مصروف تھےتو انہیں ایک نامعلوم شخص نے گولی مار دی تھی۔قلم کے اس مجاہد نے کبھی کہا تھا : قلم […]